اتوار، 11 اکتوبر، 2026

آشیانہ

 



 آشیانہ

عظمی آپا ملازمت سے فراغت کے بعد مستقل کراچی آچکی تھیں ۔ اس  دوران  ان کے بھائی بہن کی جین زی  اولادیں  کافی  آگے بڑھ چکی تھیں ۔ یاسر اعلٰی تعلیم کے لیے جرمنی گیا ہوا تھا ۔ عرفان    بسلسلہ  ملازمت   اسلام آباد   میں مقیم ہوچکا تھا ۔ ہبہ اور ماہا اپنی تعلیم مکمل کرکے  آن لائن کام کر رہی تھیں ۔ صبا اور شارق آخری سمسٹر  میں مشغول تھے جبکہ جبران  انٹر کر چکا تھا ۔پرانی ملازمہ رضیہ بوا ضعیفی کے باعث  اپنے بچوں کے پاس گاؤں جاچکی تھیں  لہذا کھانا پکانا اب مکمل طور پر گھر کی خواتین کے ذمے تھا ۔

 عظمی آپا کا کمرہ  ہمیشہ سے گھر کی دوسری منزل میں تھا جہاں ان کے بھائی  عارف  اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔  چونکہ آج کل عرفان گھر نہیں تھا تو بجلی کی بچت کی خاطر وہ اسی کمرے میں رات گزرتی تھیں جہاں جبران  تھا کہ ایر کنڈیشن  ایک ہی کمرے میں چلے !  باقی صبح 11 بجے سے مغرب تک کا وقت وہ نیچے اپنی بہن اسماء کے ساتھ گزارتی تھیں ۔ ان کا حلقہ احباب کافی وسیع تھا جس میں ہر وقت لوگوں کا تانتا بندھا رہتا تھا  تو لوگوں کو بھی  ان سے ملاقات میں آسانی رہتی ۔البتہ رات کا کھانا دونوں خاندان مل کر اوپر ہی کھاتے تھے ۔ کچھ  اسما  اپنی بیٹیوں کی مدد سے بنا لیتیں اور کچھ بھاوج  شہلا  اور بھتیجی ماہا تیار کرتیں ۔ لڑکیوں کی مدد  تو نری زحمت تھی ماسوائے کچھ نئے  زمانے کا کوئی پکوان ہو  یا کوئی میٹھا وغیرہ ۔ بہر حال ان کی تربیت کے لیے ضروری تھا کہ وہ چیزوں اور پکوان  کے حقیقی طور پر بننے والے وقت کا درست اندازہ سیکھ سکیں ورنہ  انٹر نیٹ اور یوٹیوب پر تو  چند منٹوں میں نبٹا دیا جاتا ہے ۔

 دسمبر میں یاسر کی آمد متوقع تھی  تو موقع کے لحاظ سے ماہا اور ہبہ کی شادی طے کردی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ یاسر اور اسریٰ کا نکاح بھی منعقد کرنا تھا  تاکہ اسریٰ بھی ساتھ جرمنی جاسکے۔ اسریٰ کی والدہ سلمہ ،عظمی ٰ آپا کی خالہ زاد بہن اور اسماء کی بچپن  کی دوست تھیں ۔ ان ہی معاملات پر بات کرنے اس دن سلمہ آئیں تو  عظمیٰ آپا کے ساتھ وہیں لاؤنج میں محفل جم گئی۔  ہبہ چائے  بنا کر لے آئی۔ ماں کے کہنے پر  کچھ نمکو اور بسکٹ بھی نکال لیے۔

" ارے ایسا سوکھا ناشتہ! اب تو سمدھیانے کا معاملہ ہے ۔ فل پروٹوکول ملنا چاہیے   سلمہ کو  !کوئ کباب ، کچھ میٹھا ۔۔۔۔"  عظمیٰ آپا ہنس کر بولیں ۔ ان کی اس بات پر سلمہ اور اسماء سٹپٹا کر رہ  گئیں کہ انہوں نے تو ایساکوئ نیا تعلق محسوس  ہی نہیں کیا تھا ۔ وہ تو ایسے ہی معاملات چلا رہی تھیں ۔

