اتوار، 3 ستمبر، 2023

محبت پنکھ پکھیروں کی! سیزن 2

 

 !محبت پنکھ پکھیروں  کی

 

اس ڈرامے کے دوسرےسیزن میں  بہت سے نئے  کردار اور معاملات سامنے آتے ہیں  جبکہ کچھ پرانے کردار  بھی اپنی روش بدلتے نظر آتے ہیں لیکن  پہلے سیزن کے آخری  منظر سے ہی   دوسرے سیزن کا آغاز ہوتا ہے ۔

جی ہاں ! ظفر اربائے کو طارق کی گولی لگی اور وہ زخمی ہوگیا جبکہ طارق مارا گیا۔  طارق کی لاش تو مراد                         ( ظفر کا ڈرائیور ) نے ٹھکانے لگا دی  جبکہ  زخمی ظفر کو تیمی  اور عارف  ہسپتال لے جاتے ہیں ۔ خون کی ضرورت پڑنے پر عارف خون بھی دیتا ہے لیکن صحت یاب ہونے کے بعد   وہ عارف کو اپنی بیٹی سے دور رہنے کا حکم دیتا ہے  جس پر تیمی غصے کا اظہار کرتی ہے ۔اسپتال کے ریکارڈ میں سے  ظفر  کا نام نکال دیا جاتا ہے بلکہ پولیس بھی کوئی مقدمہ درج نہیں کرتی کیونکہ اس طرح طارق کے قتل کا معاملہ ہی اٹھتا !  ( جبکہ یہ ماروائے عدالت  قتل تھا )س پر عارف چو کنا ہوکر انسپکٹر  آتش کو ساری صورت حال سے آگاہ کرتا ہے  ۔ وہ معاملے کی سن گن پاکر تفتیش کرتے ہیں لیکن  کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا چنانچہ وہ عارف کو بھی اس معاملے سے دور رہنے کی تاکید کرتے ہیں ۔ دوسری طرف کمیونسٹ پارٹی طارق کی گمشدگی کا الزام اسلامسٹ پر رکھتی ہے ۔

اس سیزن کے آغاز میں عمر کی دادی کا کردار   شروع  ہوتا ہے  ۔ یہ بوڑھی خاتون بڑے رعب ودبدبے والی ہیں اور پورے محلے کی اماں اور دکھ سکھ میں  شریک ہوتی ہیں ۔  دوسرا کردار فلزہ نامی  طالبہ کا ہے جو دوسرے شہر سے پڑھنے آئی ہوئی ہے اور ہاسٹل میں رہائش پذیر ہے ۔وہ  شعبہ لٹریچر کے تیسرے سال میں ہے ۔ اس کی اعلیٰ کارکردگی کے پیش نظر اس کےاستاد اسے معاون استاد بننے کی آفر کرتے ہیں جسے وہ بخوشی منظور کرلیتی ہے لیکن جب وہ سر پر اسکارف لینے لگتی ہے تو وہ اسے کلاس سے نکال دیتے ہیں  ( اس وقت خواتین کو سر ڈھک کر اداروں میں آنے پر قانونا ممانعت تھی)۔ جب یہ بات عمر کو معلوم ہوتی ہے تو وہ اس ٹیچر کی ٹھکائی کرکے  فلزہ کوکلاس میں   داخل کرواتا ہے ۔ یہ بات فلزہ کو پسند نہیں آتی  کہ بقول اس کے  میں تشدد پر یقین نہیں رکھتی ۔۔لیکن اس کے باوجود وہ دونوں ایک دوسرے کوپسند کرنے لگتے ہیں ۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس دوران اہم قومی معاملہ سامنے آتا ہے جب یونان قبرص پر  حملہ کرکے  25 فوجیوں کو شہید کر دیتا ہے ۔ طلبہ یونین  اس پر سخت رد عمل دیتی ہے اور  عارف کی  تجویز  پر  قبرص  کے  دفاع کی خاطر  رضاکارانہ  افراد  کی رجسٹریشن کے لیے اسٹال لگاتی ہے جہاں جوق درجوق  نوجوان اپنے نام درج کرارہے ہوتے ہیں  ۔ اس اسٹال پر  آئیڈیلسٹ بھی  بھرپور  حصہ لے رہے ہوتےہیں  عمر کا کہنا ہے کہ ہم نے اذان کی حفاظت کی اور اب قبرص  کا دفاع کریں گے  جبکہ سرخے  قبرص کے بجائے طارق کی گمشدگی کی مہم چلا نے کا پلان کرتے ہیں

ظفر گروپ کا کہنا ہے کہ ناٹو ممبر ہونے کی وجہ سے ہم فوج نہیں بھیج سکتے ۔ اس موقع پر  امریکی تھامس سے ظفرکی ملاقات ہوتی ہے ۔ ظفر کا یہ رویہ سامنے آتا ہے کہ امریکی سے بات کرتے وقت باچھیں کھلی ہوتی  ہیں  جبکہ اپنے ہم وطنوں اور زیر دست افراد سے تکبر اور خشونت سے بات ہوتی ہے ۔  تھامس  خدشہ ظاہر کرتا ہے کہ کچھ طلبہ پارٹیاں قبرص کے معاملے پر لوگوں کو ابھاریں گی اور اس قومی معاملے پر کہیں دائیں اور بائیں والے متحد اور یکسو نہ ہوجائیں ! لیکن ظفر اس کا  توڑ تیار کرتا ہے

 آگ لگانے اور آگ بجھانے کے لیے  مذہبی مبلغین کو استعمال  کیا جاتا ہے !



فتنہ کی آگ کو  پھیلانا    اور جہاد کی آواز کو خاموش کروانا

''۔۔۔اگر طاقت نہیں، اسلحہ نہیں تو قبرص کا خیال چھوڑ دو. ! طاقتور کا ساتھ دو..."                                     . فتحی مبلغ کہتا ہے

"۔۔۔طلبہ لڑائی الگ بات ہے لیکن حکومت کے خلاف کارروائی کرنا حماقت ہے.. میڈیا، پولیس فوج کے خلاف نہیں جانا ورنہ ہمیں بھی قبرص بنادیں گے. "                                      رمزی  خالد کو ورغلاتا ہے ۔

  یہاں پر حسن صاحب کا بیٹا  خالد پرابلم چائلڈ بن کر سامنے آتاہے ۔ ہوا یوں کہ وہ اور اسکے دوست ایک  کمیونسٹ لڑکے کی پٹائی کر رہے ہوتے ہیں  ت ووہ بھاگتا ہوا  یونین بلڈنگ کے اندر چلا جا تا ہے ۔ مصطفیٰ اس کو پناہ دیتا ہے جس پر خالدبہت سخت ناراض ہوتا ہے  ۔ رمزی  اس کو مزیدبھڑ کاتا ہے۔  اس لڑکے کو بچاتے ہوئے مصطفیٰ خود زخمی ہوجاتا ہے ۔ پھر وہ لڑکا اپنے ساتھیوں کے ساتھ  مل کر خالد کو پیٹ ڈالتا ہے ۔ گھر والوں کے استفسار پر ان پر ہی پلٹ پڑ تا ہے ۔ مصطفیٰ  اور زینب کو برا بھلا کہتا ہے ۔ماں اس کی حمایت کرتی ہے جبکہ باپ  رویہ درست کرنے کو کہتے ہیں  تو  جوابا  کہتا ہے کہ آپ کو میری کیا پرواہ ؟ آپ تو بس عارف کے لیے ہلکان ہوتے ہیں ۔۔ گھر سے  لڑ جھگڑ کر   رمزی کے ٹھکانے پر چلا جاتا ہے جو  اسے گھر والوں سے برگشتہ کرتا  ہے ۔ عمر کی چھوٹی بہن شاکرہ جو خالد کی بچپن کی ساتھی اور پسندیدہ ہے ۔ ان سب پر بہت دل گرفتہ ہے ! 

امداد روانگی برائے قبرص

قبرص کی  حمایت اور مدد کے لیے عوای رائے عامہ موجو  د ہے لیکن حکومتی ادارے اس کے خلاف ہیں میجر  امین ( بارش)                    قبرص کے لیے اسلحہ   لے کر روانہ ہوتے ہیں مگر انٹیلیجنس افسر کی اطلاع پر انہیں گرفتار کرلیا جاتا ہے  ۔ ان کی مدد کے لیے سارجنٹ خالد جاتا ہے اور کسی نہ کسی طرح ان سے جیل میں ملاقات کرلیتا ہے وہ اسے ایک خط بنام انسپکٹر جمیل آتش دیتے ہیں ۔ وہ  یہ خط ان تک پہنچاتا ہے جس کے مطابق میجر امین سے  ایک   حلفیہ  بیان  پر دستخط  لینے کے لیے تشدد ہورہا ہے کہ وہ یہ اسلحہ عمر تک پہنچانا چاہتا ہے ۔ ( ظاہر ہے یہ  عمر کو سزا دلوانے کا ظفر کا پلان ہے  !) ۔میجر امین  خالد کو  ایک تعویز دیتے ہیں جس میں مجاہدین کی فہرست ہوتی ہے ۔ اس کو حاصل کرنے کے لیے ایجنسیاں انسپکٹر خالد کی تلاش میں رہتی ہیں ۔ اس کے گھر والوں پر بھی تشدد کرتی ہیں ۔ میجر امین اور خالد اپنی جان قربان کردیتےہیں لیکن فہرست ان تک نہیں پہنچنے دیتے ہیں ۔  ایجنسیاں اسلحہ قبضے میں لے کر عمر کی گرفتاری کا  منصوبہ تیار کر لیتی ہیں ۔

قبرص کے لیے لگائے گئے اسٹال پر  حملہ ہوتا ہے جس میں عمر کا ساتھی محمد شہید ہوجاتا ہے۔



تیمی ریستوران میں   عارف کا انتظار کر رہی ہوتی ہے تو ریڈیو  پر حملے کی خبر نشر ہوتی ہے ۔ وہ بھاگ کر یونیورسٹی پہنچتی ہے  اور قبرص کے لیے رضاکاروں  کی فہرست  میں سب سے اوپر  عارف کا نام دیکھ کر پوچھتی ہے :

 '' ۔۔ اگر جنگ ہوگئی تو کیا تم چلے جاؤ گے ؟ ۔۔"

 تو عارف  تباہ حال اسٹال اور محمد کی لاش کی طرف اشارہ  کر کے کہتا ہے کہ

 "۔۔۔۔۔ کیا ہم پہلےہی حالت جنگ میں نہیں  ہیں۔۔۔"  اور وہ افسردہ ہوجاتی ہے ۔

  ظفر  کی  ہدایت پر یلدرم  چھپ کر عارف کو گولی مارنے لگتا  ہے لیکن تیمی کے سامنے آجانے سے  نشانہ چوک جاتاہے۔ طلبہ یونین اس حملے کے خلاف پریس کانفرنس کرتی ہے

 ادھر   عمر کو گرفتار کرنے کے لیے   پولیس اور فوج کے دستے روانہ ہورہےہیں ۔ فلزہ عمر کے گھر اس کی  خیریت کے لیے جاتی ہے۔ وہاں زینب، عمر   اور اسکی دادی اور بہنوں کے ساتھ ایک  خوشگوار  ماحول میں بات ہورہی ہوتی ہے ۔ اتنے میں  انسپکٹر  جمیل  عمر کی گرفتاری کی خبر لیک کرتےہوئے اس کو فرار ہونے کا  مشورہ دیتے ہیں ۔ پہلے وہ انکار کرتا ہے لیکن بہنوں اور دادی کی التجا  پر سوچ میں پڑ جاتاہے ۔ فلزہ بھی جانے کا اشارہ دیتی ہے۔  دادی کہتی ہیں

  ' ۔۔۔۔ جب بھیڑیا زخمی  ہوتا ہے تو زخم بھرنے  تک ایک جگہ ٹھہر جاتا ہے ۔۔تم بھی یہ ہی  کروگے ۔۔۔!"

ادھر پولیس اور فوج کے آگے پورا محلہ رکاوٹ بن کر کھڑا ہوجاتا ہے ۔ اور وہ  انسپکٹر جمیل کے ساتھ چھت کے ذریعے چلاجاتا ہے ۔

 اپنے مشن کی ناکامی پر ظفر بہت برانگیختہ ہے ۔  وہ صحافی لیلی ٰ کو  خبر کا پلندہ دیتا ہے جس میں اسلحے کی عمر کے حوالے سے خبر ہوتی ہے ۔ لیلیٰ اس پر سوال اٹھاتی ہے کہ  اسلحہ تو محمد کی شہادت سے قبل پکڑا گیا ہے تو اس میں  عمر کا انتقامی اقدام کیوں ؟ بہر حال وہ چونکہ ظفر کے تابع ہے  اس لیے وہ من و عن  رپورٹ شائع کر دیتی ہے (میڈیا کی بد دیانتی !)                                                                      عمر کی بڑی سی تصویر کے ساتھ یہ پورٹ دیکھ کر  صدر ابراہیم  بہت سخت غصہ ہو کر کہتے ہیں :

"۔۔۔۔پریس کانفرنس کی کوئی خبر نہیں البتہ ایک الزام کی سرخی بنادی. بے ایمان میڈیا۔۔۔۔"                 اور اخبار کی کاپیاں جلاتے ہیں ۔

 عمر چونکہ مفرور ہے لہذا اس خبر کی اشاعت اس کے لیے سخت مشکل پیدا کردیتی ۔ وہ پولیس  سے بچنے کے لیے قبرستان میں پناہ لیتا ہے ۔ مافیا کا آدمی اسحق ٰ  اسے اپنے ٹھکانے پر لے جاتا ہے ۔ اسحاق بھی ظفر  کے  حلقہ  اثر میں ہے اور  عمر سے کہتا ہے کہ تمہارے والد اور میں دوست اور ساتھی تھے۔ اس نے بعد میں شادی اور اولاد کے بعد مجھ سے کنا رہ کرلیااور دکان کھول لی۔  

۔۔۔۔جرم بے گناہی پر انتقام کی چمک میں تمہاری آنکھوں میں دیکھ رہا ہوں ۔۔۔" اسے اپنے ساتھ شامل کرنے پر اصرار کرتا ہے جس کے  جواب میں   عمر کہتا ہے

"۔۔۔میں بدمعاش نہیں  اور میری  آنکھوں میں جو چمک ہے وہ شہادت کی تڑپ  ہے  اپنے وطن کے لیے ۔۔۔"

  عمر کے فرار کے بعد ظفر یلدرم کو آئیڈلیسٹ پارٹی کا اختیار سنبھالنےکا مشورہ دیتےہیں  لیکن اس پر عمر کے ساتھیوں کا  احتجاج  سا  منے آتا ہے

طارق کے قتل کے الزام میں سرخے ظفر کو اغوا کر لیتے ہیں. اور وہ کہتا ہے کہ

 "۔۔۔۔۔ تم. لوگ طارق جو نہیں جانتے؟؟

میں جسے جرم کہوں وہ جرم ہے اور جسے نہ کہوں وہ نہیں ہے۔۔۔"  "۔۔۔

ایک ایڈمرل  ظفر کو رہا کروالیتا ہے۔

  باپ اور بیٹوں کی کہانی !

 طارق  موت  سے  چند لمحے قبل یہ جملہ کہتا ہے  !

            " ۔۔۔ تم بھی سنو عارف  ! یہ دو باپ بیٹوں کی کہا نی ہے ۔۔۔"

 اس نے  لیلیٰ  کے لیے جو   فائل  چھوڑیں   ان میں  عارف کے باپ کے قتل کی رپورٹ ہوتی ہے ۔ یہ فائل و ہ عارف کو دیتی ہے ۔ اس میں    اس کے باپ کے قاتل کا نام ہوتاہے ۔  اس فائل  پر وہ انسپکٹر جمیل اور اپنے پھوپھا دونوں سے بات کرتا ہے اور دونوں اسے خاموش رہنے کا مشورہ دیتے ہیں ۔ اس کو مرنے سے پہلے  کی گئی طارق کی  ادھوری باتیں بھی یاد  آتی ہیں ۔ بہر حال اسے اپنے باپ کے قاتل کا پتہ چل جاتا ہے  اور وہ کوئی اور نہیں ظفر ہوتا ہے ۔(  ظفر کویہ بات     عارف کی تحقیقات  کرتے ہوئے  پہلے ہی معلوم ہوگئی تھی ۔ )

 عار ف نےاپنے باپ کے قاتل کو کیسے پہچانا ؟

 اسما ء  خاتون عارف کو اپنے بیٹے کبلائی کی بابت بتاتی ہیں  ۔انہیں خدشہ ہے کہ   کوئی اس کو تکلیف دینا چاہتاہے ۔ انہوں نے عارف سے کبلائی کےسلسلے میں مدد مانگی ۔ عارف کچھ پس وپیش کے بعد راضی ہوجاتا ہے  ۔ اسما نے انکشاف کیا کہ کبلائی نے   جنون میں میری بہن کے گھر آگ لگادی تھی جس میں میری بہن ، بہنوئی ( روشنی کے والدین )  ختم ہوگئے تھے۔ یہ گفتگو روشنی سن لیتی ہے۔ روشنی   پہلے ہی طارق کے قتل پر افسردہ ہے اس پر سخت غصے میں آکر پولیس کو کبلائی کے بارے میں رپورٹ کرتی ہے۔   پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی عارف اسماء کے ساتھ مل  کر کبلائی کو نکال  لیتا ہے اور یونین بلڈنگ میں مصطفیٰ کی نگرانی میں چھوڑ دیتا ہے۔   راستے میں  مسجد سے اذان کی آواز پر کبلائی   دورے  کی کیفیت میں  آتا ہے  جس پر عارف کو حیرت ہوتی ہے ۔  کبلائی  مصوری بہت اچھی کرتا ہے ۔ تو  مصطفیٰ کے زیر نگرانی وہ اس منظر کی اسکیچنگ کرتا ہے جب عارف کے باپ کو شہید کیا جارہا ہوتا ہے اور اس منظر میں ننھاعارف بھی ہوتا ہے ۔  اس پر عارف  کبلائی سے پوچھ گچھ کرتا ہے تو  وہ بار بار یہ جملہ دہراتا ہے

 "۔۔۔۔ اس کو مت ماریں ! ان کا بیٹا  بھی ہے ۔۔۔" اس کے ہسٹیریائ جملے عارف کو بہت کچھ سمجھا دیتے ہیں ۔ اورکبلائی کے جنون کی وجہ بھی سمجھ میں آ جاتی ہے۔ تیمی اور روشنی بھی اپنے اپنے طور پر  کبلائی کی موجودگی کی جگہ جان لیتی ہیں ۔ تیمی پہلے تو   بھائی سے لاعلم رکھنے پر ماں سے غصہ ہوتی ہے لیکن پھر بھائی کو گھر لے جاتی ہے ۔ اس کی جراءت سے اسما کو بھی ہمت ملتی ہے  لیکن  اسے  دیکھ کر روشنی گھر سے چلی جاتی ہے ۔ ظفر  کمیونسٹوں سے رہا ہوکر گھر آتا ہے تو اس سارے واقعے پر غصہ کا  اظہار کرنا چاہتا ہے لیکن  شریف   اس کا  پرانا  خاندانی دوست اور کولیگ اسے روک دیتا ہے ۔  کرنل شریف کا پر اسرار کردار  کہانی میں  آگے  سامنے آتا ہے ۔

 حسن صاحب کے گھر پر قیامت ٹوٹ پڑی :

حسن صاحب اپنی بیگم کی  پرواہ کیے بغیر  زینب کی پسند کو مد نظر رکھتے ہوئےمصطفٰی سے  منگنی کی بات طے کرلیتے ہیں ۔  اس دفعہ سادگی سے ہورہی ہے ۔ خالد شرکت سے انکار کر دیتا ہے جس پر عمرکی دادی کہتی ہیں

  میرا عمر تو  بھاگنے پر مجبورہے  لیکن خالد کو کیا ہوا ۔۔۔۔؟ منگنی کے موقع پر مبیرہ بیگم مصطفیٰ کو سامان کی فہرست دیتی ہیں  جو  شادی کےلیے اسے مہیا کرنی ہیں ۔  وہ وعدہ کرلیتا ہے ۔ اس کے لیے اس کو سخت محنت مزدوری کرنی پڑ رہی ہے  تو اس کی مدد کے لیے  زینب سلائی کا کام مصطفٰی کی ممانعت    کے باوجود  کرنے لگتی جس پر وہ ناراض ہوجاتا ہے  لیکن پھر ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ  اسے اپنا غصہ بھول جاتا ہے ۔

عارف  یہ جان لیتا ہے کہ ظفر ہی اس کے باپ کا قاتل ہے۔ توانتقام کی آگ  بھڑک اٹھتی ہے ۔ یہ بات وہ عمر  کو بتاتا ہےا ور وہ دونوں پستول لے کر  ظفر تک پہنچ جاتے ہیں لیکن عین اسی وقت تیمی سامنے آجاتی ہے اور وہ دونوں رک جاتے ہیں ۔ عارف نے تیمی سے کترانا شروع کردیا ہے  جبکہ وہ یہ جاننے کے لیے بے چین ہے کہ عارف نے اس کے باپ پر پستول کیوں اٹھا ئی ؟ ظفر  اسے اپنے ساتھی کے قتل کی وجہ بتاتاہے لیکن وہ یقین نہیں کرتی ۔

 رمزی کے ذریعے خالد کو کمیونسٹوں کے کیفے میں پٹرل بم پھینکنے کا کام دیا جا تا ہے ۔  وہ دباؤ میں آکر کر لیتا  ہے لیکن بہت پریشان ہے ۔  طلبہ یونین نے قبرص پر کانفرنس کا اہتمام کیا ہے ۔ اس میں نجم الدین اربکان  بھی شریک ہوں گے۔  اس  کانفرنس میں ظفر بم رکھوانے کا  بھیانک پلان بناتا ہے ۔ اتفاق سے یہ تیمی سن لیتی ہے اور وہ وہاں پہنچ کر رکوانے کی کوشش کرتی ہے ۔ 

اگرچہ  اس کانفرنس  کا آئیڈیا عارف کا  ہی تھا لیکن وہ اتنا آزردہ ہے کہ اس میں شرکت کے بجائے گھڑی کی دکان میں بیٹھا ہے ۔ رمزی یہ دیکھ کر کہ عارف اس میں شریک نہیں ہے عارف کو  بہانہ بنوا کر فون پر بلوا لیتا ہے ۔ تیمی وہاں پہنچ کر بم کی اطلاع  دیتی ہے جس پر سب عمارت سے باہر آجاتے ہیں  جبکہ خالد ایک کمرے میں قید ہے ۔ عارف  اس کی تلاش میں اندرجاتا ہے  اور بم دیکھ کر خالد کو جلدی سے باہر نکال  دیتا ہے ۔ اس اثنا ء میں رمزی بم کا دھماکہ کر دیتا ہے ۔  خالد اور عارف  شدید زخمی  ہوتے ہیں   اور عارف شہید ہوجاتا ہے ۔ تیمی نے چونکہ خود اپنے کانوں سے  بم رکھنے کی پلاننگ  سنی تھی ۔ اپنے باپ سے نفرت اور انتقام پر اتر آتی ہے اور بالآ خر ایک ایسی  حرکت کرتی ہے کہ  اسرائیلی سفیر کے گارڈ ز اس کوگولیاں مار دیتے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہاں اس ڈرامہ کا آدھا حصہ  ختم ہوتا ہے ۔ عارف اور تیمی کی کہانی انجام کو پہنچی لیکن کچھ نئے کرداروں کے ساتھ کہانی آگے بڑھتی ہے

 

ہفتہ، 26 اگست، 2023

محبت پنکھ پکھیروں کی !

 

 محبت پنکھ پکھیروں کی!


غباروں اور پھولوں سے سجی منی بس   ننھے بچوں کی  خوش کن آوازوں کے ساتھ ایوب مسجد کی طرف رواں دواں ہے جہاں   بچوں کی تقریب منعقد ہونی ہے ۔ اس قافلے میں عمر، عارف  اور مصطفٰی کے ساتھ حسن صاحب بھی محلے کے بچوں کے ساتھ  ہیں ۔ مسجد کے قریب پہنچتے ہیں تو ایک ناگہانی  ان کی منتظر ہوتی ہے

" ۔۔۔ امریکی قونصلر کی گاڑی پانچ منٹ میں یہاں پہنچنے والی ہے ۔۔ سب تیار ہیں ؟  "            طارق نے مظاہرین کو ہدایات دیں

" ماسک پہن لیں ۔ اور پٹرول بم اٹھالیں ۔۔۔ "          یہ  ایک احتجاجی مظاہرے کا منظر ہے جو کمیونسٹ  طلبہ  امریکی کونسلر کی آمد پر کر رہے تھے ۔ بچوں کی حفاظت کے پیش نظر انہیں عمارت کے اندر لے جاتے ہیں 

 امریکی قونصلر کی گاڑی پر پٹرول بم سے حملہ  اور نعرے :

امریکہ مردہ باد!

امپیریلزم مردہ باد !  

انکل سام خوف سے تھر تھر کانپتے ہوئے

" تیمی   ! واپس چلو۔ پولیس آرہی ہے ۔۔! "  طارق خبردار کرتا ہے لیکن وہ جوش  میں  گاڑی  پر چڑھ جاتی ہے ۔ عارف اس کو اتارنے کی کوشش کرتاہے  تو تیمی کے چہرے کا ماسک  اتر جاتا ہے اور وہ ایک لڑکی کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتا ہے ۔

گھبرائیں نہیں یہ منظر ہمارے ملک کا نہیں ہے.... یہ تو ترکی ڈرامے

https://ardirilisertugrul.net/series/sevda-kusun-kanadinda-series - (On the Wings of Love) 

کا ابتدائی منظر ہے


... 

یہ ایک سچی کہانی کی ڈرامائی تشکیل ہے اور 1968 سے 1974 ء  کے  درمیان  وقوع پذیر سیاسی  کشمکش ، واقعات  اور شورشوں  پر مبنی  ہے.۔

یہ  محض ایک محبت نامہ نہیں ہے بلکہ قانون کے نام پر انصاف کے قتل کی کہانی ہے. اس میں قتل و غارت گری بھی ہے اور لطیف جذبات سے مزین  احساسات بھی! اس میں تاریخ بھی اور کشمکش کی داستان بھی! ... 

 1928 ء سے 1950ء تک ترکی میں عربی اذان اور حرف تہجی پڑھانے پر پابندی عائد تھی۔ اس پر احتجاج میں کئی مسلمانوں نے شہادت کا جام پیا۔یہ اسی کی ایک کہانی ہے  ۔عربی میں اذان دینے پر ایک بچے کے سامنے اس کے باپ اور دادا کو ایک فوجی افسر شہید کردیتا ہے... تو یہ ننھا بچہ اپنے دادا کی گھڑی افسر کے منہ پر   مار دیتا ہے  جس کا زخم  اس کے ماتھے پر بن جاتا ہے ا(ذان کی آواز پر  ماتھے کے اس نشان پر  افسر کا ہاتھ چلاجاتا ہے )



بیس سال بعد وہ ننھا بچہ یونیورسٹی کا طالب علم بنتا ہے تو  اس فوجی افسر کی بیٹی اس کی ہم جماعت ہوتی ہے.. یہاں سے الفت کی کہانی  شروع ہوتی ہے جو بالآخر حسرت پر ختم ہوتی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

ترکی کا  یہ ڈرامہ     نیادی طور پر تین ایشوز کا احاطہ کرتا ہے

٭عربی میں اذان پر پابندی کا قانون

٭حجاب پر پابندی کا قانون

٭قبرص کی فوجی امداد

 حالات:

 اس وقت ترکی مکمل سیکولر معاشرہ تھا جہاں کہیں کہیں  روایتی مذہبی اور ثقافتی رنگ بھی جھلکتے تھے۔  علاقہ استنبول کا ہے جہاں یہ واقعات پیش آئے ۔  اس کی کڑیاں بیس سال پرانے واقعات سے ملتی ہیں ۔ یہ در اصل کسی بھی ایسے معاشرے کی کہانی ہے جہاں قوانین کے نام پر لوگوں کا استحصال ہوتا ہے اور وہ انصاف سے محروم رہتے ہیں۔

گھرانے  اور کردار:

حسن صاحب کا   گھرانہ ان کی بیگم مبیرہ ،  بڑی بیٹی زینب ، بیٹے خالد اور چھوٹی بیٹی صالحہ پر مشتمل ہے ۔ صالحہ آٹزم کا شکار ہے  اس کے علاوہ عارف مبیرہ کے شہید بھائی کا بیٹا ہے۔

عمر کا گھرانا   دو بہنوں اور ان کی دادی پر مشتمل ہے ۔ یہ دونوں گھرانے آپس میں پڑوسی ہیں  جن کا تعلق اوسط درجے کے گھرانے سے ہے ۔  حسن صاحب اپنے آبائی پیشے گھڑی ساز ی سے منسلک ہیں  جبکہ عمر کے  خاندان کا گزر بسر ان کی دکان پر ہے ۔ عمر اور عارف بچپن کے دوست اور پڑوسی ہیں ۔ باوجود اس کے  کہ وہ  مختلف مزاج اور نظریات رکھتے ہیں  یک جان و دو قالب                             کے مترادف ہیں ۔  عارف جس نے ایک یتیم کی حیثیت سے  اپنی پھپھی  کے  گھر میں  پرورش پائی ہے ۔ اپنے پھوپھا کے زیر سایہ  تعلیم و تربیت  حاصل کر رہا ہے ۔ اس نے گھڑی سازی کا ہنر بھی سیکھا ہوا ہے اور وہ مدرسے کی تعلیم ختم کر کے اب   یونیورسٹی کے شعبہ قانون میں داخلے کا خواہاں ہے  تاکہ وہ اپنے والد اور دادا کے قانون کے نام پر  قتل  کا انصاف  حاصل کرسکے۔ متحمل  اور معتدل مزاج  سنجیدہ عارف  نہ صرف کراٹے کا ماہرہے بلکہ  ادب  اور شاعری سے بھی  دلچسپی  رکھتا ہے۔  جبکہ عمر ایک مشتعل مزاج ، جذباتی، قوم کے لیے فریفتہ  نوجوان  جو کسی حد تک تشدد کا بھی قائل ہے  لیکن اس کے باوجود  اس کی حس مزاح بھی بہت اچھی ہے ۔

ظفر اربائے  اس ڈرامے کا مرکزی کردار ہے  جس کا  گھرانا  ان کی بیوی اسما، بیٹی تیمی  اور اسما کی یتیم بھانجی  روشنی پر مشتمل ہے ۔ اس کے علاوہ ان کا ایک  ذہنی کمزور بیٹا کبلائی بھی  دنیا کی نظروں سے پوشیدہ ایک نرسنگ ہوم میں رہتا  ہے اور ظفر اپنی  خاتون دوست کے ساتھ الگ گھر میں رہتا ہے ۔ کرنل ظفر   ایک سابق ناٹو کا سابق رکن  اور اعلیٰ فوجی افسر ہے. مقتدرہ سے تعلق رکھنے والا یہ فرد  امریکی مفادات کا اسیر اورجس کا دعویٰ  ہے کہ استنبول کیا ترکی کا ہر ادارہ  اور  تنظیم اس کے حکم کے تابع ہے   ۔ا س کے بقول ترکی میں  وقوع پذیر کسی بھی واقعے سے وہ نہ صرف آگہی رکھتا ہے بلکہ ذمہ دار بھی ہے ( وہی فرعونی کردار)۔بظاہر نفیس اور مہذب نظر آنے والا یہ شخص  وطن کی خدمت کی آڑ میں انارکی  پھیلانے کے امریکی ایجنڈے پر مامور ہے۔ گورنر ہوں یا میڈیا مالکان ، پولیس ہو یاانٹیلیجنس ! ۔۔اس کے  ماتحت ہیں ۔۔۔ اس کی مرضی کے بغیر پرندہ پر نہیں مار سکتا !

ڈرامے کی ابتدا میں استنبول یونیورسٹی کا ماحول دکھایا گیا ہے جہاں دائیں اور بائیں بازو کی دو جماعتیں ہیں جبکہ  طلبہ  یونین جو فکری طور پر حسن البنا اور مولانا مودودی سے متاثر ہے، نجم الدین اربکان کی حمایت یافتہ ہے۔یہ تینوں اپنی اپنی  غیر نصابی سرگرمیوں میں  مصروف رہتی ہیں ۔   

بائیں با زو کی طلبہ تنظیم  جو روسی نظریے کی پشت بان ہے اپنے آ پ کو انقلابی کہتی ہے اس کا نگران  پرکلی ، جبکہ دائیں بازو کی تنظیم   مثالی  پارٹی کہلاتی ہے اس  کا سربراہ عمر ہے اور  طلبہ یونین  ( اسلامی جمیعت طلبہ  سمجھ لیں ) کے سر براہ ابراہیم ہیں ۔  تیمی اور روشنی لیفٹسٹ پارٹی میں ہیں ۔ جبکہ  عارف، زینب ، مصطفیٰ ، سلمان ، حیاتی  وغیرہ    اسلامسٹ کے ساتھ ہیں ۔ ۔ ظفر اربائے نے تینوں پارٹیوں میں اپنے گماشتے رکھے ہوئےہیں ۔ سرخوں میں طارق  ، مثالی میں  یلدرم اور طلبہ  یونین میں  رمزی نام کے طالبعلم اس کی مخبری کا کا م کرتے ہیں۔

 ڈرامے کا آغاز  بچوں کی ایک سماجی تقریب سے ہوتا ہے جس کے لیے وہ مسجد جارہے ہیں ۔ اسی وقت نئے امریکی کونسلر چر چ اور مسجد کا دورہ کر رہے ہیں  جن  کی گاڑی پر سر خوں کے ذریعے حملہ کرانے کا منصوبہ  کرنل ظفر بناتے ہیں (اس کا مقصد امریکیوں کو پیغام دینا کہ اگر  آپ ہماری حمایت نہ کریں گے  تو روس حاوی  ہوجائے گا!) اور دوسری طرٖ ف امریکی کو استقبالیہ دے رہے ہوتے ہیں ۔ اس تقریب  کے دوران ان کا ذاتی ڈرائیور  کان میں اطلاع دیتا ہے کہ ان کی بیتی تیمی بھی ان گرفتار طلبہ میں شامل ہے جو حملے  میں شامل تھے۔  وہ اپنی بیٹی کو رہا کرواتے ہیں اور طارق کو سخت ملعون کرتے ہیں کہ اس نے  ان کی وا ضح ہدایت کے باوجود  تیمی  کو کیوں اس کاروائی میں شامل کیا ؟   تیمی ایک جوشیلی اور جذباتی لڑکی ہے اپنے نظریات  کے لیے ہر وقت فعال رہتی ہے ۔ وہ اپنے باپ کی سخت گیر طبیعت کے باعث اس سے متنفر ہے۔  عارف اس واقعے کی گواہی کے لیے پولیس اسٹیشن جاتا ہے جہاں تیمی سے اس کا ٹکراؤ ہوتا ہے۔

گواہی کے بعد وہ یونین آفس پہنچتا ہے اور  ابراہیم سر کو بتاتا ہے کہ    انتظامیہ نے ابھی تک اس کا ڈپلومہ نہیں بھیجا جس کی رو سے  وہ یونیورسٹی  میں شعبہ لا ء میں داخل ہوسکے  جس کی کل آخری تاریخ ہے !                              (  قانون یہ تھا کہ مدرسے سے پڑھنے والے صرف دینیات میں داخلہ لے سکتے ہیں لیکن ڈپلومہ لے کر وہ دوسرے شعبوں میں بھی داخلہ کے اہل ہوسکتے ہیں۔  مقتدرہ کو سب سے زیادہ تکلیف اس بات سے ہے کہ وہ سیاست اور شعبہ لاء میں داخل ہوکر  اہم اداروں میں تعینات ہوسکتے ہیں ۔ چنانچہ وہ اس میں رکاوٹ بنتے ہیں )               بہرحال  عارف کو لاء میں داخلہ مل جاتا ہے اور یوں  تیمی اس کی کلاس فیلو  بن جاتی ہے اور  ایک دوسرے سے نظریاتی اختلافات کے باوجود  بہت سے اتفاقات کے باعث وہ دونوں ایک دوسرے سےمتا ثر ہوجاتے ہیں ۔

یونیورسٹی میں کمیونسٹوں  اور  مثالی پارٹی کےدرمیان جھڑپ ہوتی ہے  جسے عارف روکتا ہے ۔ عمر اس سے ناراض ہوجاتا ہے  کہ کیوں  انہیں جانےدیا ؟ اس بات پر  طارق عمر کو اغوا کرکے تشدد کرتا ہے   جسے عارف رہا کرواتا ہے۔  یہ چپقلش چلتی رہتی ہے کیونکہ دونوں پارٹیوں کو بھڑکانے والے عناصر موجود ہوتے ہیں ۔ کمیونسٹ طلبہ کبھی ایک شعبہ پر قبضہ کر لیتےہیں  تو کبھی کسی کو یر غمال بنالیتےہیں جس پر مثالی پارٹی بھرپور کاروائی کرتی ہے۔ کبھی کمیونسٹ کے کیفے پر فائرنگ ہوتی ہے تو کبھی عمر کی دکان پر  حملہ ہوتا ہے  اور کبھی اس کی پارٹی کے دفتر کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔  پولیس سمیت سب ان حملوں سے نا واقف ہوتے ہیں یعنی آپس میں گتھم گتھا رہتے ہیں یا رکھے جاتے ہیں ۔ اشتعال دلاکر ایک دوسرے کے خلاف  نبرد رہتے ہیں ۔  صورت  حال کچھ یوں بنتی ہے کہ شعبہ قانون پر سرخوں کا قبضہ ہے جب کہ شعبہ  ادب و زبان پپر آئیڈلسٹ قابض ہیں اور ایک دوسرے کے مخالف نظریات کے حامل طلبہ کوداخل ہونے سے روکتے ہیں ۔  عارف سب کی نظر میں مشکوک ٹھہرتا ہے کیونکہ وہ دونوں طرف تشدد کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے ۔

 دوسری طرف طلبہ یونین  اپنی مثبت اور اصلاحی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔میگزین  شائع کروانا، سیمینار اور کانفرنسیں منعقد کروانا، سائنس، آرٹس، کلچر ، تاریخ کی ترویج میں مصروف رہنا۔ ان کا  اصول ہے کہ کسی غیر قانونی  یا پر تشدد طریقے سے دور رہنا ۔۔۔ لیکن ظفر کے بقول حقیقی خطرہ  اسلامسٹ ہی ہیں ۔  وہ اپنی ٹیم  کے سامنے کہتا ہے کہ

''۔۔۔ اگر ہم کمیونسٹوں کو  کچلیں گےتو لوگ خوش ہوں گے لیکن اگر ہم نے اسلام پسندوں  پر ہاتھ ڈالا تو یہ ہی لوگ ہمارے خلاف ہوجائیں گے !"

اسلامسٹ کی سرکوبی کا ایک مشورہ آتا ہے  کہ یا تو انہیں اسلحہ دے کر جہاد میں مشغول کردیں یا پھر مبلغین کے ذریعے اسلام کا دوسرا             ورژن  ایجاد کر لیا جائے ۔۔۔"  یہ مشورہ ظفر کو بہت پسند آتا ہے ۔  ظفر کو رمزی  اطلاع دیتا ہے کہ نجم الدین اربکان سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کو تیار ہیں ۔ یہ خبر ظفر کو پریشان رمزی کے بار بار اسلحہ اٹھا نے کی تجویز کو رد کیا جاتا ہے جس کے جواب میں رمزی کے ذریعے   یونین بلڈنگ کی  لائبریری میں  اسلحہ  رکھوا دیا جاتا ہے  تاکہ چھاپہ مار کر بر آمد کیا جائے  اور یوں تنظیم کو بلیک لسٹ کیا جائے  لیکن اتفاق سے  طلبہ یونین کےکچھ ممبران جو یہاں قیام پذیر ہوتے ہیں اسلحہ دریافت کرکے اسے دفن کردیتے ہیں اور یوں پولیس کا چھاپہ ناکام ثابت ہوجاتا ہے ۔

 ہوا کچھ یوں کہ  مسز مبیرہ کا اصرار ہے کہ عارف اور زینب کی شادی ہوجائے جبکہ عارف اور زینب ایک دوسرے کو بہن بھائی سمجھتے ہیں ۔زینب عارف کے دوست مصطفٰی کو پسند کرتی ہے  ۔ مسزمبیرہ اپنی بیٹی، شوہر اور عارف پر  بہت دباؤ ڈالتی ہیں تو عارف احتجاجا گھر چھوڑ کر یونین آفس میں قیام کرلیتا ہے ۔ رات کو گڑ بڑ دیکھ کر وہ ، عمر اور مصطفیٰ  پوری عمارت خصوصا لائیبریری میں  تلاش کرکے اسلحہ نکال لیتے ہیں ۔ منصوبے کی ناکامی پر رمزی حیران ہے جبکہ ظفر  برانگیختہ ہے ۔ 

مصطفیٰ   بہر صورت عارف سے زینب کے رشتے کی بات کرتا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے ۔ عارف گھر اسی شرط پر  واپس آتا ہے چنانچہ   مسز مبیرہ  کی مرضی کے خلاف منگنی کی رسم  کی تیاری ہورہی ہوتی ہے۔ اور  جیسے ہی وہ  تقریب کے لیے حسن صاحب کے گھر پہنچتے ہیں ۔پولیس  مصطفیٰ کو گرفتار کرنے آجاتی ہے۔  جیل میں اس پر بے پناہ تشدد کیا جاتاہے ۔  بہر حال ا نسپکٹر جمیل آتش  کی وجہ سے اسے رہائی ملتی ہے ۔ اس کی گرفتاری کی وجہ وہ تصاویر ہوتی ہیں جو  اسلحہ دفن کرتے وقت امریکی ایجنٹوں نے کھینچی تھیں۔

دوسری طرف    طارق  کمیونسٹوں   کو مزید طاقت ور اقدامات پر اکساتا ہے ۔ چنانچہ  وہ بازید اسکوائرپر سرخ جھنڈا لہرانے کا منصوبہ  بناتے ہیں  جسے ظفر بہت پسند کرتا ہے ۔اور پھر اس منصوبے  کو عملی جامہ پہنا دیتے ہیں تو ان پر کریک ڈاؤن کیا جاتا ہے جس میں بہت سے طلبہ زخمی ہوجاتے  ہیں جن میں تیمی بھی شامل ہے ۔ اس  ہنگامےکے دوران  طارق کا بھید   ایک کمیونسٹ طالب علم عثمان   پر کھل جاتا ہے ۔  اور وہ عثمان کو چاقو مار دیتا ہے۔ اتفاق سے  یہ منظر عمر دیکھ لیتا ہے ۔وہ اسے بچانے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ  ختم ہو جاتا ہے ۔  ۔عمر دل گرفتہ ہوکر عارف کو بتاتا ہے ۔ وہ دونوں تیمی اور روشنی کو  طارق کی حیثیت اور حرکت بتاتے ہیں لیکن وہ خصوصا روشنی اس کو ماننے پر تیار نہیں ہوتیں ۔  طارق منکر ہوکر الزام عمرپر ہی لگادیتا ہے ۔  طارق کی پے درپے ناکامیوں پر ظفر اسے ختم کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے  ۔ یہ بات محسوس کر کے طارق ظفر  کی خفیہ فائلز چرا کر صحافی لیلیٰ کے دے دیتا ہے ۔  دوسری طرف تیمی  کو حقیقت حال سے آگاہ کرنے کے بہانے وہ ایک جگہ بلاتا ہے ۔ عارف اور عمر بھی اس کے ساتھ جاتے ہیں ۔ اور وہاں ظفر بھی اپنے محافظ کے ساتھ پہنچتا ہے ۔ یہاں  وہ تیمی کو یر غمال بنا کر ظفر کے سیاہ کرتوت بتانے  لگتا ہے اور ساتھ ساتھ عارف کو بھی متوجہ کرتا ہے ۔ لیکن اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ظفر کے پوشیدہ محافظ  اسنائپر  طارق کو نشانہ بنا کر مادیتا ہے ۔ اور طارق مرنے سے پہلے ظفر  پر پستول چلادیتا ہے  ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 یہاں پر پہلے سیزن کا خاتمہ ہوجاتا ہے ۔

 

 

 

 

 

 

بدھ، 29 مارچ، 2023

مسئلہ یہ ہے کہ ۔۔۔۔!

 

 مسئلہ یہ تھا کہ شارق کا  شناختی کارڈ بنوانا ہے.!

 یہ مطالبہ پچھلے کئی ہفتوں سے دھیمے سروں میں چل رہا تھا لیکن اب جبکہ اس کی اٹھارویں  سال گرہ  میں  چند دن رہ گئے تھے اس کی ہر  بات اس سے شروع ہوکر اسی پر  ختم ہورہی تھی.. اصل میں اس کی بات بھی   درست تھی!  شناختی کارڈ  کی  اسے فوری ضرورت یوں تھی  کہ جہاں بھی جاؤ اس کی طلب ہوتی اور اسے یہ کہتے ہوئے شر مندگی سی ہوتی   جب طلبگار اس کے ڈیل ڈول کو دیکھتے ہوئے شبے کا اظہار کرتا ۔۔۔

 لیکن جب گھر میں  اس کو یہ سننا پڑا کہ  اسی دن بنوانا کوئی ضروری نہیں ہے تو اس نے منطق گھڑی کہ میں اکیلا ہی چلا جاؤں گا مجھے آفس معلوم ہے..اس بات پر ابو کا دماغ گھوم گیا کہ تم نے کیا سمجھ رکھا ہے تم جاؤگے اور جھٹ پٹ بنوالوگے؟. درجنوں چیزیں چاہیئں اور پھر وہ کسی قابل اعتبار فرد کو بلائیں گے.

یہ بات سن کر صبا کو چھیڑنے کا موقع مل گیا.. ہاں تم تو شکل سے ہی ناقابل اعتماد لگتے ہو.... بات دبے سے کہی تھی مگر شارق تک پہنچ گئی. ابھی میدان جمانے کا موقع نہیں تھا   لہذا خاوش رہا ۔ ابو نے نرمی سے کہا. دوچار دن رک جاؤ..  اس دوران  انکشاف ہوا کہ عظمیٰ آپا کے شناختی کارڈ کی میعاد بھی ختم ہورہی ہے  ۔ چنانچہ یہ طے ہوا کہ دونوں کام ساتھ ساتھ  ہوگا۔

دودن بعد شارق ابو ، امی اور عظمٰی آپا کی ہمراہی میں   نادرا آفس پہنچا تو سڑک پر لمبی قطار دیکھ کر اس  کی آنکھیں پھٹ  گئیں ۔ شاید وہ سوچ رہا تھا کہ گیٹ پر نادرا کے کارکنان اس کا استقبال کریں گے ! بے چارہ بچہ !  جسمانی اور طبعی لحاظ سے کتنا ہی بڑا ہوگیا تھا  مگر ابھی اسکول کی سطح پر ہی تھا کہ کالج کا پورا  زمانہ تو  کرونا کی وجہ سے آن لائن پڑھائی پر گزرا تھا ۔

  اندر جاتے ہوئےابو  شارق کو قطار میں لگنے کا کہہ کرخود ٹوکن لینے  کاؤنٹر کی طرف بڑھے۔ عظمی ٰ آپا  کو  معمر شہری ہونے کے باعث فوری اندر بلوا لیا گیا ۔  شارق  چونکہ گیٹ سے بھی باہر تھا ۔ اس لیے وہ اس بات سے لا علم رہا ۔ وہ تو جب  کارندے نے اس کے نام کا   اعلان کیا تو وہ بھی  اپنی جگہ چھوڑ کردفتر میں داخل ہونے لگا ۔ لیکن پیچھے سے  لوگوں نے شور مچانا شروع کردیا کہ یہ تو دھاندلی ہے ! وہ ان سب کے احتجاج کو نظر انداز کرتا ہوا اندر پہنچا تو معلوم ہوا کہ یہ سہولت اس کے لیے نہیں ۔ ابو کو تو   عملے نے  مہذب انداز میں منع کردیا لیکن  شارق کو تو باقاعدہ جھڑکی سننی پڑی  جب احتجاج کرنے  والے گروپ کی شکل میں  دفتر  کے دروازے پر شور مچا رہے تھے۔ ابو اور شارق باہر نکلے تو ان کو کچھ  سکون ملا۔

حسب توقع عظمیٰ آپا بہت جلد ی  فارغ ہوگئیں لیکن شارق کے لیے تو ابھی ہنوز دلی دور است والا معاملہ تھا ! چنانچہ طے یہ پایا کہ اسے چھوڑ کر بقیہ لوگ واپس چلے جائیں  اور اس وقت آئیں جب اس  کی باری آنے والی ہو ، لیکن عظمیٰ آپا   اس کی دلجوئی کے لیے وہیں  رک گئیں ، یہ اور بات ہے کہ وہاں بھانت بھانت کے لوگوں سے باتیں کرنے کا بہترین موقع وہ بھلا کیسے  ضائع  کرسکتی تھیں ! اور یوں بہت جلد انہوں نے یہاں بھی اپنے گرد خواتین جمع کر لی تھیں ۔جن سے گفت و شنید کر کے  کئی لوگوں سے روابط بنالیے تھے اور حسب عادت  ان کے  مسائل سے آگاہ ہوکر کچھ نہ کچھ   حل  بھی پیش کر رہی تھیں ۔

 ایک لڑکا جو اپنے والد کے ساتھ شناختی کارڈ کے لیے آیا ہو اتھا اس کا مسئلہ یہ تھا کہ  والدہ  کا کارڈ بھی مانگا جا رہا تھا جبکہ اس کی ماں  علیحدگی  اور دوسری  شادی کے بعد رابطے میں نہیں تھیں ۔ عظمیٰ آپا نے صرف ہمدردی نہیں کی بلکہ اس لڑکے سے ماں کا فون نمبر لے کر  بات کرکے تعاون کی درخواست  تجویز دی۔ جس کے لیے وہ لوگ بہت مشکور تھے۔ یہ سب دیکھ کر شارق دل ہی دل میں کڑھ رہا تھا اور اپنے ارد گرد کے لوگوں سے بحث و مباحثہ کر کے اپنی بھڑاس نکال رہا تھا۔ گرمی کی وجہ سے ویسے ہی نڈھال تھا۔ اتنے میں ایک فیملی نے جس کی دستاویزات نامکمل تھیں اپنا ٹوکن شارق کو دینے کا عندیہ دیا  جو شارق  نے بخوشی قبول کرلیا اور یوں وہ اپنی باری سے بہت پہلے اپنی کاروائی مکمل کرسکا۔  یہاں اس کو عظمیٰ آپا  کی بات سے اتفاق کرنا پڑا کہ نیکی کا اجر صرف آخرت میں میں نہیں ملے گا بلکہ دنیا میں بھی مل جاتا ہے کیونکہ اللہ سریع الحساب بھی ہے ! یہ ضروری نہیں کہ ہم جس کے ساتھ  نیکی کریں وہی بدلہ دے ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تین ہفتے بعد شارق کو شناختی کارڈ موصول ہوگیا ۔ اب اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا کہ اس کا شمار بھی  معتبر شہری میں ہوگیا ہے   گویا  دوسروں پر انحصار کم سے کم ہوگا ۔ جہاں اور جو پڑھنا چاہے گا وہ پڑھ  سکے گا !    ڈرائیونگ لائسنس مل جائے گا اور سب سے بڑھ کر ووٹ دے سکے گا لیکن اسے  جلد ہی اندازہ  ہوگیا کہ اس کی نہ صرف ذمہ داری بڑھ گئی ہے بلکہ  مصائب میں اضافہ ہوگیا ہے ! مثلا  جب تک اس کے پاس  کارڈنہیں تھا اسے کہیں دور جانا ہوتا تو  اسے چھوڑنے لانے کی ذمہ داری کسی اور کے پاس ہوتی  اورقریب  میں سفر کے لیے سائیکل ہوتی  ۔ ذرائع نقل و  حمل  کے ضمن میں شارق نے نصابی کتب میں  جو سواریاں پڑھی تھیں ان میں  سے چنگجی رکشوں کا ذکر  ضمنا ہی تھا مگر فی الحال تو صرف یہ ہی  اس کی دسترس میں تھی۔ موٹر سائیکل پر جامعہ جانے کا خواب ابھی تک ا دھورا تھا  کیونکہ  یہ تو ہنوز بڑے بھائی کے زیر استعمال تھی۔ 

 جہاں تک پڑھائی کا معاملہ تھا، بڑے بھائی یاسر اور عرفان بھائی کے تجربے کے بعد شارق سے کسی کو  کوئی امید نہ تھی!  کیا مطلب ؟ دونوں ناکارہ نکلے ! جی نہیں ! وہ دونوں  تو  شاندار نمبروں سے   انجینئر نگ یونیورسٹی میں داخل  اور اپنی مرضی سے  نئی ٹیکنالوجی  پڑھ رہے تھے !    جی جی ! یہ ہی   بات تھی ! پھر کیا ہوا ؟  وہ ٹیکنالوجی ہی متروک ہوگئی۔  اب کیا کرتے ؟  عرفان نے تو  کسی اور مضمون میں  داخلہ لے لیا تھا جبکہ یاسر نے ملازمت  ڈھونڈنی شروع کر دی تھی ۔بہت دنوں تک جوتیاں چٹخانےکے  بعد آجکل وہ بائیکیا کا کام کر رہا تھا جس کےلیے موٹر سائیکل   ضروری تھی ۔ تو جب اتنا شاندار تعلیمی ریکارڈ  رکھنے والوں کی یہ صورت حال تھی تو شارق جیسے  طالب  علم کے لیے کیا ارمان یا مواقع ہوتے  خیر اپنی مارک شیٹ کے بل بوتے  پراس کا داخلہ شعبہ جر میات میں ہو ہی گیا تھا ۔   جس پر صبا  نے اسے جاسوس کا لقب دے دیا تھا ۔ جوابا اسے نفسیاتی کا خطاب مل چکا تھا  کیونکہ وہ شعبہ نفسیات میں تھی۔ گویا  اب جامعہ  میں داخل   تینوں لڑکیوں یعنی  ہبہ، ماہا ،  صبا کے بعد  شارق بھی اس کلب کا حصہ بن گیا تھا  جو جامعہ کے ہزاروں طالب علموں کی طرح پوائینٹ کی بسوں کے  ذریعے پہنچتا تھا ۔ سفری مشکلات تھیں کہ بڑھتی ہی جارہی تھیں    چنانچہ ان کی گفتگو اسی کے گرد گھومتی تھی ۔ 


آج
   کھانے پر وہ سب اسی  موضوع پر  اپنے دکھڑے سنانے میں مصروف تھے کہ عظمیٰ آپا بول پڑیں ۔

"  ۔۔۔۔۔ایک ہمارا زمانہ تھا ۔ سو سے زیادہ بسیں ایک وقت میں جامعہ سے نکلتی تھیں ۔۔۔۔۔۔" انہوں نے تائیدی نظروں سے بہن کو دیکھتے ہوئے کہا ۔

"  ہیں ۔۔۔؟؟ " وہ سب بیک وقت بول اٹھے۔   "۔۔۔۔۔یہ  انتظام کون  کرتا تھا ؟۔۔۔"  شارق نے پوچھا

 "۔۔۔طلبہ یونین ہوتی تھی ۔۔۔! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"   عظمیٰ آپا کی تفصیلات  وہ سب آنکھیں پھاڑے سن رہے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔'' ۔۔۔ہر شعبہ کی الگ  الگ  بھی یونین ہوتی تھی کہ وہاں کے مخصوص معاملات چلا سکے ۔۔۔۔"  جیساکہ بلدیاتی نظام ہوتا ہے کہ ہر محلے کی ایک یونین ہو ۔۔۔۔۔۔"

"۔۔۔ اچھا یعنی ہمارے  تمام  شہری مسائل  کے لیے بلدیاتی انتخاب ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔"  سب نے متفقہ طور پر یہ بات کی بنا کسی  جھگڑے کے !

 اگلے چند دنوں میں بلدیاتی انتخاب کی باز گشت سنائی دی  جس پر   ان نئے نویلے  ووٹرز کی دلچسپی دیدنی تھی  اور جوش و  خروش    میں مزید اضافہ ہوا جب  یاسر نے بطور  کونسلر  انتخاب لڑنے کو فیصلہ کیا۔ سیاسی گہما گہمی عروج پر تھی جب یوم انتخاب سے چند گھنٹے پہلے اسے طوفانی  بارش کی پیشن گوئی کے باعث  ایک ماہ کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان ہوا۔  سب بہت تلملائے  مگر  اس دن واقعی  اتنا جل تھل تھا   کہ گھر سے نکلنا  واقعی ناممکن تھا ۔ اور  یوں اس التوا پر سب نے شکر ادا کیا ۔  سوشل میڈیا پر  اس حوالے سےمیمیز اور  لطیفے بن رہے تھے۔ مگر پورے ملک میں  بارشوں کی وجہ سے  سیلاب  آگیا تھا ۔ اور انتخابی مہم چھوڑ چھاڑ سب امدادی  سر گرمیوں میں لگ گئے ۔ اور یوں انتخاب  ایک  دفعہ پھر التوا کا شکارہوگئے ۔  اور پھر یہ سلسلہ  ایک دفعہ  پھر دہرایا گیا! گویا التوا کی ہیٹ ٹرک ہوچکی تھی ۔


نوجوان ٹولہ
  انتخاب سے مایوس ہوچکا تھا۔  اور آج اس بیزاری کے عالم میں یہ ہی بات کر رہے تھے۔ سب اپنی بھڑاس زور و شور سے نکال رہے تھے۔  ایسے میں عظمیٰ آپا اپنے موبائیل کی تلاش میں آ نکلیں جو اس وقت جبران کے ہاتھ میں تھا۔  انہوں نے بحث کا رخ موڑ دیا یہ کہہ کر کے !

 " ۔۔انتظام اور خدمت  اقتدار سے مشروط تو نہیں ہے ۔۔۔۔؟ "  سب پر تجسس ہو کر سوچ میں پڑگئے ۔

 " بھئی جو کام تمہیں کونسلر بن کر کرنا ہے اس سے پہلے ہی شروع کردو ۔۔۔ بظاہر تو وہ یاسر سے مخاطب تھیں لیکن سامعین میں سب شامل تھے

''۔۔۔۔محلے کی صفائی ستھرائی، مسائل ، پارک کی بحالی  وغیرہ پر اہل محلہ کو یکجا کر کے کچھ نہ کچھ کار کر دگی دکھاؤ  ۔۔۔۔۔"   یہ ان کی گفتگو کا نچوڑ تھا ۔ انہوں نے ماحول کی صفائی  اور آگہی کے متعلق بہت  سے مفید مشورے ، معلومات  اور رہنمائی دی جو ان سب میں امید کی لہر بن کر دوڑ گئے !   

                                                                                                                                   آپ کے خیال میں کیا تجاویز اورعملی  کام ہوسکتے ہیں   ؟؟ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 فر حت طاہر

کراچی

 

              

 

