بدھ، 12 اگست، 2020

یہ تو بائیں ہاتھ کا کھیل ہے !..''

 




''…..یہ تو بائیں ہاتھ کا کھیل ہے !..''

 

یہ محاورہ عموما کسی  بہت آسان یا سہل کام کے لیے بولا جاتا ہے ! شاید اس کا مطلب یہ ہو کہ بائیں ہاتھ سے کام کرنے والایعنی کھبا  فرد زندگی میں اتنی مشکلات اٹھاتا ہے کہ اس کے لیے کوئی بھی کام آسان ہو جاتا ہے ۔ اگر آپ اس تحریر کو کسی کھبے کی تکلیف بھری زندگی کا احوال سمجھ رہے توغلط ہوگا !

ہر انسان منفرد ہے لہذا  اس کی کمزوریاں بھی جدا جدا ہیں ۔مثلا ہمیں سمتوں ( directions) کے بارے میں ہمیشہ الجھن رہتی تھی ۔ دائیں یا بائیں ؟               (              اس میں کون سی انوکھی بات ہے ! دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی اس مسئلے سے دوچار ہے  خواہ یہ سفر عملی ہو یا عقلی ! ) لیکن ہمیں تو آپ بیتی ہی بتانی ہے !  

پرائمری ٹیچر مس فہمیدہ اپنائیت بھرے لہجے میں شکایت کرتیں

''۔۔۔۔کام  بہت اچھا کرتی ہے مگر ہدایات کو درست طریقے سے نہیں سنتی ۔۔سیدھا ہاتھ اٹھا نے کو کہو تو الٹا اٹھا لے گی ، بائیں طرف سے آنے کو کہوں تو سامنے سے آجائے گی ۔۔۔۔"   مسئلہ سماعت کا نہیں تھا بلکہ ہماری سمجھ کا تھا !   ان کے  شہد ٹپکاتے رویے  کے بعد سیکنڈری میں آئے تو  معاشرتی علوم کی ٹیچرزہر بھرے لہجے میں  اسے  ہمارے دماغ کا فتور قرار دیتیں اور اس کا حل بھی پیش کرتیں ۔۔کھیل کے ساتھی بھی ناراض رہتے خصو صا جن کھیلوں میں ہدایات کا مسئلہ ہوتا ۔۔۔! ارے آپ تو ابھی سے ہماری مظلومیت پر افسردہ ہوگئے !بات صرف اتنی نہیں ہے ہماری اس الجھن کے کچھ اور اسباب تھے  جو زندگی بھر ساتھ رہ کر ہماری دائمی کمزوری بن گئے تھے!

 ہمارا مسئلہ یہ تھا کہ ہماری والدہ سمیت سارے بہن بھائی لیفٹ ہنڈڈ  تھے !  (بھلاجس گھر میں اسی فی صد افراد  بائیں ہاتھ سے کام کرتے ہوں وہا ں سیدھے ہاتھ سے کام کرنے والا ہی handicapped  ہوگا نا!)                  دنیا میں اکثر یت  سیدھے ہاتھ والوں کی ہے لہذا سارے انتظامات اسی کے لحاظ سے ترتیب پاتے ہیں  خواہ مشینوں کے ہینڈلز  ہوں   یا پہیے!۔۔۔۔۔۔  آپ نے دیکھا ہوگا کر کٹ میں لیفٹ ہینڈڈ باؤلر یا بیٹسمین کے آتے ہی فیلڈ کی ترتیب بدل جاتی ہے ۔۔یہ تو ٹھہرا شاہی کھیل! وقت گزاری کے لیے ہی کھیلا جاتا ہے ترتیب بدلنا مسئلہ نہیں مگر گھروں میں  ہر وقت ترتیب بدلنا   ممکن نہیں  اور بے چارے بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے والے تکلیف اٹھاتے ہیں لیکن   چونکہ ہمارے  گھر میں اکثریت بایاں ہاتھ استعمال کرنے والوں کی تھی اور لہذا اکثریت کو مد نظر رکھتے ہوئے گھر کی ترتیب و نظم قائم ہوتی چنانچہ یہاں ہم مشکل کا شکار  تھے  ۔ کچھ جھلکیاں ملاحظہ ہوں :

ٹی وی اینٹینا درست کرنا ہے  یا پانی کی موٹر کا  معاملہ ہے ! بڑےبھائی ہدایت دیتے ہیں      "سیدھی طرف گھمانا ہے ۔۔۔"اور ہم الجھن کا شکار کھڑے ان کی ڈانٹ سن رہے ہیں ! منجھلے بھائی ذرا سائنسی اصطلاح  استعمال کرتے یعنی کلاک وائز یا اینٹی کلاک وائز   گھمانا ہے مگر ہم ان کے معیار کو بھی نہ پہنچ پاتے ! وجہ وہی اپنی ہچکچاہٹ  !

درجنوں بار ایسا ہوا کہ ہم دونوں بہنیں  رکشہ یا  گاڑی میں سفر کر رہے ہیں اور  ڈرائیور نے سڑک کے موڑ پر گاڑی روک دی کہ آپ دونوں فیصلہ کرلیں دائیں مڑوں یا بائیں ؟ بہت دفعہ کی بے عزتی کے بعد ہمارے درمیان ایک  معاہدہ طے ہوگیا تھا کہ اگر ایک  راستہ بتا رہا ہو تو دوسرا  خامشی اختیار کرے گا  الا یہ کہ بالکل ہی غلط جانے کا امکان پیدا ہوجائے !!                                                گھڑی کس ہاتھ میں باندھنی ہے ۔۔۔۔؟ بیگ کو کس طرف لٹکانا ہے !   قبلہ کس طرف ہے ؟ جیسے مسائل   ہمیں گھیرے رہتے !

امی کو ہمیشہ شکوہ رہا کہ تم میرا ادھورا کام مکمل  نہیں کر سکتیں اور ہمیں افسوس کہ ہم ان سے کوئی ہنر نہ سیکھ سکے لیکن ایسا بھی نہیں کہ ہم بالکل ہی بے ہنر رہے! محلہ کی خواتین نے ہمیں کچھ نہ کچھ نہ کچھ سکھا ہی دیا تھا پھر انٹر کی طویل چھٹیوں میں  ہمارا داخلہ سلائی کی کلاس میں کروادیا تھا جو ہم اس مہارت کو سیکھ سکےلیکن   کچھ تو کھبوں کے ساتھ رہنے کے اثرات کہیں یا  کچھ خاندانی اثر ( ہمارے دادا جان بھی لیفٹ ہینڈڈ تھے !)  کہ ہمارے اندر بھی جراثیم تھے یا ہمارے تذبذب کا نتیجہ کہ کسی کے سامنے کام کرتے ہوئے جھجک محسوس ہوتی  ۔وجہ ؟  ہمیں کام کرتےہوئے  دیکھنا ہمارے ان مہر بان ہستیوں پر بہت گراں گزرتا

'۔۔۔سوئی کیسے پکڑی ہے !   "                                                                                                              " کپڑے کو اس طرح سے  موڑ کر پکڑتے ہیں ۔۔"