"۔۔۔ارے نہیں آپا ! اس قسم کے تکلف کی کوئی ضرورت نہیں ! اسما ء اور میں تو بچپن سے ایک دوسرے کے کھانے کپڑے آپس میں استعمال  کرتے رہے ہیں ۔۔۔۔"  سلمہ بول پڑیں

" ۔۔ہاں مگر رشتے کی خوبصورتی ہے کہ کچھ تو نیا سا نظر آئے ۔۔۔۔' '   انہوں نے سمجھانے کے انداز میں سلمہ اور اسما ء کو کچھ  نصیحتیں کیں جنہیں ان  دونوں کے ساتھ ساتھ ہبہ نے بھی غور سے سنا کیونکہ وہ اپنے چچا کے گھر بیاہ کر جارہی تھی  اور اسے بھی نئے رشتوں میں تعلقات کی  احسن تبدیلی کے لیے کچھ نکات چاہیے تھے ۔

" ۔۔ہاں ! اچھا ہوا آپ یہاں ہیں خالہ جان ! اب سلمہ خالہ اور امی کی لڑائیوں کی بھی آپ کو صلح کرانی پڑے گی ۔۔" یہ  گرہ شارق نے لگائی جو ابھی گھر میں داخل ہوا تھا اور اس نے ان کی کچھ بات سن لی تھی ۔ اسماء اور سلمہ نے سہم کر ایک دوسرے کو دیکھا ۔ کیا واقعی ان کے درمیان لڑائیاں ہوں گی ؟

" ۔۔اللہ نہ کرے لڑکے ! اوئی کیسی باتیں کررہا ہے ۔رشتوں کی خوبصورتی کے لیے  کچھ فارمولے بتارہی ہوں ۔ لڑائی تو اس وقت ہوگی جب یہ دونوں اپنی اولادوں  کے معاملات میں اپنے بچے کی ناحق حمایت کریں گی خدانخواستہ ۔۔یہ کوئی انڈین ڈرامہ نہیں ہے ۔ میری بہنیں ہرگز ایسا  نہیں کریں گی ان شاء اللہ ۔"  ان کی اس بات پر  ان دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا جیسے بچپن میں  ناراضگی کے بعد صلح کے وقت کرتی تھیں ۔ ماحول جذباتی ہوگیا تھا جس پر شارق نے منہ بنا کر کہا

" یعنی ہمارے گھر کوئی تفریح نہیں  ہوگی ۔۔۔" اس بات پر ماں نے گھورا تو خالہ نے چپل اٹھا لی ۔شارق کی شوخی پر وہ اسی طرح اسے دھمکاتی تھیں ۔

 دونوں  تینوں گھروں میں تیاریاں عروج پر تھی ۔ کبھی  اسماء اور شہلا مل کر خریداری کے لیے جاتیں تو اکثر اپنی اپنی بیٹیوں کے ساتھ جاتیں ۔ کبھی کبھار عظمیٰ آپا بھی ہمراہ ہوتیں ۔ اور لڑکیاں مل کر تو اکثر پروگرام بناتیں ۔یہ اور بات ہے کہ  اس میں خریداری خاک ہوتی !بس چیزیں اور ان کی قیمتیں  دیکھ دیکھ کر دل بہلاتیں اور  کسی ریسٹورنٹ میں غم غلط کرکے خالی ہاتھ واپس آتیں ۔

  ان ہی تیاریوں میں عظمیٰ آپا نے محسوس کیا  کہ بھائی  عارف بہت چپ چپ رہنے لگے ہیں ! ظاہر ہے اخراجات کے ساتھ ساتھ بیٹی کی جدائی بھی پریشان کر رہی ہے ۔ کئی دن دیکھنے کے بعد انہوں نے اس سے بات کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اس دن رات کے کھانے کے بعد جب سب بکھر گئے تو انہوں نے شہلا سے گرین ٹی  پلانے کی فرمائش کی  اور عارف کے ساتھ ٹیرس میں آبیٹھیں ۔

