پیر، 9 دسمبر، 2019

پیہم رواں ہے زندگی...!


فجر سے پہلے فون کی گھنٹی بجے تو تشویش لازمی ہے مگر ابلاغ کے اس دور میں مختلف ٹائم زون میں رہنے والے عزیز وں کے لیے اتنی حیرانگی کی بات نہیں! یہ ہی سوچ کر سعدیہ نے فون اٹھالیا۔ اسکرین پر عامر کالنگ چمک رہا تھا۔ بر طانیہ میں بیٹھے جڑواں بھائی کی طرف سے بات کرنے کے خیال سے ہی دل گذار ہوگیا۔ آخر تعلق بھی تو عمر کے پچاسویں سال میں داخل ہوگیا ہے!
  ”...ہاں سمیرہ   اور میں عبیرہ کے ساتھ ترکی جارہے ہیں۔ وہاں عمار اور اس کے والدین پہنچ چکے ہیں۔ کل عبیرہ اور عمارکا نکاح ہے۔ہوٹل میں ٹھہریں گے۔اگلے دن امریکہ روانگی ہے.....!‘‘ 
عبیرہ کا نکاح؟“ سعدیہ حق دق تھی۔ابھی تو بچی داخلے کے لیے پریشان تھی....  ”...اور باقی بچے؟ نبیلہ،  حمود اور رازیہ...؟
وہ ہڑ بڑاہٹ میں  اتنا ہی پوچھ سکی۔جواب میں بھائی نے مختصر تفصیلات بتائیں ”....ہاں سمیرہ کو دوبئی کا ویزا نہیں ملاچنانچہ....!“  
 ابھی بہت سے سفری امور نبٹانے تھے لہذا بھاوج سے بھی بات نہ ہوسکی۔ ویسے اس وقت وہ بات کرنے کی پوزیشن میں بھی نہ تھی! اللہ یہ بے سروسامانی کے دکھ! سمیرہ تو ہر تقریب کو بہت جوش و خروش سے مناتی تھی۔ابھی چند سال پہلے وہ اپنے دیورنومی کی شادی میں بچوں کے قریبی امتحان کے باوجود سب کو لے کر شریک ہوئی۔ ہر ہر رسم اور رواج میں دلچسپی سے شر کت کی تھی۔ 
سعدیہ فون ختم کرکے ڈائل  پر لکھی دن اور تاریخ کو گھورتی رہی۔ 6ستمبر 2015ء!اور اس کا ذہن پچیس سال پہلے کی یاد میں کھو گیا۔ وہ بھی تو ایک سفر تھا.!!

