ہفتہ، 14 مئی، 2016

سفر شرط ہے !

       


 ”ہمارے امتحان ۲۱ / مارچ کو ختم ہوں گے....!  محمد یوسف نے فون پر اطلاع دی۔وہ اس سال تیسری جماعت کا امتحان دے رہے ہیں۔

  اور شروع کب سے ہیں؟  یہ نہیں معلوم! امی کو پتہ ہوگا! ہکا بکا نہ ہوں! ظاہر ہے امتحان کی تیاری ان سے زیادہ امی کا مسئلہ ہے!!  ۱ نہیں تو بس اس بات کی فکر کہ کب پڑھائی سے نجات ملے گی ....تو بس وہ تاریخ یاد رکھی!  اس دفعہ تو یوں بھی بے چینی سے انتظار ہے کہ شمالی علاقوں کی سیر کا پروگرام طے تھا۔ ریلوے بکنگ ہو چکی تھی اورچھٹیاں منظور! درمیان میں امتحان کامرحلہ ہی تھا۔  بچوں کی توجہ منتشر ہونے سے بچانے کے لیے تفریح کا ذکر تک نہ ہو پاتا۔ بس وقفہ میں ایک دن جاکر جوتے، بیگز اور ضروری شاپنگ مکمل کر لی گئی۔ اورا متحان کے اگلے دن ہی ہماری روانگی تھی۔
   آج صبح سے ہنگامی نوعیت تھی۔ تمام کام سمیٹے جارہے تھے۔سفر کے لیے تیاری عروج پرتھی۔ہر قسم کی تیا ری! زاد راہ سے لے کر گھر کی حفاظت اور مکمل صفائی تک! جب گھر کا بچہ بچہ تیاری میں جت جائے تو بڑے لطیفے سر زد ہوتے ہیں۔کچھ کام دوہرا جاتے ہیں اور کچھ سرے سے انجام ہی نہیں پاتے! اس کے علاوہ جہاں جارہے ہیں وہاں کے موسم کے حوالے سے مستقل خبریں آرہی ہیں کہ پچھلے چھتیس گھنٹوں سے مسلسل بارش ہورہی ہے!ظاہر ہے سفر کے خدشات میں موسم کی شدت کا عنصر بھی شامل ہے! ان تمام مرحلوں سے گزر کر وقت روانگی آپہنچا اور اسٹیشن جانے والی گاڑی آگئی۔ بیگز اور سوٹ کیسوں کی تعداد ہر فرد بار بار گننے میں لگ گیا جو ہر دفعہ مختلف آتی! وجہ؟کبھی کندھے کا بیگ گنا جاتا اور کبھی نہیں، ظاہر ہے فرق تو آنا تھا۔ خیر اس مرحلے سے بھی گزر کر ہماری گاڑی روانہ ہوئی۔ ٹریفک جام بڑی بے چینی کاسبب بنتا کہ کہیں ہماری ٹرین نہ چھوٹ جائے مگر ایسا نہ ہوا۔ ہم اسٹیشن وقت سے بہت پہلے پہنچ گئے۔ پلیٹ فارم پر تھوڑی دیر بیٹھے تھے کہ ٹرین آئی اس میں اطمینان سے بیٹھے تب کہیں جا کر چلنے کی نوبت آئی۔ اور خوشی کی بات کہ ٹرین وقت پر روانہ ہوئی۔ الحمد للہ سفر کی ابتدا بہت اچھی ہوئی۔ دعا اور امید ہے کہ اختتام بھی بخیر ہو!


ٹرین کے چلتے ہی نماز عصر ادا کی۔قصر پڑھنے کا موقع مل رہاہے لہذا اس سے فائدہ اٹھا نا ہے۔ٹرین شہری آبادی سے نکلی تو خوبصورت مناظردل و دماغ کو بشاشت دینے لگے۔اے سی کوپے کی وجہ سے صرف ایک طرف کا نظارہ ممکن ہوتا ہے چنانچہ کھڑکی کے پاس بیٹھنے کے لیے کشمکش رہی مگر تھوڑی ہی دیر میں اندھیرا چھانے کے باعث اس منظر میں کوئی کشش نہیں رہی لہذا سب دیگر مشاغل میں مصروف ہوگئے۔

 بچوں کے لیے اوپر چڑھنے اور اترنے کی سر گر می بھی وجہ ڈانٹ ڈپٹ بنتی رہی۔ اب بیچارے اتنی سی جگہ میں کیا کرتے؟ دنیا چھوٹی سی جگہ پر سمٹ آئی تھی تو زندگی کی حقیقت آشکارا ہورہی تھی کہ ہم نے خواہ مخواہ لوازمات زندگی اتنا بڑھا دیا ہے!  ویسے ضروریات زندگی تمام موجود تھی۔کھانا وافر، ماحول میں خوشگوار ٹھنڈک،آرام کے لیے بستر،پڑھنے کے لیے کتب، رابطوں کے لیے موبائیل.....اور تو اور یوسف نے پانی کی لٹر بوتل کو الٹا کر ہولڈر میں لٹکا یا ہواتھا جو ڈسپنسر کا کام دے رہا تھا۔ عشاء کے وقت کھانا کھا کر سونے کی تیاریوں میں لگ گئے۔ ڈائننگ کا ر سے بار بار مختلف چیزوں کی آفر آتی رہی مگر ماشاء اللہ ہم خود ہر چیز میں خود کفیل تھے۔