سلائیوں کو انگوٹھے اور انگلی کے درمیان  پکڑا کرو ۔۔!  وغیرہ وغیرہ  جیسی ہدایات ہمیں مزید کنفیوز کرتی۔ کبھی کبھار کسی کے ہاتھ سے کام لے کر اسے  آسانی  بہم پہنچانے کی کوشش کرتے مگر بقول ان کے تمہیں تکلیف سے  کام کرتے دیکھ کر لگتا ہےکہ تم پرکتنا  ظلم ہورہا ہے ۔۔۔اور کام  واپس لے کر خدمت سے محروم کر دیتے    ۔ہمارا خیال ہے کہ وہ کام کے معیار کی بابت  فکر مند ہوتے ہوں گے !  اور اگر کوئی کام تنہائی میں مکمل کرتے تو شبے کا اظہار کیونکہ  ہمیں خود کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا !نتیجہ ؟  ہماری کارکردگی عدم اعتماد کا شکار رہی ۔

دوران تدریس ایک دفعہ  اسکول میں میلہ منعقد ہوا جس میں تما م ہی ٹیچرز کو کوئی نہ کوئی دستکاری کا اسٹال لگانا  تھا ۔ ہم نے فیبرک پینٹنگ  کا منصوبہ بنا یا ۔ اس کے لیے صوفہ پر ڈالنے والے نیپکن ( mats )  بنانے تھے ۔ تقریبا 3 درجن پھول پینٹ کرنے تھے !  بہن فارغ تھی ۔ہم نے کہا کہ تم سارے ڈیزائن  کا عکس  چھاپ دو  تاکہ ہم اسکول سے واپسی پر جلدی سے پینٹ کر لیں ۔

پینٹ کرنے کے لیے  جب نیپکن کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ تمام پھول اس طرح ٹریس کیے گئے ہیں کہ  جب وہ صوفہ پر بچھائے جائیں گے تو شاخ اوپر کی طرف ہو گی!  بہن کسی طرح ماننے کو تیار نہیں بلکہ اچھی خاصی جھڑپ ہی ہوئی کہ ایک تو میں نے اتنی محنت کی اوپر سےکام بھی نہیں پسند آرہا  !   دوبارہ کرنے کی مہلت نہ تھی چنانچہ   مسئلہ یوں حل کیا کہ  ایسے ہی پینٹ کرلیا جائے  اور انہیں  اس طرح  لپیٹ کر رکھا جائے کہ دیکھنے  میں محسوس نہ ہو ! خیر ہوا یہ کہ کسی نے بھی انہیں خریدنے کی زحمت نہ کی ! اور اس کی وجہ ہر گز یہ نہیں تھی کہ کسی کوپسند ہی نہیں   آئے یا یہ کہ عیب  ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیے گئے بلکہ لوگوں کی ضرورت   کی فہرست یا  پھر بجٹ میں ہی نہیں تھے ! ( ویسے بھی خریداری کے بجائے ڈسپلے پر زیادہ زور تھا !)                     بعد میں ان کو کس طرح تحفے میں دے کر چھٹکارا پایا کہ تحفہ تو جیسا بھی ہو قبول کر ہی لیا جاتا ہے ۔

ان تمام مشکلات کے باوجود جب کبھی کوئی ہماری بہن یاکسی بھائی کو از راہ ہمدردی یہ کہہ دیتا  "ہائے بےچارہ / بے چاری کھبی ہو تو ہمیں  بہت برا لگتا ۔ اور   جہاں  ہم کسی کو بائیں ہاتھ سے کام کر تا دیکھتے ہیں بڑی  اپنائیت محسوس ہوتی ہے! اس سارے پس منظر میں ہمارا واحد سہارا ابا جان تھے ۔خصوصی توجہ کے ساتھ   کبھی اٹلس لےکر نقشے سے سمتیں سمجھاتے ،کبھی کھڑا کر کے  دائیں بائیں ہاتھ کے ذریعے ہماری اس کمزوری کو دور کرنے کی کوشش کرتے ۔ ہماری بھی بھرپور کوشش ہوتی کہ کسی کو اس کمزوری کا علم نہ ہو ۔ لیکن اکثر ہمیں کام کرتے دیکھنے والے پوچھ بیٹھتے   آپ لیفٹ ہینڈڈ ہیں ؟ اور ہم منہ بنا کر رہ جاتے ! گویا نہ تیتر میں نہ بٹیر میں !

ایک دفعہ یونیورسٹی لیب میں کام کر رہے تھے ۔ہمارے سپر وائزر نے ہمیں keyboard الٹی طرف سیٹ کرنے کی آفر کی ۔ ہم نے تڑپ کر انکار کیا کہ   سر ہم لیفٹ ہینڈد نہیں ہیں ۔۔۔

مگر آپ بٹن تو مستقل الٹے ہاتھ سے پریس کر رہی ہیں ۔۔۔ہم شرمندہ ہوہی رہے تھے کہ کسی نے لقمہ دیا

' سر ! یہ تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔۔۔! "   سب ہنس پڑے ۔

 اور ہمارے معصوم سے ٹیچر نے بزرگانہ شفقت سے یہ بات  چائے کے وقفے میں اپنے کولیگز سے  کہہ ڈالی ۔ اور ان کی یہ توصیف ہمیں مہنگی پڑ  گئی  جب  بقیہ  دوسری لیب کے   ساتھی بھی ہمارے پاس آکر اپنی اپنی  ریڈنگ ٹسٹ کروانے لگے ۔ اگر بیگار یہیں تک رہتی تو بھی چل جاتا آخر سب ہمارے ساتھی ہی تھے لیکن جب دور دراز شعبوں سے بھی لوگ آکر  ہم سے کام نکلواتے تو ہم ذرا محتاط ہوئے ۔  اور تو اور سر کو اپنا کام کرنے کا موڈ نہ ہوتا یا کمپیو ٹر گڑ بڑ کرتا تو وہ  ہمارے سر تھوپ دیتے ۔بھئی یہ تو آپ کے ہاتھ کے جادو سے چلتا ہے ۔۔۔اور ہم دل میں اللہ سے مخاطب ہوتے   :

"آپ ہی جانتے ہیں کہ ہمیں ٹیکنالوجی پر کتنا عبور ہے ؟   بھرم  قائم  رہے تو غنیمت ہے !!"