 ”...اوفوہ رونے کی کیا بات ہے! خوش ہوکہ تمہارے بیٹے کو پڑھائی سے فارغ ہوتے ہی اتنی اچھی جاب مل گئی ہے بغیر جوتیاں چٹخائے...“
منصور صدیقی نے بیوی حسنہ کو تسلیاں دیتے ہوئے کہا۔بیٹیاں سعدیہ اور نادیہ خوش ہونے کے باوجود ماں کی افسردگی دیکھ کر خاموش تھیں چھوٹا بیٹا نعمان خوب چہک رہا تھا۔ بھائی کے دبئی جانے کی خبر ہی ایسی تھی!
منصور صدیقی کا گھرانہ باعزت اور خوش حال جہاں تعلیم کو فوقیت تھی۔ ان کے چار بچے جن میں پہلوٹی کے جڑواں سعدیہ اورعامر، ان سے پانچ سال چھوٹی نادیہ اور اس سے بھی پانچ برس چھوٹا نعمان!
چند مہینے دبئی میں گزار کر اس کی پوسٹنگ دمشق ہوگئی۔وہاں قصبے دیرا الزور میں آئل فیلڈ پر اس کی ڈیوٹی تھی۔
 امی! یہاں کے مکانات بالکل ناظم آباد کی طرح ہیں۔پرانے سے ...“ ماں خوش ہوجاتی میکے کا ذکر سن کر! وہ بچپن سے ہی ایسا تھا۔ شرارتی مگر دل جیتنے والا! اس کی شرارتوں پر محلے والوں کی شکایت کے جواب میں امی رونے بیٹھ جاتیں اور ایسے میں باپ گھر میں داخل ہوتے اور رونے کاسبب پوچھتے تو امی کو نانی یاد آرہی ہیں اور موضوع پلٹ جاتا!
کبھی مذہبی اور تاریخی حوالے دیتا  ”...امی! آپ کو معلوم ہے دمشق دنیا کا قدیم ترین شہر ہے۔ یہاں کے لو گ بہت صاف ستھرے ہیں...غربت کے باوجود کوئی بھیک مانگتا نہیں نظر آ تا.....“
”...پتہ ہے! مسجد اقصٰی میری رہائش سے کتنے قریب ہے! بس اتنی کہ جتنا کراچی میں طارق روڈ ہے ہمارے گھر سے... لیکن میں جا نہیں سکتا...“
معلومات دیتا رہا اور ہر چار ماہ بعد کراچی کا چکر لگاتا۔ گھر اور خاندان والوں کے لیے تحائف اس کی موجودگی  ان کے لیے دگنی خوشی کا باعث بنتے!ہر وزٹ پر شام کی کوئی نہ کوئی خاص چیز ضرور لے کر آتا! شادی کا اصرار ہنس کر ٹال دیتا۔ ماں بہنوں کی اس سر گر می کا رخ بڑے سکون سے کسی اور طرف موڑ دیتا۔کبھی گھر کی تعمیر کے لیے نقشے کے لیے بھاگ دوڑ! کبھی گھر کی تزئین و آرائش! شاپنگ ....پسندید ہ سرگرمی ! آمد اور روانگی دونوں مواقعوں پر سوٹ کیسز کی کو سیٹ کرنا ایک مزیدار مرحلہ ہوتا۔عامراپنے مزاج کے باعث کسی کو انکار نہ کر سکتا تھا۔لہذا ہر قسم کی اشیاء اس کو لانی اور لے جانی پڑتی... روح افزا کی بوتل اور شان کے مصالحے تو کچھ بھی نہیں سامان میں ہینگ اور میتھی بھی ہوتی ..ایک دفعہ پاکستانی سفارتی عملے کی فرمائش پر نسوار دیکھ کر وہ لوگ قہقہے لگانے پر مجبور ہوگئے!اصولوں کے پابند منصور صاحب نے ممنوعہ اشیاء سمجھ کر تشویش کااظہار کیا مگر اس کے باوجود وہ ان کی نظروں سے بچا کر لے جانے میں کامیاب ہوگیا۔ان ہی خوش باش دنوں میں دو سال گزر گئے۔
اس دفعہ عامر آیا تو خلاف توقع بہت جلد واپس ہوگیا اور پھر یہ بھی کہ اب کینیا پوسٹنگ ہوگئی ہے. اور ان ہی دنوں اس کی شادی خبر آگئی۔ باپ کو توشروع سے آگہی تھی اب بھائی بہن بھی واقف ہوگئے تھے ہاں البتہ حسنہ بیگم کو مصلحتا لاعلم رکھا گیا مگر تابکہ؟ جس دن ان کو معلوم ہوا رو رو کر حالت بنالی۔۔ان کاذہن تسلیم ہی نہیں کر رہا تھا۔۔اس معاملے میں ان کی کوئی خاص رائے نہ تھی بس انہیں اپنے ارد گرد کی خواتین کی فکر تھی جو معمولی شاپنگ تک میں ان کو نکو بنانے کا کوئی موقع نہ چھوڑتی تھیں اب تو ان کے ہاتھ ایک ایشو آگیا تھا..تنقید کا نادر موقع مل رہا تھا۔ان تفکرات میں وہ بستر پر پڑ گئیں حتی کہ عامر کی آمد کادن آگیا۔
وہ استقبال کے لیے ایر پورٹ جانے کو تیار تھیں مگر ممکنہ ڈرامائی صورت حال کے پیش نظر ان کی طبیعت کی خرابی کو بہانہ بناتے ہوئے خوش اسلوبی سے منع کر کے منصور صاحب نومی کے ہمراہ چلے گئے۔رات گئے جب عامر اپنی بیوی اور دو پھول سی بچیوں کے ہمراہ گھر میں داخل ہوا تو سفر کی تھکن کے ساتھ کچھ بے یقینی کی سی کیفیت کا شکار تھا۔ماں کی حالت دیکھ کر سہم سا گیا۔منصور صاحب کی ہدایت کے باعث وہ بولیں تو کچھ نہیں مگر ان کے آنسو دلی کیفیت کے غماز تھے۔ بہر حال رسمی سلام دعا پیار کے بعد وہ سب آرام کرنے چلے گئے۔
اگلے دن صبح سویرے وہ اپنے کمرے میں سوچوں میں گم بیٹھی تھیں کہ اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر دونوں بچیاں نبیلہ اور عبیرہ ان کے کمرے میں داخل ہوگئیں۔نبیلہ تو چھلانگ لگا کر ان کے بستر پر چڑھ گئی جبکہ عبیرہ  محتاط سی دروازے میں ہی کھڑی رہی 
جدہ! جدو..!‘‘   (دادی،دادی) نبیلہ نے حسنہ بیگم کے گلے میں باہیں ڈال دیں اور وہ اسے جھٹک نہ سکیں جب اس نے بوسہ کہہ کر ان کے چہرے کو چومنا شروع کر دیا۔ وہ تو بچوں سے بے پناہ محبت کرتی تھیں کس طرح مزاحمت کر سکتی تھیں؟ انہوں نے اسے جوابی پیار کیا مگر تاثرات میں ابھی تک خفگی تھی اور شاید یہ ہی وجہ تھی کہ ننھی عبیرہ قریب آنے کی ہمت نہیں کر پارہی تھی۔بچے  خواہ جتنے چھوٹے ہوں تاثرات سے اندازے لگانے میں ماہرہوتے ہیں! حا لانکہ انہوں نے اسے بھی باہیں پھیلا کر اپنے پاس بلایا مگر وہ الجھی الجھی سی اپنے والدین کو دیکھ
رہی تھی۔اس کی سمجھ سے بالاتر تھا کہ دادی ان سے کیوں ناراض سی ہیں؟عامر کو آئے کئی دن ہوچکے تھے مگر امی کا غصہ ہنوز بر قرا ر تھااور عجیب بات یہ کہ اس عالم میں بھی وہ اس کی خاطر مدارات سے بے نیاز نہیں تھیں۔ماں ماں ہوتی ہے!
سمیرہ اور خاص طور پر بچیوں کی اپنائیت دیکھ کر محسوس ہوتا ہمیشہ سے یہیں رہتی آئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہوئی کہ ٹوٹی پھوٹی زبان میں وہ جب اپنی پھپوں اور چاچا کے بچپن کے اہم واقعات دہراتیں تو سب حیرت زدہ رہ جاتے۔یہ عامر کا اپنے بیوی بچوں کا اپنے خاندان سے تعارف اور تعلق کا بہترین اظہار تھا! عامر کی آمد کی اطلاع ملتے ہی رشتہ داروں اور احباب کا تانتا سا بندھ گیا۔وہ تھا ہی اتنی محبت کرنے والا!  بظاہر تو سب اس کی محبت اور بیوی بچوں کو دیکھنے آرہے تھے مگر اس کے پیچھے تجسس بھی تھا۔ فاصلے، مصروفیت، بچوں کے امتحا نات، بارش، حالات کی خرابی...اب کوئی بہانہ کسی کے پاس نہیں تھا...یہ دیکھ کر حسنہ بیگم کو اور تاؤ آتا کہ سب ان کا مذاق اڑانے آ رہے ہیں!!!جتنے منہ اتنی باتیں...
  .”ہمت کیسے ہوئی عامر کو ایسا کر نے کی....“ یہ سلطانہ آپا تھیں   ”میرا بیٹا ایسا کرتا تو میں اسے عاق کر دیتی...“  وہ زخمی نظروں سے دیکھ کر رہ گئیں اور دوسرے کمرے میں بیٹھے منصور صاحب غصے سے کھول کر رہ گئے۔ حسنہ کو روتے دیکھ کر کچھ کی زبان یوں گویا ہوتی  ”....آپ کیوں رو رہی ہیں؟ اسے دیکھیں کیسی ہٹی کٹی ہورہی ہے؟؟..“ سمیرہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ لفظ تو سمجھ نہ آیا مگر لہجے سے اندازہ ہوا کہ کیا کہا گیا ہے!
ایک کے بعد ایک مہمان رخصت ہوتے اور فتنے جگا جاتے۔امی کی افسردگی، بھائی بہنوں کی امی سے دلجوئی اور عامر سے درشتی، اس کی اپنے بیوی بچوں کے سامنے سبکی...یہ سب اسی طرح چلتا حتٰی کہ ابا جان کی ایک ڈانٹ سب کو خاموش کردیتی 
آخر لوگوں کی باتوں پر اتنا کیوں رد عمل کا اظہارکیا جا تا ہے...جتنی کمزوری دکھائی جائے گی اتنا ہی کچوکیں گے....“
   ہفتے بھر بعد کی بات ہے جب خورشید باجی نے سب کو دعوت پر بلا لیا۔وہ حسنہ بیگم کی بڑی کزن تھیں اور بھانجی کے رشتے سے سمدھن بھی تھیں۔ ”اپنی بیوی سے کہنا شلوار قمیض دوپٹہ پہنے،ڈھنگ سے....!“  امی نے عامر کوہدایت دینا ضروری سمجھا اور وہ خاموش ہوگیا
اچھا خاصہ ساتر لباس پہنتی تھی، عموما گلابیہ (میکسی)میں ملبوس رہتی،باہر جاتے ہوئے ڈھیلی ڈھالی بنطلون (پاجامہ)  اور بڑی سی ٹی شرٹ پہن کر گلے میں اسٹول ڈال لیتی۔موقع کے لحاظ سے سر بھی ڈھک لیتی۔شلوار سنبھالنااس کے لیے دشوار مگر پھر بھی کسی نہ کسی طرح یہ مرحلہ سر کیا گیا۔
 سمیرۃد عوت میں جاتے ہوئے بہت گھبرائی ہوئی تھی مگر وہاں پہنچ کر اس کی پریشانی دور ہوگئی جب وہیل چئیر پر بیٹھی خورشید خالہ نے گھر کے دروازے پر استقبال کیا اور سمیرہ کو گلے لگا کر خوب دعائیں دیں۔ شریر نبیلہ نے ان کی وہیل چئیر گھسیٹنے کی کوشش کی تو اس کو پیار سے کچھ کہا جو اسکو سمجھ میں نہیں آیا مگر محبت کی اپنی زبان ہوتی ہے! پھر وہ حسنہ کی طرف متوجہ ہوئیں اور سمجھاتے ہوئے بولیں  ”شکر کرو تمہارے بیٹے کا گھر آباد ہے...بوا تو منے کی بر بادی کا دکھ لیے قبر میں چلی گئیں....“  اپنے بھائی اور ماں کا ذکر سن کر حسنہ بیگم نے سر جھکا لیا۔
 پھر وہ موضوع بدل کر بولیں
”دیکھو اپنی پوتی کو ہو بہو تمہارا بچپن ہے...!“
نبیلہ پہلے ہی دادی کے دل میں اپنی فطرت کی وجہ سے جگہ بنا چکی تھی اور اب تو اسے دیکھ کر انہیں چاہت اٹھ رہی تھی۔خورشید بیگم کی کاؤنسلنگ تو محض ایک بہانہ تھا ورنہ حسنہ بیگم کے جذبات کا ابال ٹھنڈا پڑ چکا تھا اور اب ایک مختلف حسنہ بیگم کا روپ تھا۔ سمیرۃکو باقاعدہ بہو کا پروٹو کول ملنے لگا اور وہ اسے اپنائیت کے ساتھ اپنے تمام عزیزوں سے ملوانے لگیں۔سمیرہ کا اعتماد بحال ہوا تو اس کے جوہر کھلے۔ وہ ایک خوش مزاج، ذہین، سگھڑ اور رشتوں کو جوڑنے والی تھی۔ بھرے پرے کنبے سے تعلق رکھنے والی جہاں خاندانی وقار اور تعلق کو بہت اہمیت حاصل تھی۔ مشرقی روایات کی حامل! اس نے عامر سے کہا کہ ماما اور بابا کو اپنے ساتھ لے چلو!! آتے ہی اس نے  جب یہ بات کہی اور حسنہ بیگم کے کانوں نے ویزا اور پاسپورٹ کالفظ اس کی گفتگو سے اخذ کیا توسوچا تھا کہ جلدی واپس چلنے کا کہہ رہی ہے اوروہ بڑبڑائی تھیں۔۔۔ہاں اس کا دل یہاں کہاں لگے گا؟  اور جب دل بدلا تو وہ فورا روانگی کے لیے تیار ہوگئیں مگر  ان کے معالج نے پروگرام میں رخنہ ڈال دیا یہ کہہ کر کہ ابھی ا ٓپ سفر قابل نہیں!!!
 منصور صاحب تو کئی دفعہ کانفرنس میں حلب جاچکے تھے اور وہاں کے کتب خانوں  اور اہل علم افراد سے مستقل رابطے میں تھے مگر اپنے بیٹے کے گھر جانے کا اشتیاق ہی کچھ اور تھا۔وہ بچوں کے ساتھ بالکل بچہ بن گئے تھے! سچی بات تو یہ ہے کہ عربی پر عبور ہو نے کی وجہ سے بہو اور پوتیوں سے تبادلہ خیال تووہی کر رہے تھے باقی تو بس اردو، عربی اور انگلش کی چٹنی بنا کر کام چلا رہے تھے۔ بہر حال اس کی نوبت نہ آئی کیونکہ ہر چھہ ماہ بعد وہ لوگ ہی کراچی کاچکر لگا لیتے تھے اور یوں سب سے ملا قات ہوجاتی تھی۔تفریح گاہیں کم پڑ نے لگیں۔شہر کا چپے چپے گھوم لیے گئے۔یہ وہ دور تھا جب نئے نئے شاپنگ سنٹر کھلنے لگے تھے۔سند باد جیسی جدید ترین جگہ ہو یا اولڈ کیماڑی میں کشتی کاسفر ہر جگہ دیکھ ڈالی گئی۔
 ”کراچی تو پورے سیریا سے بھی بڑا ہے!......“سمیرۃ بار با ر بول پڑتی!
سمندر دیکھ کر عبیرۃ واپس آنے کوتیار نہ ہوتی  دادا سے کہیں یہیں گھر بنالیں  وہ اپنے باپ سے کہتی
اور کبھی یہ کہ بڑی گاڑی لیں کہ مجھے گود میں نہیں بیٹھنا پڑے!اورسب ہنس پڑتے۔۔۔
سمیرہ قصباتی بیک گراونڈ رکھنے کی وجہ سے بے حدمحنتی بھی تھی۔سگھڑ،! رکھ رکھاؤ اور حفظ مراتب کا خیال رکھنے والی!گھر آئے مہمان کو کیسے ڈیل کرنا ہے!کس کے ساتھ کیا برتاؤ کرنا ہے یہ وہ خوب اچھی طرح جانتی تھی۔جذبات پر کنٹرول بھی خوب تھا۔اپنے قیام کے دوران وہ حسنہ بیگم کی دستکاریوں میں خصوصی دلچسپی لیتی۔کبھی موتی ٹانکا سیکھتی اور کبھی سوئٹر کے نمونے!
ایک دفعہ عامر کی آمد پر دعوت کا انتظام کیا گیا تھا۔امی کے بستر کے سرہانے سیلن اور دراڑ کے باعث دیوار پر نمایاں دھبے دیکھ کر اس سے نہ رہا گیا اور اس نے عامر سے رنگ اور برش لانے کی فر مائش کی کہ ماما کا کمرہ پینٹ کردوں! اس بات پر عامر نے اس کو ڈانٹ پلائی کہ یہاں یہ کام مرد بھی خود نہیں کرتے بلکہ مزدوروں سے کرواتے ہیں! عامر کو سب کے سامنے اپنی بیوی کی سبکی کا خیا ل تھا ورنہ در حقیقت وہ اس کے ہنر مند ہونے کا دل سے قدر دان تھا۔دو مختلف تہذیبوں کے درمیان یہ خاندان ایک پل کا کام کر رہا تھا۔ننھی نبیلہ تک ماں کی بریفنگ کرتی
کہ دیکھیں پوپو (پھپھو) کیسے دوپٹہ اوڑھتی ہیں؟  ایک دوسرے کے ادب آداب  اور رسم و رواج منتقل ہورہے تھے۔زندگی رواں دواں تھی۔بچے بڑے اور بڑے ضعیف ہورہے تھے!