صبح آنکھ کھلی توہماری ٹرین پنجاب میں داخل ہوچکی تھی۔ سر سبز کھیت اور باغات اللہ کی حمد و ثناء پر اکسا رہے تھے۔ آموں اور دیگر پھلوں سے لدے باغات دعوت اشتہا دے رہے تھے اگرچہ اس منظر میں خوشبو اور آوازوں کی کمی بوجہ ونڈو گلاسزموجود نہ تھی۔ٹرین اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی بڑے اسٹیشن پر زیادہ دیر کے لیے رکتی جبکہ چھوٹے چھوٹے آکر گزتے رہے۔

ملتان کے اسٹیشن پر نیشنل بک فاؤنڈیشن کے اسٹال سے پاکستان ریلوے کا شائع شدہ میگزین خریدا تو ایک نئی سر گرمی ہاتھ آگئی اسکا لفظ لفظ پڑھا گیا اور اس میں موجود ٹرینوں کے شیڈول اور اسٹیشنوں کے نام پر بحث کہ اب کون سا آ ئے گا!  یہاں اپنے قارئین کی دلچسپی کے لیے عرض کریں کہ پاکستان ریلوے اور نیشنل بک فاؤ نڈیشن کے باہم اشتراک سے تمام بڑے اسٹیشنز کے پلیٹ فار م پر کتابوں کا سٹالز بنائے گئے ہیں اس کے علاوہ کتب بینی کے فروغ کے لیے کافی کام ہو رہاہے جو قابل ستائش ہے!
لاہور سے پہلے رائے ونڈ پر ہمارے تمام ہمراہی جو کراچی سے ہمارے ساتھ سفر پر روانہ ہوئے تھے اپنی منزل پر پہنچ کر جدا ہوئے۔ جی ہاں! تبلیغی گروپ جو اتنی بڑی تعداد میں تھے کہ بقول یوسف ٹرین اب اتنی چھوٹی ہوگئی ہے (ڈبے جو کم کر دیے گئے ہیں)۔ لاہور اسٹیشن پر کافی ہلچل  رہی۔ٹرین چھوٹنے کا خوف اب کچھ کم ہو گیا ہے لہذا محمد یوسف نے پلیٹ فارم پر سیر بھی کر لی۔





اب لاہور سے پنڈی کی طرف سفر شروع ہوگیا ہے۔اور شہری علاقے سے گزر کر صنعتی علاقے نظروں کے سامنے تھے۔گوجرانوالہ سے گجرات کی طرف جاتے ہوئے نہ صرف موسم تبدیل ہوگیا بلکہ کچھ اندھیرا بھی چھانے لگا۔لالہ موسٰی اور کھاریاں کے بعد تو سردی کے بڑھنے کے احساس پر سب نے اوپر کی طرف رکھے گرم کپڑے نکال لیے۔ کراچی والوں کے لیے تو خاصی تبدیلی تھی! یوں تو سارے پنجاب میں بارش کے آثار نظر آئے مگر اب باقاعدہ گرج چمک کے ساتھ شیشوں پر بارش کے اثرات نمایاں ہورہے تھے۔ ساتھ ہی ٹرین کی رفتار بھی سست ہوچلی تھی۔یوں تو باہر اندھیرا تھا مگر ہچکولے کھانے سے اندازہ ہورہا تھا کہ ہم پوٹھو ہاری علاقے سے گزر رہے ہیں۔ کئی دفعہ سرنگوں سے گزرے جس کا احساس ٹرین کی آواز بدلنے سے ہوا۔ مغرب کی نماز جمع بین الصلاتین کے تحت  راولپنڈی پہنچ کرعشاء کے ساتھ ملا کر پڑھنے کا سوچا۔ہمیں ٹرین میں مقید ہوئے چوبیس گھنٹے سے زیادہ گزر چکے تھے اوربے چینی سے منزل پر پہنچنے کے متمنی تھے۔ دوسری طرف جہاں پہنچنا تھا وہاں سے بھی کب؟ کہاں؟کتنا؟  استفسار شروع ہوگیا تھا  یعنی سراپا انتظار!دوسرے موسم پر ذرا تشویش کا اظہار! جہلم کے بعد چکلالہ کا بورڈ نظر آیا تو ہم نے سامان سمیٹنا شروع کر دیا۔ 1548کلو میٹر کا فاصلہ تقریباً ستائیس گھنٹے  میں طے کر کے آٹھ بجے ہم پنڈی پہنچ گئے۔ گاڑی کاانتظا م پہلے ہی ہو چکا تھا!  یہ سب موبائیل فون کی کرامت ہے کہ ہم راستے بھر اس کے ذریعے نہ صرف سب لوگوں سے رابطے میں رہے بلکہ ضروری کام بھی نبٹاتے رہے۔ ٹرین رکی تو سب بہت اطمینان سے اترے! آخری اسٹیشن جو تھا! جلدی کا کوئی ایشو نہ تھا۔