 تعلیمی دور گزرا اور زندگی کے میدان میں داخل ہوئے تو سمتوں کے تعین میں دشواری کا احساس بڑھ گیا اپنی یہ  کمزوری رکاوٹ بنتی نظر آئی  ۔ اس کو رفع کرنے کے لیے  ہم سر توڑ محنت کرنے پر مجبور تھے اور پھر یہاں ابا جان کا احسان  یادآتاہے۔ ان کے جملے ہماری تربیت میں بہت معاون رہے ۔

''۔۔۔ اپنے  داہنے ہاتھ سے تیسری کتاب   لے کر آنا ۔۔"

 ' ۔۔بائیں طرف سے چوتھا گھر ہے ۔۔۔"

"۔۔۔۔۔۔ "                                                     "۔۔۔۔"

ہم نئے گھر میں شفٹ ہوئے جو غیر آباد علاقے میں تھا ۔ بیرونی سڑکیں تک گھنے جنگل کامنظر پیش کرتی تھیں ۔ اس زمانے میں وہ  زکوۃ کمیٹی کے چئیر مین تھے تو ان کے پاس بھانت بھانت کے لوگوں کی آمد و رفت ہوتی  ۔ وہ علاقے  کے نقشے کی کاپی ہمارے سامنے رکھ کر   آنے والوں کی رہنمائی   کرواتے اور ہم ہر ایک کی زبان اور ذہنی استطاعت کے مطابق یہ فریضہ انجام دیتے  اور کبھی کبھی  جھنجھلا جاتے !   ان ساری مشقتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ سمتوں  کے تعین میں ہماری کمزوری ختم ہوگئی اور ایک وقت یہ آیا کہ ہم بھی سمتیں بتانے میں ماہر ہوگئے ۔

" ۔۔۔آپ نے اتنا اچھا  ایڈریس سمجھایا کہ ہمیں کوئی مشکل نہیں ہوئی۔۔" جیسے جملے اس کا ثبوت ہوتے۔ کوئی ڈرائیور کو موبائیل پکڑا دیتا اور ہم  بات کا آغاز یوں کرتے :

" ۔۔آپ کہاں ہیں ؟ آپ کے دائیں / بائیں طرف کیا ہے ؟ ۔۔۔یوں کریں ۔۔۔یوں  مڑیں ۔۔۔" اور اس رہنمائی پر ہم بآسانی مطلوبہ مقام تک پہنچوا دیتے۔  اور ہماری  مہارت  پر اس وقت مہر ثبت ہوئی جب گھر والے بھی کریم یا یوبر کو ایڈریس سمجھانے کے لیے موبائیل ہمیں پکڑادیتے  یہ کہہ کر کہ  " ۔۔باجی آپ بہت اچھا سمجھا تی ہیں ۔۔۔"

اور ہم  خضر کارتبہ پانے پر  اندر تک شاد ہوجاتے ۔اب تو  گوگل کی وجہ سے کوئی اس معاملے میں  کمزور نہیں رہا  ہوگا مگر ہمارا خیال ہے کہ  گوگل کی سہولت سے بھی وہی مستفید ہو سکتا ہے جسے  دائیں بائیں کی اچھی سی پہچان ہو!    ویسے ہماری اس داستان سے آپ کیا سمجھے ؟ محض ہمدردی نہیں  بلکہ یہ بتانا کہ کمزوری پر غلبہ پاکر اسے طاقت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے ! تاکہ یہ بائیں ہاتھ کا کھیل بن جائے ! !  کیا خیال ہے ؟ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


 

My greatest parenting challenge

 



My greatest parenting challenge

 

I was sitting on my prayer mat…..hands were lifted for dua; the tears were rolling on my cheeks. After performing my ISHA prayer I was begging to Allah for Sanya! 

Sanya 10, my daughter second in siblings of three. What is wrong with her? Your query is just!

Would you ever seen the pic in which a new borne is in laps of her eldest brother looking happy, while the middle one angrily looking by ignoring both! The caption on it is:
  “The Moment He Realized, HE was Now Middle Child!”

 This middle child of mine is a problem for me! Sanya, a problem child …oh! Should I say it for my talented daughter? .....let me share my feeling about her!

 Maria, 12, and Yasir, 6.The eldest and youngest are quite reasonable while Sanya always creates a problem for me. She disapproves what favors all of us. When I have to accommodate my offspring for any program, refused by her makes me disturb to revise my suggestion. Her argument on each matter creates a dispute. She is harsh in commenting! What and why goes wrong with her? Let me share some incidences ……..     

Both the girls went with her aunt to her neighbor, who served fruits to eat. Maria tasted all of them pleasantly while Sanya coiled and declined. The daughter of the host, who is a professional doctor and mother of a girl, exclaimed “…….that is why her (Maria) skin is glowing….she takes fruits……” I feel the toxicity of her remark …resulting disturbed Sanya for the weeks, but I must say she didn’t forget negative response!

She went with me in a social gathering and standing beside me. A girl from the guests pointed her eyes and said to her companion,” look! How beautiful……” I noticed anger on Sanya’s face and later she expressed in this way,” Look at this aunty! She didn’t notice my poor health, just my eyes…the only good thing I have…she has devil eye on it ……”

I didn’t know that lady but felt sorry about Sanya’s gesture on her and let me share that recently Sanya’s eye sight got weaken and suggested by doctor constant use of glasses! I am afraid she relates it to those remarks …..!

She  crossed when her fellows joyfully excited over a matter either going to picnic or getting the news of teacher’s absence, getting free period …whatever made all laugh and enjoy she overreacted, noise in the class makes her unhappy….when siblings got any advantage of making disobey the rule she teased them! All these depict discipline in her nature, of course, but she is isolated making her more frustrated!

 Surprisingly, all near and dear are concerned over her! What she is doing? What is her plan? Her schedule? Everybody wants to follow it …this concern make her angry or little proud, I could never guess! Being a child and more over it, as a human she must like care but why she reacts like it! It is puzzle for me! Especially I embarrassed during social interaction! I worried as a mother!

It does not mean that she has no good qualities! She is the most obedient child of mine! Gets up in the morning at my one call! Helps me in domestic cores; like dish washing, spreading the cover, answering the calls, teaching younger brother…..! She is sharper than her sister makes me satisfy as she can defend herself at either case of danger! May Allah save them! Her confidence level is high.

 She has good sense of humor. I enjoy her wittiness! She is definitely an extrovert; this is my conclusion about her! Then why pretend as introvert? It confuses me! I know she has leadership qualities because her friends, cousins try to follow her. I wish she would turn into a polite, contented girl! An expressive and determinate girl didn’t like in our society as the majority is hypocrites! It bothers me about her future. She needs some counseling, I conclude.

It was all about sitting on prayer mat, thinking about my life started with kids! Maria, the first born in both the families, maternal and paternal, was a beautiful adorable child! She gained lot of love and care along with many gifts from grandparents, uncles and aunties!

 

 Sanya was borne just after 18 months of Maria, was totally different from her sister. As she grew everybody noticed she is more active, expressive and creative soul! Her learning was pronounced! She started reciting poems at very early stage.

 At the age of 4 she was admitted to school. It is a big change for a child, but for her it was harder as she missed her first week of school because of her sickness, plus I was in hospital as my son was born. Although, I am not a psychologist, but being a mom I realized that this absence of very first day from school, did not allow her to intimate teacher and fellows. My assumption could be right but the reality is that she has a class of nearly 40 hyper students. When they cry she coiled.

 At each PTM teachers complain her lack of interest in class. But the fact is that she never given a chance in co curricular activities! She is a good writer! Her eloquent is excellent! On last PTM I complaint to her teacher about her ignorance towards her,

 “….. Many compositions of her have been published in different magazines… “In a lighter mode I said to her “...In future when she becomes a famous writer you would say she was my student and at now, even you do not know it at all…. this is her last year with you…she is going in secondary class…” Teacher was surprised and promised to see the matter. But unfortunately when next day she was shown the magazines, she remarked “it is published due to her grandfather ..!” it dimmed sanya’s delight and the worst is that teacher lost all the magazines having records of her compositions! Due to all these she is upset which affects her health…….