پیر، 12 دسمبر، 2022

معتبر سے موئثر کا سفر ! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 


عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی 1998 ء میں ورکنگ ویمن گروپ کی نشستوں میں شرکت کاموقع ملا تو اس وقت یہ بحث چل رہی تھی کہ 8 /مارچ عالمی یوم خواتین کو ہم منائیں یا نظر انداز کریں ؟ دونوں موقف کے لیے زبر دست دلائل سننے کو ملے ۔ اتفاق سے انہی دنوں مجھے کمیونٹی اسکولز سے تعارف ہوا تو فطرتا مجھے اس میں زیادہ دلچسپی محسوس ہوئی تو میں اس شعبے سے منسلک ہوگئی ۔(ایک مخصوص شعبے میں توجہ مرکوز ہونے کی وجہ سے نسبتا بہتر کام سامنے آتاہے اور پھر تعلیمی میدان خواتین کی ذاتی تسکین کے لیے ایک فطری مقام رکھتا ہے !) مگر کسی نہ کسی حوالے سے شعبہ خواتین کی سر گرمیوں سے بھی آگہی رہی۔ پچھلے 8/10 سالوں میں عالمی یوم خواتین کے حوالے سے مارچ کے آغاز سے ہی خواتین کے حقوق کے حوالے سے تبصروں اور تجزیوں کی بھر مار ہوجاتی تھی مگر پچھلے سال تو فروری میں ہی اس کی دھوم مچ گئی جب عورت مارچ کی تیاروں پر مبنی ویڈیو وائرل ہوگئی تھی ۔ جماعت اسلامی جو شعبہ خواتین کے تحت قانونی اور گھریلو خواتین کی دلچسپی ، معاشی اور سماجی ترقی اور خوشحالی کے عنوانات پر ہمیشہ سے ہی سر گرم ہے اس نے 7 /مارچ 2020ء کو خواتین کانفرنس کا اہتمام کیا۔ کرونا کی آہٹ کے باوجود زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والی ہزاروں خواتین کی شرکت نے کانفرنس کے اعلامیہ پر مہر ثبت کردی کہ انہیں عزت اور وقار کی زندگی مطلوب ہے! حقوق نسواں کی گونج زمانہ طالبعلمی میں ہی سنی تھی اور اس حوالے سے ڈاکٹر نسیمہ ترمذی مرحومہ سے ملاقات بخوبی یاد ہے جس میں انہوں نے باقاعدہ ڈانٹ کر کہا تھا کہ ہر طبقے اور ہر معاشرے کی عورت کا کردار اسی کے مرد کے حوالے سے متعین ہوگا. بنگال کے مرد کا مقابلہ افریقہ کی عورت سے نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔!! اس جملے کی معنویت آشکارا ہوئی جب معاشرے کے مختلف طبقات کو ایک دوسرے سے متصادم کر وانے کی کوششوں کو بام عروج پاتے دیکھا ۔ طبقاتی نظام کو بڑھا وا دینے کے ساتھ ساتھ ایک چھت تلے رہنےوالے دو افراد کے درمیا ن تقسیم پیدا کرنے کی بھرپور کاوشیں منظر عام پر آنے لگیں ۔ ہر معاشرے کی ایک بناوٹ ہوتی ہے جسے تبدیل کرنا اتنا آسان نہیں ہے .بقول شاہد ہاشمی صاحب آپ حکومت تبدیل کر سکتے ہیں معاشرہ نہیں ! کسی بات کو معتبر بنانے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ نے بہت سفر کیے ہوں، بہت سے اعلی اداروں میں کام کیا ہو یا پهر گهاٹ گهاٹ کا پانی پیا ہو. بعض دفعہ محض مطالعہ یا مشاہدہ ہی آپ کا نقطہ نظر واضح کر دیتا ہے ۔ صاحب طرز مولانا مودودی مرحوم نے 1930 سے 1940ء کے عرصے میں جو تحریر لکهی وہ سو سال بعد بهی آج کے معاشرے پر ہو بہو منطبق ہورہی ہے. ابتدائی عمر میں مولانا مرحوم کو پڑهنے سے ذہن کی جو بالیدگی/ وسعت نظر عطا ہوئی اس کا نتیجہ یہ رہا کہ 20 سال کی عمر میں خواتین کے بارے میں جو مقالے نظر سے گزرے وہ عمر کی پانچویں دہائ میں آج بهی جوں کے توں پیش کیے جاسکتے ہیں ...مجهے اپنی رائے پر کبهی اصرار نہیں رہا مگر پچهلی ربع صدی میں جس طرح حالات و واقعات میں اپنی پیشگوئی کو درست پانا مبہوت اور کسی حد تک مایوس کر دیتا ہے . معاشرے کے جس طبقے سے تعلق رہا وہاں شرح تعلیم 100% رہی ہے اور اس زمانے میں بهی ورکنگ ویمن کا تناسب بہت زیادہ تها .اسکول ٹیچرز، کالج لیکچررز اور یونیورسٹی پروفیسرز.سائنسدان اور ڈاکٹرز کی کثرت جبکہ گهر بیٹهنے والی خواتین آٹے میں نمک کے برابر تهیں .ان پس منظر کے ساتھ یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ورکنگ ویمن اپنے کردار سے غیر مطمئن نظر آئیں! میرا مشاہدہ رہا کہ جس خاتون کا عہدہ اور تعلیم جتنی زیادہ تهی اس نے اپنی بیٹیوں کی واجبی تعلیم کے بعدکم عمری کی شادی کا اہتمام کیا ۔ یہ تجزیہ 25 سال پہلے کا تھا لیکن آج کی صورت حال بھی کچھ ایسے ہی فیصلوں کی منتظر لگتی ہے کیونکہ بہر حال خواتین خواہ کتنا ہی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوجائیں ، گھر بنانا ایک ضروری امر ہوتا ہے۔ یہ دھیان رہے کہ ہم شہری خواتین کی بات کر رہے ہیں ورنہ دیہی خواتین تو اپنے مردوں کے ہم پلہ کام کر ہی رہی ہیں۔ عورت پر معاش کی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی لیکن اگر کوئی کرنا چاہے تو اس پر پابندی بھی نہیں ہے ! اگر گهر ایک ادارہ ہے تو عورت اس کی منیجر ! اگر کسی ادارے کا مینجر اپنی ذمہ داری کسی اور کو سونپ کر خود کسی اور ادارے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے تو اسے کیا کہیں گے ؟ اپنے وقت کا بہترین حصہ گهر سے باہر رہ کر کتنا کوالٹی ٹائم وہ دے سکے گی ؟ ایک خاتون کی مثال دوں گی جس کو سنگل پیرنٹ ہونے کی وجہ سے گھر سے باہر نکلنا پڑا۔ اسکول ٹیچر ، ٹیوشن کے ساتھ ساتھ بیوٹی پارلر کا کام اپنے گھر سے ہی کر رہی تھی ۔ایک فطری اور کسی حد تک اطمینا ن بخش حالات کے باوجود اس نے آفس ورک کو ترجیح دی ۔ اس کی بنیادی وجہ وہ غلط فہمی ہے کہ کیرئیر وومن کا تصور ماہانہ تنخواہ اور 9 سے 5 بجے تک بیگ اٹھا کر گھر سے باہر جانے کا نام ہے ! ۔ کیا ورکنگ ویمن صرف آفس میں کام کرنے والی خواتین ہوں گی ؟ ہزاروں خواتین گهر بیٹهے آن لائن کام کر رہی ہیں .کوئی فروزن فوڈ سپلائی کر رہی ہے تو کوئی دفتر اور گھر میں تازہ کهانا سپلائ کر رہی ہے. کوئی بوتیک چلاکر بہت سے نفوس کو روزگار مہیا کر کے ان کے گهروں کے چولہے جلانے کا اہتمام کر رہی ہے تو کوئی آن لائن کپڑے اور سامان منگوا کر خرید و فروخت کا کام کر کے ان کو آسانی فراہم کررہی ہے جو بازار جانے کی مہلت اور سہولت نہیں رکهتیں ...! کرونا کے بعد تو اس میں اضافہ ہی نظر آتا ہے لیکن انہیں موثر خواتین کی فہرست میں نہیں رکھا جا تا ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اپنے علاقے کی موثر خواتین کی فہرست بناتے ہوئے میں اکثر سوچ میں پڑ جاتی ہوں ! میرے نزدیک ایک موثر خاتون وہ ہے جو پارک میں روزانہ 70/80 خواتین سے ملتی ہو اور انہیں کسی بات پر کنونس کر لے بہ نسبت اس کے جو ایک اعلی عہدے پر فائز ہو اور اس کا دائرہ گهر سے محض دفتر تک محدود ہو .. لیکن مجھے معلوم ہے معاشرے پر اثر انداز ہونے والی خواتین کی تعریف ( definition (جب ہی درست سمجھی جائے گی جب اس کو عہدے اور تنخواہ سے تولا جائے گا۔ ایک خاتون کا کہنا ہے کہ مجهے اس بات پر کوئی فخر نہیں کہ 1992 میں برازیل کی بین الاقوامی ماحولیاتی کانفرنس میں میرے سپر وائزر نے میری ریسرچ پر مبنی اپنا مقالہ پڑها تها اور مجهے کوئی افسوس بهی نہیں کہ میرا نام 50 پاکستانی خواتین سائنسدان میں ہوسکتا تها ..!! لیکن مجهے اپنی اس شناخت پر ضرور فخر ہے جب ایک معروف بلاگر نے میرا ذکر باکمال خواتین میں کیا .انہوں نے یوم خواتین پر اپنی ٹوئٹ میں نام لے کر جماعت اسلامی کی خواتین کو شاندار خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکها کہ بہت باکمال خواتین ہیں .بچے ان کے منتظر رہتے ہیں ........گویا وہ نبض پر ہاتھ رکھ کر نہ صرف تشخیص کرتی ہیں بلکہ علاج کے لیے بهی کوشاں رہتی ہیں اپنے اہداف پر نظر رکهتے ہوئے مصروف اور ہر دم فعال تحریک اسلامی کی ہزاروں کارکنان کی حوصلہ افزائی اور دلجوئی کا باعث بنے گا ۔ اپنی تحریر کا اختتام میں رب کے اس پیغام پر کروں گی کہ میں کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں خواہ مرد ہو یا عورت ۔تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو ۔۔۔ اس بدلتی دنیا میں عورت کا کردار بدلنے کی کوشش میں مجھے کب اور کیسے پیش رفت کرنی ہے ؟ آج کی عورت کے لیے سوالیہ نشان ہے کہ اجر تو بہر حال اپنی مقرر کردہ ذمہ داری پر ہی ملے گا اور حساب بھی اسی کا دینا ہوگا ! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فر حت طاہر