دو بچیوں کے بعد عامر کے گھر بیٹے حمودی کی پیدائش ہوئی۔ نبیلہ اور عبیرہ اسکول میں داخل ہوگئی تھیں۔مختصر علالت کے بعد منصور صاحب انتقال کر گئے۔ان کے بعد گھر کی ذمہ داری عامر نے بحسن خوبی انجام دی۔شادی کے پندرہ سال بعد پھر اللہ نے اس کو ایک بچی سے نوازا!ننھی رازیہ گھر بھر کے لیے کھلونا تھی۔ اس وقت عامر کے معاشی حالات بہت بہترین ہوگئے تھے۔وہ پاکستانی کمیونٹی میں نما یا ں مقام رکھتا تھا۔ دمشق میں خوب صورت گھر بنا لیا تھا کیونکہ اب بچوں کوپاکستانی انٹر نیشنل اسکول میں داخل کروا دیا گیا تھا۔ ٹیکنالوجی کے باعث روابط میں بہت آسانی ہوگئی تھی۔حمودی اسکائپ کے ذریعے دادی کو اپنے گھر، جانوروں اور محلے کی سیر کرواتا! ان کو سن روم دکھا تا کہ یہاں بلور (شیشہ) ہے۔ سورج کی روشنی اور دھوپ کی وجہ سے آپ کو لگے گا کہ پاکستان میں ہیں! مگر ان کو سفر کی مہلت نہ مل سکی کہ سفری دستاویز میں اتنی تاخیر ہوئی کہ دائمی سفر کا بلاوا آگیا۔
وقت کب ٹھہرتا ہے؟ آگے بڑھتا ہی رہتا ہے!  حتی کہ بچوں کی اعلی تعلیم کے لیے مختلف آپشنز پر غور ہونے لگا! قرعہ فال برطانیہ کے نام نکلا۔داخلہ کرواکر اور رہائش کا انتظام کر کے واپس دمشق پہنچے۔ اس موقع پر عامر نے سعدیہ سے خواہش ظاہر کی کہ امی تو دمشق نہ آسکیں۔تم ہی آجاؤ کچھ عر صے کے لیے! سعدیہ نے اس سفر کے لیے اپنے آپ کو ذہنی اور عملی طور پر تیار کر لیا۔ 
یہ فروری 2011ء کی ایک خنک صبح تھی جب دمشق سے عامر کا فون آیا۔ 
”سعدیہ! کل ہم لوگ انگلینڈ جارہے ہیں!  اب موسم بہتر ہوگیا ہے! تم مارچ کے آخری ہفتے کی بکنگ کرالو!شام، مصر،ترکی کے بعد عمرہ کی ادائیگی! پاسپورٹ ایکسپائر نہیں ہونا چاہیے.....اس سے پہلے پہلے کروالو!......“
ان دنوں عرب بہار کی دھوم تھی لہذا سعدیہ نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا جس کے جوا ب میں بھائی نے ہنستے ہوئے کہا کہ یہاں امن ہے! اس وقت رات کے دو بجے ہیں اور ہم ابھی شاپنگ کر کے لوٹے ہیں....(دمشق کی راتیں جاگتی ہیں!)....
یہ اطمینان کی آخری گفتگو تھی کیونکہ اس کے بعد وہاں کے حالات جو بد سے بد ترہوتے گئے وہ سب کے سامنے ہے! شام کی خرابی احادیث سے منقول ہے مگر یہ سب کچھ اتنی جلدی ہوگا تصور میں نہ تھا۔زندگی کا رنگ بدلنے میں محض چوبیس دن لگے!یہ خوش قسمتی کہ عامر اپنے خاندان کے ساتھ بر طانیہ روانہ ہوچکاتھا مگر.....سب کچھ تو شام میں تھا...جاب،گھر، پڑوسی، دوست، رشتے دار....! آہ!
دیرا لزور میں سمیرۃ کا آبائی تین منزلہ گھر جس کے چھہ پورشنز میں اس کے۶  بھائیوں کے خاندان رہائش پذیر تھے بمباری میں کھنڈربن گیا۔ انٹر نیٹ پر اس کی تصویر دیکھ کر یہاں سب سہم کر رہ گئے تھے۔ شکر ہے کہ جانیں بچ گئیں مگر سب کچھ تتر بتر ہوگیا تھا! مصر،ترکی، عراق ِ، اردن میں بکھر گئے۔اس کے والدین یکے بعد دیگرے دھکے کھاتے دنیا سے گزر گئے!
سمجھ میں نہیں آتا سمیرۃ سے کس طرح تعزیت کی جائے؟ عامر کے بہن بھائی الجھن کا شکار تھے مگر جب آزمائش آتی ہے تو اللہ حوصلے بھی دے دیتا ہے! الحمد للہ! آنسو بھری آواز کہتی اور سعدیہ سوچنے لگی:
سمیرۃ میری عزیزہ!  امی کے ہینڈی کرافٹ دیکھ کر تم کہا کرتی تھیں کہ تمہارے دیرا (گاؤں) میں ایک عورت ہے جو خستہ حال اور بوسیدہ دستکاری کو دوبارہ جاذب نظر بنا دیتی ہے!میں ماما کے تمام بوسیدہ نمونے  اس سے درست کرواؤں گی...... آہ! اب یہ ممکن نہیں! نہ جانے وہ
 کہاں ہوگی؟ بس میں   یہ پوچھنا چاہوں گی کہ کیا کوئی ایسا بھی ہے جو تباہ حال بستیوں کو پھر سے پہلے جیسا با رونق بنا دے؟
زندگی کا رخ بدل گیا تھا۔شروع شروع میں کچھ نارمل رہا۔ سمیرۃ بھی دمشق جاتی رہی مگر تابکے؟ بچے جنہیں تعلیم کے لیے بر طانیہ میں رکنا تھا مگر ان کا سب کچھ تو دمشق میں تھا! وہ سوق، وہ موسم.....یہاں نہ زبان اپنی نہ موسم! سب کچھ نامہربان تھا! نبیلہ نے سعدیہ سے فون پر کہا
”.....پوپو!مجھے نفرت ہے انگلینڈ سے! یہاں تو کبھی دھوپ ہی نہیں نکلتی!....
برف باری تو دمشق میں بھی تو ہوتی تھی....سعدیہ نے اسے بہلایا
”..مگر وہاں سورج تو نکلتا تھا.....“ وہ سسک پڑی اور سعدیہ کو دمشق  کے گھر کا سن روم یادآگیا۔
دمشق کا سورج تو اسی طر ح روز جلوہ افروز ہوتا مگر اس کے باشندے حکمرانوں کی سفاکی کے باعث در بدر تھے۔ یہ وہی حکمران تھا جس کے تخت نشین ہونے پر گایا جانے والا ترانہ ننھی ننھی نبیلہ اور عبیرۃ گایا کرتی تھیں۔ پوچھنے پر بتاتیں کہ ہمارا نیا بادشاہ ہے...بہت ہنڈسم جوان ہے ڈاکٹر.....اور آج یہ ہی قصائی بنا ہواتھا۔ حکومتیں اجڑتی نہیں مگر لوگ بکھر جاتے ہیں....
عامر پاکستان واپس آسکتا تھا مگر یہاں کی صورت حال بھی کچھ خوش آئند نہیں تھی اور پھر سمیرۃ کی شامی شہریت کو پاکستانی ویزہ نہیں مل رہا تھالہذا ان سب نے ایک ساتھ برطانیہ ہی میں رہنے کا فیصلہ کرلیا۔شروع شروع میں لگتا تھا تھوڑے دنوں کی مصیبت ہے مگر پھر اس کا کوئی کنارہ نہ رہا! ہاں البتہ ساحلوں پر مظلوموں کی لاشیں ملتی رہیں! لاکھوں شامی باشندوں کی طرح عامر کی معیشت اور معاشرت دونوں زوال پر تھی۔ وہ گڑیا رازیہ جس کی دیکھ بھال کے لیے برٹش گورنس رکھی گئی تھی آج برطانوی امیگرینٹ کے طور پر رجسٹر تھی!  مہنگے علاقے سے وہ لوگ برمنگھم شفٹ ہوگئے تھے۔
 سخت تگ ودو سے گزر رہے تھے۔ مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات زندگی کو مشکل تر بنارہے تھے۔ ضرورت کے لحاظ سے نئی نئی چیزیں سیکھ رہے تھے۔ ایک دن خلاف معمول وقت پر عامر کا فون آیا
”سعدیہ! وہ جو گھر  میں پرانا البم ہے نا! اس میں سے ماموں کی تصویرپورٹریٹ کو ذرا مجھے اسکین کر کے بھیجو۔۔۔!‘‘ سعدیہ نے اکتاہٹ سے اس مشقت کے بارے میں سوچا جو اس البم کو نکالنے میں کرنی تھی۔بہر حال تجسس بھی تھا۔ جب اس تصویر کو ہاتھ میں لے کر اسکائپ
 آن کیا تو دوسری طرف عامر ہاتھ میں وہی تصویر لیے بیٹھا تھا۔
”۔۔۔جب تمہارے پاس تھی تو مجھ سے کیوں ما نگی؟“ وہ کہے بغیر نہ رہ سکی۔
”۔۔میرے پاس تھوڑی تھی۔۔یہ تو مجھے یہاں سے ملی ہے۔۔۔!“  آواز اور لہجے میں خوشی کی ایسی جھلک تھی جب بچپن میں وہ سعدیہ کے لیے بیر بہوٹیاں پکڑ کر لاتا تھا
”کیا مطلب؟“  تجسس  سعدیہ کے لب و لہجے سے مچل رہا تھا۔
معلوم یہ ہوا کہ وہ اور سمیرۃ اسٹیٹ ایجنسی کا کام کر رہے ہیں۔پرانے اور بوسیدہ گھروں کو خرید کر رینوویٹ کر کے بیچتے ہیں۔ سمیرۃ اپنے پراجیکٹ کی تصاویر بھی بھیجتی رہتی تھی۔جس میں پہلے اور بعد دونوں میں موازنہ ہوتا تو ان کی اس صلاحیت اورہنر مندی پرجہاں دل واہ واہ کرتا وہاں اتنی سخت اور پر مشقت زندگی پر رو اٹھتا...
بہر حال ایک کھنڈر خستہ سے گھر میں اسے اپنے ماموں کی یہ تصویر ملی جو کسی زمانے میں بر طانیہ میں رہتے تھے۔ بیس سال قبل ناگفتہ بہ حالات میں ان کا انتقال بھی ہوگیا تھا۔اب یہاں ان کی تصویر کس کے پاس تھی؟ ایک معمہ تھا جس کی کڑیاں ٹوٹ چکی تھیں۔اس پر سے پردہ روز قیامت ہی اٹھے گا!  سارے بہن بھائی الجھ کر رہ گئے تھے۔
در بدری کے اس دور نے سمیرۃ کے اندر چھپی شاعرہ کو باہر نکال دیا۔اور انٹر نیٹ پر اس کی شاعری کی دھوم مچ گئی۔ اس کا ایک بھائی ترکی میں تھا جس کے توسط سے شاعری کی دو کتابیں مارکیٹ میں آ گئیں۔وطن کے ہجراور فراق میں ڈوبے شعر دکھی دل کی آواز بن گئے تھے۔زندگی کسی طور رواں دواں تھی۔ حالات کی خرابی نے ان دونوں میاں بیوی کی شگفتگی اور خوش اخلاقی کو ہر گز ماند نہ کیا تھا۔ جو بھی قرابت دار محو سفر ہوتا برطانیہ کا ویزہ لے کر ضرور ان کا مہمان بنتا! زخموں کو چھپا کر مسکرانا ہی دانش مندی تھی...بھرم قائم تھا!
ایک دن سمیرۃ کا فون سعدیہ کے پاس آیا تو اس کی سسکیاں نہیں رک رہی تھیں۔
”...نبیلہ اور عبیرۃ کی فیس جمع نہیں ہوسکی ہے۔انہیں ایک ہفتے کا الٹی میٹم ہے ورنہ اسٹوڈنٹ ویزہ کینسل کر کے ڈی پورٹ کردیں گے...پلیز سعدیہ کچھ کرو! میرے پاس تو کچھ بھی نہیں بچا ہے....عامر کو نہ بتا نا....وہ غصہ کریں گے کہ کیوں سب کو پریشان کیا ...“
اپنے بھائی کی خود داری سعدیہ کو رلاگئی۔۔حلق میں نوالے اٹک رہے تھے۔ پریشانی میں اس نے اپنی بہن اور بھائی سے مشورہ کیا۔کچھ نہ کچھ رقم کا انتظام کیا مگر وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف تھی۔ عامر کو اعتماد میں لے کر اس نے آبائی گھر بیچنے کی تجویزدی جسے عامر نے سختی سے مسترد کردیا کہ خواہ مخواہ سب کو در بدر کرنے کا کیا فائدہ؟ حالانکہ اس مکان کو بنانے میں ساٹھ فی صد سے زیادہ رقم عامر نے ہی مہیا کی تھی
”...کچھ نہ کچھ ہوجائے گا! وکیل سے بات کررہے ہیں......“ بہن بھائیوں کو تسلی دی۔ دعاؤں میں آہ و زاری بڑھ گئی تھی....اور آج چند ماہ بعد عبیرہ کی شادی کی خبر سن رہے تھے!
صبح کا اجالا پھیل رہا تھا۔اتنے میں اخبار والا آگیا۔ خبر اور تصویر پر نظر پڑتے ہی دل دھک سے رہ گیا۔ایلان کردی کی ساحل پر پڑی لاش!.....ڈگری ملے یا نہ ملے زندگی تو سلامت رہے گی  نا! کسمپرسی کی موت سے اللہ بچائے!! سعدیہ عبیرۃ کے لیے ہنوز دعاگو تھی۔
تفصیل یہ تھی کہ امریکہ میں رہنے والے شامی دوست نے اپنے بیٹے کے لیے نبیلہ یا عبیرۃ کا رشتہ مانگا۔ ماں باپ نے دونوں کے سامنے بات رکھی۔نبیلہ نے تو فورا انکار کردیا کہ وہ اپنے خاندان کو اس بھنور میں چھوڑ کر نہیں جاسکتی جبکہ عبیرۃ نے سوچاکہ وہ اسٹیبلش ہوکر اپنے خاندان کے لیے زیادہ نافع بن سکتی ہے۔چنانچہ اس نے امریکی یونیورسٹیز میں داخلے کے لیے اپلائی کردیا۔ اس مر حلے پر عمار کے والد نے اس کے اکاؤنٹ میں رقم جمع کرادی جو دراصل اس کا مہر تھا! اور یوں سب طے ہوگیا۔نکاح کے لیے دوبئی بہت آئیڈیل جگہ تھی کہ پاکستان سے بھی کوئی شریک ہونا چاہے تو ہوسکے مگر سمیرۃ کو سوائے ترکی کے کہیں کا ویزہ نہ ملا لہذاصرف ماں باپ ہی جاسکے! اور یوں ایک مزید
ہجرت تھی!
حالات بہتر تو نہیں ہورہے تھے مگر کچھ عادت سی ہوگئی تھی! معاش کے خطروں کے ساتھ امن و عامہ کے خدشات لاحق تھے۔ یورپی اقوام میں بڑھتی ہوئی مسلم دشمنی اور خاص طور پر شامی ماں اور پا کستانی باپ کی اولادوں میں عدم تحفظ کی نوعیت بھی جدا تھی۔دا عش اور طالبان سے نتھی کرنا کتنا آسان تھا؟مگر ان تمام کے باوجود زندگی رواں دواں تھی۔
 اس دن نادیہ کے گھر سب ناشتے پر مدعو تھے۔نادیہ کا فون بجا تو وہ اٹھ کر سننے چلی گئی۔
”... امی! کینیڈا سے ثمینہ آنٹی کا فون ہے....“ دانش نے پکارا
”.....ایک تو امی کی دوستیں.....!“ بچے جز بز ہونے لگے۔اتنی اچھی گفتگو میں وقفہ آگیاتھا۔
”...ہاں ہاں!عمر ہی نام ہے اس کا!......۔پہلے سعودیہ میں تھا پھر سیریا واپس آگیا تھا...اب اس نے کینیڈا میں امیگریشن لے لی ہے....“ نادیہ کے لہجے میں بریکنگ نیوز جیسی کھنک تھی۔
فون بند کرکے اس نے ڈائننگ ٹیبل پر سب کو متوجہ کیا جو پہلے ہی پر تجسس تھے
”....البرٹا سے ثمینہ کا فون تھا۔۔وہ لوگ ٹیکسی میں سفر کررہے تھے تو ڈرائیور سیرین تھا.....بات ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ سمیرۃ کا بھائی عمر تھا!  وہی جس کے ذریعے سمیرۃ نے سعودیہ سے اپنی  نندوں کے لیے عبایہ منگوا ئی تھی۔جو آج بھی ان کی الماریوں میں موجود تھی! اور سعدیہ کو یہ بھی یاد آیا کہ ا بوجان کی عربی کتب کے بارے میں عامر نے کہا تھا کہ میں سیریا لے جاؤ ں گا کہ حمودی عمر سے  اس کی تعلیم لے گا! آہ انسان کی ناقص منصوبہ بندی....ہوتا وہی ہے جو تقدیر نے لکھا ہو! کہ وہی عمر سالوں کی در بدری کے بعد پیٹ کے لیے البرٹا میں ٹیکسی چلا رہا تھا!
اور دنیا اتنی مختصر تھی یا سوشل میڈیا سے ہوگئی ہے! چند گھنٹے بعد جب بر طانیہ میں رہنے والے بیدار ہوئے تو عامرکا فون نادیہ کے نام تھا جوالبرٹا میں جڑنے والے تعلق کی کہانی سنا رہا تھا۔ 
خاندان کے سب لوگ واٹس اپ گروپ سے منسلک تھے! گرمیوں کی ایک دوپہرنبیلہ کے میسج نے گروپ میں ہلچل سی مچادی کہ میں خالہ بن گئی ہوں! ساتھ ہی عبیرہ کے نومولود بیٹے کی تصویر تھی۔ امریکی ریاست میں پیدا ہونیوالے  ریان کی شناخت کیا ہوگی؟ ایک امریکن مسلم؟ امریکی معاشرے میں ضم ہونے والے خاندان کے لیے کیا یہ اتنا آسان ہوگا؟؟
عبیرہ ہزاروں میل دور سے اپنے بیٹے کو کندھے سے لگائے ماں کو کہہ رہی تھی
”ماما....مجھے تو ریان کو سب کچھ بتا نا ہے!....ہم کہاں سے آئے؟ کیا گزری؟ کیوں در بدر ہوئے؟....“
”ہاں جان مادر! اگر تم نہیں بتاؤ گی تو اپنی شناخت کا تجسس دو چار نسل بعد ضرور ابھرے گا....پھر وہ اپنا ڈی این اے کروائے گا  اس کو جاننے کے لیے...!“
سمیرۃ جب سعدیہ کو یہ سب بتا رہی تھی تو اسے الیکس ہیلے کا ناول  ROOTS یاد آرہاتھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