بھیگا بھیگا پنڈی اسٹیشن! بارش رک چکی تھی مگر ہر طرف اس کے اثرات نمایاں تھے۔ہرکام ایک مشینی انداز میں ہورہا تھا۔ اپنے اپنے ہینڈ بیگ سنبھال کر قلی کی سربراہی میں آہنی پل کراس کرکے عمارت سے باہر نکلے تو ہم خواتین خاصے پیچھے رہ گئیں تھیں۔ شاید اتنے گھنٹوں تک نہ چلنے کی وجہ سے رفتار کم ہوگئی تھی۔ آنکھیں پھاڑ کر دیکھا تو یوسف سامان کے ڈھیر کے پاس کھڑا نظر آیا۔ ڈرائیور نے گاڑی قریب لائی اور سامانکے ڈھیر کے پاس کھڑا نظر آیا۔ ڈرائیور نے گاڑی قریب لائی اور سامان رکھاپھر ہم سب بھی بیٹھ گئے۔ ہماری میزبان کے مطابق اسٹیشن سے ان کا گھر دس منٹ کے فاصلے پر ہے لیکن ظاہر ہے اگر آپ پہلی دفعہ کہیں جا رہے ہوں تو زیادہ وقت ہی لگتا ہے گھر تلاش کرنے میں اور جبکہ سامان بھی لوڈ کرنا ہو! بہر حال آدھے گھنٹے کے اندر ہم اپنے ٹھکانہ پر پہنچ گئے جہاں ہماری میزبان ان کے بچے اور ایک مہمان رشتہ دار دستر خوان سجائے ہمارے منتظر تھے۔فریش ہوکر کھانے پر بیٹھ گئے۔ حالانکہ ٹرین میں ہم کھا نا کھا چکے تھے بلکہ صاف کر چکے تھے اور ان سے کہہ بھی دیا تھا مگر ام اسماعیل (ہماری مہربان میزبان!) کے اصرار اور محبت کے آگے ہماری ایک نہ چلی۔دوسری بات کہ کھا نا اتنا مزیدار اور طریقے سے چنا گیا تھا کہ ہم ہاتھ نہ روک پائے۔(ظاہر ہے پچھلے چھتیس گھنٹوں بعد آداب طعام کے ساتھ کھا نا کھا یا گیا ورنہ تو سفر میں کس طرح کھا یا جا تا ہے ..حالانکہ اس کا الگ اپنا لطف ہے!) 
کھانے کے دوران دلچسپ گفتگو بھی رہی! ہم سب کو رہائش اور موسم کے لحاظ سے ضروری بریفنگ دی گئی۔ اس دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ دس بجے لائٹ چلی جائے گی ایک گھنٹے کے لیے! جی ہاں! لوڈ شیڈنگ یہاں بھی ہوتی ہے۔ہم سب باتوں میں ایسے منہمک تھے کہ بجلی آبھی گئی یعنی پورا گھنٹہ گزر گیا!دستر خوان پر بیٹھے بیٹھے!! باتیں! باتیں اور صرف باتیں! گزری باتیں اور آنے والے دنوں کے پروگرامز!!
پنڈی کیسا لگا؟ یوں تو جہاز سے اسلام آبادہمارا کئی دفعہ آنا ہوا مگر پنڈی کا اپنے ہوش میں پہلا سفر تھا۔ برسوں پہلے اپنے بچپن میں پنڈی کا سفر کیا تھا۔ اس کی کچھ ہلکی سی جھلک ذہن میں محفوظ ہے۔سب کچھ ویسا نہیں ہے مگرہر کمرے میں آتش دان ویسے ہی ہیں!یہاں کے موسم میں اس کی موجودگی ضروری ہے! بستر پر گرتے ہی نیند کی وادیوں میں کھوگئے۔



    صبح اٹھے تو اپنے اوپر ایک مزید کمبل پایا۔ہمارے میزبانوں کا خیا ل تھا کہ ہمیں یہاں کے موسم کو ہلکا نہ لیں! اس موقع پر مشتاق یوسفی کا تبصرہ یاد آتا ہے جس میں موسم کو لحافوں کی تعداد سے معلوم اور دریافت کیا جا سکتا ہے.. اتنی تھکاوٹ تھی کہ نئی جگہ ہونے کے باوجود گہری نیند سے الارم کی آواز سے ہی اٹھے۔چونکہ یہاں صبح تقریباً آدھ گھنٹے پہلے ہوتی ہے۔اپنے شہر میں جو وقت بستر سے کسمسا کر نکلنے میں خرچ ہوتا ہے یہاں ضائع کرنے کامطلب نماز فجر سے محرومی تھی لہذا فوری اٹھ بیٹحے۔ ہماری میز بان نے لاؤنج میں ایمر جنسی لائٹ جلا رکھی تھی۔معلوم ہوا کہ صبح پانچ سے چھ بجے بھی لائٹ جاتی ہے! نماز وغیرہ سے فارغ ہوکر سونے کا ارادہ کیا کہ ..ابھی بستر کی طرف بڑھے ہی تھے کہ گیٹ پر کسی کی آمد کی بیل بج اٹھی۔اور ہم سب کے کان لپیٹ کر پڑنے کے باوجود مسلسل بجتا رہا۔کوئی ڈھٹائی سی ڈھٹائی ہے!معلوم ہوا ہماری میزبا ن نے اپنے مہمانوں کی تواضع کے لیے اپنے جاننے والوں سے گدے اور کمبل ادھار مانگے تھے(یہ یہاں کا کلچر ہے مہمان کی آمد پر سب ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں)  لہذا ان کا ڈرائیور معذرت کے ساتھ کہ رات بارش تیز تھی نہ پہنچ سکا۔ اس نے جلدی جلدی اپنا بوجھ ہلکا کر کے گاڑی دوڑا دی اور ہم گھگھی باندھے اس ڈھیر کو دیکھ رہے تھے جو ایک پہاڑ کی شکل میں کمرے میں رکھا گیا۔ مگر یہ سب تو بہت زیادہ ہے! ہمارا احتجاج صدا بہ صحرا ثابت ہوا اور یہ سارا ڈھیر کمرے کے کنارے سج گیا۔ اہتمام تو کرنا ہی پڑتا ہے کہ نہ جانے کب ضرورت پڑ جائے!
جب سب اٹھے تو پر تکلف ناشتہ خوش گپیوں میں کھا یا گیا۔ اس دوران یادوں کی پٹاری کھلی اور کھلتی ہی چلی گئی۔ عزیزہ لبنیٰ کا فون آنے لگا! وہ منتظر بیٹھی تھیں ہماری میزبانی کے لیے! ان سے یہ ہی کہا کہ ہماری آمد کی خوشی میں یہاں بچوں تک نے چھٹی کی ہے لہذا ہم آج کادن یہیں آ رام کرکے کل سے تفریح کریں گے ان شاء اللہ!  آج کی چمکدار، خوبصورت دھوپ دیکھ کر یقین نہیں آرہا کہ یہ وہی جگہ ہے!  ()()

اتوار، 1 مئی، 2016

میرے ابو ۔۔۔۔۔۔۔!