ان کے بار بار پوچھنے پر عارف نے منہ نہ کھولا۔ بس آفس کی تھکن کہہ کر ٹال دیا ۔ لیکن بالآ خر  آپا نے   مسئلہ جان ہی لیا ۔

"۔۔۔ اصل میں آپا ! کراچی کے حالات تو آپ دیکھ ہی رہی ہیں ۔ عرفان نے اسلام آباد میں سیٹ ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔  اگلے سال  میری ریٹائرمنٹ ہے  تو اس کا کہنا ہے کہ آپ سب ختم کرکے وہیں آجائیں ۔ جبران کا داخلہ بھی وہی یونیورسٹی میں کرادیتے ہیں ۔ کہنا بہت آسان ہے لیکن نئے سرے سے زندگی شروع کرنے لیے پیسہ چاہیے ۔۔۔"

آپا سارا مسئلہ سمجھ گئیں ۔۔۔" تو گھر بیچ دو ۔۔"

" نہیں آپا ! اس گھر میں سب کا حصہ ہے میں کس طرح فیصلہ کرسکتا ہوں ۔۔۔"   عارف نے بے چینی سے کہا۔ عظمیٰ سوچ میں پڑ گئیں  اور کچھ وقفے کے بعد بولیں   " اچھا اس پر بات کرتے ہیں ! "

اگلے دن انہوں نے عارف سے بات کی  "  دیکھو عارف! یہ مکان ہم چاروں کی وراثت ہے ۔ آصف بھائی تو اس سے بہت پہلے دست بردار ہوچکے ہیں ۔ مجھے تو تمہارے ساتھ ہی رہنا ہے باقی اسماء سے بات ہوئی ہے ۔اس کا حصہ اس کو دے دیا جائے گا ۔ ظفر کا اپنا مکان کرایہ پر ہے ۔وہ اسے خالی کروا کر اس  میں منتقل ہوجائیں گے ۔لہذا تم اسے فروخت کرکے یکسو ہوجاؤ  ۔۔" 

عظمی آپا عمومی خواتین میں سے نہیں تھیں جو جذباتی طور پر  ہر قیمت پر ایک گھر میں رہنے پر بضد ہوں لیکن خود عارف کے لیے  اس مکان سے جذباتی وابستگی تھی ۔ ان کے والد نے یہ پلاٹ خریدا تو وہ زیر تعلیم تھے ۔ والد کے ساتھ  ساتھ اس ویرانے میں "  آشیانہ "کی تعمیر میں شریک رہے کیونکہ بڑے بھائی تو باہر جاچکے تھے ۔  یہاں کے چپے چپے پر والدین کی یادیں تھیں ۔یہیں وہ تعلیم یافتہ ہوکر برسرروزگار ہوئے ۔ یہیں شادی ہوئی اور بچے چھوٹے سے بڑے ہوئے ۔ یہیں سے والدین کے جنازے اٹھے ۔ والد نے انتقال سے چند ماہ پہلے یہ مکان عارف کے نام کردیا تھا  اس تاکید کے ساتھ کہ  سب یہاں مل کر رہیں ۔ چنانچہ اسماء  بھی یہیں نچلی منزل پر آباد تھی ۔ بہرحال آپا کے  مشورے پر وہ اس  کو بیچنے پر راضی ہوگئے ۔ انہوں نے عرفان کو اس کی اطلاع دی تو وہ خوشی سے نہال ہوگیا ۔ تو یہ طے ہو اکہ شادیوں سے فراغت پاتے ہی مکان کی فروخت کے منصوبے پر کام ہوگا ۔