 اس ناول  ROOTS  میں مصنف Alex Haleyنے اپنے آباء و اجداد کی تلاش  کے ساتھ ساتھ ان کی تہذیب  اور زبان کے نقوش محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے.
 اس ناول کا اہم ترین کردار کنتا کنتی مصنف کا ایک بزرگ جو1750 میں گیمبیا کے ایک مسلمان قبیلے  میں پیدا ہوئے۔ سترہ سال کی عمر میں اغوا کر کے امریکہ پہنچایا جاتا ہے۔ جہاں بحیثیت غلام زندگی گزارتے ہیں چالیس سال کی عمر میں شادی اور بچی پیدا ہوتی ہے جسے وہ اپنی قبائلی روایات سے آگہی دیتے ہیں۔او ر یہ منتقل ہوتے ہوتے ساتویں نسل میں مصنف تک پہنچتی ہے جو اپنی تحقیق کا آغاز کرتے ہیں اور بارہ سال کی محنت کے بعد یہ معرکۃ الآرا تخلیق منظر عام پر آتی ہے۔
نوٹ:
   اس ناول کا اردو ترجمہ ”سلاسل‘‘  کے عنوان سے  محترمہ انوار فاطمہ جعفری نے کیا ہے جو اکادمی بازیافت نے جون2003 ء  میں شائع کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منگل، 8 اکتوبر، 2019