                     

                                                                 ابویہ ہی ٹھیک ہیں!!

ابو کا نام ذہن میں آتے ہی چشمہ لگائے،گرے بالوں کے نیچے ماتھے پر ڈھیروں شکنیں لیے ہر بات ہر اعتراض کرنے والے مرنجان مرنج شخص کا حلیہ نظر میں گھومتا ہے۔مگر یہ اس وقت کی بات ہے جب انہیں ابو بنے عر صہ گزر گیا ہو ورنہ تو ایک اچھا خاصہ صحت مند، خوش باش نوجوان ہی ہوتا ہے جب اسے اولاد کی خوش خبری ملتی ہے۔اس وقت قطعی اندازہ نہیں ہوتا کہ بچے کی عمر کا ہر دن اس کے زوال کی طرف جائے گا! ایک بچے نے اپنے باپ سے ان کے سفیدہوتے بالوں کی وجہ پوچھی تو باپ نے بتایا کہ بچے کی ہر شرارت باپ کا ایک بال سفید کر دیتی ہے تو بچے نے تائید میں سر ہلاتے ہوئے کہا جبھی دادا کا سارا سر سفید ہو گیا ہے ....... یقیناً باپ بچے کو گھور کر رہ گیا ہوگا! بات تو سچ ہے
 مگر ہے رسوائی کی!
  شرارتوں کے ضمن میں ملا نصر الدین کا واقعہ تو سب نے پڑ ھا اور سنا ہی ہو گا جب انہوں نے اپنے بیٹے کو پیالہ توڑنے سے پہلے ہی پیٹ ڈالاتھا اور لوگوں کے استفسار پر فرمایا نقصان ہونے کے بعد پیٹنے کا بھی بھلا کوئی فائدہ ہے؟ ہمارے والد کی پٹائی مٹکا توڑنے کی کوشش پر ہوئی جواتنی زبر دست تھی کہ اس کی گونج بذریعہ دادی جان براستہ امی جان ہم سب تک پہنچی اور ہم اپنے باپ کی مظلومیت پر آہ بھر کر رہ گئے محض ایک معمولی گھڑے کی وجہ سے ہمارے باپ پر تشددہوا (اب یہ اور بات کہ اس وقت وہ معمولی چیز زندگی جتنی قیمتی تھی!) لیکن جیسا کہ یہ خاندانی ظلم نسل در نسل چلتا ہے ہمارے ابا نے اپنا بدلہ اپنے بیٹوں کی پٹائی کر کے لیا۔ جس میں سے دو واقعات کا ذکر کرنا چاہیں گے۔
ہمارے بھائی جمعہ کی نماز کا بہانہ کر کے پکنک پر چلے گئے! یہ کوئی باقاعدہ پکنک نہ تھی بلکہ گھر سے کچھ فاصلے پر  ۴۸  انچ قطر کی پائپ لائن ڈالی جارہی تھی وہاں پانی کا بڑا سا ذخیرہ بچوں کے لیے تفریح گاہ بن گیا تھا۔لہذا منجھلے بھائی وہاں تفریح کر کے واپس آئے تو ابا نے ان سے جمعے کے خطبے اور امام کی پڑھنے والی سورتوں کا احوال پوچھ لیا! آئیں بائیں شائیں پر خوب تواضع ہوئی مگر جب رات کو کان میں درد ہوا، پانی میں تیرنے اور شاید تھپڑ کی وجہ سے تو رات کو ان کے پاس ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا فریضہ ابا کا ہی تھا۔ دوسرا واقعہ چھوٹے بھائی کا ہے جو ابا کے ساتھ ہی سوتے تھے۔یہ ہی کوئی پانچ، چھہ سال عمر ہوگی تو انہوں نے ابا کی میز سے ایک نوٹ اٹھا کر اپنے نائٹ سوٹ کے پاجا مے میں اڑس لیا۔ اس زمانے میں ایک روپے کی بھی بڑی اہمیت تھی۔ نہ جانے کیا کیا خریدنے کا منصوبہ بنا کر ننھے بھائی سوئے ہوں گے مگر صبح بھول بھال یونیفارم پہن کر اسکول روانہ ہوئے تو امی نے وہ روپیہ نکالا اور ابا نے اپنا کیش چیک کیا توچوری کا انکشاف ہوا۔ اب بھائی سے تفتیش ہوئی تو مکرنے لگے (بڑے بھائی بہنوں کی موجودگی میں چھوٹے بچے وقت سے پہلے بہانہ بازی سیکھ لیتے ہیں!)اس پر اچھی خاصی کھچائی ہوئی۔ایسے بہت سے واقعات ہیں جن کا ذکر کر کے ہم آپ کے زخم ہرے نہیں کرنا چاہتے! شر مندہ نہ ہوں ہم کچھ نہیں جانتے آپ پر کیا گزری آپ کے ابو کے ہاتھوں!کیا کہا؟تربیت کے ضمن میں ہوئی تھی! ہاہا ہا! دل کے بہلانے کو غالب خیال اچھا ہے!
  بات ہمارے ابا سے شروع ہوئی تھی جو بچپن سے ہی شریر واقع ہوئے تھے۔ شرارتی بچے بے مقصد کام بے حد توجہ سے سر انجام دیتے ہیں جبکہ ہر مفید اور بامقصد کام کو ضرور بگاڑ بیٹھتے ہیں۔ کچھ ایسے ہی کہانی ہمارے ابا کی بھی تھی! ایک اچھی بات جو اس وقت ہوئی تھی جب ہمارے دادا نے اپنے دونوں بیٹوں کو پرائمری جماعتیں پڑھنے کے بعد پڑھائی ختم کرنے کا عندیہ دیا کہ مزید تعلیم دلوانا ان کے بجٹ سے باہر ہے۔ دونوں بیٹوں نے سر جھکالیا مگر چھوٹے نے(جو بعد میں ہمارے والد بنے)دل ہی دل میں ایک منصوبہ بناڈالا (اگر ہمیں اندازہ ہوتا کہ ہمیں یہ سب لکھنا ہوگا تو ہم بہت توجہ سے اس کی جزئیات معلوم کر کے رہتے اور اب تو اس واقعے کا ہر عینی شاہد بلکہ راوی تک اس دنیا سے گزر چکا ہے لہذاا پنی معلوماتی ذخیرے کے بل پر ہمیں اپنی بات مکمل کرنی پڑے گی
 جو کچھ یوں ہے کہ ابا جان گھر سے فرار ہوکر قریبی قصبے کے اسکول پہنچے اور اپنا داخلہ کروایا۔اس وقت ان کی عمر بارہ سال ہوگی۔اگر ان سے کہہ دیا جاتا کہ تم یہ نہیں کرسکتے تو شاید وہ اعلٰی تعلیم کا خواب لیے دنیا سے چلے جاتے!یہ تو ایک شرارتی بچے کی بے خوفی اور دیدہ دلیری تھی کہ وہ یہ کر گزرے! اب ذرا والدین کے لحاظ سے سوچیں! کیا گزری ہوگی اپنے چھوٹے بیٹے کی جدائی پر دادا اور دادی پر! رات کے آخری پہر وہ داخلے کی خوشخبری لے کر پلٹے ہوں گے تو دادا بھی حضرت یعقوب کی طرح شاد ہوئے ہوں گے! اب آگے سنیے! ابا کے اباداخلے کی خبر پاکر پھر تفکر کا شکار ہوئے کہ پڑھائی کے اخراجات کہاں سے پورے ہوں گے؟ اس فکر کو وظیفہ (اسکالر شپ) کی اطلاع سے دور کیا! والدین مطمئن کہ اب دونوں بھائی اپنی تعلیم مکمل کر سکیں گے مگر ابھی رہائش کا مسئلہ تھا جسے اپنے رشتہ دار کے گھر فرش پر سوکر حل کیا۔ وہ بھی مخمصے کا شکار کہ بہت ہی ڈھیٹ بچے ہیں!
 وہاں کی پڑھائی سے فارغ ہوئے تو قیام پاکستان کا مرحلہ تھا۔ ہمارے ابا نے پھر جولانیت   کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے استاذ کے ہمراہ پاکستان کی راہ لی۔ اس وقت ان کی عمر پندرہ سال تھی۔پھر وہی والدین کی پریشانی کا دور! تفصیل کی گنجائش نہیں بس ذرا تصور کر لیں!یہاں سیٹ ہوکر انہوں نے اپنے والدین اور بہن بھائی کو بلوالیا۔ یوں ایک سفر نئے انداز سے شروع ہوا۔بقول اباجان 
” ...پاکستان ہمارے لیے کسی نعمت سے کم نہیں! ......“ تعلیم کے ساتھ ساتھ ملازمت بھی کرتے رہے۔ اس دوران شادی کا مر حلہ ہوا اور پھر ان کو ابا بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔
 ایک بچے سے اس کے ابو کی عمرپوچھی گئی تو جواب ملا  ”جی میرے برابر ہے! کیسے؟    بھئی جب میں پیدا ہوا تو ہی تو ابو بنے نا....! “کتنا معنی خیز فلسفہ تھا اس بچے کا! اسی طرح کی بات ہماری بہن صاحبہ بھی اپنے بچپن میں کرتی تھیں کی تھی یعنی جہاں کہیں باپ اور بیٹا ایک شکل کے نظر آئے فوراً تبصرہ جھاڑ ڈالا کہ ابو تو بالکل اپنے بیٹے پر گئے ہیں!
 اپنے بچپن میں ہم نے ایک دفعہ سوال کیا(جب اپنی امی کے منہ سے ان کے ابا کا ذکر سن سن کر ہم بہت متا ئثر تھے)
   ”....امی! آپ کو کب پتہ چلا کہ یہ(ہمارے نانا) آپ کے ابو بنیں گے؟؟“   اس احمقانہ سوال کی تفہیم کو جانیں دیں اس کے پس منظر کو سمجھیں .....جی ہاں! ہمارے ننھے ذہن میں یہ سوچ آئی ہوگی کہ شاید والدین منتخب کرنے کا اختیا ر بچوں کو حاصل ہوتا ہے یا ہونا چا ہیے! کم از کم ابو تو اپنی پسند کا لینے کی آزادی ہو! اوراس سوچ کے پیچھے بھی یقیناً اسُ وقت کے حالات و واقعات ہوں گے جہاں نانا ابا کے ساتھ ٹافیاں، سیر سپاٹے، تفریح، شوخی، حتٰی کے برابری اور کسی حد تک بد تمیزی بھی جائز تھی جبکہ اس فہرست میں سے بہت سی باتیں اپنے ذاتی ابا کے ساتھ بھی منسوب تھیں مگر تربیت کے نام پر 

ایک خوف کا تاثراس زمانے کی ہر ماں کی طرح  ہماری والدہ محترمہ بھی ہمارے اوپر ڈالتی رہتی تھیں:

”..آنے دو ابا کو .....“                 ”.....ابا کو بتاؤں گی......!“         ”بہت بگڑیں گے تمہارے ابا ...“
اب ظاہر ہے اس قسم کے جملے سن سن کر ہم ابا کو جلاد نہ سمجھتے تو کیا کرتے! مگر جناب صرف یہ جملے ہی تو نہیں تھےبلکہ عملی اقدامات بھی تھے
  الماریوں پر چھا پہ مارنا کہ چیزیں تر تیب سے ہوں، نمازوں کی جانچ پڑتال، دانتوں اور ناخنوں کی صفائی سے لے کر موزوں اور بنیانوں تک کی چیکنگ ......ان کا قول تھا کہ چیزیں ایسے رکھو کہ اندھیرے میں بھی مل جائے! (اب بتائیں بھلا ہم وہ لوگ جو تیز روشنی میں سامنے کی چیز نہ ڈھونڈ پائیں بلکہ ہر ہر منٹ پر امی کی پکار لگے اور بیچاری کام دھام چھوڑ کر مطلوبہ چیز دستیاب کریں!)ہم اپنے آپ کو مظلوم سمجھنے پر بجا طور پر درست تھے نا!
 اور ہم سب کے بڑے ہونے سے اعتراضات کی نوعیت بھی بدل رہی تھی اور ساتھ ساتھ ان کے اقدامات اور ہمارے رد عمل بھی!  مثلاً ایک خاص وقت کے بعد پنکھا بند ہو جا نا، باہر سے آتے ہی ٹی وی کا درجہ حرارت چیک کرنا کہ ان کی آمد سے ہی بند ہوا ہے شاید ...پھر جس دن بل موصول ہوتے اس دن ٹیلی فون کے گرد کوئی پھٹک نہ پاتا۔ حالانکہ ہمارا بل حکومت کے ذمے تھا اور وہ کبھی مقررہ رقم سے تجاوز نہ کرپاتا تھامگر ابا کی تھیوری یہ تھی کہ عادتیں قابو میں رہیں! ایک بات ضرور بتانا چاہیں گے۔ایک وقت آیا کہ سب سے چھوٹا بھائی ہی ان کی دسترس میں باقی رہ گیا۔اس کی ٹیلی فون ڈائری میں درج نمبروں کی تعداد ان کے غصے کا باعث بنتی کہ اتنے لوگ کہاں سے اس کے رابطے میں آ گئے؟ کس کس سے ملتا ہے؟ اور ہم اپنی ہنسی روک نہ پاتے! عرض کرتے یہ سارے دوست نہیں ہیں! کسی سے ٹیوشن لینا ہے،کسی کو دینا ہے، کسی سے قرض لیا ہوا ہے کوئی خود قرض دار ہے وغیرہ وغیرہ.....حتیٰ کہ کسی سے راستے میں ملاقات ہوئی ہو تو نمبروں کا تبادلہ ہوا ہو،اب اس کو ہر وقت تو فون نہیں کرتا ہو گا نا .....! بس اتنے ہی سادہ مزاج تھے ہمارے ابا!
ان کی ایک خاص بات حد سے زیادہ پیدل چلنے کی عادت تھی۔ ان کے دوست مذاق میں کہا کرتے تھے کہ آپ نے تو کیمپس کی سڑکیں چل چل کر گھسا دی ہیں۔ ایک وقت آیا کہ ان کی رفتار کم ہوگئی اور ہم سب خوفزدہ رہتے تھے کہ کہیں ان کو کوئی گاڑی ٹکر نہ مار دے مگر اس کی نوبت نہ آئی بلکہ اس سے بہت پہلے ہی وہ گھر اور بالآ خر بستر تک محدود ہو گئے۔ اب ہمارے اور ان کے درمیان فاصلے ختم ہوچکے تھے(ویسے امی کی ڈالی ہوئی ہیبت تو ہمارے شعور میں آتے ہی ہوا ہو چکی تھی جب ہم ابا اور بچے ڈائریکٹ ڈائلنگ نظام کے تحت آ چکے تھے!) اور اب موقع تھا کہ ہم ان کی داستان زندگی ان کی زبانی سنتے مگر بہت جلد ان کی زبان بھی بند ہوگئی اور پھر بچوں کی سی معصومیت لیے وہ ہمیں چھوڑ گئے۔
   ایک ویڈیو آپ نے ضرور دیکھی ہوگی جس میں بچے اپنی ماں کی شکایت کرتے ہیں اور اپنے کسی دوست کی ماں کو آئیڈیل مانتے ہیں کہ ہمیں ویسی امی اچھی لگتی ہیں تو ان سے کہا جاتا ہے کہ ٹھیک ہے آج سے آپ اپنی ماں تبدیل کرلیں تو ہر ایک نہیں ...نہیں ...نہیں کی گردان کرتا ہے! اور وہ بچہ جو سب سے زیادہ ماں کا شاکی ہوتا ہے آنکھوں میں آنسو لیے رندھی ہوئی آواز میں کہتا ہے  امی تبدیل نہیں ہوسکتیں!!
.....تو بس یہ ہے حقیقت!! ابو بھی اپنے ہی اچھے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔!    
  