Today, she misbehaved with me on supper. I was hurt, so was praying about her…”...I realized she has remarkable personality, but how can I make an ease for her? How should b treated with different people?  I cry and feel that Allah is answering me…

.”I gifted you unique creature of mine! Would you thank me?” oh, yes I take the challenge, trying to stand up, somebody came and put her head on my lap,” Mama Sorry! I have taken bread with curd! Do not worry …! She was crying. I hugged her! She was Sanya, my little angel. I kissed her shining eyes and wet cheeks. I have to handle her with care she deserves..!



   

   

  

 

 

جمعرات، 11 جون، 2020

مہمت چک سیزن 2


                                            مہمتک مزاحمت کا استعارہ ہے 
                                  
دوسرے سیزن کا آغاز  بابا حیدر  کے کردار سے ہوتا ہے جوحالات و واقعات کو قلم بند  کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔
 بر طانوی فوج کے شہر میں داخلے کے بعد اسکوپلو کے ساتھی اپنی بساط سے بڑھ کر  شہر کا دفاع کرتے  ہیں ۔ آخری مر حلے  میں تندور کو جو حصرو بابا کی نگرانی میں تشکیلات مخصوصہ کا دفتر ہوتا ہے بم سے اڑتا ہوا دیکھتے ہیں۔ بابا حیدر  اسکوپلو ، سعید اور  مولود کو بچانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں  ۔ جبکہ نیازی اور حصرو  باباشہید ہوچکے ہیں۔  محمد اور زینب لاپتہ ہیں  جن کی شادی پہلے سیزن کے آخری معرکے سے ذرا پہلے ہی ایک مہم کے دوران ہوئی تھی ۔
برطانوی فوج   شہریوں پرظلم و زیادتی کے پہاڑ توڑتی نظر آتی ہے ۔ شریف نجار یہاں کا بارسوخ اور متمول  تاجر ہے اس کے ساتھ گورنر اور اس کا بیٹا بھی انگریزوں کے وفادار ہیں۔
علی اپنے دو ساتھیوں مولود اور سعید کے ہمراہ زیر زمین ہےاور سرنگوں کے ذریعے اوپر کی دنیا سے  رابطہ  رہتا ہے . حیدر بابا  اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ان کا بیرونی دنیا  کی خبروں سے آگاہ رکھتے ہیں  ۔وہاں وہ خفیہ حملوں کی تیاری کررہے ہیں .
سب سے پہلا بم دهماکہ  فوجی ہیڈ کوارٹر میں جشن کے موقع پر کرتے ہیں پهر جیل کو تباہ کرتے ہیں .علی اپنی جدو جہد بڑهانے کے لیے شہر سے باہر عثمانی فوجی پڑاو جاکر ان سے منصوبہ بندی کرنا چاہتا ہے .اس سلسلے میں فاطمہ بنت نجار مدد کرتی ہے .وہ شریف نجار کی بیٹی ہے ۔ فاطمہ صحافی کی حیثیت سے علی  کے ہمراہ محاذ جنگ پر جاتی ہے مگر وہاں ان کی سر گرمیوں میں حصہ بھی لینے لگتی ہے ۔ پاک سلمان کی جنگ میں عثمانیوں کو فتح نصیب ہوتی ہے۔ 
 یہ طے ہوتا ہے کہ خلیل پاشا شہر کے گرد محاصرہ کر کے اور علی اپنے گروپ کے ساتھ شہر کے  اندر  برطانوی فوج کا ناطقہ بند کیے رہیں ۔  علی اپنا گروہ منظم کرتاہے جن میں بوڑهے ، بچے ،مجنوں اور بہت سے شہری شامل ہوتے ہیں خصوصا برطانوی فوج میں موجو مسلمان ان کا ساتھ دینا اپنا دینی فریضہ سمجھنے لگتے ہیں ۔
دشمن بهی اپنی چومکهی لڑائی لڑ رہا ہے. ایک طرف وہ عرب قبائل کو ترکوں کے خلاف منظم کر رہا ہے تو دوسری طرف  ظلم وزیادتی کا بازار گرم کرکے لوگوں کو خوف زدہ رکھ رہا ہے .اس کے ساتھ وہ شیعہ سنی کا جھگڑا  پیدا کر کے فرقہ وارانہ آگ میں دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ غذا کی تنگی کے ذریعے لوگوں کو آپس میں لڑاتے ہیں 
محمد اور زینب جو حملے کے بعد روپوش تهے صحرا میں ہوتے ہیں۔محمد یاد داشت کهو چکا ہے اور برطانوی فوج کے ہتهے چڑھ جاتا ہے وہ یہ جان کر کہ  وہ علی اسکوپلو کا ساتهی ہے محمدکی ذہن سازی کر کے عثمانی  فوج میں بطور جاسوس بهرتی کر کے خلیل پاشا کو قتل کرنے اور اسلحہ تباہ کرنے کا مشن دیتے ہیں .
اس سے پہلے  وہ زینب اور سعید کے ذریعے اس کی آزمائش کرتے ہیں جب وہ  ان سے لاتعلقی کا اظہار کرتا ہے تو وہ اسے   محاذ پر بھیج دیتے ہیں کہ وہ ان کے منصوبے کے مطابق ترک فوج میں جاسوسی کر کے نقصان پہنچائے !اس میں  وہ جزوی طور کامیاب بھی رہتے ہیں ۔    .
  اس کے ساتهی اسے اس کی اخبار میں  تصاویر اور انٹرویو  دکهاتے ہیں تو محمد کی یاد داشت واپس آجاتی ہے اور وہ ندامت کا شکار ہوتا ہے .اب وہ مشن کی کامیابی کا ڈهونگ رچا کر برطانوی ہیڈ کوارٹرواپس آتا ہے مگر یہاں  زینب پر شدید تشدد کر کے اسے شہید کر دیا جاتا ہے.
محاصرہ بڑهتا جارہا ہے اور برطانوی فوج کے لیے غذا اور رسد کی فراہمی ناممکن ہوچکی ہے . ادهر علی کا گروہ مضبوط  تر ہوتا جارہا ہے. اس نے برطانوی افواج کو ناکوں چنے چبوادیے ہیں. برطانوی فوج میں مسلمان انڈین بهی ان کے ساتھ  مل جاتے ہیں۔ پہلے غذا کا ذخیرہ پر قبضہ کر کے اسے تباہ کرتے ہیں  اور پھر  بر طانوی  اسلحہ خانہ تباہ کرنے کے بعداسے مکمل طور پر بے بس کر دیتے ہیں ۔
اسلحہ خانہ تباہ ہونے کے بعد دوبارہ  برطانوی انجینیرز  اسلحہ تیار کررہے ہیں ۔ اس کے لیے بھٹی کی ضرورت ہے اور ایندھن کی کمی کے باعث لوگوں کے گھروں کے دروازے کھڑکیا ں توڑ کر بھٹی دہکائی جارہی ہے ۔ ظلم کی انتہا ہے ۔مگر یہاں بھی  علی اور اس کے ساتھی اپنا کام کرگزرتے ہیں ۔ لکڑی  ڈھونے کا کام شہریوں سے لیا جا رہا ہے تو ان میں شامل ہوکر  چپکے سے کبھی رائفل کا ڈیزائن بدل دیتے ہیں تو کبھی اوزان میں کمی بیشی ۔۔۔۔اور یوں انگریزو ں  کی ساری محنت ضائع ہوجاتی ہے ۔
زمینی  اور  دریا کے ذریعے  غذا اور رسد حاصل کرنے میں ناکامی کے باعث  برطانوی فوج  فضا کے ذریعے غذائی امداد منگواتی ہے جو عثمانی فوج کے ٹھکانے پر جاگرتا ہے اور وہ اس میں شامل چیزیں دیکھ دیکھ کر حیران ہورہے ہیں ۔
برطانوی فوج شہر سے فرار کا منصوبہ بناتی ہے۔ اس کے لیے وہ رات کے اندھیرے میں پل بنا رہے ہوتے ہیں ۔علی کے گروہ کوخبر ملتی ہے ۔اگرچہ سرنگیں تباہ  کردی گئی ہیں ، وہ ایک پناہ گاہ میں ہیں  اور ان کے پاس کسی قسم کاسلحہ موجود نہیں ہے لیکن وہ شیشے کی بوتلوں اور مٹی کے تیل کے ذریعے یہ پل تباہ کردیتے ہیں ۔یہ ایسا منظر ہے جس پر برطانوی ہکا بکا رہ جاتے ہیں ۔  اس کے بعد بر طانوی فوج کے پاس ہتھیار ڈالنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا ۔
  .بالاخر 147 دن کے محاصرے کے بعد برطانوی جرنل ٹاون شیڈ  اپنے 13000 سے زائد فوجیوں کے ساتھ ہتهیار ڈال دیتا  
 ہے  ۔  300سال میں یہ برطانیہ کی پہلی پسپائی تھی ۔ کوٹ العمارہ دوبارہ مسلمانوں کوواپس مل جاتا ہے  اور دوبارہ ہلال والا 
پرچم .لہرانے لگتا ہے