خدا کرے جوانی تری رہے بے داغ

                          
  خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ !

اماں ! آپ تقوی کا مطلب کیا سمجھتی ہیں  ؟..نماز میں خشوع وخضوع یا پهر روزہ رکھ لیں ؟ ....ہمارے لیے یہ کچھ اور ہے ...."
 ہماری ایک بہن اپنے بیٹے کے حوالے سے بتا رہی تهیں
ہم چهہ خواتین ہائی روف میں بیٹهی تهیں جو یونیورسٹی روڈ سے صفورا چورنگی کی طرف مڑ رہی تهی اورہم نوجوان نسل کے لیے موثر تبلیغی اور تربیتی مواد کی دستیابی پر بات کر رہے تهے !  اگلی بات جو انہوں نے تقریبا سرگوشی کے انداز میں کہی ہمارے حواس اڑانے کو کافی تهی ...
"....
لڑکیاں کہتی ہیں ہم سے دوستی کرو .. !" اور یہ دوستی ہر گز محض ورچوئل نہیں ہے  بلکہ جسمانی اتصال سے لے کر ذہنی، جذباتی اور روحانی تعلق اور لگاو کا متقاضی ہے ...آج کل کے تعلیمی اداروں کی ایک جھلک ہی اس بات کو سمجھنے کے لیے کافی ہے ۔اب تعلیم کا مقصد صرف علم کا حصول نہیں  رہا ہے بلکہ کچھ اور ہوش ربا حقائق ہیں ۔۔۔۔
ان کی بات  مکمل ہوئی ہی تھی کہ ہماری منزل آگئی۔ ایک خوش باش محفل میں بھی میرے خیالات اس بات کے گرد گھومتے رہے  بلکہ اسے ایک اور گزری محفل میں اڑا  کر لے گئے ۔
یہ 25 /30 سال قبل زمانہ  طالب علمی میں  ہم عصر رہنے والیوں کی ایک گیدرنگ تھی  ۔ امریکہ جابسنے والوں میں سے ایک نے اپنی پاکستان آمد پر ساری ہم جولیوں کو اکٹھا کیا ہوا تھا ۔ اگرچہ بہت سی سہیلیاں ایک دوسرےسے رابطے میں ہیں مگر یہاں سب  اپنے آپ کو 30 سال پہلے والی حیثیت میں جان رہے تھے  ۔لگتا تھا کہ وقت کے پر کاٹ  دیے گئے ہوں ! وقت کی سلوٹوں سے بے نیاز   ٹائم مشین میں بیٹھ کر سب اپنے اپنے متعلقہ شعبوں میں پہنچ گئے تھے  حتی کہ آداب محفل  بھی تین عشرے پہلے والی سطح  پر موجود تھا  یعنی  باوجود اس کے کہ وقت کم تھا مگر پھر بھی کوئی کسی کی بات نہیں کاٹ رہا تھا ۔سب  ایک دوسرے کی بات سننے میں اسی تحمل کا مظاہرہ کر رہے تھے جو پچھلی نسل میں تو تھا مگر اب مفقود ہے   اور موضوع  یہ ہی بن گیا تھا کہ نوجوان نسل میں اپنی تہذیب کے وہ اثرات کیوں نہیں جو ہماری نسل میں تھے ؟ بحیثیت والدین سب اپنے  اپنے خیالات کا اظہار کر کے آپ کو کٹہرے میں کھڑے کر رہے تھے۔  اپنے اپنے تجربات تھے مگر دائرہ وہی تھا نسل نو میں گھٹتی ہوئی اپنی تہذیبی اور ایمانی قوت ! 
ایک ساتھی کی بات پر تو سب   لمحہ بھر کو خاموش ہوگئے  جب  انہوں نے اپنی بیٹی کے کسی معیاری تعلیمی ادارے میں  داخلہ انٹرویو کا ذکر کیا  ۔فارم میں جہاں جنس (Gender ) کا خانہ تھا وہاں 35 آپشنز تھے ؟؟؟ یا الہی ٰ ہم تو ابھی تک دو ہی سمجھے تھے یا اب جیسا کہ Transgender  کی اصطلاح عام ہوگئی ہے  تو تیسری جنس بھی مذکور ہے مگر 35 ؟ پھر وضاحت ہوئی کہ کسی لڑکی میں پتلون پہننے کی خواہش ہو یا کسی میں ۔۔۔۔۔۔۔ اسی تناسب سے اس کی جنس  طے (  ڈیفائن )ہوگی ! یعنی اس کے اندر اپنے آپ کو جیسا دیکھنے کی خواہش ہوگی اس کے مطابق اس کی جنس کا تعین کیا جا سکے گا !
اف یہ ہم کس دور میں زندہ ہیں اور مجھے مفتی منیب الرحمان  کا وہ مضمون  یادآیا جو انہوں نے حال ہی میں دورہ امریکہ سے واپسی پر تحریر کیا تھا ۔جس کے مطابق  18 سال کی عمر کو پہنچ کر کوئی فیصلہ کرے کہ اسے لڑکا بننا ہے یا لڑکی ؟ یعنی شیطان نے  اپنے حربے خوب خوب آزمائے ہیں کہ:
                            ۔۔۔۔میں ان کی ساخت بدلوں گا  ۔۔۔۔قرآنی آیات میں مذکور اس  کے ارادے  ایک نئی  اور جدید شکل میں سامنے تھے ۔۔
 وہ سارے مناظر ،دلفریب  نعرے، خوشنما خواب ،  قوس قزح جیسی قدرتی چیز کو بھی شیطانی گروہ کا سمبل بنا دیا گیا ہے معصومیت کے لبادے میں چھپے رشتے !    میاں بیوی کے بجائے پارٹنر کی اصطلاح زبان زد عام کرگئی جس میں تعلقات  (Relationship ) کے لیے  اب مرد و عورت یا لڑکی اور لڑکے کا ہی تخصص نہیں رہا ۔اب  لڑکے کا پارٹنر  لڑکا  بھی ہوسکتا ہے  بلکہ انسان ہونا بھی ضروری نہیں  کوئی  جانور بھی آپ  کا ساتھی بن سکتا ہے ! انسان اور حیوان کے  آڑ کے تمام حجاب ہٹا دینے کی کوشش ۔۔آج کی جدید اصطلاحات   کی بابت سوچتے سوچتے بہت دور نکل گئی  تھی ! یہ تو سب مغرب کی کارستانیاں ہیں ۔۔دل کو تسلی دی اور لاحول پڑھ کر ماحول میں واپس آگئی ۔