  1. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔               فر حت طاہر



جگنو کو دن میں پر کھیں ۔۔۔۔۔۔!




                                     جگنوکو دن میں پر کھیں ........


  ایک بچہ ہانپتا کانپتا کتاب کی دکان پر پہنچا اور پھولی ہوئی سانس کے ساتھ بولا 
     ” انکل! ...مجھے وہ والی کتاب دے دیں جس کا نام ہے   بچے کی تربیت کیسے کریں؟  “   
کتب فروش نے بچے کو پیار سے دیکھتے ہوئے پوچھا  ”بیٹے! یہ کتاب ابو نے منگوائی ہے یا امی نے؟
بچے نے جھجکتے ہوئے کہا   ”.....کسی نے نہیں! میں خود دیکھنا چاہتا ہوں کہ میری دیکھ بھال صحیح ہو رہی ہے یا نہیں؟ . ..“ 
پیارے قارئین! ہوسکتا ہے آ پ اسے لطیفہ سمجھ کر نظر انداز کردیں تو عرض ہے کہ یہ مضمون آ پ کے لیے ہے ہی نہیں! آپ کے پاس فر صت  کہاں! آپ تو گلے تک ذمہ داریوں میں ڈوبے ہوئے ہیں سانس لینے کی مہلت محال ہے! ....تو بس پیارے بچو! یہ مضمون آپ ہی کے لیے ہے!
  جب آپ اس دنیا میں آتے ہیں تو آپ کا پر تپاک استقبال ہوتا ہے۔ ماں باپ سے لے کر ننھیال، ددھیال میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔اذان کے لڈواور عقیقے کے گوشت سے حسب استطاعت تواضع کرتے ہیں۔ آپ چیزوں پر غور و فکر شروع کرتے ہیں تو آپ کوایک چمکدار چیز نظر آتی ہے جس پر سب اپنی نظریں گاڑے رہتے ہیں آپ بھی اپنی آنکھیں اس رنگ برنگے ڈبے پر جمانا شروع کردیتے ہیں۔پہلے پہل کچھ سمجھ نہیں آتا اور پھر گھر والوں کی دلچسپی کے لحاظ سے آپ کوبھی کچھ سمجھ آ نے لگتی ہے توپھر مزہ آتا ہے۔گانے، اشتہارات، مزے مزے کی شکلیں ...! شروع میں آ پ ڈرتے ہیں مگر عادی ہوجاتے ہیں۔ آپ نے وہ تصویر دیکھی ہوگی جس میں سارا گھر بیٹھ کر ڈرامہ میں محو ہے! آپ جیسا بچہ ماں کی گود میں ہے اور فیڈر کا نپل اس بچے کے منہ کے بجائے ناک کے سوراخ میں ڈال رہی ہے! تصویر دیکھنے والے ماں کو ملامت کرتے ہیں جبکہ وہ اور تمام گھر والے کسی ممکنہ حادثے سے بے خبر ڈرامے کی ہیروئین کی بربادی پر رورہے ہوتے ہیں!
آپ کی امی یا ابو اچانک آپ سے باتیں شروع کرتے ہیں آپ خوش ہوتے ہیں مگر اس وقت آپ کو اپنی بے وقوفی کا اندازہ ہوتا ہے جب معلوم ہوتا ہے کہ وہ آپ سے نہیں بلکہ موبائیل پر باتیں کررہے ہیں۔ آپ کو تجسس ہوتا ہے مگر آپ کے رونے سے پہلے وہ آپ کو اس میں سے ٹیون سنوادیتے ہیں۔جس کو سنتے ہی آپ خوب ٹانگیں چلانے لگتے ہیں۔ ظاہر ہے لیٹے لیٹے اتنا ہی جھوما جا سکتا ہے۔
کچھ اور وقت گزرتا ہے اور آپ رینگنا شروع کردیتے ہیں۔ ہر وہ چیزجو آپ کے لیے خطرہ بن سکتی ہے آپ کی دسترس سے باہر کر دی جاتی ہے جس میں آگ، چھری، سوئی، سوئچ، دوائیں، اوزار، ہتھیار وغیرہ وغیرہ اور تو اور پانی سے بھری بالٹی بھی خطرہ بننے کے باعث آپ کی پہنچ سے دور! اتنی زیادتی پر آپ کا رونا پیٹنا بجا ہے! جس کو روکنے کے لیے آپ کے ہاتھوں میں کھلونے پکڑا دیے جاتے ہیں۔موسیقی جس کی آواز جب تک آتی رہتی ہے آپ خاموش رہتے ہیں اور جب سیل ختم ہوجاتے ہیں توپھر وہی ازلی رونے کے طریقے سے آپ سب کو متوجہ کرتے ہیں اور یوں والدین کا موبائیل دراصل آپ کا کھلونا ہوجاتا ہے۔ باقی کھلونوں سے تو آپ بہت جلد اکتا جاتے ہیں مگر اس سے کبھی بیزار نہیں ہوتے حتٰی کہ نیند بھوک  غالب آجائے! جب کبھی موبائیل یاٹیب آپ کی پہنچ میں نہ رہے تو آپ کا موڈ خراب ہونے لگتا ہے اور آپ اوندھی حر کتیں شروع کر دیتے ہیں تو ٹی وی کا بٹن آن کر کے آپ کو بٹھادیا جا تا ہے
آپ تھوڑا بڑے ہوتے ہیں اور چیزوں کو گرفت کرنا شروع کرتے ہیں تو سب سے پہلے ٹی وی ریمورٹ ہاتھ میں آتا ہے۔ جس دن آپ کو چینل بدلنا آجاتا ہے ماں باپ کی بانچھیں کھل جاتی ہیں کہ ہمارا بچہ ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کر رہا ہے! اور یہ پریکٹس ہمہ وقت جاری رہتی ہے ماسوائے لوڈ شیڈنگ کے اوقات کے!   باپ کو دن بھر دن معاش میں کھپنے کے طاقت بحال کرنے کے لیے ٹاک شوز دیکھنا ضروری ہے اور ما ں بے چاری کے کاموں کی فہرست تو بڑی طویل ہے!ماسیوں سے نبٹنا، سسرالی شکووں سے نبرد آزما ہونا، بچوں کو کھلانے پلانے سے لے کر .........اس بھاگ دوڑ میں اس کومارننگ شوز کے لیے وقت نکالناہی پڑتا ہے اور پھر رات کو بچوں کے ساتھ بیٹھ کر انڈین ڈرامے دیکھنے سے تازہ دم ! آخر اس سے آپ کو بہت سے حربے ...ٹوٹکے حاصل ہوتے ہیں۔ اور پھر اکثر ماؤ ں کے نقطہ نظر سے یہ ڈرامے بچوں کو خود بخود سکھا رہے ہیں! خواہ مخواہ سر کھپانے کی کیا ضرورت ہے!اور اگر جوائنٹ فیملی ہے تو سیکھنے کایہ سلسلہ کبھی آف نہیں ہوتا۔ دادا، دادی کے پاس
