ہفتہ، 17 اگست، 2019


 لا حاصل آرزو ۔۔۔۔۔!

آپ کو پتہ ہے ..مس رخسانہ ہمیں بد دعائیں دیتی ہیں ..! " 
اچھا ! کیا کہتی ہیں ...؟"
"... اگر  محنت نہیں کرو گے تو تم سب فیل ہوجاؤ گے ...!"
------------
"ہماری امی دھمکیاں دیتی ہیں . ...
ہیں ؟ کیا کہتی ہیں  ؟
.وہ کہتی ہیں اگر تم لنچ باکس خالی کر کے نہ لائے تو گهر میں نہیں گھسنے دوں گی ... ""شرارت کروگے تو گھر سے نکال دوں گی "
-----------؛
یہ پڑھتے ہوئے  یقینا آپ کے چہرے پر  مسکرا ہٹ  دوڑ گئی ہوگی
اس طرح کے ڈھیروں مکالمے ہمیں سننے کو ملتے ہیں ..معصومیت میں کہے ان بڑے بڑے الفاظ "بد دعا" اور " دھمکی " کے منفی تاثر کے باوجود کوئی ڈھونڈنے سے بھی اس میں  نفرت ، لاپرواہی یا بغض کا عنصر نہیں پاتا ..  
یہ انداز گفتگو ہمیں قرآنی تعلیمات سے بھی ملتا ہے ...ڈرانے والا ، حقیقت کا آئینہ دکھانے والا رویہ ! یعنی تنبیہ  کرنے والا !  انبیاء کا کردار ہمیں یہ ہی بتا تا ہے کہ وہ خوشخبری کے ساتھ ساتھ ڈراوا بھی دیتے ہیں ۔ جس میں منفیت نہیں بلکہ اپنائیت ہوتی ہے !           جو اقوام اور افراد محض اپنی خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں ،  بے نام آرزوؤں کے بھروسے درست عمل سے بے نیاز رہتے ہیں ۔کسی کی اصلاح پر اس کے دشمن ہوجاتے ہیں  ان کے بارے میں قرآن بھی مایوسی کا اظہار کرتا ہے ! wishful Thinking   کا لفظ اس کی بہتر تر جمانی کر سکتا ہے ۔ گوگل کریں یا لغت  کا سہارا لیں !معنی  مایوس کن ہی نظر آئیں  گے !
معزز قارئین ! یہ تمہید ہم  نے  اس بلاگ کے لیے  باندھی ہے جو اس وقت لکھا جارہا ہے !
اگر آپ پی ٹی آئی کی حکومت پر کسی بھی قسم کی تنقید کریں تو جواب میں طنز سننے کو ملے گا کہ آپ پٹوارن ہیں ! اس ٹولے کو بر سر اقتدار دیکھنا چاہتے ہیں ۔۔۔وغیرہ وغیرہ
اس بلاگ کا اتنا حصہ انتخابات کے فوری بعد لکھا گیا تھا ۔۔مصروفیات کے باعث مکمل نہ ہوسکا اور پھر ہم نے بھی اسے یوں ہی چھوڑ دیا کہ اب جبکہ یہ بر سر اقتدار آگئے ہیں   تو ان کا حق ہے کہ انہیں موقع ملنا چاہیے! مگر جیسا کہ محاورہ ہے " پو ت کے پاؤ ں پالنےمیں نظر آتے ہیں " تو کابینہ  کی تشکیل سے ہی آگے کے حالات نظر آرہے تھے ۔ نوجوان نسل کے لیے تو ہر چیز نئی تھی سوان کی دلچسپی  بجا تھی اور ہے !تبدیلی کی لپک جھپک   سمجھ میں آرہی تھی مگر وہ نسل جو پچھلے30سال سے  یہ وعدے وعید اور سبز باغ دیکھ رہی ہو اس کی آنکھوں پر پٹی بندھنا بہت حیرت انگیز تھا ۔
آئیے یادوں کی چلمن ہٹاتے ہیں !


 ہماری نسل نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو بھٹو کی حکومت تھی۔ ہر طرف اسلامی سربراہی کانفرنس  کے ترانے گونج رہے تھے۔ ملک دو لخت ہوچکا تھا مگر قوم کو روٹی ، کپڑا اور مکان کے خوشنما نعروں سے بھلانے پر مجبور کردیا گیا تھا۔ادھر تم ادھر ہم  کے تحت بر سر اقتدار آنے والے  کو بالآ خر انتخابی شیڈول کا اعلان کر نا پڑا۔بلاشبہ بھٹؤ نے 73 ء کا آئین اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے میں اہم کردار ادا کیا  مگر قوم ان  کے کارناموں کے باعث کچھ زیادہ خوش نہیں تھی لہذا اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے 9 پارٹیوں کا اتحاد ان کے خلاف تشکیل پاکرسر گرم تھا ۔7/ مارچ 1977ء  قومی اسمبلی کے نتائج سامنے آتے ہی پوری قوم احتجاجا سڑک پر آگئی اور یوں صوبائی انتخابات  کی نوبت ہی نہ آسکی ! احتجاج نے طول پکڑاکہ اسکول امتحانات منعقد ہی نہ ہوسکے  اور چھوٹے بچوں کو بغیر امتحان اگلی کلاسز میں بھیج دیا گیا ۔ ۔ مذاکرات کے دور چلے جو ناکامی پر منتج ہوئے  اور بالآ خر مارشل لاء لگا دیا گیا ۔انہی دنوں مشرقی پاکستان جو اب   بنگلہ دیش  تھا ۔وہاں مجیب  الرحمان  کو قتل کرکے حکومت  تختہ الٹ دیا گیا تھا ۔ مارشل لاء ، جمہوریت کا قتل اور تختہ الٹنے جیسی اصطلاحات بچوں کے لیے نئی تھیں اور وہ اس کو اپنے ذہن کے مطابق  سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔
اب فوجی حکومت اسلامی نظام کے خوش نما نعروں اور اعلان کے ساتھ اقتدار میں تھی ۔ اس  سلسلے میں کچھ کاسمیٹک اقدامات ہوئے بھی مگر زیادہ تر وعدے ہی رہے جو 11سال تک  وفا نہ ہوئے۔اور اس دوران  باشعور ہونے والی نسل کے ہیرو ضیا ء الحق ہی ٹھہرے ! ضیا ء الحق فضائی حادثے میں ختم ہونے سے پہلے انتخابات  کی تاریخ طے کر چکےتھے جو حسب پروگرام منعقد ہوئے ۔یہاں فوجی حکومت سے اندازوں اور تخمینے کی غلطی ہوئی اور بے نظیر زچگی سے فارغ ہوکر انتخابی مہم کے لیے دستیاب تھیں !  پی پی پی کی کامیابی اور بے نظیر کی اقتدار میں آنے کی خبر پہلے سے ہی گرم تھی اور پھر 02 دسمبر88ء  کی دوپہر جب بی بی نے امت مسلمہ کی پہلی کم عمر خاتون کی حیثیت سے حلف اٹھا یا تو خدشات اور شکوک کی ایک  لہر قوم کی اکثر یت کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی ۔گھر کے بزرگ جو ان کے والد ذو الفقار بھٹو کی سرگر میوں کو بھگت چکے تھے نئی نسل کے دل ودماغ کو پہلے ہی اس سے  آگاہی دے چکے تھے  اور  30 سال پہلے کی نسل میں جو عقائد ونظریات گھر کے بزرگ کے ہوتے تھے گھر کے دیگر افراد اسی  کو من و عن مانتے تھے ( میرا ووٹ میری مرضی جیسے نعرے اکیسویں صدی میں مقبول ہوئے  ) چنانچہ معمولی سی برتری کے ساتھ( الطاف بے نظیر بہن بھائی کے نعروں کے بل بوتے پر) بے نظیر وزیر اعظم منتخب ہوگئیں اور مسٹر ٹین پرسنٹ کے ٹائٹل کے ساتھ ان کے شوہر نامدار بھی کوچہ سیاست میں داخل ہوئے۔نااہلی کہہ لیں یا بد دیانتی یا پھر 11 سال تک  آمریت کو  بھگتنے کے بعد اچانک  جمہوریت کی وجہ سے ہیجان کا  شکار قوم شدید اختلافات اور تضادات  میں گھر گئی  ۔
 چنانچہ محض 20  ماہ بعد اسمبلیاں تحلیل کر دی گئیں اور اب قرعہ فال نواز شریف کے نام لکھا ۔ان کے وعدے بھی دلفریب تھے ۔نوجوانوں  کو پیلی ٹیکسی کی چابی حوالے  کر کے  ایر پورٹ پر گرین  چینل  کھول دیے گئے ۔ ملک میں سرمایہ  تو نہ آیا ہاں ہر طرف امپورٹیڈ چیزوں کی بھرمار ہوگئی ۔۔عوام کو بھی جیسے ہریالی سی نظر آنے لگی ۔93 ء میں پھر اسمبلیاں توڑ دی گئیں اور نئے انتخابات ہوئے ۔اب پھر بے نظیر کی باری آگئی ۔
 نئے وعدے   کچھ اور سبز باغوں کے ساتھ دہرائے گئے   اور بے نظیر ایک دفعہ پھر وزیر اعظم ہاؤس میں براجمان ہوئیں ۔اب کچھ نئی غلطیاں کہہ لیں یااختلافات  کا شاخسانہ !ایک بار پھر عبوری وزیر اعظم کے بعد انتخابات  کا ڈول  ڈال دیا گیا ۔ اور پھر نواز شریف ۔۔۔۔ اب عوام بہت بے زار سی تھی چنانچہ رمضان المبارک میں  انتخابات ہوئے  اور ٹرن آؤٹ بہت کم رہا مگر جمہوری عمل جاری رہا ۔۔ نواز شریف  چولا بدلے نظر آئے ۔۔آتے ہی جمعہ کی چھٹی کا اعلان کر کے اپنے پچھلے اسلامی تاثر کو ہر ممکن طور زائل کرنے کے کوشش میں لگ گئے ! اچکن سے سوٹ بوٹ پر آگئے ! ان کا واحد کارنامہ ایٹمی دھماکہ ہے جس کے بعد پوری قوم جذبے اور جوش سے بھری ہوئی تھی ۔بین الاقوامی  پابندیوں کے خدشے کے پیش نظر نواز شریف نے سادگی اور  بچت کا ڈول ڈالاتھا  ! ہمیں یاد ہے کہ ااس ضمن میں  ہمارے گھر میں  گھی کا بگھار ختم یا  کم کر دیا تھا ! مخلص اور حب الوطن عوام کی آنکھ میں دھول جھونکی جارہی تھی
دوتہائی اکثریت کے باوجود جمہوریت ایک بار  پھر تنازعات کا شکار تھی اور پھر 12 / اکتوبر قوم نے ایک اور مارشل لاء  کا نظارہ دیکھا بقول منیر نیازی :
              ایک اور دریا کا سامناتھا منیر !
اور یہ دریا خون کا دریا ثابت ہوا کہ نائین الیون کے بعد خطے میں سخت بد امنی  رہی  ۔9 سال تک بر سر اقتدار رہنے کے بعد 18 /اگست 2008 ء کی دوپہر پرویز مشرف رخصت ہوئے یہ کہہ کر کہ پاکستان کا خدا حافظ ! ان کے لہجے میں جتنا طنز ، زہر اور معنی خیزی تھی ہم سب لرز کر رہ گئے خصو صا ہماری والدہ جن کے بقول صدر ایوب کی الوداعی تقریر ریڈیو پر سن کر وہ بہت روئی تھیں ،اس وقت کے آنسوؤں اور آج کے آنسوؤں میں بڑا فرق تھا ! صدر ایوب کے کچھ نہ کچھ کارنامے تھے اور جو کچھ عیب تھا اس پر پردہ تھا جو بعد میں کھلا جبکہ یہاں تو سب کچھ اظہر من الشمس تھا ! تباہی اور بربادی اور مزید نا امیدی کہ بے نظیر کے قتل کے بعد فوری الیکشن میں پی پی پی کو(ہمدردی کا کہہ لیں یاپھر تمہاری باری ختم ، اب میری باری والا کھیل کے تحت ) اقتدار مل چکا تھا ۔ زرداری کوصدر منتخب کرنا  ایسا تھا جیسے بلے کودودھ کی رکھوالی ! اخلاقی کرپشن اور مالیاتی دیوالیہ صاف نظر آرہا تھا ۔اسٹیبلشمنٹ نے اب اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے حکومت کو پورے پانچ سال تک موقع دیا

اور پھر آتے ہیں 2013 ء کے انتخابات ! اب باری تھی نواز شریف کی ! اور وہ ایک بار پھر ایوان اقتدار میں شامل تھے ۔ان کے اقتدار سنبھالتے ہی پی ٹی آئی جو 15 / 16 سالوں میں بار آور ہوچکی تھی نے رولا ڈالے رکھا ۔۔۔بہر حال حکومت نے اپنی میعاد پوری کی اور  قوم ایک بار پھر  انتخابات میں شامل ہوگئی ۔
PTI   کی تخلیق سے بہت پہلے ہی عمران  خان مشہور و مقبول تھے ۔ہماری نسل کے لیے کر کٹ ہیرو ! آج بھی کوئی پرانی نوٹ بک ہاتھ لگے تو اس میں 5 کر کٹ اسٹار ز کی تصویر سرورق پر نظر آجاتی ہے ۔ اپنےتمام تر اسکینڈلز اور پلے  بوائے کے تاثر کے باوجود ان کے پوسٹرز  ہر گھر میں موجود ہوتے  ! کر کٹ کیریر کے بالکل اختتام پر ورلڈ کپ جیت کر سپر ہیرو بن چکے تھے ۔۔۔اپنے اسٹارڈم کے مزے اٹھانے کے بعد وہ  شوکت خانم ہسپتال کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم پر لگ گئے۔طالب علموں کی پوری قوم  ان کے ساتھ لگ گئی  ایک بدلے ہوئے انسان کے روپ میں نظر آئے ۔ ان کی تحریریں جو اخبار کی زینت بننے لگیں کلام اقبال کے مصرعوں کے عنوانا ت سے اخذ کی گئی ہوتیں ۔کافی  لوگ حیران تھے تو کچھ مشکوک کہ کسی اورسے یہ مضامین لکھوائے جاتے ہیں ؟ بہر حال ان کی یہ بدلی ہوئی شخصیت اب سنجیدہ مزاج افراد کے لیے بھی قابل قدر و منزلت  بن گئی۔ ان کے وزیر اعظم بننے کی افواہیں بھی  گر دش میں تھیں مگر ہر دفعہ ان کا انکار سامنے آتا رہا ۔  اسی تذبذب کے عالم میں  جمائمہ گولڈ اسمتھ سے ان کی شادی ایک بریکنگ نیوز کے طور ٹاک آف دی ٹاؤن بن چکی تھی ۔سوشل میڈیا نہ ہوتے ہوئے بھی  ہر فورم پر یہ خبر بحث کا عنوان بن گئی ۔ اور اس سے بھی بڑھ کر ان کا سیاسی جماعت کی تشکیل کا اعلان ( آنے والے وقت کی تخم ریزی ثابت ہوئی ) 1996 ء  میں ہوا  ! معروف شخصیت ہونے کے باوجود کوچہ سیاست میں انہیں صفر سے  آغاز کرنا تھا ۔


مشرف دور حکومت  میں عمران خان اپنی پارٹی کے واحد ممبر اسمبلی تھے ۔2011ء کے بعد ان کی پارٹی کا پھیلاؤ نظر آیا ۔اپنی کرشماتی شخصیت کا فائدہ اٹھا تے ہوئے نوجوان طبقے کی بہترین چوائس  بن گئے ۔ اس موقع پر ہم نے ایک بلاگ لکھا جس کا لنک کچھ یوں ہے (www.qalamkarwan.com)اور 2013 ء میں انتخابات سے چند دن پہلے کرین سے زخمی ہوگئے جس  کے باعث  ہمدردی کےگراف مزید بلند ہوگیا !وہ خود اپنا ووٹ تو کاسٹ  نہ کر سکے مگر دوسری جماعتوں کے ووٹ اکاؤنٹ میں شگاف ڈالنے میں کامیاب ہوگئے ۔وہ پھر بھی مطمئن نہ تھے اور 4حلقے کھلوانے پر اصرار جاری رہا ۔۔اس کشمکش میں  دھرنے کا اعلان ہوگیا ۔ کنٹینر پر بیٹھ کر جو لب و لہجہ  اور انداز اختیار کیا اس کو سن کر اور دیکھ کر اپنے بہت سے مداح کھوتے چلے گئے ۔(جن میں ہم بھی شامل ہیں )۔ اسی لپا ڈگی میں 2018ء کے انتخابات آگئے ۔ تبدیلی کی  جو رو چلی اس میں بڑے بڑے لوگ بہہ گئے  اور بالآ خر وہ شیروانی پہن کر حلف اٹھانے تک آپہنچے ۔۔
زبان اٹکنے پر اگر یہ اسٹیٹس لکھ دیا کہ ہمارا نظام تعلیم  بچے کو Hippopotamus کی ہجے اور تلفظ تو سکھا دیتی ہے مگر خاتم النبین پر اٹک جاتی ہے ! اس پر جو باتیں سننے کو ملیں طبیعت ہری ہوگئی  جسے فتح کے نشے کاسرور سمجھ کر ٹال  دیا مگر ہر گزرتے دن غلطیاں بڑھتی گئیں اور اس پر عذر گناہ بدتر از گناہ کی مانند بد زبانی پر مبنی دلائل کی بھرمار ایک شخصیت کاطلسم نگلتی چلی گئی ۔۔ہر فیصلہ ایک سے بڑھ کر ایک تباہی کی طرف جاتا نظر آیا ۔۔۔( ہر تنقید پر کم سے کم بری بات جو کہی گئی ۔۔" کون لوگ ہو تسی ۔۔۔"۔۔۔باقی جو لب و لہجہ رہا  وہ سب جانتے ہیں ۔۔ہمارا مدعا یقینا  آپ سمجھ رہے ہوں گے !!( حکومت پر تنقید ہر گز ہر گز ریاست دشمنی نہیں ہوتی  اور قوم اوپر اٹھتی ہے تو ہر فرد خوشی اور جوش سے لبریز ہوتا ہے مگر ۔۔!!)

آج   جب اس بلاگ کو مکمل  کیا جارہا ہے تو حکومت بنے 9 ماہ ہونے کو ہیں ۔یہ وہ مدت ہے جس میں کچھ نہ کچھ ظہور پذ(Deliver) ہوہی جاتا ہے۔(تفنن بر طرف!).. ہمیں تو اپنے انصافی احباب  کی آرزوؤں کے بت ٹوٹنے کا افسوس ہے ۔۔توقعات ختم ہونے اور مایوس ہونے پر دلی رنج ہے ! اگر حکومت کچھ مثبت سمت میں سفر  کرتی نظر آتی تو ہم اپنا یہ بلاگ ہر گز مکمل نہ کرتے بلکہ اپنی رائے سے رجوع کر لیتے ۔مگر کیا کریں قرآن کی زبان میں ایسی بےنام آرزوؤں کو کہیں گھن لگی کرسی تو کہیں بیت عنکبوت کہہ کر مثال دی گئی ہے !
افسوس تو ہمیں بھی ہے اپنے بچپن کے ہیرو کی ناکامی پر ! اپنے خدشات درست ہوتے دیکھنا کچھ کم تکلیف دہ نہیں ہے ۔۔یہ وہی دلسوزی ہے جسے نادانی کبھی " بد دعا" سمجھتی ہے تو کبھی " دھمکی " کا لبادہ پہنا دیتی ہے ! ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 فر حت طاہر
Although Blog is uploaded 4 months later , but still valid!!!



جمعرات، 29 نومبر، 2018

آبادی سے بر بادی

                                  
                                



بچپن میں ایک کہانی سنی اور پڑهی تهی!

بادشاہ کو اپنا محل تعمیر کرنا تھا مگر اس کی راہ میں ایک بڑهیا کا جهونپڑا حائل تها جس سے دست برد ہونے کو وہ ہر گز تیارنہ تهی. بادشاہ نے اپنے اختیارات کا استعمال کرنے کے بجائے وہ کونا ایسے ہی چهوڑ دیا تها!اس کہانی کا سبق/عنوان *بادشاہ کا  انصاف* تها..

یہ کہانی میں اپنی کزن کو سنا رہی تهی جب ہم دونوں شاہراہ قائدین پر کهیل رہے تهے !!آپ کی حیرانگی بجا ہے ! نہ ہماری عمریں ہیں کهیلنے کی اور نہ ہی یہ جگہ ہے کهیلنےکی !  پهر؟؟دراصل یہ بہت پرانی بات ہے!
شاہراہ قائدین !0.9میٹرلمبی یہ سڑک ہمیشہ سے ایسی نہ تهی ..پاکستان بننے کے بعد مہاجرین کو ٹهہرانے کے لیے شایدجهگیاں بنائ گئی تهیں اور بعد میں  انہیں الاٹ کر دی گئی تهیں ۔ایک بڑا سا خطہ ہمارے نانا جان کو بهی ان کے متروکہ جائیداد کے کلیم میں ملا .اس پر انہوں نے تعمیر ملت کے نام سے اسکول بنایا جس کا افتتاح عبد الرب نشتر نے کیا تها .بعدمیں یہ اسکول بند ہوگیا یا قومیا لیا گیا (یاد نہیں ہے! )  چنانچہ نانا جان نے اسے رہائشی عمارت میں بدل دیااور برنس روڈ کے فلیٹ سے خود بھی یہاں شفٹ ہوگئے  

یادوں کی چلمن اٹهاو تو ایک تصویر ابهرتی ہے!

اس بڑے سے احاطے میں پانچ گهر، جن میں سے ایک میں نانا جان اپنے خاندان کے ساتھ مقیم تهے.یہ بقیہ چاروں سے زیادہ کشادہ اور گنجائش رکهتا تها .اس میں ایک گول  کمرہ جو آفس کہلاتا تھا ( اسکول کے زمانے میں یہ آفس ہوگا ) دراصل بیٹهک (ڈرائینگ روم) تھا .وہاں قدیم طرز کا فرنیچر نانا جان کی نفاست کا آئینہ دار تها ..
مجهے اچھی طرح یاد ہے !بهائی کے ساتھ کرسی کے ہتهے پر چڑھ کر روشن دان سے باہر جهانکتے اور راہگیروں خصوصا پهیری والوں سے گفت و شنید کرتے تھے...خالو جان کا تبادلہ پنڈی سے کراچی ہوا توکونے والے مکان میں خالہ جان رہائش پذیر ہوگئیں.اب ہماری دلچسپی اس بڑے سے کمپاونڈ کے آخری مکان میں سب سے زیادہ ہوگئی جہاں خالہ زادکے ساتھ کهانے ،کهیلنے اور باتوں شرارتوں کا اپنا لطف تهااس کے کونے میں ایک   کھجور کا درخت تھا جس میں جنات کی رہائش کا خوف ہم بچوں کو دلا یا جاتا مگر بچوں سے تو جن بھی ڈرتے ہیں شاید ۔۔۔۔۔اس گهر سے جڑے بچپن کی یقینا  ڈھیروں یادیں ہیں مگر اس وقت موضوع وہ عمارت ہے جو شاید منی پاکستان تها.! 
یہ عمارت ایسی تھی جیسا کہ ہم کتابوں  میں ایک مثالی درسگاہ  کی تصویر دیکھتے ہیں  !۔درمیان میں پهاٹک ،پهر میدان اور اونچی بنیادوں پر بنے کمرے جنہیں رہائشی صورت میں ڈهالنے کے لیے ہر گهر کو ایک دیوار کے ذریعے تقسیم کیا گیا تها یوں وہ اس  کا صحن بن گئی تهی ۔  کچھ نے تخت بچهائے ہوئے تهے اور کچھ نے کرسیاں اور مونڈھے ،جہاں دهوپ اور چاندنی سے لطف اندوز ہوا جاتا تها ..نانی کے گهر سے خالہ کے گهر تک ہمارا ریسنگ ٹریک ہوتا جس پر ہم بچے دوڑتے، چهوٹے بہن بهائی تالیاں پیٹتے .اور بڑے سکون کا سانس لیتے ماسوائے ایک گهر کے جہاں کوئی بچہ نہیں تها وہ یقینا پیچ وتاب کهاتے ہوں گے ..  ! .
یہ کوئ 1971 ء یا  1972 ء کی بات ہے!  .ملک مشرقی پاکستان کے سانحے سے گزر رہا تها .اس وقت کی حکومت کو ایر پورٹ سے قائد اعظم کے مزار تک ایک اچهی سڑک بنانے کا خیال آیا ..اس کے لیے ضروری تها کہ اس پوری بستی کو بلڈوز کیا جائے ! چنانچہ سروے اور کاروائی مکمل کرکے نوٹس جاری کر دیے گئے اور لوگوں کو کورنگی میں  بسانے کا فیصلہ ہوا .اس پر احتجاج تها اور بڑوں کی گفتگو سن کر ہم بچے بهی کهیل کهیل میں وہ کہانی دہرا رہے تهے جو اس پوسٹ کے آغاز میں  تحریر کی ہے ..
مختصر یہ کہ کچھ مذاکرات وغیرہ ہوئے جس کے نتیجے میں  گلشن اور فیڈرل بی ایریا کے درمیان کا علاقہ گلشن مصطفیٰ کے نام سے مختص ہوا کہ یہاں متاثرہ افراد کو 80 اور 120 گز کے پلاٹس سستی قیمت پر ( مفت نہیں !) متبادل کے طور پر الاٹ کیے گئے . اس فارمولے کے تحت نانا اور ان کی 3 اولادیں بڑے پلا ٹس جبکہ  کرایہ دار اور دیگر رشتہ دار جو نانا کے گهر مقیم تهے . ( یہ گهر ٹوٹے بچهڑے مصیبت زدگان کے لیے پناہ گاہ بهی تها ..یہ ایک الگ کہانی ہے!) چهوٹے پلاٹس کے حقدار ٹهہرے  اور یوں یہ بستی اجاڑنے  کی تیاری ہونے لگی ...سڑک کی تعمیر میں نانا کے مکان کا ایک حصہ (جس میں مقیم تهے ) پیمائش سے باہر تها اور بچنے کی امید تهی مگر حاسدین کی نظریں اور حکومتی فیتہ اس بات پر مر تکز  ہوگئیں کہ جب سب ٹوٹ رہا ہے تو اس کو بهی توڑیں !! بالآخر اس کام کا آغاز ہوا ..
کتنے عرصے یہ سلسلہ رہا میری یاد داشت میں نہیں... ہاں یہ یاد ہے کہ جس دن وہاں آخری دن تها امی اور خالہ نانی کو ٹیکسی میں لے کر آئیں تو امی نے مجھ سے پڑوس سے برف کے کیوبز منگوائے جو گلوکوز میں ڈال کر انہیں پلا رہی تهیں ...( یہاں پر میں وقفہ لوں گی.. کہ  ٹائم مشین میں بیٹھ کر ایک  ایسے سفر پر روانہ ہونا جو خاصہ درد ناک ہو آسان نہیں ہوتا  !)
نانا اور ماموں وہیں مقیم تهے دن بهر دهول مٹی کهاتے اور ملبے کے ڈهیر پر اپنے سامان کی باقیات  سمیٹتے ...کهانےاور آرام  کے لیے قریب کے افراد مدد کر تے .. بالآخر یہ مرحلہ بهی گزرا ہوگا اور سڑک کی تعمیر شروع ہوگئی ہوگی ... اور وہ لوگ بهی ہمارے گهر آگئے کیونکہ ابا جان ان دنوں جر منی میں تهے اس لیے امی کو بهی دوسراہٹ ہوگئی ..
 یہاں پھر یادداشتیں روکتے ہوئے اصل موضوع پر آتے ہیںمیں کوئی جذباتی ٹانکا نہیں لگانا چاہتی بلکہ as a matter of fact  بیان کرتی ہوں ۔۔۔
ڈان اخبار میں فرنٹ  صفحے پر  یہ اسٹوری  مع تصاویر شائع ہوئی تھی جس میں  نانا اور ماموں اپنے گھر کے ملبے پر بچھی پلنگ پر بیٹھے ہیں ۔اور شہ سر خی چیخ رہی تھی
                    یہ بوڑھا شخص اپنے لاکھوں کے ملبے پر اداس بیٹھا ہے ۔
چونکہ بلحاظ تخمینہ نانا کا نقصان سب سے بڑا تھا لہذا ان کا انٹرویو  شائع ہوا تھا ۔۔برسوں تک یہ اخبار ہم نے اپنے گھر میں دیکھا پھر نہ جانے کہاں چلا گیا ۔۔کچھ رشتہ داروں نے جو قیام پاکستان پر ناخوش تھے وہ نانا کو کوچتے تھے:
''،،،،،اور بناؤ پاکستان ۔!۔''  
نانا مسلم لیگ کے کارکن تھے چنانچہ قائد اعظم کے بارے میں ہتک آمیز الٖفاظ کہہ کر نانا کواشتعال دلاتے اور یہ باور کرانے کی کوشش کرتے کہ ہندوستان سے سب کچھ چھوڑ کر آنے کی حماقت کیوں کی ؟ ۔۔۔۔۔ان ساری بحثوں کو دہرانے کا فائدہ  ہےبھی نہیں اور اصل میں کچھ یاد بھی نہیں ہے  سوائے ایک جملے کے جو نانا جان اکثر دہراتے تھے
" ،،،،مشرقی پاکستان میں (مجیب )   مکتی باہنی لوگوں کو قتل کر رہی ہے اور یہاں ہمیں در بدر کیا جارہا ہے ،،،،’'
۔۔۔بہر حال کچھ دن وہ ہمارے ساتھ رہے پھر ناظم آباد میں اپنا مکان  کرایہ دار سے خالی کروا کر وہاں شفٹ ہوگئے  ،مگر اس کے بعد انہیں بیماریوں نے ایسا گھیرا کہ وہ پلاٹس جو انہیں مداوے کے طور پر ملے تھے ڈاکٹرز کے بلوں کی ادائیگی میں خرچ  کرکے  یکے بعد دیگرے دنیا سے رخصت ہوگئے اوریہ مکان کرایہ داروں کے ہتھے چڑھ گیا ( ضیا الحق کی کرایہ داروں کی حق میں پالیسی نے اس پر قبضہ کی راہ ہموار کر دی تھی)۔دو منزلہ عمارت کے 4 رہائشی یونٹس پر  ملکیت کا دعوی مضبوط مگر ہمت پست ہوچکی تھی۔ 20 سال کی طویل عدالتی جنگ کے بعد وارثوں نے کرایہ داروں کو لاکھوں روپے  دے کر خالی کروا یا  ( عدالتی نظام کی ناکامی !) ۔۔ اس وقت تک ورثاء اپنے اس ترکے سےخاصے بے نیاز ہوچکے تھے ۔
بچپن کی یاد اور  اپنی ماں کے ذکرسے پہلو تہی ممکن نہیں لہذ ا متعلقہ بات تو کر نی ہوگی !!حیرت کی بات ہے کہ ہم نے اپنی ماں کے منہ سے اپنے اس گھر کی باتیں تو بارہا سنیں جو وہ ہجرت پر چھوڑ آئی تھیں ۔۔۔یعنی وہ کارنس پر سجی گڑیاں ، صحن میں رکھے گھڑے اور بیٹھک میں لگے قد آدم گھڑیال ۔کی باتیں تو کرتیں  مگرہم نے کبھی ان نقصانات پر کوئی خاص باتیں نہ سنی!  امی ایک جذباتی خاتون تھیں  مگر ان کی حساسیت کا انداز بالکل جدا تھا ! ان کی الماری میں بہت سی ایسی چیزیں نظر آتیں جن سے کھیلنے اور استعمال کرنے پر ہم بہت للچاتے۔وہ ہمیں دے تو دیتیں مگر ساتھ یہ بھی بریف کرتیں ۔یہ فلاں ٹیچر نے شادی میں تحفہ دیا تھا ! ایک کالا مخمل کا موتیوں سے سجا پاؤچ  جس کے بارے میں معلوم ہوا کہ اسٹاف نے دیا تھا انہیں بہت عزیز تھا ! بہت سے برتن اور ڈیکوریشن کسی نہ کسی سر یامس کی یاد دلاتا جو نشتر ماڈل اسکول سے تعلق رکھتا تھا !
اب اس تحریر کو قلم بند کرتے ہوئے سوچ رہی ہوں کہ کیا انہیں بلڈوز ہونے والے گھر کی دیواریں نہیں یاد آتی ہوں گی جس کو انہوں نے درجہ بہ درجہ قائم ہوتے دیکھا تھا ؟ کھجور کا وہ درخت  اور مختلف بیلیں اور ہر یالی جو ان کی والدہ اور دادی نے اگا رکھی تھیں انہیں نہیں یاد ہوگا ؟ اسکول کا میدان جہاں ان کی شادی کے بعد استقبالیہ دیاگیا تھا  شاہراہ قائدین سے گزرتے ہوئے انہیں یاد نہ آتا ہوگا !
  ہماری ماں کا جذباتی پن چیزوں اور زمین و  جائیداد کے بجائے افراد اور تعلقات سےجڑا  تھا ۔یہ ہی وجہ ہے کہ اس پر گفتگو کم سے کم رہی اور ہمارے ذہنوں سے بھی وہ عمارت محو سی ہوگئی اور ہم کسی نقصان کے احساس کے بغیر بڑے ہوگئے !  وہ تو برسوں بعد ہماری چھوٹی بہن کی ایک سسرالی  عزیزہ کی شادی ہمارے ننھیالی خاندان میں ہوئی تو انہوں نے شاہراہ قائدین سے گزرتے ہوئے ہماری امی کا نام لے کر  اپنی بیگم سے کہا  کہ یہاں سے یہاں تک روڈ ان کی تھی تو اس بے چاری کا منہ  حیرت سے کھلا رہ گیا کہ بھابھی ( ہماری بہن ) نے تو کبھی نہیں بتا یا ۔۔۔؟ الحمد للہ !زمین اور جائیداد سے اغماض ہم سب کی فطرت میں ہے ۔ بات امی کی جذباتیت کی کرنی ہو تو یہ واقعہ لکھے بغیر نہیں رہ سکتی ۔۔کہ ناظم آباد کے مکان پر برسوں قابض رہنے والے ڈاکٹر کے نوعمر بیٹے کی (جومیڈیکل کا طالب علم تھا  ) حادثے میں موت کی خبر پر امی نے دل پکڑ لیا تھا اور رو رو کر کہہ رہی تھیں  کہ ہم نے تو بد دعا نہیں کی تھی اللہ ! بار بار اس بچے اور اس کی ماں کا نام لے کر سسکتی رہیں ۔۔۔ہمارے لیے یہ بات بڑی ہکا بکا ہونے والی تھی کیونکہ اس ڈاکٹر نے مقد مے کے دوران  نہ صرف  زبان سے بہت تکلیف دہ بات کہی تھی بلکہ ہزاروں روپے لے کر مکان خالی کیا تھا ۔۔زبان سے نہ کہی جائے مگر مظلوم کی آہ تو اللہ تک ضرور پہنچتی ہے !
عزیز قارئین ! یہ تحریر نہ تو ہمدردی  حاصل کرنے لیے لکھی گئی ہے اور نہ ہی اپنے خاندان کی بڑائی بیان کر نے کے لیے ! بلکہ تجاوزات کو ہٹانے کے ظالمانہ طریقے پر بے روز گار اور بے گھر افراد کی بے بسی کا سوچ کر کچھ یادیں شئیر کی ہیں  جن کو ضبط تحریر کرنے میں تو شاید وقت لگا ہو مگر یادوں کی چلمن ہٹانے کی دیر تھی اور  آنکھوں کے سامنے ویڈیو کی صورت میں سارے مناظر گھوم گئے ! 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فر حت طاہر
کراچی

جمعہ، 9 نومبر، 2018

میرے محمد ﷺ



Image result for pic of masjid nabvi
محمدﷺ تو میرے ہیں !

سخت گر می کی دوپہر تهی امی نے بچوں کو کمرے میں لیٹنے کو کہا اور خود کام میں لگ گئیں.6/7 سالہ ننهی کھڑکی میں بیٹھ گئی جہاں برابر والے گهر سے بچوں کی آوازیں آرہی تھیں. دونوں گھروں کو صحن کی دیوار جدا کرتی تھی توملحقہ کمروں کو لان میں لگی باڑ! جس کے کونے میں جگہ بنا کر بچوں نے آمدورفت کا ذریعہ بنا یا ہوا تها..اگر کھڑکی میں گرل نہ لگی ہوتی تو وہ کود کر وہیں جا پہنچتی ..بہر حال گفتگو میں تو کچھ بھی حائل نہ تھا!
            "یہ کیا ہے ؟  ۔۔"      ننهی نے اپنی ہم عمر سہیلی کے ہاتھ میں  زرق برق کپڑے کی دهجی دیکھ کر  سوال کیا..
"محمد ﷺکا جشن ہے نا.اس کے لیے میری امی کپڑے سی رہی ہیں ...اس نے فخریہ دهجی دکھائی. ..ننهی نے مزید تجسس کیا تو اسے مشین چلنے کی آواز بھی سنائی دی. .اب تو اس کی حسرت مزید بڑھ گئی ...امی کمرے میں داخل ہوئیں تو ننھی کی سسکیاں سن کر قریب آگئیں.۔
                "کیا ہوا ؟   "پوچھنے بھی نہ پائی تھیں کہ وہ پهٹ پڑی..
"
امی..امی ..بنو .....اور وہ کہہ رہی تھی کہ محمدﷺ تو ہمارے ہیں ..میرے بھائی کا نام بھی محمد ہے !امی ۔۔۔۔! آپ تو کہتی ہیں ہمارے محمد .؟. نہیں اس کے نہیں ہیں .. ہمارے ہیں محمد... "
ضدی لہجے میں بمشکل بات مکمل کر کے باقاعدہ ہچکیاں لینے لگی .۔امی نے گلے سے لگایا اور اس کی نادانی پر دل ہی دل میں ہنستے ہوئے پیار سے بولیں ..
"..
محمدﷺ تو سب کے ہیں! بلکہ ساری دنیا کے لیے ہیں! ہمیشہ کے لیے ہیں ! اور تمہارے ابو اور بھائ کے نام کے ساتھ بھی محمد ہے.. "    باقی باتیں اس کا ننها ذہن تو نہ جذب کر سکا مگر آخری بات اس کے دل کو بھا گئی .. اب میں بنو کو خوب  جواب دوں گی محمد ﷺ تو میرے ہیں ! ..."

وقت کے ساتھ شعور آتا گیا .بچپن کی معصوم باتیں خوبصورت یادیں بن کر رہ گئیں دنیا کی رنگینیوں میں محمد کی محبت کچھ دب کر رہ گئی یا شاید اظہار کا طریقہ بدل گیا ۔ جذباتیت کم ہونے لگی  تھی  یا ٹھہر گئی تھی ! بہرحال جو بھی وجہ ہو ، اب اسے ننھی کہنے والا  کوئی نہ رہاتھا  اب تو وہ درجنوں کی باجی اور آپا تھی تو  سینکڑوں کے لیے  آنٹی اور میڈم ! جی ہاں ! اب   وہ ایک پرائمری  اسکول کی نگران تھی میڈم راحیلہ ! اسٹاف کے لیے ایک شفیق اور مہربان پرنسپل  جو کسی بھی ٹیچر کی عدم موجودگی میں اس کی کلاس بخوشی لے لیتی کہ معصوم بچوں کے ساتھ وقت گزارنا اسے بہت پسند تھا ۔
آج  مس سارہ غیر  حاضر تھیں  اور کلاس ٹو میں اسلامیات کا پیریڈ فارغ تھا ۔ انہوں نے  نصاب پر نظر ڈالی اور کلاس لینے چل دیں ۔ آج کل سیرت نبی ﷺ پڑھائی جارہی تھی ۔ بچے سنت رسول ﷺ کے حوالے سے عملی مشق کی دہرائی کر رہے تھے ۔ میڈم راحیلہ کے ذہن میں جھماکہ سا ہوا اور  ان کے سامنے  ایک  سسکتی ہوئی بچی آگئی ۔۔جو ٹو ٹ ٹوٹ کر کہہ رہی تھی۔

  " محمد ﷺ  صرف میرے ہیں !!کسی اور کے نہیں ہیں ۔۔۔۔"
   انہوں نے جھر جھری لی  اور بچوں کی طرف متوجہ ہوگئیں جو اب  سنتوں کی چیک لسٹ   والی ورک شیٹ پر کام کر رہے تھے ۔بچے خاموشی سے کا م کر رہے تھے بس کبھی کبھی ایک خوشی بھری یا پھر   اوہ والی سسکی نکلتی!    ادب نے پوری کلاس کو اپنے گھیرے میں لیا ہو اتھا ۔ وہ بھی اپنی سیٹ پر بیٹھ کر ورک شیٹ  پر مصرو ف ہوگئیں ۔۔   
       "میں کون کون سی سنت پر عمل کرتی ہوں ؟ / کر سکتی ہوں ؟  "     سوال کا مفہوم واضح تھا مگراکثر  جواب لکھتے ہوئے بڑی مایوسی طاری ہورہی تھی
 آٹاگوندھنا ۔۔۔۔۔۔رسول اللہ گوندھ لیتے تھے ۔۔اور میں ؟     اپنی چالیس سالہ عمر کا حساب لگا یا ۔ یہ کام تو میں کر سکتی تھی ! مگر وہ کیا ہو کہ آٹا گوندھنے سے اسے  چڑ تھی   اور اللہ کی مہربانی سے ماں ، بہن ، بھابھی ، کزنز اور خادمہ کی سہولت کی وجہ سے اسے کبھی  زحمت نہیں ہوئی ۔ کبھی انتہائی ضرورت کے وقت  ہاتھ ڈالنا بھی پڑا تو  لئی نما آٹے سے  روٹی پکا نا دشوار ہوجاتا اور وہ گھنٹوں  ہاتھوں سے آٹا چھڑاتی رہ جاتی ۔ سارے مناظر آنکھوں کے سامنے آکر دھندلا رہے تھے ۔اس نے قلم  رکھ کر اپنے ہاتھوں کو بغور دیکھنا شروع کردیا
   " کیا میرے ہاتھ ان ہاتھوں سے زیادہ قیمتی ہیں جن کی ہتھیلیوں کی نرمی  مخمل کو ماند کرتی تھی ؟  افسوس کی لہر اس کے جسم میں دوڑ رہی تھی ۔اس نے بھیگی پلکوں سے ایک فیصلہ کر لیا !
Image result for how to knead chapati dough

ارادہ باندھنا مشکل نہیں ہوتا جتنا  ان پر عمل دشوار !  وہ بھی ڈٹ گئی ۔ روز آٹا گوندھنے کی کوشش کرتی ۔محنت لگتی کیونکہ انگلیاں سخت اور موٹی ہوکر لچک کھو بیٹھی تھیں ۔ وہ تو شکر ہے کہ زندگی بھر  ساتھ رہنے والے بدل گئے تھے ورنہ مذاق بھی راہ کی رکاوٹ بنتا۔ اب بھی آٹا گوندھنے کی مشقت کے بعد وہ خود ہی پکاتی کہ اس کے گوندھے آٹے کی روٹی بنانا کسی اور کے بس کی بات نہیں تھا۔
آٹا گوندھنا آج بھی اتنا دشوار ہے جتنا پہلے تھا ہاں جس لگن سے وہ گوندھتی ہے کچھ نہ کچھ ضرور اثر دکھائے گا کہ یہ سنت جس کی نسبت سے اپنائی ہے آٹے میں ہاتھ ڈالتے ہی  زبا ن خود بخود اس پر درود و سلام بھیجنے لگتی ہے اور پھر اس کو لگتا ہے کہ شاید یہ ایک سنت اسکو اپنے محبوب کے ہاتھوں جام کا حقدار ٹھہرادے !!  صلی اللہ علیہ وسلم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فر حت طاہر


اتوار، 7 اکتوبر، 2018

میرا ماحؤل میری ذمہ داری


    




                           میرا ماحول  میری ذمہ داری                               
 
تین پیریڈ تک بچوں کو پڑھا کر اپنے فارغ پیریڈ کی خوشی لیے میں ٹی روم کی طرف بڑھی۔صاف ستھرے کوریڈورز سے گزرنے کے بعد باہر کی طرف جہاں بچوں کے کھیل کی جگہ ہے،درختوں کے نیچے بھی ایک نظم اور تر تیب نظر آئی ماحول پر سکون تھا اور کلاسز سے بچوں کی دھیمی دھیمی آوازیں ایک خاص ردہم پیدا کر رہی تھیں۔ طمانیت بھرے اس پیریڈ کے بعد وقفہ تھا جس میں اسکول بچوں کی آوازوں سے گونج اٹھا۔ نظم و ضبط کی ذمہ داران اساتذہ اور معاون طالبات اپنی ڈیوٹی سر انجام دینے لگیں جو وقفہ ختم ہونے کی گھنٹی کے ساتھ ہی ایک نئے انداز میں بدلا اور اساتذہ کے گروپ کے ساتھ میں بھی اپنی کلاس لینے چل پڑی۔خوش گپیوں میں چلتے چلتے جو نظر پڑی تو سٹی گم ہوگئی۔ اب منظر بدلا ہوا تھا۔جہاں وقفے سے پہلے محض پھول اور درختوں کی چند پتیاں نظر آئی تھیں اب ہر قسم کے ریپرز سے اٹا ہوا تھا!
سوچا کہ کینٹن والے کو جا کر بتاؤں کہ آج آپ کی کتنی آمدنی ہوئی ہے؟ کتنے  بسکٹ، چپس، چاکلیٹ، ویفرز،کولڈ ڈرنک....وغیرہ وغیرہ! سارے ریپرز گننا مشکل تو تھا مگر ناممکن نہیں!  ذہن میں خیال آیا کہ چھوٹی کلاسز میں گنتی کرانے، چیزوں میں فرق، مختلف اشیاء کو علیحدہ کرنے کی سر گرمی ان ریپرز سے کتنی اچھی طرح کروائی جاسکتی ہے مگر جس طرح وہ گیلے کوڑے سے لتھڑی ہوئی تھی یہ بات ناممکن تھی اور مزیدیہ کہ صفائی پر مامور خواتین اسے کنگ سائز جھاڑؤں کے ذریعے ہر قسم کے کوڑے کوکوڑے دان میں دھکیل رہی تھیں یہ بات صرف سوچی ہی  جا سکتی تھی۔اسکول میں موجود تمام کوڑے دان ابل ابل کر اس ماحول کو آلودہ کر رہے تھے جو محض گھنٹہ بھر پہلے فطرت سے ہم آہنگ تھا۔
اس منظر نے  ایک تحریک پیدا کی اور جیسے ہی اسکول اسمبلی کی باری آئی ”صفائی نصف ایمان ہے“  کی حدیث کو تھیم بنا کر کچھ بریفنگ رکھی
 اور ساتھ ساتھ بچوں کو کچھ پراجیکٹ بھی دیے۔ان میں سے ایک تھا کہ آپ جو بھی چیز کھائیں اس کے ریپر کو تہہ کر کے ربر بینڈ سے باندھتے چلے جائیں اور ہفتے بھر بعد ایک جگہ جمع کردیں تو یہ یہ ڈھیر ردی میں بک جائے گا!  ایک مشہور NGO کا تھیم ہے
                                       ردی کو سونے میں بدلیں!“ 
ایک تقویت بخش خیال تھاجو آپ کی داد کا مستحق ٹھہر تا.....مگر یہ منصوبہ ناکام ہوا کہ ایک تو اسکول انتظامیہ کے سامنے والدین کی شکایات آنے کا خدشہ (ہم بچوں کو اسکول پڑھنے بھیجتے ہیں کوڑا چننے نہیں!)دوسرے صفائی پر مامور خواتین کی ہڈ حرامی کا  خد شہ ...اور اس سے بڑھ کر اساتذہ کا عدم تعاون!...ہوں! ہم تنخواہ پڑھانے کی لیتے ہیں ماحول کی نگرانی کی نہیں...دلچسپ بات کہ یہ وہی ٹیچرز تھیں جوبچوں کو سائنس کے مضمون میں ماحول پر سبق پڑھا تے ہوئے تین الفاظ رٹوا رہی تھیں! کون سے الفاظ؟ اس کے لیے آپ کو مکمل بلاگ پڑھنا پڑے گا!
آئیے ایک اور منظر اپنے زمانہ طالبعلمی کا دکھاتے ہیں!  سالڈ ویسٹ پر لیکچر سننے کے بعد ہم سب اگلی کلاس کے منتظر تھے۔ایک دم کلاس فیلو صباحت کے ہسٹیریائی انداز میں چیخنے پر ہم سب متوجہ ہوئے:
 ”...اف !  اس حساب سے اگر زمین پر کوڑا کرکٹ بڑھتا رہا توبیس سال بعد ہماری اگلی نسلیں کہاں ہوں گی؟ ہم ان کے لیے کیسا ماحول چھوڑ رہے ہیں؟..ہم کہاں ہوں گے...!“ 
  ”...کہیں نہیں!! ہم extinct   (ناپید)  ہوچکے ہوں گے...یا پھر endanger species (معدومیت کے خطرات سے دوچار  نسل) بن چکے ہوں گے...“
بات قہقہوں اور مذاق میں اڑادی گئی مگر اس کا خوف زدہ چہرہ آج بھی نظروں میں ہے اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیر دیکھتے ہوئے ہوئے سوچتے ہیں وہ کہاں ہوگی؟کیا کر رہی ہوگی؟ کہیں ناپید تو نہیں ہوگئی  بے چاری!
تلمیذ فاطمہ کا ذکر بھی اس ضمن میں ناگزیر ہے جس کے ساتھ فکری اور علمی بحثوں کے درمیان مادی  ترقی کے حوالے سے پولی تھین بیگز کے متبادل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار ہوتا تھا! سوچوں کے بھنور میں اپنے کزن کا چہرہ ابھرتا ہے جو شپ سے واپسی پر دوستوں اور رشتہ داروں کے اپنے گھر والوں کو بھجوائے گئے سوٹ کیس میں بھرے سفید سفید پیکٹ دیکھ کر حیرت کا اظہار کرتے تھے! کچھ اندازہ لگایا؟ جی ہاں ڈائیپرز!  اس کی ایجاد سے پہلے گویا بچے فارغ ہی نہیں ہوتے تھے ! یہ ضروریات زندگی میں اس طرح داخل ہوئے کہ اہل کراچی کی ہڑتال کے دوران ہنگامی فہرست میں غذا اور ادویات کے ساتھ پیمپرز کی خریداری بھی لازمی تھی۔ اور یہ ایک منافع بخش آئٹم بن چکا ہے۔والدین کی محبت کے اظہار کی علامت! ایک دفعہ گھرمیں کام کر نے والی خاتون اپنی بہن کو لائیں جس کی گود میں چھوٹا بچہ تھا۔معلوم ہوا شوہر سے جھگڑ کر آئی ہیں.جو اپنے بچے کا بالکل خیا ل نہیں رکھتا..اب وہ نوکری کر کے بچے کے لیے سیریلیک اور پمپرز خریدے گی۔۔یقینا جھگڑے کی وجوہات اور بھی ہوں گی مگر سر فہرست پیمپرز کی فراہمی تھا۔
ایک نامور شخصیت مسز نسیمہ تر مذی ”اللہ معاف کرے“ کے نام سے جنگ میں کالمز لکھا کرتی تھیں۔وہ سبھی نے پڑھے ہوں گے اور سر دھنا ہوگا مگر ہم نے اپنی آنکھوں سے انہیں ردی کاغذکے ٹکڑوں کو بطور رائٹنگ پیڈ استعمال کرتے ہوئے دیکھا تھا اور اپنایا بھی ہے کہ ہماری پرائمری اسکول  پرنسپل مسز شاہ ہمیں کاغذ پھاڑتے دیکھ کر آگ بگولہ ہوجاتی تھیں .....(.. مشرقی پاکستان علیحدہ ہوگیا ہے۔اب ہمیں کاغذ نہیں ملے گا!)...رقیہ آنٹی مرحومہ بے کارگتے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ کر رکھتی تھیں اور کھانا پکانے کے دوران بار بار نئی ماچس جلانے کے بجائے انہیں استعمال کرتی تھیں۔نہ جلی ہوئی ماچسوں کا ڈھیر نظر آتا نہ ہی....جی ہاں! ماچس ہو یا کاغذ دونوں درخت کاٹ کر حاصل کیے جاتے ہیں۔انسان اور جانور تو کنزیومر ہیں۔درخت ہی تو پروڈیوسر ہیں! ماحول کے تحفظ اور غذا کی فراہمی کے ذمہ دار!اب تو آپ کو وہ تین الفاظ بتادینے چاہییں جو ہم نے اسکول کے ذکر میں کیے تھے!  وہ ہیں...

REDUCE, RECYCLE and REUSE  
ہماری اب تک کی گفتگو کو بھی آپ ان ہی تین عنوانات کے تحت سمجھ سکتے ہیں!
REDUCE یعنی کوڑے کرکٹ کی مقدار کم سے کم ہو
! RECYCLEیعنی ایک چیز کی شکل بدل کر استعمال کی جائے!
REUSE   یعنی کسی بھی چیز کو زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے!

ماحول کے تحفظ سے متعلق بے شمار تجاویز، مشورے، نصیحتیں، طریقے لکھے جاسکتے ہیں۔ اگر انٹر نیٹ کھولیں تو اعداد و شمار، ویڈیو، اور مضامین کی بھر مار ملے گی مگر ہم نے اس سے اپنے مضمون کو سجانے کے بجائے محض سر سری طور پر مشاہدات اور تجربات کو موضوع گفتگو بنایا ہے۔ اپنی تحقیقی رپورٹوں اور معلومات کا سہارا بھی نہیں لیا ہے بلکہ انفرادی اور ذاتی تاثرات کے ذریعے بات کہنے کی کوشش کی ہے۔اداروں کو ان کی ذمہ داری ادا نہ کرنے پر کوسنا بہت آسان ہے مگر ہر کام حکومت پر چھوڑناایک معقول رویہ نہیں ہے بلکہ بحیثیت ایک فرد اور متمدن شہری ہم سب کا فریضہ ہے کہ وہ اپنے حصے کا کام ضرور کرے!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
   فر حت طاہر