اس محفل سے نکلے تو  راستے میں آنے والے شاپنگ سنٹر میں اتر گئی کہ ضروری چیزیں لینی تھیں ۔اور داخل ہوتے ہی وہ مناظر سامنے تھے جن خیالات کو  مغرب زدگی کہہ کر ٹال چکی تھی ۔۔۔پتلون اور ٹی شرٹ میں ملبوس جوان تروتازہ خوبصورت بچیاں جوڑوں کی شکل میں گاہکوں کی رہنمائی کر رہے تھے بلکہ کہیں کہیں تو گروپ کی شکل میں کھلکھلا رہے تھے ۔چھچھورے مذاق کر رہے تھے ۔ اس سوقیانہ ماحول میں شاپنگ کیا ہوتی ؟ مجھے مسز قدیر آگئیں  جنہوں نے چند سال پہلے فون کر کے بتایا کہ وہ علاقے کے معروف شاپنگ سنٹر میں گئیں تو سیلز گرلز کو دیکھ کر مرد ان کی طرف لپکے کہ پتلون والی کڑیا ں آگئیں ۔۔انہیں بہت ہی برا لگا وہ منیجر کے پاس گئیں ۔ان کی شکایت سن کر اس نے اتفاق کرتے ہوئے اپنی مجبوری کا اظہار کیا۔ بہر حال احتجاج نوٹ کر لیا گیا ۔ اس پر میں نے تحریر لکھی اور ایمانی  طاقت کے مظاہرے پر فیس بک پوسٹ پڑھنے والوں کو راغب کیاجس پر  ۔مجھےبہت لائکس ملے ! اب مجھے  بھی یہ کرنا چاہیے ! مگر اس ایمانی قوت کے اظہار کا نہ وقت تھا موقع کہ اب یہ سب کچھ رواج بن چکا ہے اور میرے احتجاج پر منیجر مجھے Exit  کا راستہ دکھا سکتا ہے لہذا ایمان کے کمزور ترین درجے پر پہنچ کر میں نے آزردگی سے باہر کی راہ لی ۔

یہ سب کیسے اور کب ہوا ؟ قباحتیں کب Norm   گئیں ؟ اور مجھے عشرے قبل گاڑی میں شاہراہ فیصل میں گزرتے ہوئےبچیوں کے نعرے یاد آئے جو انہوں نے پٹرول پمپ پر لڑکیاں دیکھ کر لگائے تھے

'۔۔۔۔وہ دیکھیں آنٹیاں پٹرول بھر رہی ہیں ۔۔۔ ! ' '  

ہمارا کلچر سعودی عرب کا تو نہیں ہے ۔یہاں تو خواتین دھڑلے سے گاڑیاں چلاتی ہیں بلکہ اپنی نوعمری کا واقعی یاد آگیا جب اسلام آ باد  کی سیرمیں اپنی زندگی میں پہلی بار کسی عورت کو گاڑی چلاتے دیکھا تھا تو آکر ابا کو اطلاع دی تھی۔ ظاہر ہے جب خواتین گاڑی چلائیں گی تو پٹرول بھی بھروائیں گی  !  ہاں !تعجب خیز بات  یہ تھی کہ وہ بھروانے کے بجائے بھرنے کی ڈیوٹی پر ہوں ۔۔چند ٹکوں کے لیے عورت کو کس  قدر گھٹیا کام پر لگا یا گیا ہے!  آہ  !حکمرانوں کی روشن خیالی نے کیا دن دکھائے ہیں !
اور پھر مجھے ایک رہنما کے الفاظ یاد آئے جس نے اس حوالے سے اپنی یاد داشتیں بیان کرتے ہوئے کہا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ اپنی وزارت کے زمانے میں مغربی ممالک کی طرف سے اعلان کردہ قرضہ /امداد  کی عدم ادائیگی کی طرف متوجہ  کروایا تو ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہماری شرائط نہیں مانیں ۔۔۔بل بورڈز پر  خواتین کی تصویر پر پابندی لگا رکھی ہے ۔۔۔ہم عورتوں کی آزادی میں کوئی رکاوٹ بر داشت نہیں کر سکتے ۔۔۔۔ مخلوط اجتماعات  کو عام کریں اور اس گفتگو کا آخری نکتہ یہ تھا    
                                         ''۔۔۔۔۔۔ قرضہ لینا ہے تو کلچر بھی لینا ہوگا ۔۔۔۔'' 
  
گویا یہ سب  مظاہرے تو ثمرات تھے ! اس کی بنیاد اور جڑکب اور کہاں واقع ہوئی ؟ جب ان پالیسیوں کے تحت  حکمران ڈھلتے چلے گئے  اور عوام تو اسی کے تحت چلتے ہیں ۔۔ امداد کے بہانے تہذیبی یلغار کی  بات کئی عشروں پہلے ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کہہ چکے ہیں ۔۔۔" تاسف کا اظہار کہ '۔۔۔۔۔۔۔چست پتلونوں کے بدلے میں کچھ ترقی ملتی تو بات بھی سمجھ آتی ۔۔دور دور تک زوال ہی زوال نظر آتا ہے ۔۔۔۔"
 2006ء کی بات ہے ایک مشہور بین الاقوامی فیشن ڈئزائنر سنبل کا انٹرویو پڑھا ۔اس کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں یہ منظر آنے میں کچھ وقت لگے گا کی خواتین اسکرٹ ( یقینا منی اسکرٹ ) پہنے اسٹاپ پر کھڑی ہوں ۔۔۔۔ان کی یہ حسرت یا خواہش مھض دس سال کے اندر ہی پایہ تکمیل کو پہنچ گئی  جب اسکن کلر کی ٹائٹ میں ملبوس خواتین اور لڑکیاں جگہ جگہ نظر آنے لگیں ۔۔۔۔۔
ظاہر ہے آج کی نوجوان نسل کو درپیش چیلنجز بجا ہیں ۔ ترغیبات کے اس ماحول میں وہ کس طرح اپنا دامن بچائیں ۔؟  ڈاکٹر ووہرہ کے جملے یاد آئے جو انہوں نے آج کی نوجوان  نسل کے بارے میں کہے تھے کہ شریف اور پاکباز لڑکے روزے رکھ رکھ کر تھک رہے ہیں ۔۔۔!
  " جلد شادی کر دی جائے ۔۔۔۔۔جلدشادی کا آپشن سامنے آتا ہے ہے مگر یہ  بہت مشکل بنا دی گئی ہے  ۔۔۔اور پھر اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ اس ماحول میں جب حیا کے جنازے ہر جگہ اور ہر وقت موجود ہوں شادی کے بعد بہکنے کے امکانات ختم ہوجائیں گے ؟ ضبط جذبات کس حد تک ممکن ہے  ؟  اور پھر شادی تو کچھ نہ کچھ شعور آنے پر منحصر ہے ۔۔یہاں ٹین ایجرز بلکہ اس سے بھی کم عمر بچوں کے پاس  اسمارٹ فون  کی سہولت  انٹر نیٹ کنکشن کے ساتھ خود والدین نے  مہیا کی ہوئی ہے  جو رات بھر اس سے جڑے رہتے ہیں ۔۔ حالیہ میٹرک کےمایوس کن  نتائج  طالب علموں  کے دل پڑھائی سے اچاٹ ہونے کے گواہ ہیں ۔۔! ۔۔۔۔اگلی نسل کے بحران کیا ہوں گے جو اس وقت پنگوڑے میں ہی موبائیل فون سے محظوظ ہورہے ہیں ۔۔۔!
عشاء کی نماز پڑھ کر دعا طلب کی۔۔۔ ذہن سوچتے سوچتے تھکاوٹ کا شکار ہونے لگا  اور نیند اڑ سی گئی تو الماری میں سے کتاب نکال لی ۔
                                        سلطان زنگی کی بیوہ ۔۔۔

 تاریخ کا آٹھ سو سالہ پرانا کردار جس نے اپنے عظیم الشان  شوہر سلطان نور الدین زنگی کی المناک موت کے بعد اس کے مشن کا بیڑہ اٹھا لیا ۔باوجود اس کے کہ اس کے کمسن بچوں کو  صلیبیوں نے اپنا آلہ کار بناکر رنگ رلیوں میں ڈبو دیا تھا ۔اس نے ہمت نہ ہاری ۔مفاد پرست امرا ء ، امت کے غداروں ، صباح بن فدائین کے ایجنٹوں اور صلیبیوں کی سازشوں اور حملوں کے باوجود اصلاح و تربیت کے ذریعے وہ قوم کھڑی کی جس نے  صلاح الدین ایوبی کے ساتھ  مل کر بیت المقدس پر فتح کا جھنڈا لہرایا ۔
کتاب مکمل کر کے میں  نے سرہانے رکھی اور خیالوں میں اپنی قوم سے مخاطب ہوئی:

 " ۔۔حیا اور تہذیب کے لیے چیلنج ہر دور میں یکساں رہا ہے ۔۔اس سے نبٹنا ہی ہماری  نجات کا باعث بنے گا ۔۔میرے نوجوانوں تمہیں ہی مشعل راہ بننا ہے۔ ہر دور صلاح الدین کا منتظر رہتا ہے ۔۔تمام آزمائشوں کے باوجود ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے ان شاء اللہ ! ۔۔۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 فر حت طاہر



ہفتہ، 17 اگست، 2019


 لا حاصل آرزو ۔۔۔۔۔!