https://www.facebook.com/TS2ESS/videos/2527646987486049/

/کسی بهی ڈرامے یا فلم سے گزرتے ہوئے ناظر جن کیفیات سے گزرتا ہے انہیں الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے مگر پهر بھی کچھ  مناظر ذہن کو جهنجهوڑ دیتے ہیں ان میں دلچسپ بهی ہوتے ہیں اورجذباتی بهی، خوشگوار بھی اور  ناخوشگوار بھی 
*دلچسپ مناظر*

*٭بصرہ کے جیل کیمپ میں تمام مناظر بے حد متحرک اور دلچسپ ہیں اگرچہ تشدد بهی بہت دیکهنا پڑتا ہے مگر ایمانی قوت کا مظاہرہ برطانوی فوجیوں کو بے بس کیے رہتا ہے۔
٭علی نے اپنے مختصر ساتھیوں کے ساتھ پورے شہر میں سرنگوں کا جال بچھا دیا ہے ۔ جہاں جانا ہو یا نکلنا ہو سرنگ کے  ذریعے نکل جاتے ہیں ۔ دشمن اپنی تمام تر طاقت اور اختیار کے باوجود ان سرنگوں کا سراغ لگانے سے قاصر ہے   البتہ فاطمہ کی بے احتیاطی  اور ایلیسا کے تجسس کے باعث   بالآ خر سرنگ  تلاش کر لی جاتی ہے ۔
٭برطانوی حملہ شروع کرتے ہوئے پہلے انڈین فوجیوں کو بهیجتے ہیں اور وہ جاکر عثمانی فوج سے مل جاتے ہیں ۔ یوں برطانوی فوج اپنے ہی پاوں پر کلہاڑی مارتی ہے .
٭جرمن جرنل گلٹز بستر مرگ سے میدان جنگ میں پہنچ جاتا ہے کہ فتح کا کریڈٹ لے!                                           
    خلیل پاشا جز بزہوتے ہوئے بهی اس کے جذبے کو سراہتے ہیں کہ میدان جنگ میں موت بہادری کی علامت ہے !
٭خلیل پاشا اپنا تابوت تیار کرواتے ہیں کہ اپنی موت کا دشمن کو یقین دلاسکیں اور برطانوی جرنل دوربین کے ذریعے اس کو زندہ سلامت دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے.
٭ اسکوپلو کئی دفعہ برطانیہ کے ہتھے چڑھا مگر وہ اس کا بال بھی بیکا نہ کرسکے ۔ جب  سعید کو کو رہا کرانے کی خبر جرنل  کو ملتی ہے تو وہ بے بسی سے کہتا ہے   
        '' ۔۔کیا حالت ہے ہماری !  سرکس کے  بندر کے  ساتھ بھی اتنا نہیں  کیا جاتا جیسے اسکوپلو ہمارے ساتھ کر رہا ہے !                         تفریح بنا لی ہے  اس نے ۔۔۔!''
٭انڈین فوج جب عثمانی فوج سے مل جاتی ہے تو ان کی وردیاں ان کو دی جاتی ہیں جو ان کے جسم پر ڈهیلی ہوتی  ہیں ..
٭فتح کایقین ہوتے ہی علی اور فاطمہ کا نکاح ایک پناہ گاہ میں ہوتا ہے. اس سے پہلے زینب اور محمد کا نکاح بهی ایک مہم کے دوران کسمپرسی کے عالم میں صحرا میں ہوا تها .
 ٭شریف نجار علی کا شدید مخالف ہوتے ہوئے بهی اندر سے اس کی سرگرمیو ں کا مداح ہوجاتا ہے  ۔آخر میں   ڈرامائ انداز میں فاطمہ کو اس کے ہمراہ جانے کو کہتا ہے اور خود شہید ہوجاتا ہے 
  شیعہ اور سنی علماء کو بیک وقت  قتل کرنے کا ٹارگٹ جن کرایہ کے قاتلوں کو دیا جاتا ہے ۔انگریز علماء کے بجائے ان دونوں کی لاشیں چوک پر لٹکے ہوئے دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں ۔.
۔ *جذباتی مناظر*
سعید اور زینب دونوں پر بری طرح سختی ہوتی ہے کہ وہ علی کا ٹهکانہ بتادیں مگر وہ زبان نہیں کهولتے .خاص طور پر محمد کی یاد داشت واپس آجاتی ہے اور وہ زینب پر ہونے والے ظلم کو برداشت کرتا ہے کہ اس کے ڈرامے کا بهانڈا نہ پهوٹے.
*برطانوی فوج میں موجود کوئی بهی مسلمان سپاہی مرتے وقت کلمہ پڑهنے لگتا ہے تو عثمانی اپنی تلوار روک لیتے ہیں.
*محاذ پر لڑتے ہوئے مسلمان فوجی پیاس سے نڈهال ہوتے ہوئے بهی اپنے ساتهیوں کے لیے ایثار کا مظاہرہ کرتے ہیں.. 
  بهوک سے نڈهال ایک ترک فوجی بے ہوش ہوکر گرتا ہے تو خلیل پاشا اسے اپنی گود میں اٹها کر لاتا ہے   جبکہ ایک برطانوی فوجی لڑکهڑاتا ہے توانگریز سارجنٹ اسے خود گولی ماردیتا ہے .
دونوں مخالفین کمانڈر کا اپنے ساتهیوں کے ساتھ رویوں کا فرق بہت جگہ محسوس ہوا. خاص طور پر انڈین فوجیوں کے ساته برطانوی افواج کا رویہ توہین آمیز تھا۔
کسی بھی جذباتی مرحلے پر انگریز فوجی شراب انڈیلتے ہیں جبکہ مسلمان تلاوت قرآن ،نماز پڑھتے نظر آتے ہیں ۔۔ ہر کامیابی پر سورہ فتح اور ہر شکست /موت پر سورہ یاسین پڑھتے نظر آتے ہیں
  ٭ ہندوستانی مسلمان کیپٹن  جو سلطنت عثمانیہ کاساتھ دیتا ہے ۔اس جرم میں  پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے 
٭ کوت العمارہ  میں برطانوی فوج کی شکست کے بعد ہتھیار ڈالنے کی تقریب قابل دید ہے۔
h
 https://www.facebook.com/TS2ESS/videos/194310931682924/
٭ غذائی قلت میں انگریز شہریوں سے  کھانا چھین لیتے ہیں ۔ اس موقع پرعلی اور اس کے ساتھی رات کو گھروں میں کھاناتقسیم  کر رہے ہیں ۔ ایک گھر میں ایک بوڑھی عورت دعائیں دے کر حضرت عمر ٖ کو یاد کرتی ہے  ۔!