شادی میں محض ایک مہینہ ہی رہ گیا تھا ۔ہبہ اور ماہا کی شادی میں ایک ہفتہ کا فرق تھا ۔ یاسر کے پاکستان پہنچتے ہی عرفان بھی اچانک چھٹی لے کر آگیا ۔ شادی کا گھر تھا ۔ہر وقت  قہقہے اور گہماگہمی تھی مگر ایک عجیب سی آزردگی تھی جس نے گھر کے بڑوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔ ۔کیا  ہم اس  گھر میں گزارے خوشگوار لمحات  کو یہیں دفن کردیں گے؟  اور جب سے بچوں کو معلوم ہوا تو وہ بھی کچھ نہ کچھ  بے چینی محسوس کررہے تھے ۔ لڑکیاں توخیر  رخصتی کے خیال سے بھی  افسردہ تھیں لیکن لڑکے بھی  مطمئن نہ تھے لیکن بہرحال فیصلہ ہوچکا تھا اور منصوبے پر  کچھ نہ کچھ کاروائی بھی شروع ہوچکی تھی ۔  رات کو خوب رجگے ہوتے ۔ اسرا ء بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ آجاتی تھی ۔ خوب ہنسی مذاق میں وقت گزر رہا تھا۔

ہبہ کی شادی میں  چند دن تھے ۔ حسب معمول سب لاؤنج میں جمع ہوکر خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔اچانک عرفان نے  سب کو متوجہ کیا

"۔۔۔۔آپ سب کو علم ہوگا کہ  ابو نے  آشیانہ  بیچنے کا فیصلہ ہم سب کی رضامندی سے کیا ہے ۔۔۔۔" سب سناٹے میں اپنی دھڑکن کی آواز سن رہے تھے۔کچھ جذباتی لوگ آہستہ آہستہ سسک بھی رہے تھے ۔

" کیا ہم اس گھر کے در و دیوار کو بھول سکتے ہیں جہاں ہمارے بچپن کے نشانات موجود ہیں ! دادا دادی کے لگائے ہوئے پودے درخت بن کر پھل دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔" اس کی آواز گھٹنے لگی تھی    " مجھے  جب بھی گھر یاد آتا ہے میں آجاتا ہوں لیکن اگر یہ گھر نہیں ہوگا  تو ہم کس  طرح یہاں آسکیں گے ؟ ۔۔۔"

" ۔۔صحیح کہہ رہے ہو عرفان ! "  یاسر نے کہا                                                   " مجھے  بھی جب  گھرکی  یاد آتی ہےتو میں ویڈیو کال پر اس کا نظارہ کرلیتا ہوں ۔۔"

" ۔۔اور جب میں آسٹریلیا چلا جاؤں گا تو میں بھی اسے یاد کروں گا ۔۔" شارق کہتے کہتے رو پڑا ۔ پنچھی خود اڑنے کو تیار ہو لیکن اپنے گھونسلے کو مٹتا نہیں دیکھ سکتا ! صبا اور جبران نے حیرت سے شارق کو دیکھا ۔ وہ تو ایک ایک دن گن رہا تھا کہ کب وہ فارغ ہو اور پرواز کرجائے !

" بس ٹھیک ہے ! گھر نہیں بکے گا ۔ہم دنیا کے کسی بھی کونے میں رہائش پذیر ہوجائیں یہ گھر  سلامت رہے گا ۔۔" عرفان نے گویا اعلان کیا تو سب نے نعرہ لگا کر اس کی تائید کی ۔

عظمیٰ آپا نے خوشی سے بچوں کی طرف دیکھا  ' میں تو اسلام آباد جانے پر بھی خوش تھی لیکن یہ بھی مناسب فیصلہ ہے ۔ ہوسکتا ہے بچو! کراچی کے حالات بھی درست ہوجائیں ۔ نلوں میں پانی ، چولہوں میں گیس اور تاروں میں بجلی آجائے اور سڑکیں ۔۔"  

"   ۔۔۔او ر K4   منصوبہ مکمل ہوجائے ۔ کیوں پھپو ! ۔"  یہ جبران تھا اسلام آباد میں پڑھائی کے لیے تیار لیکن گھر کی انسیت سے دستبردار ہونے کو تیار نہ تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں