بدھ، 29 مارچ، 2023

مسئلہ یہ ہے کہ ۔۔۔۔!

 

 مسئلہ یہ تھا کہ شارق کا  شناختی کارڈ بنوانا ہے.!

 یہ مطالبہ پچھلے کئی ہفتوں سے دھیمے سروں میں چل رہا تھا لیکن اب جبکہ اس کی اٹھارویں  سال گرہ  میں  چند دن رہ گئے تھے اس کی ہر  بات اس سے شروع ہوکر اسی پر  ختم ہورہی تھی.. اصل میں اس کی بات بھی   درست تھی!  شناختی کارڈ  کی  اسے فوری ضرورت یوں تھی  کہ جہاں بھی جاؤ اس کی طلب ہوتی اور اسے یہ کہتے ہوئے شر مندگی سی ہوتی   جب طلبگار اس کے ڈیل ڈول کو دیکھتے ہوئے شبے کا اظہار کرتا ۔۔۔

 لیکن جب گھر میں  اس کو یہ سننا پڑا کہ  اسی دن بنوانا کوئی ضروری نہیں ہے تو اس نے منطق گھڑی کہ میں اکیلا ہی چلا جاؤں گا مجھے آفس معلوم ہے..اس بات پر ابو کا دماغ گھوم گیا کہ تم نے کیا سمجھ رکھا ہے تم جاؤگے اور جھٹ پٹ بنوالوگے؟. درجنوں چیزیں چاہیئں اور پھر وہ کسی قابل اعتبار فرد کو بلائیں گے.

یہ بات سن کر صبا کو چھیڑنے کا موقع مل گیا.. ہاں تم تو شکل سے ہی ناقابل اعتماد لگتے ہو.... بات دبے سے کہی تھی مگر شارق تک پہنچ گئی. ابھی میدان جمانے کا موقع نہیں تھا   لہذا خاوش رہا ۔ ابو نے نرمی سے کہا. دوچار دن رک جاؤ..  اس دوران  انکشاف ہوا کہ عظمیٰ آپا کے شناختی کارڈ کی میعاد بھی ختم ہورہی ہے  ۔ چنانچہ یہ طے ہوا کہ دونوں کام ساتھ ساتھ  ہوگا۔

دودن بعد شارق ابو ، امی اور عظمٰی آپا کی ہمراہی میں   نادرا آفس پہنچا تو سڑک پر لمبی قطار دیکھ کر اس  کی آنکھیں پھٹ  گئیں ۔ شاید وہ سوچ رہا تھا کہ گیٹ پر نادرا کے کارکنان اس کا استقبال کریں گے ! بے چارہ بچہ !  جسمانی اور طبعی لحاظ سے کتنا ہی بڑا ہوگیا تھا  مگر ابھی اسکول کی سطح پر ہی تھا کہ کالج کا پورا  زمانہ تو  کرونا کی وجہ سے آن لائن پڑھائی پر گزرا تھا ۔

  اندر جاتے ہوئےابو  شارق کو قطار میں لگنے کا کہہ کرخود ٹوکن لینے  کاؤنٹر کی طرف بڑھے۔ عظمی ٰ آپا  کو  معمر شہری ہونے کے باعث فوری اندر بلوا لیا گیا ۔  شارق  چونکہ گیٹ سے بھی باہر تھا ۔ اس لیے وہ اس بات سے لا علم رہا ۔ وہ تو جب  کارندے نے اس کے نام کا   اعلان کیا تو وہ بھی  اپنی جگہ چھوڑ کردفتر میں داخل ہونے لگا ۔ لیکن پیچھے سے  لوگوں نے شور مچانا شروع کردیا کہ یہ تو دھاندلی ہے ! وہ ان سب کے احتجاج کو نظر انداز کرتا ہوا اندر پہنچا تو معلوم ہوا کہ یہ سہولت اس کے لیے نہیں ۔ ابو کو تو   عملے نے  مہذب انداز میں منع کردیا لیکن  شارق کو تو باقاعدہ جھڑکی سننی پڑی  جب احتجاج کرنے  والے گروپ کی شکل میں  دفتر  کے دروازے پر شور مچا رہے تھے۔ ابو اور شارق باہر نکلے تو ان کو کچھ  سکون ملا۔

حسب توقع عظمیٰ آپا بہت جلد ی  فارغ ہوگئیں لیکن شارق کے لیے تو ابھی ہنوز دلی دور است والا معاملہ تھا ! چنانچہ طے یہ پایا کہ اسے چھوڑ کر بقیہ لوگ واپس چلے جائیں  اور اس وقت آئیں جب اس  کی باری آنے والی ہو ، لیکن عظمیٰ آپا   اس کی دلجوئی کے لیے وہیں  رک گئیں ، یہ اور بات ہے کہ وہاں بھانت بھانت کے لوگوں سے باتیں کرنے کا بہترین موقع وہ بھلا کیسے  ضائع  کرسکتی تھیں ! اور یوں بہت جلد انہوں نے یہاں بھی اپنے گرد خواتین جمع کر لی تھیں ۔جن سے گفت و شنید کر کے  کئی لوگوں سے روابط بنالیے تھے اور حسب عادت  ان کے  مسائل سے آگاہ ہوکر کچھ نہ کچھ   حل  بھی پیش کر رہی تھیں ۔

 ایک لڑکا جو اپنے والد کے ساتھ شناختی کارڈ کے لیے آیا ہو اتھا اس کا مسئلہ یہ تھا کہ  والدہ  کا کارڈ بھی مانگا جا رہا تھا جبکہ اس کی ماں  علیحدگی  اور دوسری  شادی کے بعد رابطے میں نہیں تھیں ۔ عظمیٰ آپا نے صرف ہمدردی نہیں کی بلکہ اس لڑکے سے ماں کا فون نمبر لے کر  بات کرکے تعاون کی درخواست  تجویز دی۔ جس کے لیے وہ لوگ بہت مشکور تھے۔ یہ سب دیکھ کر شارق دل ہی دل میں کڑھ رہا تھا اور اپنے ارد گرد کے لوگوں سے بحث و مباحثہ کر کے اپنی بھڑاس نکال رہا تھا۔ گرمی کی وجہ سے ویسے ہی نڈھال تھا۔ اتنے میں ایک فیملی نے جس کی دستاویزات نامکمل تھیں اپنا ٹوکن شارق کو دینے کا عندیہ دیا  جو شارق  نے بخوشی قبول کرلیا اور یوں وہ اپنی باری سے بہت پہلے اپنی کاروائی مکمل کرسکا۔  یہاں اس کو عظمیٰ آپا  کی بات سے اتفاق کرنا پڑا کہ نیکی کا اجر صرف آخرت میں میں نہیں ملے گا بلکہ دنیا میں بھی مل جاتا ہے کیونکہ اللہ سریع الحساب بھی ہے ! یہ ضروری نہیں کہ ہم جس کے ساتھ  نیکی کریں وہی بدلہ دے ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تین ہفتے بعد شارق کو شناختی کارڈ موصول ہوگیا ۔ اب اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا کہ اس کا شمار بھی  معتبر شہری میں ہوگیا ہے   گویا  دوسروں پر انحصار کم سے کم ہوگا ۔ جہاں اور جو پڑھنا چاہے گا وہ پڑھ  سکے گا !    ڈرائیونگ لائسنس مل جائے گا اور سب سے بڑھ کر ووٹ دے سکے گا لیکن اسے  جلد ہی اندازہ  ہوگیا کہ اس کی نہ صرف ذمہ داری بڑھ گئی ہے بلکہ  مصائب میں اضافہ ہوگیا ہے ! مثلا  جب تک اس کے پاس  کارڈنہیں تھا اسے کہیں دور جانا ہوتا تو  اسے چھوڑنے لانے کی ذمہ داری کسی اور کے پاس ہوتی  اورقریب  میں سفر کے لیے سائیکل ہوتی  ۔ ذرائع نقل و  حمل  کے ضمن میں شارق نے نصابی کتب میں  جو سواریاں پڑھی تھیں ان میں  سے چنگجی رکشوں کا ذکر  ضمنا ہی تھا مگر فی الحال تو صرف یہ ہی  اس کی دسترس میں تھی۔ موٹر سائیکل پر جامعہ جانے کا خواب ابھی تک ا دھورا تھا  کیونکہ  یہ تو ہنوز بڑے بھائی کے زیر استعمال تھی۔ 

 جہاں تک پڑھائی کا معاملہ تھا، بڑے بھائی یاسر اور عرفان بھائی کے تجربے کے بعد شارق سے کسی کو  کوئی امید نہ تھی!  کیا مطلب ؟ دونوں ناکارہ نکلے ! جی نہیں ! وہ دونوں  تو  شاندار نمبروں سے   انجینئر نگ یونیورسٹی میں داخل  اور اپنی مرضی سے  نئی ٹیکنالوجی  پڑھ رہے تھے !    جی جی ! یہ ہی   بات تھی ! پھر کیا ہوا ؟  وہ ٹیکنالوجی ہی متروک ہوگئی۔  اب کیا کرتے ؟  عرفان نے تو  کسی اور مضمون میں  داخلہ لے لیا تھا جبکہ یاسر نے ملازمت  ڈھونڈنی شروع کر دی تھی ۔بہت دنوں تک جوتیاں چٹخانےکے  بعد آجکل وہ بائیکیا کا کام کر رہا تھا جس کےلیے موٹر سائیکل   ضروری تھی ۔ تو جب اتنا شاندار تعلیمی ریکارڈ  رکھنے والوں کی یہ صورت حال تھی تو شارق جیسے  طالب  علم کے لیے کیا ارمان یا مواقع ہوتے  خیر اپنی مارک شیٹ کے بل بوتے  پراس کا داخلہ شعبہ جر میات میں ہو ہی گیا تھا ۔   جس پر صبا  نے اسے جاسوس کا لقب دے دیا تھا ۔ جوابا اسے نفسیاتی کا خطاب مل چکا تھا  کیونکہ وہ شعبہ نفسیات میں تھی۔ گویا  اب جامعہ  میں داخل   تینوں لڑکیوں یعنی  ہبہ، ماہا ،  صبا کے بعد  شارق بھی اس کلب کا حصہ بن گیا تھا  جو جامعہ کے ہزاروں طالب علموں کی طرح پوائینٹ کی بسوں کے  ذریعے پہنچتا تھا ۔ سفری مشکلات تھیں کہ بڑھتی ہی جارہی تھیں    چنانچہ ان کی گفتگو اسی کے گرد گھومتی تھی ۔ 


آج
   کھانے پر وہ سب اسی  موضوع پر  اپنے دکھڑے سنانے میں مصروف تھے کہ عظمیٰ آپا بول پڑیں ۔

"  ۔۔۔۔۔ایک ہمارا زمانہ تھا ۔ سو سے زیادہ بسیں ایک وقت میں جامعہ سے نکلتی تھیں ۔۔۔۔۔۔" انہوں نے تائیدی نظروں سے بہن کو دیکھتے ہوئے کہا ۔

"  ہیں ۔۔۔؟؟ " وہ سب بیک وقت بول اٹھے۔   "۔۔۔۔۔یہ  انتظام کون  کرتا تھا ؟۔۔۔"  شارق نے پوچھا

 "۔۔۔طلبہ یونین ہوتی تھی ۔۔۔! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"   عظمیٰ آپا کی تفصیلات  وہ سب آنکھیں پھاڑے سن رہے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔'' ۔۔۔ہر شعبہ کی الگ  الگ  بھی یونین ہوتی تھی کہ وہاں کے مخصوص معاملات چلا سکے ۔۔۔۔"  جیساکہ بلدیاتی نظام ہوتا ہے کہ ہر محلے کی ایک یونین ہو ۔۔۔۔۔۔"

"۔۔۔ اچھا یعنی ہمارے  تمام  شہری مسائل  کے لیے بلدیاتی انتخاب ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔"  سب نے متفقہ طور پر یہ بات کی بنا کسی  جھگڑے کے !

 اگلے چند دنوں میں بلدیاتی انتخاب کی باز گشت سنائی دی  جس پر   ان نئے نویلے  ووٹرز کی دلچسپی دیدنی تھی  اور جوش و  خروش    میں مزید اضافہ ہوا جب  یاسر نے بطور  کونسلر  انتخاب لڑنے کو فیصلہ کیا۔ سیاسی گہما گہمی عروج پر تھی جب یوم انتخاب سے چند گھنٹے پہلے اسے طوفانی  بارش کی پیشن گوئی کے باعث  ایک ماہ کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان ہوا۔  سب بہت تلملائے  مگر  اس دن واقعی  اتنا جل تھل تھا   کہ گھر سے نکلنا  واقعی ناممکن تھا ۔ اور  یوں اس التوا پر سب نے شکر ادا کیا ۔  سوشل میڈیا پر  اس حوالے سےمیمیز اور  لطیفے بن رہے تھے۔ مگر پورے ملک میں  بارشوں کی وجہ سے  سیلاب  آگیا تھا ۔ اور انتخابی مہم چھوڑ چھاڑ سب امدادی  سر گرمیوں میں لگ گئے ۔ اور یوں انتخاب  ایک  دفعہ پھر التوا کا شکارہوگئے ۔  اور پھر یہ سلسلہ  ایک دفعہ  پھر دہرایا گیا! گویا التوا کی ہیٹ ٹرک ہوچکی تھی ۔


نوجوان ٹولہ
  انتخاب سے مایوس ہوچکا تھا۔  اور آج اس بیزاری کے عالم میں یہ ہی بات کر رہے تھے۔ سب اپنی بھڑاس زور و شور سے نکال رہے تھے۔  ایسے میں عظمیٰ آپا اپنے موبائیل کی تلاش میں آ نکلیں جو اس وقت جبران کے ہاتھ میں تھا۔  انہوں نے بحث کا رخ موڑ دیا یہ کہہ کر کے !

 " ۔۔انتظام اور خدمت  اقتدار سے مشروط تو نہیں ہے ۔۔۔۔؟ "  سب پر تجسس ہو کر سوچ میں پڑگئے ۔

 " بھئی جو کام تمہیں کونسلر بن کر کرنا ہے اس سے پہلے ہی شروع کردو ۔۔۔ بظاہر تو وہ یاسر سے مخاطب تھیں لیکن سامعین میں سب شامل تھے

''۔۔۔۔محلے کی صفائی ستھرائی، مسائل ، پارک کی بحالی  وغیرہ پر اہل محلہ کو یکجا کر کے کچھ نہ کچھ کار کر دگی دکھاؤ  ۔۔۔۔۔"   یہ ان کی گفتگو کا نچوڑ تھا ۔ انہوں نے ماحول کی صفائی  اور آگہی کے متعلق بہت  سے مفید مشورے ، معلومات  اور رہنمائی دی جو ان سب میں امید کی لہر بن کر دوڑ گئے !   

                                                                                                                                   آپ کے خیال میں کیا تجاویز اورعملی  کام ہوسکتے ہیں   ؟؟ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 فر حت طاہر

کراچی

 

              

 

پیر، 12 دسمبر، 2022

معتبر سے موئثر کا سفر ! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 


عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی 1998 ء میں ورکنگ ویمن گروپ کی نشستوں میں شرکت کاموقع ملا تو اس وقت یہ بحث چل رہی تھی کہ 8 /مارچ عالمی یوم خواتین کو ہم منائیں یا نظر انداز کریں ؟ دونوں موقف کے لیے زبر دست دلائل سننے کو ملے ۔ اتفاق سے انہی دنوں مجھے کمیونٹی اسکولز سے تعارف ہوا تو فطرتا مجھے اس میں زیادہ دلچسپی محسوس ہوئی تو میں اس شعبے سے منسلک ہوگئی ۔(ایک مخصوص شعبے میں توجہ مرکوز ہونے کی وجہ سے نسبتا بہتر کام سامنے آتاہے اور پھر تعلیمی میدان خواتین کی ذاتی تسکین کے لیے ایک فطری مقام رکھتا ہے !) مگر کسی نہ کسی حوالے سے شعبہ خواتین کی سر گرمیوں سے بھی آگہی رہی۔ پچھلے 8/10 سالوں میں عالمی یوم خواتین کے حوالے سے مارچ کے آغاز سے ہی خواتین کے حقوق کے حوالے سے تبصروں اور تجزیوں کی بھر مار ہوجاتی تھی مگر پچھلے سال تو فروری میں ہی اس کی دھوم مچ گئی جب عورت مارچ کی تیاروں پر مبنی ویڈیو وائرل ہوگئی تھی ۔ جماعت اسلامی جو شعبہ خواتین کے تحت قانونی اور گھریلو خواتین کی دلچسپی ، معاشی اور سماجی ترقی اور خوشحالی کے عنوانات پر ہمیشہ سے ہی سر گرم ہے اس نے 7 /مارچ 2020ء کو خواتین کانفرنس کا اہتمام کیا۔ کرونا کی آہٹ کے باوجود زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والی ہزاروں خواتین کی شرکت نے کانفرنس کے اعلامیہ پر مہر ثبت کردی کہ انہیں عزت اور وقار کی زندگی مطلوب ہے! حقوق نسواں کی گونج زمانہ طالبعلمی میں ہی سنی تھی اور اس حوالے سے ڈاکٹر نسیمہ ترمذی مرحومہ سے ملاقات بخوبی یاد ہے جس میں انہوں نے باقاعدہ ڈانٹ کر کہا تھا کہ ہر طبقے اور ہر معاشرے کی عورت کا کردار اسی کے مرد کے حوالے سے متعین ہوگا. بنگال کے مرد کا مقابلہ افریقہ کی عورت سے نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔!! اس جملے کی معنویت آشکارا ہوئی جب معاشرے کے مختلف طبقات کو ایک دوسرے سے متصادم کر وانے کی کوششوں کو بام عروج پاتے دیکھا ۔ طبقاتی نظام کو بڑھا وا دینے کے ساتھ ساتھ ایک چھت تلے رہنےوالے دو افراد کے درمیا ن تقسیم پیدا کرنے کی بھرپور کاوشیں منظر عام پر آنے لگیں ۔ ہر معاشرے کی ایک بناوٹ ہوتی ہے جسے تبدیل کرنا اتنا آسان نہیں ہے .بقول شاہد ہاشمی صاحب آپ حکومت تبدیل کر سکتے ہیں معاشرہ نہیں ! کسی بات کو معتبر بنانے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ نے بہت سفر کیے ہوں، بہت سے اعلی اداروں میں کام کیا ہو یا پهر گهاٹ گهاٹ کا پانی پیا ہو. بعض دفعہ محض مطالعہ یا مشاہدہ ہی آپ کا نقطہ نظر واضح کر دیتا ہے ۔ صاحب طرز مولانا مودودی مرحوم نے 1930 سے 1940ء کے عرصے میں جو تحریر لکهی وہ سو سال بعد بهی آج کے معاشرے پر ہو بہو منطبق ہورہی ہے. ابتدائی عمر میں مولانا مرحوم کو پڑهنے سے ذہن کی جو بالیدگی/ وسعت نظر عطا ہوئی اس کا نتیجہ یہ رہا کہ 20 سال کی عمر میں خواتین کے بارے میں جو مقالے نظر سے گزرے وہ عمر کی پانچویں دہائ میں آج بهی جوں کے توں پیش کیے جاسکتے ہیں ...مجهے اپنی رائے پر کبهی اصرار نہیں رہا مگر پچهلی ربع صدی میں جس طرح حالات و واقعات میں اپنی پیشگوئی کو درست پانا مبہوت اور کسی حد تک مایوس کر دیتا ہے . معاشرے کے جس طبقے سے تعلق رہا وہاں شرح تعلیم 100% رہی ہے اور اس زمانے میں بهی ورکنگ ویمن کا تناسب بہت زیادہ تها .اسکول ٹیچرز، کالج لیکچررز اور یونیورسٹی پروفیسرز.سائنسدان اور ڈاکٹرز کی کثرت جبکہ گهر بیٹهنے والی خواتین آٹے میں نمک کے برابر تهیں .ان پس منظر کے ساتھ یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ورکنگ ویمن اپنے کردار سے غیر مطمئن نظر آئیں! میرا مشاہدہ رہا کہ جس خاتون کا عہدہ اور تعلیم جتنی زیادہ تهی اس نے اپنی بیٹیوں کی واجبی تعلیم کے بعدکم عمری کی شادی کا اہتمام کیا ۔ یہ تجزیہ 25 سال پہلے کا تھا لیکن آج کی صورت حال بھی کچھ ایسے ہی فیصلوں کی منتظر لگتی ہے کیونکہ بہر حال خواتین خواہ کتنا ہی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوجائیں ، گھر بنانا ایک ضروری امر ہوتا ہے۔ یہ دھیان رہے کہ ہم شہری خواتین کی بات کر رہے ہیں ورنہ دیہی خواتین تو اپنے مردوں کے ہم پلہ کام کر ہی رہی ہیں۔ عورت پر معاش کی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی لیکن اگر کوئی کرنا چاہے تو اس پر پابندی بھی نہیں ہے ! اگر گهر ایک ادارہ ہے تو عورت اس کی منیجر ! اگر کسی ادارے کا مینجر اپنی ذمہ داری کسی اور کو سونپ کر خود کسی اور ادارے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے تو اسے کیا کہیں گے ؟ اپنے وقت کا بہترین حصہ گهر سے باہر رہ کر کتنا کوالٹی ٹائم وہ دے سکے گی ؟ ایک خاتون کی مثال دوں گی جس کو سنگل پیرنٹ ہونے کی وجہ سے گھر سے باہر نکلنا پڑا۔ اسکول ٹیچر ، ٹیوشن کے ساتھ ساتھ بیوٹی پارلر کا کام اپنے گھر سے ہی کر رہی تھی ۔ایک فطری اور کسی حد تک اطمینا ن بخش حالات کے باوجود اس نے آفس ورک کو ترجیح دی ۔ اس کی بنیادی وجہ وہ غلط فہمی ہے کہ کیرئیر وومن کا تصور ماہانہ تنخواہ اور 9 سے 5 بجے تک بیگ اٹھا کر گھر سے باہر جانے کا نام ہے ! ۔ کیا ورکنگ ویمن صرف آفس میں کام کرنے والی خواتین ہوں گی ؟ ہزاروں خواتین گهر بیٹهے آن لائن کام کر رہی ہیں .کوئی فروزن فوڈ سپلائی کر رہی ہے تو کوئی دفتر اور گھر میں تازہ کهانا سپلائ کر رہی ہے. کوئی بوتیک چلاکر بہت سے نفوس کو روزگار مہیا کر کے ان کے گهروں کے چولہے جلانے کا اہتمام کر رہی ہے تو کوئی آن لائن کپڑے اور سامان منگوا کر خرید و فروخت کا کام کر کے ان کو آسانی فراہم کررہی ہے جو بازار جانے کی مہلت اور سہولت نہیں رکهتیں ...! کرونا کے بعد تو اس میں اضافہ ہی نظر آتا ہے لیکن انہیں موثر خواتین کی فہرست میں نہیں رکھا جا تا ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اپنے علاقے کی موثر خواتین کی فہرست بناتے ہوئے میں اکثر سوچ میں پڑ جاتی ہوں ! میرے نزدیک ایک موثر خاتون وہ ہے جو پارک میں روزانہ 70/80 خواتین سے ملتی ہو اور انہیں کسی بات پر کنونس کر لے بہ نسبت اس کے جو ایک اعلی عہدے پر فائز ہو اور اس کا دائرہ گهر سے محض دفتر تک محدود ہو .. لیکن مجھے معلوم ہے معاشرے پر اثر انداز ہونے والی خواتین کی تعریف ( definition (جب ہی درست سمجھی جائے گی جب اس کو عہدے اور تنخواہ سے تولا جائے گا۔ ایک خاتون کا کہنا ہے کہ مجهے اس بات پر کوئی فخر نہیں کہ 1992 میں برازیل کی بین الاقوامی ماحولیاتی کانفرنس میں میرے سپر وائزر نے میری ریسرچ پر مبنی اپنا مقالہ پڑها تها اور مجهے کوئی افسوس بهی نہیں کہ میرا نام 50 پاکستانی خواتین سائنسدان میں ہوسکتا تها ..!! لیکن مجهے اپنی اس شناخت پر ضرور فخر ہے جب ایک معروف بلاگر نے میرا ذکر باکمال خواتین میں کیا .انہوں نے یوم خواتین پر اپنی ٹوئٹ میں نام لے کر جماعت اسلامی کی خواتین کو شاندار خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکها کہ بہت باکمال خواتین ہیں .بچے ان کے منتظر رہتے ہیں ........گویا وہ نبض پر ہاتھ رکھ کر نہ صرف تشخیص کرتی ہیں بلکہ علاج کے لیے بهی کوشاں رہتی ہیں اپنے اہداف پر نظر رکهتے ہوئے مصروف اور ہر دم فعال تحریک اسلامی کی ہزاروں کارکنان کی حوصلہ افزائی اور دلجوئی کا باعث بنے گا ۔ اپنی تحریر کا اختتام میں رب کے اس پیغام پر کروں گی کہ میں کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں خواہ مرد ہو یا عورت ۔تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو ۔۔۔ اس بدلتی دنیا میں عورت کا کردار بدلنے کی کوشش میں مجھے کب اور کیسے پیش رفت کرنی ہے ؟ آج کی عورت کے لیے سوالیہ نشان ہے کہ اجر تو بہر حال اپنی مقرر کردہ ذمہ داری پر ہی ملے گا اور حساب بھی اسی کا دینا ہوگا ! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فر حت طاہر

بدھ، 19 مئی، 2021

قیصر و کسریٰ ( حصہ سوم : پیشن گوئی)

 


پیش گوئی  


  باب  20 :

یہ  وہ زمانہ ہے   جب شام میں ایرانیوں کی فتوحات کے ساتھ آگ اور صلیب کا معرکہ ایک فیصلہ کن دور میں  داخل ہو چکاتھا ۔ مورخوں کی نگاہ میں  بازنطینی سلطنت کی تباہی کے ظاہر ی اسباب مکمل ہوچکے تھے لیکن قضا و قدر کی نگاہیں روم اور ایران کی رزم گاہوں سے سینکڑوں کوس دور اس  بے آب و گیاہ وادی کی طرف لگی ہوئی تھیں جہاں کفر اور اسلام کی جنگ لڑی جارہی تھی۔  ایسے میں نبی محترم ﷺ  پر اتری یہ وحی مکہ کے کافروں کے لیے سخت اچھنبے کا باعث بن رہی تھی۔

 اس باب میں مشرکین مکہ کی محفل کا منظر ہے جہاں وہ اس پیش گوئی پراپنے تاثرات  بتا رہے ہیں ۔جب شام سے کسریٰ کی فتوحات کی خبریں آتیں تو مشرکین مکہ خوشی سے پھولے نہ سماتے اورمسلمانوں کو مرعوب کرنے کے لیے دھمکیاں بھی دیتے ۔ایس میں قرآن کی پیشن گوئی میں رومیوں کی فتح کی خبر ان کے لیے وجہ فکر بنی ۔اگر یہ پیشن گوئی صرف روم و ایران سے تعلق رکھتی تو شاید مشرکین مکہ اس قدر دلچسپی کا اظہار نہ کرتے لیکن اس میں مسلمانوں کی فتح کی خبر ان کے لیے ناقابل یقین اور ناقابل برداشت تھی اور شاید ظاہری اسباب و وسائل کے حوالے سے ناممکن بھی تھی ۔

باب 21- 29:

عاصم   بے یقینی اور نامیدی کی کیفیت میں مصر کے شہر بابیلون پہنچتا ہے تو ایرانی فوج کے مظالم دیکھ کر اسے  انسانیت کی موت نظر آتی ہے ۔ یہاں فر مس کے داماد کلاڈیوس کو ایرانی افواج سے معجزانہ طور پر  بچاتا ہے ۔کلاڈیوس رومی فوج کا ایک سپہ سالار، اسکندریہ ( مصر) کے گورنر کا بھتیجا اور   رومی سینٹ کے ایک با اثر رکن کا بیٹا  تھا ۔ رومی ( عورتوں ، بچوں )  پناہ گزینوں کا ہجوم شام کے مخدوش حالات کے باعث بحری جہاز کے ذریعے غزہ سے اسکندریہ کی جانب محو سفر تھا ۔ سفر کے دوران  کلاڈیوس کی ملاقات اناطولیہ اور اس کی والدہ سے ہوئی ۔وہ دونوں ایک دوسرے سے متاثر ہوئے جو بالآخر شادی پر منتج ہوا۔ اب عاصم اور فرمس مع بیٹی داماد  کا سفر اسکندریہ کی طرف ہے ۔ کلاڈیوس  کی حفاظت کی خاطر  عاصم اسے اپنے غلام کی حیثیت سے لے جانےپر مجبور ہے ۔

بابیلون کی طرح اسکندریہ میں بھی رومیوں کے جھنڈے سر نگوں ہوچکے تھے ۔رومی بابیلون سے اسکندریہ کی طرف جارہے ہیں ۔ اب خسرو پرویز سین کو  قسطنطیہ کی فتح کا فریضہ سونپتا ہے جو اسے  بادل نخواستہ قبول کرنا پڑتا ہے ۔سین اپنے خاندان کے ساتھ ایک قلعہ نمامکان میں مقیم ہے۔ فسطینہ عاصم کے بارے میں جاننے کے لیے بے قرار ہے ۔ماں اس کے عاصم سے لگاؤ پر اسے سمجھا تی ہے کہ ایک عرب تمہارے لیے نہیں ہے بلکہ ایرج شاہی خاندان سے تعلق کے باعث تمہارے التفات کا زیادہ حقدار ہے ۔ سین پر قسطنطیہ فتح کرنے لیے بہت زیادہ دباؤ ہے

عاصم کا نیا موڑ:

عاصم حبشہ فتح کرنے ولے لشکر کی قیادت کر رہا ہے مگر جنگی حالات اسے سخت بد دل کررہے ہیں اور کلاڈیوس  اسے سمجھا رہا ہے کہ  اگر کسریٰ تمام علاقے فتح کربھی لے تو کیا اس کی ملک گیری کی ہوس ختم نہ ہوگی ؟ ۔۔۔۔کسریٰ کی خوشنودی کے لیے آپ کب تک انسانوں کی لاشیں روندتے رہیں گے ۔۔۔۔آپ کو مفتوحہ ممالک میں ایرانیوں کے مظالم کا اعتراف ہے اور اآپ یقینا اس خود فریبی میں مبتلا نہیں ہوسکتے کہ جب ساری دنیا کسریٰ کی غلام بن جائے گی تو ظالم اور مظلوم کی یہ داستان ختم ہوجائے گی ؟آپ دو قبیلوں کی نہ ختم ہونے والی جنگ کی ہولناکیوں سے دل برداشتہ ہوکر نکلے تھے ! کیا ایران اور روم کی یہ جنگ اس سے کہیں زیادہ ہولناک نہیں ؟ میں کیسے یقین کرسکتا ہوں کہ وہ نوجوان جس نے ایک زخمی دشمن کی فریاد سے متاثر ہوکر اپنے قبیلے کی تمام روایات کو ٹھکرا دیا تھا ۔کروڑوں انسانوں کو ایران کے آہنی استبداد کی چکی میں پستا دیکھ کر مطمئن رہ سکے گا ؟ عاصم زخمی ہونے کے ساتھ شدید بیمار اور ذہنی کش مکش  کا شکار ہے ۔اس بے مقصد جنگ پر وہ کلاڈیوس کی باتوں سے متاثر مگر کسی فیصلے پر پہنچنے سے عاجز ہے کہ اس کے اعصاب کمزور ہوچکے ہیں ۔

عاصم کی بیماری کے باعث اسے کشتی میں روانہ کیا جا تا ہے اور اس کی بے ہوشی کے دوران کلاڈیوس اسے محاذ جنگ کے بجائےطیبہ کی طرف لے جاتا ہے ۔عاصم ہوش میں آکر مخالفت کرتا ہے مگر پھر کلاڈیوس کےیہ کہنے پر کہ   جب آپ تندرست ہوجائیں گے تو اس بات کو فیصلہ کرنا آپ کے اختیار میں ہو گا کہ آپ جس چیز کی تلاش میں نکلے تھے وہ آپ کو کہاں ملے گی ؟  عاصم بے یقینی کی کیفیت سے نکل کر کلاڈیوس  کے ساتھ بابیلون جانے پرتیار ہو جاتا ہے کہ اب  وہ ایک چھوٹی سی چراگاہ اور چند بھیڑوں کے ساتھ زندگی گزارے گا !  ۔قسطنطیہ میں کلاڈیوس کے گھر  اس کا باپ اور بہن استقبال کرتے ہیں اورا ن کے اعزاز میں دعوت کا انتظام کرتے ہیں ۔ ان کی میزبانی سے مستفید ہونے کے بعد فرمس اور عاصم سرائے کا کا کروبار شروع کردیتے ہیں ۔ عاصم کا ارادہ اب تلوار نہ اٹھانے کا ہے۔

ادھر ایرج سین کے گھر پہنچ کرفسطینہ سے شادی کا اصرار کرتا ہے  اور اس کے انکار پر دھمکی دیتا ہے کہ تمہاری ماں عیسائی ہے ! عاصم کے لاپتہ ہونے کی خبر دیتا ہے کہ شاید اسے قتل کرکے دریائے نیل میں پھینک دیا ہو ! فسطینہ سخت ناراض ہوتی ہے ۔ اپنی ماں سے کہتی ہے کہ میرا دل کہتا ہے کہ عاصم زندہ ہے ! اگر وہ نہ بھی لوٹا ایرج جیسے سنگ دل انسان کی کے بجائے میں راہبہ بننا پسند کروں گی ۔

بازنطینی سلطنت ایشیا اور افریقہ کے محاذوں پر ایرانیوں کے ہاتھوں پے درپے شکست کھانے کے ساتھ یورپ میں بھی ایک تشویشناک  صورت حال کا سامنا کر رہی تھی ۔ اور وہ تھے خانہ بدوش وحشی قبائل ! ان حالات سے دلبر داشتہ اور مایوس ہوکر ہر قل قرطاجنہ فرار ہونے کا فیصلہ کر چکا ہے تو اسقف اعظم سرجیس اسے اس بات پر راضی کر لیتے ہیں کہ قسطنطیہ چھوڑ کر جانے کے بجائے ایک حکمران کی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہو ۔ اس کوہمت دلاتے اور دعا دیتے ہیں تو اس کا اعتماد بحال ہوتا ہے۔ کلاڈیوس  قیصر سے ملاقات کرکے اسے اس بات پر راضی کرلیتا ہے کہ ہم بیک وقت دو محاذوں پر نہیں لڑ سکتے لہذا خاقان کے ساتھ مصالحت پر آمادگی  اور ہر قلیہ میں خاقان اور قیصر کی ملاقات ہوگی ۔

باب 30-36  :

ہرقلیہ کے میلہ میں کیا ہوا؟

ایک شاندار میلے کا اہتمام ہے ۔یہاں پہنچ کر عاصم کو محسوس ہوا کہ مغموم فضا سے نکل کر مسکراہٹوں کی دنیا میں داخل ہوگیا ہے مگر جب وہ ایرج کو خاقان کے وفد میں ایلچی کے حیثیت سے دیکھتا ہو تو خدشات کا شکار ہوتا ہے ۔اور پھر اس کے ذریعے سے معلوم ہوتا ہے کہ تاتاری قیصر اور رومیوں پر حملے کی تیاری سے آئے ہیں ۔ عاصم قیصر کو اس سازش سے خبر دار کرتا ہے ۔ ادھر تاتاری ان دونوں کو باتیں کرتے دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ اس نے ان کا بھید کھول دیا ہے اور وہ اسے قتل کردیتے ہیں ۔ مرنےسے قبل ایرج عاصم کو بتاتا ہے کہ فسطینہ آج بھی تمہاری منتظر ہے! تاتاری قتل و غارت گری  کرتے ہوئے قسطنطیہ کے  دروازے تک آپہنچتے ہیں ۔ لاکھوں کو غلام بنا کر ساتھ لے جاتے ہیں ۔  اس موقع پر کلاڈیوس اور عاصم کسی امن کے داعی کے متعلق پیشن گوئی یاد  کرتےہیں جو فرمس کرتا تھا۔  فرمس بھی مرنے والوں میں شامل ہے ۔اس سانحے پر کلاڈیوس سخت الزامات کی زد میں ہوتا ہے مگر قیصر اس کی بہادری اور نیک نیتی پر اسے شاباشی دیتے ہوئے عاصم کو پذیرائی دیتا ہے جس نے انہیں بروقت خبر دار کیا ۔

منصوبہ برائے امن :

قیصر تک رسائی  حاصل کرنےکے بعد عاصم امن کے لیے کسری ٰ کو جنگ بندی پر راضی کرنے کی تجویز دیتا ہے ۔ اس کام کا بیڑا  عاصم کے سر آتاہے ۔سین کے مزاج اور حیثیت کو مدنظر رکھتےہوئے اس کی قیصر سے ملاقات کا انتظام کرنے روانہ ہوتاہے۔  سین کے گھر پہنچا تو عاصم کی تجویز سن کر سین پہلے تو ہچکچاتا ہے مگر ایرج کے موت کا سن کر اسے کسریٰ کے پاس جانے کی ہمت ہوتی ہے کہ اسے اس بے مقصد خون ریزی سے باز رکھ سکے جبکہ قیصر صلح کے لیے تیار ہے  ۔ اس سلسلے میں پہلے سین کے ساتھ قیصر کی ملاقات ہونی ہے پھر قیصر کا پیغام لے کر کسریٰ کے دربار میں جانا ہے ! عاصم کو دیکھ کر  فسطینہ اسے دیکھ کر کھل اٹھی۔ کھل کر اپنی محبت کا اظہار کرتی ہے عاصم کہتا ہے کہ پہلے میں اس امن مشن کو مکمل کروادوں۔

عاصم ، سین کے ساتھ  کلادیوس ، ویریلیس اور سائمن اور  چند سپاہی جو یہودی تاجروں کے بھیس میں ہیں ، دست گرد پہنچتا ہے مگر ان کی بد قسمتی  اور کسریٰ کی فرعونیت کہ وہ اس بات کو سنتے ہی سین کو قتل کروادیتا ہے ۔سین قتل ہونے سے پہلے کسریٰ کو اس کے مظالم پر لعن طعن کرتاہے اور کہتا ہے کہ میں اس جرم میں شریک تھا اور اب اپنی جان دے کر کفارہ ادا کررہا ہوں ۔ اور ساتھ ساتھ عرب میں  نبیﷺ کی پیش گوئی  کا بھی ذکر کرتا ہے۔ اور عاصم کو رومی جاسوس کی حیثیت سے  قید خانے میں ڈال دیا جاتا ہے ۔  ظالم فاتح  کسریٰ ہرقل کے ایلچیوں کو انتہائی توہین آمیز صلح کی شرائط قبول کرنے پر مجبور کرتا ہے ۔  کلاڈیوس فسطینہ ،اس کی ماں اور وفادار نوکر کونہایت رازداری بحفاظت  قسطنطیہ میں پہنچادیتا ہے ۔

باب 37۔38 :

پیشنگوئی کی باز گشت

سلطنت روما کی صدیوں  کی عظمت خاک میں مل چکی تھی اور پرویز  دنیا کا  مغرور ترین انسان بن چکا تھا۔  یمن کا ایرانی گورنر سالانہ لگان کی رقم جمع کرانے دست گرد پہنچا تو پرویز  نے اس سے نبیﷺ کی پیشگوئی کے بارے میں پوچھا کہ پانچ سال پہلے تمہیں  اس پیشنگوئی کی اطلاع مل چکی تھی تو ہمیں کیوں باخبر نہیں کیا ؟ وہ اپنی جان بچانے کو کہتا ہے کہ آپ کی فتوحات کے سیلاب کے آگے یہ ایک بے حقیقت بات تھی۔ ظاہر بین نگاہیں رومیوں کی ذلت اور رسوائی کاآخری نقشہ دیکھ رہی تھیں لیکن اب بھی خدا کی زمین پر مٹھی بھر انسانوں کی جماعت ایسی تھی جن کے نزدیک ابھی تک شکست اور فتح کا فیصلہ نہیں ہوا تھا۔

مشرکین مکہ کو رومیوں کی فتح سے زیادہ  مٹھی بھر مسلمانوں کی فتح کی پیشن گوئی پر حیرت تھی جو رومیوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہ رکھتے تھے۔ لیکن چند برس پہلے مکہ کی گلیوں میں جس پیشن گوئی کا مذاق اڑایا گیا اس کے پورا ہونے کا وقت قریب آچکا تھا۔

ہرقل نے کلیساؤں کی  مالی مدد  اور ترک قبائل کی فوجی مددسے نئی فوجی حکمت عملی ترتیب دی اور بالآخر کسریٰ کو شکست سے دوچار کیا۔ ٹھیک اسی وقت بدر کے میدان میں تین سو تیرہ مسلمانوں کی فتح کی داستان دہرائی گئی ۔ وہ پیشن گوئی جس کا مذاق اڑایا گیا تھا اور جس کے خلاف مشرکین مکہ شرطیں لگا رہے تھے آج پوری ہوچکی تھی۔ ایران پر روم اور عرب پر اسلام کا غلبہ شروع ہوچکا تھا ۔

کسریٰ کو محمد ﷺ کا خط اس وقت موصول ہوا جب وہ اپنی تمام شان و شوکت کے ساتھ دریا کے کنارے پڑاؤ ڈالے ہوا تھا ۔  درباریوں نے اسے ایک مذاق جانا ۔ کسریٰ نے اس نامہ مبارک کے ٹکڑے ٹکرے کردیے اور یمن کے حاکم کو حکم دیا کہ نبوت کے اس مدعی کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ۔ یمن کے حکمران کو مسلمانوں کی طرف سے پیغام ملا کہ عنقریب مسلمانوں کی حکومت کسریٰ کے پایہ تخت تک پہنچنے والی ہے ۔ وہ  مسلمانوں کا  مذاق اڑانے میں مصروف تھے کہ اطلاع ملی پرویز اپنے بیٹے کے ہاتھوں قتل ہوچکا ہے ۔  مراسلہ پڑھ کر اس کے منہ سے نکلا کہ مسلمانوں کے نبی  کی پیشن گوئی پوری ہوچکی ہے ۔

با ب 39 – 41 :

عاصم کو قید میں دو سال سے زیادہ ہوچکے تھے وہ اپنے مستقبل سے مایوس ہوچکا تھا ۔ ایسے میں ایرج کا باپ اس کے پاس رہائی کی خوشخبری  لے کر آتا ہے ۔  وہ عاصم کو قسطنطیہ جانے کے لیے گھوڑا اور سرمایہ دیتا ہے یہ کہتےہوئے کہ میرے گھر کا دروازہ تمہارے لیے کھلا ہے تم فسطینہ کوتلاش کر کے میرے پاس آسکتے ہو۔ میں یہ ہی سمجھوں گا کہ ایرج ایک نئے وجود میں میرے پا س آچکا ہے ۔

عاصم کو راستے میں   ویریلیس ملا جو اس کی تلاش میں نکل رہا تھا ۔وہ  اسے خوشخبری دیتا ہے کہ فسطینہ زندہ ہے ۔ قسطنطینہ پہنچتے ہیں جہاں ہرقل کی آمد پر فتح کا جشن منا یا جارہا تھا۔ عاصم جشن منانے کے اس انداز سے سخت بیزار نظر آیا ۔وہ کلاڈیوس کے گھر پہنچتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ فسطینہ اپنی ماں کی قبر پر گئی ہے ۔ ان دونوں کا  ملاپ آنسوؤں میں ہوتا ہے ۔ فسطینہ پر راہبہ بننے کا دباؤ تھا ۔ انطونیہ اور کلاڈیوس نے اسے روکا ہوا تھا۔ اگلے دن ان دونوں کا نکاح ہوجاتا ہے ۔ راہبوں کی طرف سے خطرہ تھا لہذا وہ دمشق روانہ ہوجاتے ہیں ۔ روانگی سے پہلے کی محفل میں بھی نبیﷺ کی پیشگوئی اور ایک صالح نظام کی طلب پر گفتگو ہوتی ہے ۔ ایک نجات دہندہ جو ہر طرف امن اور آزادی کا پیغام دے !

ٹھیک اسی مقام پر جہاں چند سال قبل کسریٰ  انتہائی غرور سے پڑاؤ  ڈالے ہو اتھا ۔ ہرقل بھی پڑاؤ ڈالتا ہے تو اسے بھی حضورﷺ کا نامہ مبارک ملتا ہے لیکن وہ پرویز سے مختلف  تھا ۔ وہ تصدیق کے لیے عرب باشندوں کو طلب کرتا ہے ۔ ابو سفیان سے تصدیق کے بعد وہ سوچ میں پڑ جاتا ہے اور کہتاہے ۔

''۔۔۔۔۔۔مجھے اس بات کا احساس ضرور تھا ایک نبی آنے والا ہے لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ وہ عرب میں پیدا ہوگا ۔اگر میں وہاں پہنچ سکتا تو اس کے پاؤں دھوتا ۔۔۔" یہ الفاظ سن کر دربار میں سنا ٹا چھا گیا اور پھر ہرقل کی ہمت جواب دے گئی اور اس نے اپنی رعایا کا اضطراب دور کرنے کے لیے عربوں کو دربار سے نکلنے کا حکم دے دیا ۔ یوں وہ اس رحمت  سے محروم رہ گیا ۔

باب  42:

عاصم کی ہچکچاہٹ :