 فر صت ہی فر صت ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر ان کا احساس محرومی کہ ان کے بچپن میں اتنی زبردست چیز نہ تھی تو وہ بھر پور لطف اٹھاتے ہیں اس تفریح کا! کہیں کہیں صورت حال مختلف بھی ہوتی ہے  وہاں ایک تکرار یا بد مزگی کی صورت حال نظر آتی ہے بچوں کو ٹی وی کے حوالے کرنے پر! اور اس اختلاف رائے کا سو فی صد فائدہ آپ بچے ہی اٹھاتے ہیں! شور شراپے سے بچنے کے لیے آپ کو کارٹون نیٹ ورک پر لگا دیا جاتا ہے۔ پتہ بھی بھی نہیں چلتا بچوں کو بے بی ٹی وی کے بعد کارٹون نیٹ ورک سے گزر کر ڈرامے کا چسکہ لگ چکا ہے۔ اصل مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ انہی کرداروں کی زبان، اخلاق، تصورات اور لباس اختیار کرتے ہیں پھر آپ پر سختی شروع کردی جاتی ہے۔
   ایسے نہ بولو........یوں نہ بیٹھو.......وہاں نہیں جانا......نماز کیوں نہیں پڑھی؟ .......جھوٹ بول رہے ہو!.....وغیرہ وغیرہ اور یوں آپ معاشرے میں اجنبی،ناپسندیدہ بنتے چلے جاتے ہیں .....
.ایک بزرگ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس جتنے لوگ دعاؤں کے لیے آتے ہیں ان میں آدھے اولاد کی طلب میں اور باقی اولاد کے راہ راست پر آنے کی تمنا لیے ہوتے ہیں ....والدین کیا کریں؟ کہ شادی سے پہلے بچوں کی تربیت کے چار اصول تھے اور اب چار بچے ہیں مگر کوئی اصول نہیں! بس ایک معرکہ ہے جس سے ہمہ وقت نبٹنا ہے۔ ویسے تر بیت کا آغاز کس عمر سے کیا جائے؟ یہ تھا سوا ل جو ایک چار سالہ بچی کی ماں نے ماہر نفسیات سے فون پر پو چھا۔ اور چیخ پڑا      ”......محترمہ جلدی کریں! آپ تو پہلے ہی چار سال لیٹ ہوچکی ہیں! اس معاملے میں ایک بات کہی جاتی ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ سولہ سال کی عمر میں ایک محنتی،با اخلاق بچہ ہواس کے لیے چار سال میں بھی وہی فارمولا ہونا چاہیے یہ نہیں کہ اس وقت اس کی زبان سے گالیاں اچھی لگیں! اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ کی بیٹی سولہ سال کی عمر میں ساتر لباس میں ہو تو اسے چھ سال کی عمرمیں بھی ایسا ہی لباس زیب تن کروائیں .......
 یہاں صرف ماں کو مطعون کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کہ آپ بچوں کی تربیت میں پورا معاشرہ، ماحول بھی شریک ہے لیکن اگر کسی بچے کے ساتھ خدانخواستہ کچھ واقعہ ہوتو سب سے پہلے سوال ہوتا ہے کہ ماں کہاں تھی؟ ماں کیا کر رہی تھی؟......وغیرہ! اسے کٹہرے میں اس لیے کھڑا کیا جا تا ہے کہ ماں کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے کہ جنت یوں ہی تو نہیں مل جاتی!!!
 تو بچو! یہ مضمون یہاں پر ختم ہی سمجھیں کہ صفحہ تمام ہوا...لیکن آپ سمجھ گئے ہوں گے آپ کی تر بیت میں کیا اور کہاں درستگی کی گنجائش ہے؟ آپ خود ہی سدھر جائیں کہ والدین کے پاس توجہ کا وقت نہیں اور پیارے پیارے والدین جو آج آپ کی مادی ضروریات کے لیے آپ کی روحانی، اخلاقی،جذباتی اور معاشرتی ضروریات سے بیگانہ ہیں کل سر پکڑ کر رو رہے ہوں!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 فر حت طاہر  

منگل، 22 دسمبر، 2015

داستان سفر شوق 4






 ..................................................................................................................................................................

                                                                                                          مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ دیدہ!