آپ کو پتہ ہے ..مس رخسانہ ہمیں بد دعائیں دیتی ہیں ..! " 
اچھا ! کیا کہتی ہیں ...؟"
"... اگر  محنت نہیں کرو گے تو تم سب فیل ہوجاؤ گے ...!"
------------
"ہماری امی دھمکیاں دیتی ہیں . ...
ہیں ؟ کیا کہتی ہیں  ؟
.وہ کہتی ہیں اگر تم لنچ باکس خالی کر کے نہ لائے تو گهر میں نہیں گھسنے دوں گی ... ""شرارت کروگے تو گھر سے نکال دوں گی "
-----------؛
یہ پڑھتے ہوئے  یقینا آپ کے چہرے پر  مسکرا ہٹ  دوڑ گئی ہوگی
اس طرح کے ڈھیروں مکالمے ہمیں سننے کو ملتے ہیں ..معصومیت میں کہے ان بڑے بڑے الفاظ "بد دعا" اور " دھمکی " کے منفی تاثر کے باوجود کوئی ڈھونڈنے سے بھی اس میں  نفرت ، لاپرواہی یا بغض کا عنصر نہیں پاتا ..  
یہ انداز گفتگو ہمیں قرآنی تعلیمات سے بھی ملتا ہے ...ڈرانے والا ، حقیقت کا آئینہ دکھانے والا رویہ ! یعنی تنبیہ  کرنے والا !  انبیاء کا کردار ہمیں یہ ہی بتا تا ہے کہ وہ خوشخبری کے ساتھ ساتھ ڈراوا بھی دیتے ہیں ۔ جس میں منفیت نہیں بلکہ اپنائیت ہوتی ہے !           جو اقوام اور افراد محض اپنی خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں ،  بے نام آرزوؤں کے بھروسے درست عمل سے بے نیاز رہتے ہیں ۔کسی کی اصلاح پر اس کے دشمن ہوجاتے ہیں  ان کے بارے میں قرآن بھی مایوسی کا اظہار کرتا ہے ! wishful Thinking   کا لفظ اس کی بہتر تر جمانی کر سکتا ہے ۔ گوگل کریں یا لغت  کا سہارا لیں !معنی  مایوس کن ہی نظر آئیں  گے !
معزز قارئین ! یہ تمہید ہم  نے  اس بلاگ کے لیے  باندھی ہے جو اس وقت لکھا جارہا ہے !
اگر آپ پی ٹی آئی کی حکومت پر کسی بھی قسم کی تنقید کریں تو جواب میں طنز سننے کو ملے گا کہ آپ پٹوارن ہیں ! اس ٹولے کو بر سر اقتدار دیکھنا چاہتے ہیں ۔۔۔وغیرہ وغیرہ
اس بلاگ کا اتنا حصہ انتخابات کے فوری بعد لکھا گیا تھا ۔۔مصروفیات کے باعث مکمل نہ ہوسکا اور پھر ہم نے بھی اسے یوں ہی چھوڑ دیا کہ اب جبکہ یہ بر سر اقتدار آگئے ہیں   تو ان کا حق ہے کہ انہیں موقع ملنا چاہیے! مگر جیسا کہ محاورہ ہے " پو ت کے پاؤ ں پالنےمیں نظر آتے ہیں " تو کابینہ  کی تشکیل سے ہی آگے کے حالات نظر آرہے تھے ۔ نوجوان نسل کے لیے تو ہر چیز نئی تھی سوان کی دلچسپی  بجا تھی اور ہے !تبدیلی کی لپک جھپک   سمجھ میں آرہی تھی مگر وہ نسل جو پچھلے30سال سے  یہ وعدے وعید اور سبز باغ دیکھ رہی ہو اس کی آنکھوں پر پٹی بندھنا بہت حیرت انگیز تھا ۔
آئیے یادوں کی چلمن ہٹاتے ہیں !


 ہماری نسل نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو بھٹو کی حکومت تھی۔ ہر طرف اسلامی سربراہی کانفرنس  کے ترانے گونج رہے تھے۔ ملک دو لخت ہوچکا تھا مگر قوم کو روٹی ، کپڑا اور مکان کے خوشنما نعروں سے بھلانے پر مجبور کردیا گیا تھا۔ادھر تم ادھر ہم  کے تحت بر سر اقتدار آنے والے  کو بالآ خر انتخابی شیڈول کا اعلان کر نا پڑا۔بلاشبہ بھٹؤ نے 73 ء کا آئین اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے میں اہم کردار ادا کیا  مگر قوم ان  کے کارناموں کے باعث کچھ زیادہ خوش نہیں تھی لہذا اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے 9 پارٹیوں کا اتحاد ان کے خلاف تشکیل پاکرسر گرم تھا ۔7/ مارچ 1977ء  قومی اسمبلی کے نتائج سامنے آتے ہی پوری قوم احتجاجا سڑک پر آگئی اور یوں صوبائی انتخابات  کی نوبت ہی نہ آسکی ! احتجاج نے طول پکڑاکہ اسکول امتحانات منعقد ہی نہ ہوسکے  اور چھوٹے بچوں کو بغیر امتحان اگلی کلاسز میں بھیج دیا گیا ۔ ۔ مذاکرات کے دور چلے جو ناکامی پر منتج ہوئے  اور بالآ خر مارشل لاء لگا دیا گیا ۔انہی دنوں مشرقی پاکستان جو اب   بنگلہ دیش  تھا ۔وہاں مجیب  الرحمان  کو قتل کرکے حکومت  تختہ الٹ دیا گیا تھا ۔ مارشل لاء ، جمہوریت کا قتل اور تختہ الٹنے جیسی اصطلاحات بچوں کے لیے نئی تھیں اور وہ اس کو اپنے ذہن کے مطابق  سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔
اب فوجی حکومت اسلامی نظام کے خوش نما نعروں اور اعلان کے ساتھ اقتدار میں تھی ۔ اس  سلسلے میں کچھ کاسمیٹک اقدامات ہوئے بھی مگر زیادہ تر وعدے ہی رہے جو 11سال تک  وفا نہ ہوئے۔اور اس دوران  باشعور ہونے والی نسل کے ہیرو ضیا ء الحق ہی ٹھہرے ! ضیا ء الحق فضائی حادثے میں ختم ہونے سے پہلے انتخابات  کی تاریخ طے کر چکےتھے جو حسب پروگرام منعقد ہوئے ۔یہاں فوجی حکومت سے اندازوں اور تخمینے کی غلطی ہوئی اور بے نظیر زچگی سے فارغ ہوکر انتخابی مہم کے لیے دستیاب تھیں !  پی پی پی کی کامیابی اور بے نظیر کی اقتدار میں آنے کی خبر پہلے سے ہی گرم تھی اور پھر 02 دسمبر88ء  کی دوپہر جب بی بی نے امت مسلمہ کی پہلی کم عمر خاتون کی حیثیت سے حلف اٹھا یا تو خدشات اور شکوک کی ایک  لہر قوم کی اکثر یت کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی ۔گھر کے بزرگ جو ان کے والد ذو الفقار بھٹو کی سرگر میوں کو بھگت چکے تھے نئی نسل کے دل ودماغ کو پہلے ہی اس سے  آگاہی دے چکے تھے  اور  30 سال پہلے کی نسل میں جو عقائد ونظریات گھر کے بزرگ کے ہوتے تھے گھر کے دیگر افراد اسی  کو من و عن مانتے تھے ( میرا ووٹ میری مرضی جیسے نعرے اکیسویں صدی میں مقبول ہوئے  ) چنانچہ معمولی سی برتری کے ساتھ( الطاف بے نظیر بہن بھائی کے نعروں کے بل بوتے پر) بے نظیر وزیر اعظم منتخب ہوگئیں اور مسٹر ٹین پرسنٹ کے ٹائٹل کے ساتھ ان کے شوہر نامدار بھی کوچہ سیاست میں داخل ہوئے۔نااہلی کہہ لیں یا بد دیانتی یا پھر 11 سال تک  آمریت کو  بھگتنے کے بعد اچانک  جمہوریت کی وجہ سے ہیجان کا  شکار قوم شدید اختلافات اور تضادات  میں گھر گئی  ۔
 چنانچہ محض 20  ماہ بعد اسمبلیاں تحلیل کر دی گئیں اور اب قرعہ فال نواز شریف کے نام لکھا ۔ان کے وعدے بھی دلفریب تھے ۔نوجوانوں  کو پیلی ٹیکسی کی چابی حوالے  کر کے  ایر پورٹ پر گرین  چینل  کھول دیے گئے ۔ ملک میں سرمایہ  تو نہ آیا ہاں ہر طرف امپورٹیڈ چیزوں کی بھرمار ہوگئی ۔۔عوام کو بھی جیسے ہریالی سی نظر آنے لگی ۔93 ء میں پھر اسمبلیاں توڑ دی گئیں اور نئے انتخابات ہوئے ۔اب پھر بے نظیر کی باری آگئی ۔
 نئے وعدے   کچھ اور سبز باغوں کے ساتھ دہرائے گئے   اور بے نظیر ایک دفعہ پھر وزیر اعظم ہاؤس میں براجمان ہوئیں ۔اب کچھ نئی غلطیاں کہہ لیں یااختلافات  کا شاخسانہ !ایک بار پھر عبوری وزیر اعظم کے بعد انتخابات  کا ڈول  ڈال دیا گیا ۔ اور پھر نواز شریف ۔۔۔۔ اب عوام بہت بے زار سی تھی چنانچہ رمضان المبارک میں  انتخابات ہوئے  اور ٹرن آؤٹ بہت کم رہا مگر جمہوری عمل جاری رہا ۔۔ نواز شریف  چولا بدلے نظر آئے ۔۔آتے ہی جمعہ کی چھٹی کا اعلان کر کے اپنے پچھلے اسلامی تاثر کو ہر ممکن طور زائل کرنے کے کوشش میں لگ گئے ! اچکن سے سوٹ بوٹ پر آگئے ! ان کا واحد کارنامہ ایٹمی دھماکہ ہے جس کے بعد پوری قوم جذبے اور جوش سے بھری ہوئی تھی ۔بین الاقوامی  پابندیوں کے خدشے کے پیش نظر نواز شریف نے سادگی اور  بچت کا ڈول ڈالاتھا  ! ہمیں یاد ہے کہ ااس ضمن میں  ہمارے گھر میں  گھی کا بگھار ختم یا  کم کر دیا تھا ! مخلص اور حب الوطن عوام کی آنکھ میں دھول جھونکی جارہی تھی
دوتہائی اکثریت کے باوجود جمہوریت ایک بار  پھر تنازعات کا شکار تھی اور پھر 12 / اکتوبر قوم نے ایک اور مارشل لاء  کا نظارہ دیکھا بقول منیر نیازی :
              ایک اور دریا کا سامناتھا منیر !
اور یہ دریا خون کا دریا ثابت ہوا کہ نائین الیون کے بعد خطے میں سخت بد امنی  رہی  ۔9 سال تک بر سر اقتدار رہنے کے بعد 18 /اگست 2008 ء کی دوپہر پرویز مشرف رخصت ہوئے یہ کہہ کر کہ پاکستان کا خدا حافظ ! ان کے لہجے میں جتنا طنز ، زہر اور معنی خیزی تھی ہم سب لرز کر رہ گئے خصو صا ہماری والدہ جن کے بقول صدر ایوب کی الوداعی تقریر ریڈیو پر سن کر وہ بہت روئی تھیں ،اس وقت کے آنسوؤں اور آج کے آنسوؤں میں بڑا فرق تھا ! صدر ایوب کے کچھ نہ کچھ کارنامے تھے اور جو کچھ عیب تھا اس پر پردہ تھا جو بعد میں کھلا جبکہ یہاں تو سب کچھ اظہر من الشمس تھا ! تباہی اور بربادی اور مزید نا امیدی کہ بے نظیر کے قتل کے بعد فوری الیکشن میں پی پی پی کو(ہمدردی کا کہہ لیں یاپھر تمہاری باری ختم ، اب میری باری والا کھیل کے تحت ) اقتدار مل چکا تھا ۔ زرداری کوصدر منتخب کرنا  ایسا تھا جیسے بلے کودودھ کی رکھوالی ! اخلاقی کرپشن اور مالیاتی دیوالیہ صاف نظر آرہا تھا ۔اسٹیبلشمنٹ نے اب اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے حکومت کو پورے پانچ سال تک موقع دیا