 عاصم اور فسطینہ  اپنے بیٹے یونس کے ساتھ دمشق میں آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں ۔ عاصم کے دل سے غریب الوطنی کا احساس بتدریج ختم ہورہا تھا اور ماضی کے آلام مصائب اب اسے ایک خواب محسوس ہوتے  ۔مذہب کے متعلق دونوں کے خیالات مختلف تھے ۔فسطینہ عاصم کو عیسائیت پر ایمان لانے کی ترغیب دیا کرتی تھی۔وہ اسے خوش کرنے کے لیے کبھی کبھی گرجا چلا جا تا تاہم عیسائیت کے متعلق اس کے جذبات بہت سرد تھے۔ اور یہ سرد مہری اور یا بے توجہی کسی ضد یا ہٹ دھرمی کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ اس تلخ حقیقت کا اعتراف تھا کہ عرب کی اصنام پرستی اور ایرانی مجوسیت کی طرح اسے کلیساکا دامن بھی اس روشنی سے خالی نظر آتا جو انسانیت کے بھٹکے ہوئے قافلوں کو سلامتی کی راہ دکھا سکتی ہو! وہ ایک ایسے دین کا متمنی تھا جو قوموں اور نسلوں کو عدل و انصاف اور امن کا راستہ دکھا سکے لیکن ایسے دین کا کوئی واضح تصور اس کی عقل اور سمجھ سے بالا تر تھا ۔

 دمشق کے بازاروں میں عرب تاجر مل جاتے تو انہیں اپنے گھر لے جاکر وہاں کے حالات پوچھتا اوریہ جان کر اسے حیرت ہوتی کہ چند بے سروسامان  انسانوں کا جو قافلہ مکہ سے نکل کر یثرب پہنچا تھا اس کے عزم و استقلال نے پورے عرب کو اپنی طرف متوجہ کرلیا ہے۔ بدر کی فتح ناقابل یقین محسوس ہوتی لیکن جب مزید فتوحات کی خبریں آنے لگیں تو اسے ایک غیر متوقع انقلاب محسوس ہونے لگی ۔ ایسے میں کلاڈیوس کے خطوط اس ناقابل یقین انقلاب کی تصدیق کرتے لیکن اسلام کے جھنڈے تلے اوس و خزرج اور یثرب کے دوسرےخاندانوں کا متحد ہوجانا اور ان سب کا متحد ہوکر اہل مکہ کو شکست دینا اس کی سمجھ سے بالاتر تھا ۔عرب تاجروں کی زبانی بدر، احد،اور خندق کے واقعات سننے کے بعد صلح حدیبیہ اور اس کے ساتھ مشرق و مغرب کے تاجداروں کے نام پیغمبر اسلام ﷺ کے خطوط اس کے نزدیک ایک مذاق سے زیادہ نہ تھی لیکن اب یہ سب کچھ مذاق سے آگے محسوس ہوتا ۔

عاصم اور فسطینہ کو دمشق آئے پانچ سال ہوچکے تھےکہ کلاڈیس کے اس خط نے تو اسے چونکا دیا جس میں معرکہ موتہ میں مسلمانوں کی ساکھ اور شہرت کو بہت نمایاں کیا گیا تھا ۔ اس نے عاصم سے عرب جاکر صحیح صورت حال کا جائزہ لینے کی درخواست کی کہ آخر وہ کیا چیز ہے جو مسلمانوں کو اپنے سے کئی گنا زیادہ مضبوط دشمن کے خلاف بہادری سے کھڑا کردیتی ہے ۔ قیصر نے ان سے نہ الجھنے کا فیصلہ کیا ہےلیکن سلطنت اور کلیسا کے اکابر یہ خدشہ  محسوس کرتے ہیں کہ جو قوت عرب قبائل کے اندر اتحاد اور مرکزیت پیدا کرسکتی ہے وہ آگے چل کر عرب کے ہمسایہ ممالک پر رومیوں کے اقتدار کے لیے خطرناک ثابت ہوگی۔کلاڈیوس کے بقول اسے اس نبی سے ملاقات کا بہت تجسس ہے۔ مگر کلاڈیوس کا اصرار بھی عاصم کو یثرب جانے پر آمادہ نہیں کرپاتا حتی کہ فسطینہ بھی اسے یثرب جانے کا مشورہ دیتی ہے لیکن وہ یہ ہی کہتا ہے کہ اس  گھر کے علاوہ میرا کوئی وطن نہیں !

اور پھریہ خبریں پھیلنے لگیں کہ مسلمانوں کے خلاف حملے کے لیے غسانی اور رومی فوجیں تیارہورہی ہیں جو عرب پر حملہ کرکے اسے کچل ڈالیں گی !  عاصم کے لیے یہ فیصلہ کرنا دشوار تھا کہ اگر اہل شام نے عرب پر حملہ کردیا تو اس کا طرز عمل کیا ہوگا؟ اور وہ دعاگو ہوتا کہ کاش شام اور روم کی افواج عربوں کے خلاف پیش قدمی کا ارادہ ترک کردیں ۔

باب 43- 44 :

مسافر کو منزل مل گئی !

کلاڈیوس کے  اس خط نے عاصم کو سوچنے پر مجبور کر دیا جس میں اس نے مسلمانوں کے تیس ہزار کے لشکر کے تبوک پہنچنے کی اطلاع تھی ۔ وہ لکھتا ہے کہ اگر میں عرب کا باشندہ ہوتا تو میرے دل میں یقینا یہ جاننے کی کوشش ہوتی کہ مسلمانوں کے لشکر نے کس امید پر شام کا رخ کیا ہےاور اس کی کامیابی کے کیا امکانات ہیں ۔۔۔۔عربوں کی اس جرات کی کیا وجہ ہے ؟خط پڑھ کر   فسطینہ جواب طلب نظروں  سے عاصم کو دیکھتی ہے مگر وہ کہتا ہے کہ میں نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ۔ لشکر اسلام تبوک سے باقاعدہ لڑے بغیر ہی کامیاب لوٹ گیا ۔ اس کے بعد بھی عاصم سال بھر تک عرب جانے کو ٹالتا رہا۔

ایک دن کلاڈیوس دمشق آپہنچا ۔عاصم کہتا ہے کہ میں کئی بار سفر کا ارادہ کیا لیکن شاید عمر کے اس حصے میں انسان کی قوت عمل اس کا ساتھ نہیں  دے پاتی ۔ویسے مجھے یقین ہے کہ مسلمان کا لشکر اب یہ غلطی نہیں کرے گا۔ اس پر کلاڈیوس کہتا ہے مسلمانوں کے عزائم کا تو پتہ نہیں لیکن  اس خطے میں جو  معجزہ رونما ہورہاہے وہ ہمارے لیے سرحدی لڑائی سے کہیں زیادہ تشویشناک ہے ۔ میں تمہیں رومی جاسوس کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک معتبر گواہی کے لیے بھیجنا چاہتا تھا۔ خبروں سے معلوم ہوتاہے کہ پورا عرب اس دین کی بے پناہ اخلاقی اور روحانی قوت کے سامنے ہتھیار ڈال چکا ہے اور اہل عرب ایک جھنڈے کے تحت متحد اور منظم ہورہے ہیں ۔ اور جب یہ قافلہ اس طرف رخ کرے گا تو ایران اور روم کی ساری عظمتیں گرد و غبار بن جائیں گی ۔

" '۔۔۔۔۔عاصم تم میرے دوست اور محسن ہو اور میں اس احسان کا بدلہ چکانے کے لیے تمہیں قسطنطینہ لے گیاتھا لیکن آج میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ اگر عرب کے متعلق  جو میں نے سنا ہے صحیح ہے توزندگی کی جو مسرتیں وہاں تمہارا انتظار کر رہی ہیں وہ شاید قیصر کے دربار میں بھی نہ ملیں ۔اگر  عرب  پر رحمتوں  کانزول ہو رہا ہے تو میں چاہوں گا کہ تم وہاں جاکر اپنا دامن بھر لو۔۔۔۔۔"   

"۔۔۔۔اور مجھے یقین ہے کہ کلیسا کے اکابر قیصر کو زیادہ آرام سے بیٹھنے نہیں دیں گے اور وہ عیسائیت کی حفاظت کے لیے تلوار اٹھانے پر مجبور ہو جائے گا اور مجھے یہ کہتے ہوئے ندامت ہورہی ہے کہ جب عرب اور شام کا معرکہ شروع ہوگا تو تم یہاں صرف ایک عرب کی حیثیت سے دیکھے اور پہچانے جاؤ گے ۔جن لوگوں نے فسطینہ کے نانا کو اس کی عظیم خدمات کے باوجود ایرانیوں کا طرفدار سمجھ کر زندہ جلادیا تھا وہ تمہاری خدمات کا لحاظ نہیں کریں گے ۔،۔۔۔۔"   عاصم فوری عرب روانگی کو تیار ہوجاتا ہے یہ کہہ کر کے اب میں اپنےلیے نہیں بلکہ  یونس کے لیے جارہا ہوں ۔۔

 عاصم فسطینہ اور یونس کے ہمراہ یثرب ( مدینہ ) روانہ ہوجاتاہے ، اسے راستے میں اطلاع ملتی ہے کہ محمدﷺ کا انتقال ہوگیا ہے اور بعض قبائل اسلام سے منحرف ہورہے ہیں !  وہاں پہنچ کر وہ سمیرا کے گھر کے آگے رک جاتا ہے اور نعمان سے ملنے کی خواہش کرتا ہے۔ وہاں ایک خوشگوار صورت حال نظر آتی ہے جب اپنی چچازاد بہن سعاد کو نعمان کی بیوی کے روپ میں دیکھتا ہے ۔مزید یہ کہ تمام قبائل شیر و شکر ہوچکے ہیں ۔ اب ہمیں انسانی رشتے خون کے رشتوں سے زیادہ اہم محسوس ہوتے ہیں ۔ افسوس ہمارا ہادی اس دنیا سے رخصت ہوچکا ہے لیکن وہ روشنی جو جس میں ہم نے انسانیت کی نئی عظمتیں دیکھی ہیں ہماری نگاہوں سے اوجھل نہ ہوں گی ۔

 نعمان اسے تفصیل بتا تا ہے کہ تمہارے جانے  کے بعد میں اور سالم تمہاری تلاش میں یروشلم اوردمشق تک گئےاور تین سال بعد آئے تو روئے زمین کی سار ی نعمتیں ہمارا انتظار کر رہی ہیں ۔ وہ عاصم کو اسلام کی دعوت دیتا ہے اورباالآ خر وہ روشنی حاصل کرلیتا ہے جس کی تلاش اسے دردر بھٹکاتی رہی ۔ اور اگلے ہی دن وہ اس معرکے میں شامل ہوجا تاہے جو اسلام سے منحرف ہونے والوں کی سر کوبی کو روانہ ہورہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 






اتوار، 24 جنوری، 2021

 

 حصہ دوم :  آگ اور صلیب

 

باب  12  :                                                                                                                      منظرنامہ

 

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے  اس میں روم اور ایران کی رزم گاہوں  کا اس وقت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔مشرق اور مغرب  کی جنگوں کا نیا دور اس وقت شروع ہوا جب ایران کے کسریٰ نوشیرواں نے بازنطینی سلطنت پر یلغار کردی  تھی۔




مشرق وسطیٰ 500 عیسوی 


540ء  میں نوشیرواں  3 لاکھ فوجیوں کے ساتھ شام  کی طرف روانہ ہوا۔حلب کے خوبصورت شہر کو آگ لگا دی اور انطاکیہ کی طرف پیش قدمی کردی۔  نوشیرواں شام کے شہروں کو لوٹنے کے بعد  مفتوحہ علاقوں سے ہزاروں مرد اور عورتوں کو جنگی قیدی  بنا کر  مدائین واپس آگیا اور فلسطین پر حملے کی تیاری شروع کردی ۔ اس وقت رومی افواج یورپ میں بر سر پیکارتھی  ۔قیصر روم نے سپہ سالار بلیسارس کو اٹلی سے واپس بلا لیا جس نے ایران کی سرحد پر پہنچ کر یروشلم کی طرف  ایران کی پیش قدمی روک دی لیکن اچانک  یمن کے حالات نے روم و ایران کے درمیان تصادم کی ایک نئی صورت پیدا کردی ۔

575 ء میں یمن کے حکمران ابرہہ نے مکہ پر چڑھائی کردی جس کا مقصد قدیم تجارتی شاہراہ پر مکمل قبضہ جمانے کے علاوہ مکہ کی مذہبی حیثیت ختم کرکے عرب میں عیسائیت کا  راستہ صاف کرنا تھا ۔اہل روم ابرہہ کی اس حرکت پر بہت پر امید اور خوش تھے مگر اہل مکہ کی تمام تر کمزوریوں اور بد اعمالیوں کے باوجود احکم الحاکمین کو اپنے گھر کی تباہی منظور نہ تھی چنانچہ اسے عبرتناک شکست اور ناکامی ہوئی ۔ ایک بار پھر جنگ کو مہمیز لگی اور  نوشیرواں نے یمن پر چڑھائی کردی ۔اس کے ردعمل میں قسطنطیہ میں  مایوسی پھیل گئی اور حکمران کو تبدیل  ہونا پڑا۔ اہل روم نے تین سال زبردست تیاری کے بعد دوبارہ جنگ شروع کردی ۔ نوشیرواں کوپسپائی اختیار کرنی پڑی اور اس کے بعد لشکر کشی کا ارادہ ترک کردیا۔

 نوشیرواں کے بعد اس کا بیٹا ہرمز تخت پر بیٹھا ۔اس ضدی اور مغرور حکمران نے اپنے باپ کے وفاداروں کو ایک ایک کر کے دربار سے نکال دیا ۔نوشیرواں کے  ایک   جرنیل بہرام   کے خلاف ہرمز کے خوشامدی ٹولے نے کان بھرے اور  اپنا حریف بنا لیا  ۔ بہرام نے مدائن پر قبضہ کرکے ہر مز کے بیٹے خسرو پرویز کو ملک کی زمام کار دے دی۔ بعد میں  خسرو پرویز کی ملکہ شیریں کے ایما پر بہرام کو زہردے دیا۔پرویز نے ظلم و تشدد کا نیا باب کھول دیا ۔

ادھر قسطنطیہ ( روم ) میں شہنشاہ  موریس کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے فوکاس نے تخت پر قبضہ کرلیا ۔ اس کے مظالم  کے باعث رومیوں نے بھی اپنے ظالم اور نااہل حکمران کے خلاف بغاوت کردی۔قسطنطیہ کے امراء اور حکمرانوں نے افریقی گورنر کو تخت پر قبضے کی دعوت دی تو اس نے اپنے نوجوان بیٹے ہرقل کو جنگی بیڑے کے ساتھ  قسطنطیہ روانہ کردیا ۔ناول میں اس زمانے کا   ذکر ہے جب ہرقل تخت پر رونق افروز ہوا  اس وقت  پرویز کی فوجیں انطاکیہ پر قابض ہوگئی تھیں  اور  گرجے آتش کدوں میں تبدیل  کیے جارہے تھے۔

باب  13 تا                           باب                       16 :                                                                                                                                                        

عاصم    اپنی منزل مقصود سے لاعلم ناگفتہ بہ حالت میں  یثرب سے نکلتا ہے  اور بارش برستی رات میں  یروشلم  کی سرائے  پہنچتا ہے جہاں ناول کےآغاز میں ٹھہرا تھا ۔سرائے کا مالک فرمس  اس کی ویرانی دیکھ کر پہچاننے میں دشواری   محسوس کرتا ہے ۔ پھر استقبال کے بعد تواضع کرتاہے ۔اس کے حالات جان کر اسےتسلی دیتا ہے اور اپنی داستان بھی سناتا ہے کہ اس کے  باپ  کو  رہبانیت کے خلاف  آواز اٹھانے پر اسکندریہ  کے راہبوں نے زندہ جلادیا جبکہ بھائی پر رومی مظالم کے خلاف آواز اٹھانے پر بابیلون کے چوراہے پر پھانسی دے دی گئی اور وہ دربدر  ہوتے ہوتے یہاں پہنچا ہے ۔ یہ باتیں سن کر عاصم کا اضطراب اور بڑھ جاتا  ہے کہ آلام و مصائب کی دنیا میں وہ تنہا نہیں بلکہ آج پوری انسانیت  اپنے مقدر کی تاریکیوں سے پیچھا  چھڑانے کو بھاگ رہی ہے ۔  فرمس عاصم کی ہمت بندھاتا ہے کہ وہ ایک بہادر انسان ہے جو طوفانوں سے لڑنے کے لیے پیدا ہوا ہے !

                                                                                                                                                                عاصم کی ہنگامی دمشق  روانگی

یہاں پر کہانی میں ایک نیا موڑ آتا ہے  جب دو انتہائی معزز خواتین کو بحفاظت یروشلم سے دمشق پہنچانے کی ذمہ داری فرمس عاصم کو سونپتا ہے ۔ یہ ماں  بیٹی  یروشلم کے حاکم سے چھپ رہی ہیں جو ذاتی انتقام کی خاطر ان کے تعاقب میں ہے ۔وہ انہیں گرفتار تو نہیں کرسکا مگر ایرانیوں کاجاسوس ہونے کا الزام لگا کر  راہبوں کو ان کے پیچھے لگا دیا۔ عاصم یہ ذمہ داری قبول کرلیتا ہے یہ خواتین عاصم کے  عربی ہونے پر ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی ہیں مگر کوئی چارہ نہ پاکر اس کے ہمراہ جانے کو تیارہوجاتی ہیں ۔وہ اسےمعاوضے کی پیشکش کرتی ہیں جسے وہ رد کردیتا ہے جس پر انہیں تجسس ہوتا ہے کہ کوئی عرب بھی نیک ہوسکتا ہے ! عاصم کا  تذبذب یہ ہے کہ جب دمشق   ایرانیوں کی پیش قدمی کے باعث خالی ہورہا ہے تو یہ وہاں کیوں  جارہی ہیں ؟  جس کے جواب میں وہ کہتی ہیں کہ انہیں ایرانیوں سے کوئی خطرہ نہیں کیونکہ اس خاتون کا شوہر  سین ایک ایرانی افسر ہے ۔  فرمس عاصم کو عرب کے بجائے  ایک رومی افسر کے بھیس میں ان خواتین کو دمشق لے جانا مناسب جان کر ایک وردی اس کو دے دیتا ہے ۔اگرچہ اس نے آئندہ تلوار نہ اٹھانے کی قسم کھائی ہوئی ہے مگر ان خواتین کی حفاظت کے خیال سے  وہ  تلوار  اور تیر کمان بھی ساتھ لےلیتا ہے ۔ عاصم ایک نئے سفر پر روانہ ہورہا ہے  جو تکلیف دہ بھی ہے اور خطرناک بھی ! 