٭اہم کردار ٭
اس ڈرامےمیں فوجیوں کے ساتھ جاسوسوں کا ایک بہترین  ملاپ دکھا یا گیا ہے ۔ محکمہ جاسوسی دفاع کے عنوان میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔جاسوس  اپنے اصلی نام اورشخصیت  سے بہت  کم  نمایاں ہوتے ہیں بلکہ عموما وہ پس دیوار  اور گمنام رہ کر  اپنا کردار ادا کرتے ہیں  
اس سیریز  کا ہیرو علی اسکوپلو ایک جاسوس   بے حد پرسکون  اورسنجیدہ شخصیت ہے۔ اپنے ساتھیوں پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے ۔ انتہائی خطرناک صورت حال میں بھی نہیں گھبراتا بلکہ اپنے ساتھیوں کو یہ کہہ کر تسلی دیتا ہے کہ  "جہاں ایمان ہے وہاں امکان ہے !" 
اس مہم کا  ہیرو کرنل خلیل پاشا سحر انگیز شخصیت کا مالک ہے جو  کبھی بھی غیض و غضب کا شکار نہیں ہوتا  اور  دباؤ لینے کے بجائے  بصیرت  سے کام لیتے  ہوئے  اپنے اہداف کو حاصل کرتا ہے ۔
اس جنگ  کا ایک اہم کردار کرنل لارنس ہے جو برطانوی انٹلی جنس کا اہم ترین ممبر ہے ۔وہ اس محاصرے کے دوران اس خطے میں موجود نہیں ہوتا مگر ایک مسلمان کیپٹن جعلی لارنس بن کر برطانوی فوج کو خوب نقصان پہنچاتا ہے ۔اس کی آمد کے موقع پر ٹیلی گراف کی لائینیں  ہندوستانی کیپٹن خراب کردیتا ہے اور دلچسپ بات یہ کہ لارنس اتنے بہروپ بھرتا تھاکہ اس کی اصل شکل سے برطانوی  فوج لاعلم تھی اور یوں جعلی لارنس نے اپنا کام خوب اچھی طرح کیا ۔
٭ پہلے سیزن میں برطانوی جاسوس کاکس ولن ہوتے ہوئے بھی دلچسپ حرکتیں کرتا ہے اگرچہ اپنے مشن کے معاملے میں بہت یکسو رہتا ہے ۔ برطانوی جرنل ٹاؤنشیڈ ایک مہذب کردار میں جبکہ کیپٹن ہملٹن اور ڈاکٹر ایلیسا سخت متعصب اور جنونی رویے کا مظاہرہ کرتے  نظر آتے ہیں۔
٭برطانوی فوج میں ہندوستانی مسلمان ڈاکٹر سلمان اور  کیپٹن رجعت  اپنی جان  ہتھیلی پر رکھ کرعثمانی  فوج کی ساتھ شامل رہتے ہیں ۔اسی طرح یعقوب نامی نوجوان برطانوی ہیڈ کوارٹر میں بظاہر صفائی کا کام مگر دراصل  انگریزوں کی مخبری سر انجام دیتا ہے اور  بالآ خر  دونوں شہید ہوجاتے ہیں ۔
٭ سعید بظاہر جذباتی  اورکمزور اعصاب رکھنے والا نوجوان نظر آتاہے مگر سخت تشدد کے باوجود وہ اپنی زبان نہیں کھولتا  اور مستقل مزاجی اور ثابت قدمی  کا مظاہرہ کرتا ہے۔
٭  مجنوں نام کا شخص جو بظاہر ایکسٹرا کا کردار ادا کررہا ہے مگر  مجہول سا نظر آنے والا یہ فرد اس  مزاحمت میں بھرپور حصہ لے رہا ہے ۔ سڑک پر بیٹھا ہر چیز کا مشاہدہ کر کے خبریں کمانڈر تک پہنچانا ہو  یا انگریزوں کےاسکوپلو کے خلاف کسی آپریشن میں  رکاوٹیں ڈالنا ہو، فوج کے کسی مخبر کی سرنگ تک رہنمائی کرنا ہو۔۔۔۔غرض ہر کام میں مجنوں صاحب حاضر ! اور پھر حیدر بابا اپنی شہادت سےقبل  اس کو اپنی ڈائری حوالے کرتے ہیں کہ حریت کی یہ داستان اب اسے رقم کرنی ہے 
٭
  ٭٭ اہم بات ٭٭
٭ چونکہ اس ڈرامے میں ماضی قریب (سو سال پیشتر کی دنیا ) کا زمانہ دکھایا گیا ہے تو  کچھ جدید آلات کی ابتدائی اشکال نظر آتی ہیں ۔ مثلا ٹائپ رائٹر  وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ موبائل کا زمانہ ابھی بہت دور ہے  ٹیلی فون بھی نہیں ہیں ۔روشنی  کے لیے  بجلی کے بجائے مشعلیں استعمال ہوتی ہیں ۔۔
٭ خطوط اور دستاویزات سے اندازہ ہورہا ہے کہ  ترکی میں اس وقت عربی رسم الخط ہی رائج تھا ۔
٭ ہر  مسلمان کے گھراور خیمے میں قرآن ضرور دیوار میں لٹکا نظر آتا ہے ۔
٭  مکمل بے سروسامانی کے باوجود رابطے کا بہترین مظاہرہ ٭رابطو٭  کی بہترین  تفسیر پیش کرتا ہے ۔
٭ نظم و ضبط تربیت اورپریکٹس کا متقاضی ہے مگر ان ہنگامی حالات میں بھی  اس کی عملی شکل نظر آئی ۔دشمن کی چالوں کو ناکام بنا نا اور غیر ملکی تسلط سےنجات پانا 
اس کے بغیر ناممکن تھا ۔

 ٭٭ ڈرامہ ڈرامہ حقیقت نہیں ہے ٭٭
جذبات  ڈرامے  کا بنیادی عنصر ہے ۔جس میں ایکشن  سے لے کر سازشیں ، محبت سے لے کر حسد اور بغض ، اتحادیوں کو توڑنے کی کوششیں ، انا بھی ہے اور ہتھکنڈے بھی ! اس ڈرامے میں ان سب کا بہترن امتزاج موجود ہے۔ 
ڈرامے پر اتنے گهنٹے لگانے کے بعد اس پر ریویو بظاہر وقت کا ضیاع لگے گا  اور پھر   
ہماری قابل تاریخ نگار نے درست کہا کہ تاریخی فلم یا ناول  تاریخ نہیں ہوتی۔۔۔۔ بالکل صحیح تجزیہ ہے مگر تاریخ کی کتاب تک پہنچانے کا ذریعہ ضرور یہ ناول اور ڈرامے ہوتے ہیں .
آخر عثمانی خلافت کے بارے میں ہم پاکستانی کتنا جانتے ہیں ؟ نصاب یا میڈیا  نے کبھی اس حوالے سے کوئی ذہن 
سازی کی یا جیسا کہ انڈین سپاہی نے کہا کہ ہماری تو تاریخ تک انگریزوں کے ہاتھ میں ہے
سچ کہا تها اردوان نے جب تک شیر اپنی تاریخ خود نہیں لکهیں گے گیدڑ اس کو مسخ کرتے رہیں گے۔۔ .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ...


https://www.facebook.com/TS2ESS/videos/194310931682924/



پیر، 8 جون، 2020

مہمچک کوۃ العمارہ


23 مارچ سے شروع ہونے والے لاک ڈاون کا پہلا ہفتہ تو غیر معمولی چهٹیوں اور حالات کے رومانس میں گزرا . امتحان کے بوجھ سے آزاد ہوئے تو سب نے اپنی اپنی مصروفیات ڈهونڈ لیں...بچوں کے ساتھ وقت گزارنے میں ایک فائدہ ہوتا ہے کہ بڑے بهی بهولی بسری باتوں کو یاد  کر لیتے ہیں جو روزی روٹی کے چکر میں بهولے ہوئے ہوتے ہیں
.12 سالہ بهانجہ ترکی تاریخی ڈرامہ اپنے خاندان کے ساتھ دیکھ رہا ہے .ہر قسط کی خصوصی بات یا کلپ ضرور گوش گزار کرتا ہے اور اصرار بهی کہ آپ ضرور  دیکهیں ..

.
مثلا  یہ  منظر 1914ء میں بصرہ کے برطانوی  قیدی کیمپ کا ہے جہاں مسلمان قیدی اذان اور باجماعت نماز کے لیے نگرانوں کی سختی سہہ رہے ہیں .جس طرح زبردستی انہیں الگ الگ کیا جارہا ہے جو موجودہ کرونا بحران سے مشابہت رکھتا نظر آتا ہے  اور پهر میں بهی اس کے اصرار پر دیکهنے لگتی ہوں!پہلی قسط دیکھ کر مجھے یاد آیا کہ دو سال پہلے مجھے  کسی نے اس ڈرامے کا  لنک بھیجا تھا  جسے  میں نے عدم فرصتی اور غیر دلچسپی کے باعث  قابل توجہ نہ سمجھا تھا ۔
 ترکی زبان میں فوجی کے لیے پیار بھرا لقب ہے
   MEHMETICK
یہ کہانی ان چند سر فروشوں کی ہے جو وطن کے دفاع کے لیے سر توڑ کوشش کر تے ہیں اور جن کا ماٹو ہے
                                               ٭جد و جہد ہماری ,فتح اللہ کی ٭     !!
٭تشکیلات مخصوصہ ٭  حکومت عثمانیہ کی خفیہ محکمہ جاسوسی  (انتیلیجنس) ہے جو فوج کے مساوی اور متوازی اہمیت کی حامل ہے ۔معلومات بہت بڑی طاقت ہے  اور جنگ میں تو تھوڑی سی معلومات بھی اہم ہے جس کی بنیاد پر ہاری ہوئی جنگ جیت 
لی جاتی ہے جبکہ کبھی غلط معلومات برعکس نتائج بھی دیتی ہے ۔
 .یہ زمانہ ہے پہلی جنگ عظیم کا اور منظر ہے مڈل ایسٹ کا ...جب برطانوی اور جرمن فوج یہاں اپنے قبضے کے لیے بر سر پیکار تهیں ..اور خلافت عثمانیہ جرمن فوج کی حلیف اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی تهی۔ ترکوں اور عربوں کو آپس میں لڑانے کے لیے برطانیہ خوب چالیں چل رہا ہے ۔ .کوت  العمارہ بصرہ اور بغداد کے درمیان دریائے دجلہ کے کنارے آباد ایک قصبہ  ہے جو عثمانی سلطنت کے زیر انتظام ہے .

کہانی کا آغاز سلیمان عسکری انچارج سیکرٹ تنظیم کی بریفنگ سے ہوتا ہے جس میں وہ پراجیکٹر پر نقشوں کے ذریعے دشمن کی کاروائیاں اور اپنی تیاریوں کی بابت بتا رہا ہے. دوسری جانب انقرہ میں ایک طالبعلم محمد تقریر کے ذریعے حب الوطنی پر سب کو ابهار رہاہے .وہ  ریٹائرڈ فوجی حصرو کا لے پالک بیٹا ہے جسے وہ اپنے بیٹے سعید کے ساتھ عثمانی بٹالین میں شمولیت کے لیے تربیت دے رہے ہیں ۔ یہ دونوں  نوجوان جوش سے سرشار ہیں.. سعید جذباتی اور جلد باز ہے اور جہاں بهی محمد سے پیچهے رہتا ہے پریشان ہونے لگتا ہے .
سلیمان عسکری اپنی رجمنٹ میں بهرتی کے لیے انتخاب کا معائنہ کرتے ہیں ..سعید نشانے کی کمزوری کے باعث منتخب ہونے سے رہ جاتا ہے ..
برطانوی جاسوس کو روکنے کی کوشش میں محمد  کی ٹانگ میں گولی لگتی ہے اور وہ ہسپتال میں داخل ہوجاتا ہے .اور یوں عثمانی بٹالین کی پوسٹنگ سے محروم رہ جاتا ہے .سلیمان عسکری اس کی جگہ سعید کو تقرر کر لیتے ہیں .
اس کے علاوہ خفیہ ادارے میں خدمات  کے لیے وہ اس کے والد حصرو  کو ذمہ داری تفویض کرتے ہیں .
محمد زخمی ہونے کے باوجود کسی طرح اس ٹرین میں سوار ہوجاتا ہے جو اس بٹالین کو لے جارہی ہے. گویا تینوں باپ بیٹے ایک ہی سفر پر ہیں.محمد کی ٹرین میں موجودگی کا انکشاف اس برطانوی جاسوسہ کے ذریعے ہوتا ہے جسے وہاں قید کیا جاتا ہے جہاں اتفاق سے محمد روپوش ہوا ہے۔سعید محمد کو چهپائے رکهتا ہے  اور خصوصی مشن پر روانگی پر بهی وہ محمد کو صندوق میں ڈال کر اپنے ہمراہ لے جاتاہے۔ اس دوران ان کی برادارانہ چپقلش بھی چلتی رہتی ہے۔  
ان کامشن برطانوی حملے کا شکار ہوتا ہے اور وہ ان دونوں کو قید کر لیتے ہیں۔ 
محمد کسی طرح دستاویز لے کر نکلنے میں کامیاب ہوجاتا ہے.صحرا میں بهٹک کر بے ہوش ہوجاتا ہے. اس موقع پر زینب اس کی مدد کو آتی ہے
زینب اپنی نانی کے ساته جڑی بوٹیوں اور زہر کے تریاق سے شفا کا کام کرتی ہے. زینب بهی تنظیم کی ممبر ہے .وہ محمد کی اطلاع سلیمان عسکری کو دیتی ہے .سعید کو بهی رہا کروالیتے ہیں .وہ ان دونوں کی مزید تربیت اور امتحان سے گزارتے ہیں ۔محمد کا مشن اپنے ساتهیوں کے ساتھ بصرہ کی جیل میں قید ہونا ہے وہاں تشکیلات مخصوصہ کا ایک سیکرٹ ایجنٹ موجود ہے ...
منحنی سا بے ضرر علی بظاہر غبی نظر آنے والا ایک ہاتھ سے معذور فرد بہت ہی صلاحیتوں کا حامل اور خاص آدمی ہے. .وہ بلیڈ کے آدهے ٹکڑے کی مدد سے جیل کے 5 سپاہیوں کو قتل کر کے فرار ہوتا ہے  اور پهر بقیہ تمام قیدیوں کو بهی رہائ دلواتا ہے .تب انکشاف ہوتا ہے کہ وہ معذورنہیں ہے بلکہ ذہین فطین اور چست و چالاک ہے!
 اس مہم میں کامیابی کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بر طانوی افواج کو ناکوں چنے چبوا دیتاہے! کبھی بٹلر بن کے جرنل کے مشروب میں زہر ملا دیتا ہے تو کبھی لوڈر بن کر تیل میں ملاوٹ کر کے بر طانوی فوج کی حرکت کو روک دیتا ہے۔
اس کا کہنا تها کہ ہم دشمن کی طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو اس کو کمزور کرکے اپنا هدف آسان کر سکتے ہیں .بند مٹهی کی  طاقت کو انگلیاں الگ الگ توڑ کر  ختم کر سکتے ہیں
 بہت سی کامیا بیوں کی نوید سمیٹتا،دشمن کے کئی  رازلے کر جب علی اپنے کمانڈر کے پاس پہنچتاہے تو وہ اسے اس جرم میں گرفتار کرلیتاہے کہ اس نے اپنی من مانی کر کے ڈسپلن کو توڑا ہے ! علی کے ساتهیوں  کو معطل کر کے کچن کے کاموں میں لگادیتا ہے ..
 (آہ ! اس موقع پر ناظرین اپنے غم و غصے کے جذبات چهپانے سے قاصر ہیں ..کمانڈر بد نیت نہیں ہے مگر کمزور کہیں یا پهر انا کا اسیر کہ قوم کو خطرات میں جهونک دیتا ہے)
علی کے ساتهی اسے جیل سے فرار کراتے ہیں اور خود بهی بهگوڑے بن جاتےہیں ۔۔   دشمن کا جاسوس  غدار کی مدد سے علی کو گرفتار کر کے اس کے ساتھ  اپنی دوستانہ تصاویر لے کر رہا کر دیتا ہے اور  پهر وہ تصویر عثمانی کمانڈر تک پہنچادیتا ہے
یہ تصاویر دیکھ کر علی کی غداری کا یقین کرکے اس کی یہ تصویر پوسٹڑ بنا کر  شہر میں آویزاں کروادیتاہے .. جس بات پر ایک بچہ بهی یقین کرنے کو تیار نہیں اس پر اتنی بڑی فوج کے کمانڈر کا یقین کرلینا  فہم شناسی کی کمی کا مظہر ہے.. 
اس موقع پر ہمیں علی  اسکوپلو کا یہ کردار نظر آتا ہے کہ اسے دشمن کی سرگرمیوں کی اطلاع ملتی ہے تو وہ سب کچھ بالائے طاق رکهتے ہوئے وطن کی خاطر کمانڈر تک پہنچتا ہے اور اس کو قائل کر کے اطلاع کے مطابق متفقہ پلان بناتا ہے مگر غدار کے ذریعے  یہ پلان   دشمن تک پہنچ جاتا ہے ۔ اس اطلاع پر  دشمن  ایک جعلی مقابلہ ترتیب دےکر کمانڈر کو یہ تاثر دیتا ہے کہ علی کا پلان غلط تھا ۔۔۔ اوراپنے لحاظ سے پلان بناتا ہے .. 
نتیجا! دشمن اپنی کاروائی کر کے کوٹ العمارہ پر قبضہ کر لیتاہے .سلیمان عسکری سمیت کئی قیمتی افراد شہید ہوجاتے ہیں سب کچه تتربتر ہوجاتا ہے .ہیڈ کوارٹر پر ہلال کی جگہ صلیب والا پرچم لہرانے لگتا ہے۔اگر چہ علی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ آبادان کی آئل ریفائنری پر قبضہ کر لیتا ہے مگر کوت العمارہ پر انگریز کے قبضے کے باعث خام تیل کی فراہمی ناممکن ہوجاتی ہے اور اسے تباہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔
انگریز کے حوصلے بلند ہوتے ہیں اور وہ بغداد کی جانب پیش قدمی کے لیے تیار ہوجاتے ہیں ۔ انہیں یہ یقین ہوجاتا ہے کہ ان کا واسطہ  کمزور ، بیمار اور شکست خوردہ دشمن سے ہے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  .
یہاں پر پہلا سیزن اختتام کو پہنچتا ہے .کم و بیش 2 گهنٹے کی19  اقساط پر مشتمل یہ سیزن دیکهنے کے بعد ناظر شدت سے سوچتا ہے کہ:
٭ تمام تر جذبوں اور حرکات کے باوجود محض  غلط حکمت عملی کس طرح تمام کیے کرائے پر پانی  پهیر دیتی ہے
٭کسی بھی فریق کی ہار میں غدار بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ عین موقع پر بغاوت اور بزدلی کا مظاہرہ کر کے جیتی ہوئی جنگ کو شکست میں بدل دیتے ہیں ۔ 
٭تنظیم ہو یا ادارے اعلی عہدے داران اور ذمہ داران جب بهی زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے صرف اور صرف حکام بالا کی اطاعت کو ہی وفاداری سمجهتے ہوں وہاں ضرور نقصان اٹهانا پڑتا ہے،ساکھ برباد ہوتی ہے۔