اور پھر آتے ہیں 2013 ء کے انتخابات ! اب باری تھی نواز شریف کی ! اور وہ ایک بار پھر ایوان اقتدار میں شامل تھے ۔ان کے اقتدار سنبھالتے ہی پی ٹی آئی جو 15 / 16 سالوں میں بار آور ہوچکی تھی نے رولا ڈالے رکھا ۔۔۔بہر حال حکومت نے اپنی میعاد پوری کی اور  قوم ایک بار پھر  انتخابات میں شامل ہوگئی ۔
PTI   کی تخلیق سے بہت پہلے ہی عمران  خان مشہور و مقبول تھے ۔ہماری نسل کے لیے کر کٹ ہیرو ! آج بھی کوئی پرانی نوٹ بک ہاتھ لگے تو اس میں 5 کر کٹ اسٹار ز کی تصویر سرورق پر نظر آجاتی ہے ۔ اپنےتمام تر اسکینڈلز اور پلے  بوائے کے تاثر کے باوجود ان کے پوسٹرز  ہر گھر میں موجود ہوتے  ! کر کٹ کیریر کے بالکل اختتام پر ورلڈ کپ جیت کر سپر ہیرو بن چکے تھے ۔۔۔اپنے اسٹارڈم کے مزے اٹھانے کے بعد وہ  شوکت خانم ہسپتال کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم پر لگ گئے۔طالب علموں کی پوری قوم  ان کے ساتھ لگ گئی  ایک بدلے ہوئے انسان کے روپ میں نظر آئے ۔ ان کی تحریریں جو اخبار کی زینت بننے لگیں کلام اقبال کے مصرعوں کے عنوانا ت سے اخذ کی گئی ہوتیں ۔کافی  لوگ حیران تھے تو کچھ مشکوک کہ کسی اورسے یہ مضامین لکھوائے جاتے ہیں ؟ بہر حال ان کی یہ بدلی ہوئی شخصیت اب سنجیدہ مزاج افراد کے لیے بھی قابل قدر و منزلت  بن گئی۔ ان کے وزیر اعظم بننے کی افواہیں بھی  گر دش میں تھیں مگر ہر دفعہ ان کا انکار سامنے آتا رہا ۔  اسی تذبذب کے عالم میں  جمائمہ گولڈ اسمتھ سے ان کی شادی ایک بریکنگ نیوز کے طور ٹاک آف دی ٹاؤن بن چکی تھی ۔سوشل میڈیا نہ ہوتے ہوئے بھی  ہر فورم پر یہ خبر بحث کا عنوان بن گئی ۔ اور اس سے بھی بڑھ کر ان کا سیاسی جماعت کی تشکیل کا اعلان ( آنے والے وقت کی تخم ریزی ثابت ہوئی ) 1996 ء  میں ہوا  ! معروف شخصیت ہونے کے باوجود کوچہ سیاست میں انہیں صفر سے  آغاز کرنا تھا ۔


مشرف دور حکومت  میں عمران خان اپنی پارٹی کے واحد ممبر اسمبلی تھے ۔2011ء کے بعد ان کی پارٹی کا پھیلاؤ نظر آیا ۔اپنی کرشماتی شخصیت کا فائدہ اٹھا تے ہوئے نوجوان طبقے کی بہترین چوائس  بن گئے ۔ اس موقع پر ہم نے ایک بلاگ لکھا جس کا لنک کچھ یوں ہے (www.qalamkarwan.com)اور 2013 ء میں انتخابات سے چند دن پہلے کرین سے زخمی ہوگئے جس  کے باعث  ہمدردی کےگراف مزید بلند ہوگیا !وہ خود اپنا ووٹ تو کاسٹ  نہ کر سکے مگر دوسری جماعتوں کے ووٹ اکاؤنٹ میں شگاف ڈالنے میں کامیاب ہوگئے ۔وہ پھر بھی مطمئن نہ تھے اور 4حلقے کھلوانے پر اصرار جاری رہا ۔۔اس کشمکش میں  دھرنے کا اعلان ہوگیا ۔ کنٹینر پر بیٹھ کر جو لب و لہجہ  اور انداز اختیار کیا اس کو سن کر اور دیکھ کر اپنے بہت سے مداح کھوتے چلے گئے ۔(جن میں ہم بھی شامل ہیں )۔ اسی لپا ڈگی میں 2018ء کے انتخابات آگئے ۔ تبدیلی کی  جو رو چلی اس میں بڑے بڑے لوگ بہہ گئے  اور بالآ خر وہ شیروانی پہن کر حلف اٹھانے تک آپہنچے ۔۔
زبان اٹکنے پر اگر یہ اسٹیٹس لکھ دیا کہ ہمارا نظام تعلیم  بچے کو Hippopotamus کی ہجے اور تلفظ تو سکھا دیتی ہے مگر خاتم النبین پر اٹک جاتی ہے ! اس پر جو باتیں سننے کو ملیں طبیعت ہری ہوگئی  جسے فتح کے نشے کاسرور سمجھ کر ٹال  دیا مگر ہر گزرتے دن غلطیاں بڑھتی گئیں اور اس پر عذر گناہ بدتر از گناہ کی مانند بد زبانی پر مبنی دلائل کی بھرمار ایک شخصیت کاطلسم نگلتی چلی گئی ۔۔ہر فیصلہ ایک سے بڑھ کر ایک تباہی کی طرف جاتا نظر آیا ۔۔۔( ہر تنقید پر کم سے کم بری بات جو کہی گئی ۔۔" کون لوگ ہو تسی ۔۔۔"۔۔۔باقی جو لب و لہجہ رہا  وہ سب جانتے ہیں ۔۔ہمارا مدعا یقینا  آپ سمجھ رہے ہوں گے !!( حکومت پر تنقید ہر گز ہر گز ریاست دشمنی نہیں ہوتی  اور قوم اوپر اٹھتی ہے تو ہر فرد خوشی اور جوش سے لبریز ہوتا ہے مگر ۔۔!!)

آج   جب اس بلاگ کو مکمل  کیا جارہا ہے تو حکومت بنے 9 ماہ ہونے کو ہیں ۔یہ وہ مدت ہے جس میں کچھ نہ کچھ ظہور پذ(Deliver) ہوہی جاتا ہے۔(تفنن بر طرف!).. ہمیں تو اپنے انصافی احباب  کی آرزوؤں کے بت ٹوٹنے کا افسوس ہے ۔۔توقعات ختم ہونے اور مایوس ہونے پر دلی رنج ہے ! اگر حکومت کچھ مثبت سمت میں سفر  کرتی نظر آتی تو ہم اپنا یہ بلاگ ہر گز مکمل نہ کرتے بلکہ اپنی رائے سے رجوع کر لیتے ۔مگر کیا کریں قرآن کی زبان میں ایسی بےنام آرزوؤں کو کہیں گھن لگی کرسی تو کہیں بیت عنکبوت کہہ کر مثال دی گئی ہے !
افسوس تو ہمیں بھی ہے اپنے بچپن کے ہیرو کی ناکامی پر ! اپنے خدشات درست ہوتے دیکھنا کچھ کم تکلیف دہ نہیں ہے ۔۔یہ وہی دلسوزی ہے جسے نادانی کبھی " بد دعا" سمجھتی ہے تو کبھی " دھمکی " کا لبادہ پہنا دیتی ہے ! ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 فر حت طاہر
Although Blog is uploaded 4 months later , but still valid!!!