راستے میں یوسیبیا  ( ماں ) اپنی کہانی سناتی ہے ۔ اس کا تعلق یونان سے ہے ۔دادا   فوج میں تھے ۔دمشق  میں   سالار اعلیٰ تھے  جبکہ اس کے والد تھیوڈیس ایرانی سرحد کے قریب ایک قلعے کےمحافظ تھے ۔ ان کو ایرانی شہنشاہ خسرو پرویز کو قلعے میں پناہ دینی تھی جو سپہ  سالار کے ایران پر قبضے کے بعد فرار ہوکر مدائن آرہا تھا ۔اس کے ایک افسر سین کی یوسیبیا سے شادی منتج ہوتی ہے ۔آتش پرست سین کی یونانی عیسائی لڑکی یوسیبیا سے شادی ایک نئی جہت کھولتی ہے ۔ وہ دونوں مدائن میں اپنی اکلوتی بیٹی فسطینہ  کے ساتھ  خوشگوار  اور پر امن زندگی گزار رہے ہیں۔لگتا ہے دونوں سلطنتوں کے درمیان جنگ کے امکانات ہمیشہ کے لیے ختم ہوچکے ہیں  مگر چند سالوں بعد محسوس ہواکہ مجوسی پیشوا   ایران میں عیسائیت کے پرچار سے خائف ہیں ۔ شاہ ایران اپنی ظاہری رواداری کے باوجود یہ  محسوس کرتا  کہ قیصر نے اپنی اعانت کے بدلے اس سے آرمینیا کے علاقے چھین کر بہت بڑی قیمت وصول کی ہے  لہذا جنگی تیاریوں میں مصروف تھا ۔سین اس کا نہایت قابل  اعتماد  افسر جنگ کے خلاف تھااور پھر قسطنطیہ میں بغاوت کی خبر پر ایران کے امرا اور مذہبی اکابر نے پرویز کو مشورہ دیا کہ اب روم سے بدلہ چکانے کا وقت آگیا ہے۔

یہ صورت حال سین کے لیے اپنی عیسائی بیوی کے باعث  تکلیف دہ تھی  ۔ اس نے شہنشاہ کواس بات پر راضی کرلیا کہ قسطنطیہ جاکر حالات کا جائزہ لے ۔  بیوی اور بیٹی   تھیوڈیس سے ملنے دمشق ساتھ روانہ ہوئے ۔ سین کو قسطنطیہ میں قید کردیا گیا ۔ بوسیبیا اور فسطیہ  اس کی رہائی  کے لیے دعائیں کرنے  یروشلم روانہ ہوئیں ۔ یہاں ان کا واسطہ یروشلم کے نئے حاکم سے پڑا جس کی بد تمیزی پر  برسوں پہلے یوسیبیا  تھپڑ مارچکی تھی ۔ چنانچہ وہ انتقامی  کاروائی   پر اتر آیا  ۔وہ اس سے بچتی ہوئی دمشق واپس جارہی ہیں ۔ اس سفر کے دوران  عاصم سے اس کی کہانی سن کر وہ دونوں ماں بیٹیاں  بہت متاثر ہوتی ہیں اور اس کو اپنا محسن سمجھتی ہیں ۔ فسطینہ اس کے دل میں ایک نئی جوت جگارہی تھی جس کو وہ سختی سے ٹھکراتا ہے ۔   دمشق پہنچ کر اندازہ ہوا کہ تھیوڈس  کو ایرانیوں سے تعلق کی بنیاد پر رومیوں نے  جلا کر ہلاک کردیا اور پھر ایرانی لشکر دمشق پر ٹوٹ پڑا۔۔ایرانی قبضے کے بعد یہاں  کشت و خون کا بازار گرم ہے  اور ہر طرف لاشوں کے انبار ہیں ۔

باب  17   تا                   19  :

اہل دمشق پر ایرانی لشکر کے وحشیانہ مظالم کی داستان سن اور دیکھ کر عاصم کی نیند اڑگئی تھی۔اور اسے یہ خوبصورت شہر اپنے وطن کے ریگزاروں سے زیادہ وحشتناک نظر آرہا تھا ۔وہاں قبائل ایک دوسرے سے بر سر پیکار تھے اور یہاں سلطنتوں کا تصادم تھا۔ دمشق کی گلیوں  بازاروں میں فاتح لشکر کے نعرے اور قہقہے اور آس پاس کے مکانات سے مفتوح  قوم کی چیخیں  اس کو پریشان کر رہی تھیں ۔وہ اپنے دل میں کہہ رہا تھا ۔

۔۔۔" کاش میں دمشق کے ہر گھر پر پیغام دے سکتا /سمیرا                           تم نے کہا تھا کہ رات کے مسافر کو صبح کی روشنی کا انتظار کرنا چاہیے ! لیکن  وہ صبح کب آئے گی ؟ کیا ان تاریک بادلوں کے آغوش سے کوئی آفتاب نمودار ہوسکتا ہے ؟"  عاصم  کے پاس ان سوالات کا جواب نہ تھا اسے انسانیت کا مستقبل ماضی اور حال سے زیادہ بھیانک نظر آرہا تھا ۔اور وہ بار بار یہ کہہ اٹھتا"۔۔۔کاش ! فسطینہ کی دنیا سمیرا کی دنیا سے مختلف ہوتی ۔۔۔!"

پرویز کا اایلچی سین( فسطینہ کا باپ )   قسطنطیہ سے رہا ہوکر  پرویز کے دربار میں  رومیوں  کی طرف  سے امن و دوستی کا پیغام لے کر آتا ہے کہ ہرقل اپنے پیشواؤں کے برعکس (فوکاس) کی غلطیوں  کی تلافی کرنے پر آمادہ ہے     مگر پرویز کے رویے کے باعث ایران اور روم کے تعلقات میں بہتری نہیں   آسکی ۔سین کی آمد      سے ماں بیٹی کو حوصلہ اور اعتماد ملتا ہے اور وہ حسان مندی کے جذبات  کے ساتھ عاصم کے لیے انواع اقسام کی  پیش کش کرتا ہے جن  کو قبول کرنے میں عاصم کو ذرہ برابر دلچسپی نہیں ـبہر حال وقت گزارنے کے لیے فارسی سیکھنی شروع کر دی ۔ یہاں پر ایرج نامی نوجوان فوجی افسر کی آمد ہوتی ہے جو ایک معزز ایرانی خاندان سے تعلق رکھتا ہے وہ اور فسطینہ بچپن سے  ایک دوسرے کو جانتے ہیں ۔ فسطینہ کی عاصم سے بے تکلفی  اور دلچسپی دیکھ کر وہ عاصم سے حقارت بھرا  رویہ اختیار کرتا ہے جو  فسطینہ کو اس سے برانگیختہ کردیتا ہے۔

سین فوجی مہم پر روانہ ہوا تو عاصم کے خیالات ایرانیوں  کی فتح کے حق میں تھے اور پھر فسطینہ کے اصرار پر وہ سین کا فوجی مہمات میں ساتھ دینے پر راضی ہوجاتا ہے ۔عاصم سین کی رفاقت میں فلسطین کے کئی معرکوں میں حصہ لیتاہے۔ جنگ جس کے اچھے اور برے پہلوؤں پر غور کرتے ہوئے وہ اپنے ذہن میں خلجان محسوس کرتا تھا اب وہ اسے ایک کھیل محسوس ہوتی تھی۔ کسریٰ کی فتح یا قیصر کی شکست کے بجائے اس کے لیے یہ مسئلہ زیادہ اہم تھا کہ سین اس جنگ میں حصہ لے رہا ہے۔ سین ایران کی فتح کے لیے لڑ رہا تھا اور ضمیر کی دبی دبی سسکیوں کے باوجود یہ فتح عاصم کے لیے بھی ایک مقصد حیات بنتی جارہی تھی ۔میدان جنگ میں عاصم اپنی جرآت   اور فتح کے جھنڈے گاڑ رہا تھا جو ایرج کے لیے وجہ پریشانی بنی ہوئی تھی ۔ عاصم کے قدر دانوں میں اضافہ اور اس کی بڑھتی ہوئی شہرت اور مقبولیت  نے بعض لوگوں میں حسد و رقابت کے جذبات پیدا کردیے تھے۔

یروشلم کی فتح کا جشن جاری تھا کہ سین نے عاصم کو اطلاع دی کہ اسے ایشیائے کوچک کے محاذ پر بھیجا جارہا ہے جبکہ عاصم کو مصر کی طرف پیش قدمی کرنے والے لشکر کے ساتھ جانا ہوگا ۔ اس خبر سے عاصم کا دل بیٹھنے لگا اور اسے احساس ہوا کہ سین اس سے پیچھا چھڑا رہا ہے !  بحیثیت ایک  ایرانی فوجی دستے کا سالار بنا کر اس کااعتماد بحال کرکے گویا اس کے احسان کا جواب دے دیا ہے جو اس نے سین کی بیوی اور بیٹی کو بحفاظت دمشق پہنچا کر کیا تھا ۔ اب اس کو خود فریبی سے نکلنا ہوگا کہ جب وہ جنگ کے اختتام پر دمشق جاؤں گا تو فسطینہ دلفریب   مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کرے گی !  وہ بوجھل دل کے ساتھ مصر کی طرف روانہ ہوجاتا ہے کہ افریقہ کے محاذ سے  زندہ واپسی ممکن ہو یا نہ ہو !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 اس ناول کا تیسرا اور آخری حصہ " پیشن گوئی " کے عنوان سے اگلے بلاگ میں پڑھیے