جمعرات، 11 جون، 2020

مہمت چک سیزن 2


                                            مہمتک مزاحمت کا استعارہ ہے 
                                  
دوسرے سیزن کا آغاز  بابا حیدر  کے کردار سے ہوتا ہے جوحالات و واقعات کو قلم بند  کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔
 بر طانوی فوج کے شہر میں داخلے کے بعد اسکوپلو کے ساتھی اپنی بساط سے بڑھ کر  شہر کا دفاع کرتے  ہیں ۔ آخری مر حلے  میں تندور کو جو حصرو بابا کی نگرانی میں تشکیلات مخصوصہ کا دفتر ہوتا ہے بم سے اڑتا ہوا دیکھتے ہیں۔ بابا حیدر  اسکوپلو ، سعید اور  مولود کو بچانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں  ۔ جبکہ نیازی اور حصرو  باباشہید ہوچکے ہیں۔  محمد اور زینب لاپتہ ہیں  جن کی شادی پہلے سیزن کے آخری معرکے سے ذرا پہلے ہی ایک مہم کے دوران ہوئی تھی ۔
برطانوی فوج   شہریوں پرظلم و زیادتی کے پہاڑ توڑتی نظر آتی ہے ۔ شریف نجار یہاں کا بارسوخ اور متمول  تاجر ہے اس کے ساتھ گورنر اور اس کا بیٹا بھی انگریزوں کے وفادار ہیں۔
علی اپنے دو ساتھیوں مولود اور سعید کے ہمراہ زیر زمین ہےاور سرنگوں کے ذریعے اوپر کی دنیا سے  رابطہ  رہتا ہے . حیدر بابا  اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ان کا بیرونی دنیا  کی خبروں سے آگاہ رکھتے ہیں  ۔وہاں وہ خفیہ حملوں کی تیاری کررہے ہیں .
سب سے پہلا بم دهماکہ  فوجی ہیڈ کوارٹر میں جشن کے موقع پر کرتے ہیں پهر جیل کو تباہ کرتے ہیں .علی اپنی جدو جہد بڑهانے کے لیے شہر سے باہر عثمانی فوجی پڑاو جاکر ان سے منصوبہ بندی کرنا چاہتا ہے .اس سلسلے میں فاطمہ بنت نجار مدد کرتی ہے .وہ شریف نجار کی بیٹی ہے ۔ فاطمہ صحافی کی حیثیت سے علی  کے ہمراہ محاذ جنگ پر جاتی ہے مگر وہاں ان کی سر گرمیوں میں حصہ بھی لینے لگتی ہے ۔ پاک سلمان کی جنگ میں عثمانیوں کو فتح نصیب ہوتی ہے۔ 
 یہ طے ہوتا ہے کہ خلیل پاشا شہر کے گرد محاصرہ کر کے اور علی اپنے گروپ کے ساتھ شہر کے  اندر  برطانوی فوج کا ناطقہ بند کیے رہیں ۔  علی اپنا گروہ منظم کرتاہے جن میں بوڑهے ، بچے ،مجنوں اور بہت سے شہری شامل ہوتے ہیں خصوصا برطانوی فوج میں موجو مسلمان ان کا ساتھ دینا اپنا دینی فریضہ سمجھنے لگتے ہیں ۔
دشمن بهی اپنی چومکهی لڑائی لڑ رہا ہے. ایک طرف وہ عرب قبائل کو ترکوں کے خلاف منظم کر رہا ہے تو دوسری طرف  ظلم وزیادتی کا بازار گرم کرکے لوگوں کو خوف زدہ رکھ رہا ہے .اس کے ساتھ وہ شیعہ سنی کا جھگڑا  پیدا کر کے فرقہ وارانہ آگ میں دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ غذا کی تنگی کے ذریعے لوگوں کو آپس میں لڑاتے ہیں 
محمد اور زینب جو حملے کے بعد روپوش تهے صحرا میں ہوتے ہیں۔محمد یاد داشت کهو چکا ہے اور برطانوی فوج کے ہتهے چڑھ جاتا ہے وہ یہ جان کر کہ  وہ علی اسکوپلو کا ساتهی ہے محمدکی ذہن سازی کر کے عثمانی  فوج میں بطور جاسوس بهرتی کر کے خلیل پاشا کو قتل کرنے اور اسلحہ تباہ کرنے کا مشن دیتے ہیں .
اس سے پہلے  وہ زینب اور سعید کے ذریعے اس کی آزمائش کرتے ہیں جب وہ  ان سے لاتعلقی کا اظہار کرتا ہے تو وہ اسے   محاذ پر بھیج دیتے ہیں کہ وہ ان کے منصوبے کے مطابق ترک فوج میں جاسوسی کر کے نقصان پہنچائے !اس میں  وہ جزوی طور کامیاب بھی رہتے ہیں ۔    .
  اس کے ساتهی اسے اس کی اخبار میں  تصاویر اور انٹرویو  دکهاتے ہیں تو محمد کی یاد داشت واپس آجاتی ہے اور وہ ندامت کا شکار ہوتا ہے .اب وہ مشن کی کامیابی کا ڈهونگ رچا کر برطانوی ہیڈ کوارٹرواپس آتا ہے مگر یہاں  زینب پر شدید تشدد کر کے اسے شہید کر دیا جاتا ہے.
محاصرہ بڑهتا جارہا ہے اور برطانوی فوج کے لیے غذا اور رسد کی فراہمی ناممکن ہوچکی ہے . ادهر علی کا گروہ مضبوط  تر ہوتا جارہا ہے. اس نے برطانوی افواج کو ناکوں چنے چبوادیے ہیں. برطانوی فوج میں مسلمان انڈین بهی ان کے ساتھ  مل جاتے ہیں۔ پہلے غذا کا ذخیرہ پر قبضہ کر کے اسے تباہ کرتے ہیں  اور پھر  بر طانوی  اسلحہ خانہ تباہ کرنے کے بعداسے مکمل طور پر بے بس کر دیتے ہیں ۔
اسلحہ خانہ تباہ ہونے کے بعد دوبارہ  برطانوی انجینیرز  اسلحہ تیار کررہے ہیں ۔ اس کے لیے بھٹی کی ضرورت ہے اور ایندھن کی کمی کے باعث لوگوں کے گھروں کے دروازے کھڑکیا ں توڑ کر بھٹی دہکائی جارہی ہے ۔ ظلم کی انتہا ہے ۔مگر یہاں بھی  علی اور اس کے ساتھی اپنا کام کرگزرتے ہیں ۔ لکڑی  ڈھونے کا کام شہریوں سے لیا جا رہا ہے تو ان میں شامل ہوکر  چپکے سے کبھی رائفل کا ڈیزائن بدل دیتے ہیں تو کبھی اوزان میں کمی بیشی ۔۔۔۔اور یوں انگریزو ں  کی ساری محنت ضائع ہوجاتی ہے ۔
زمینی  اور  دریا کے ذریعے  غذا اور رسد حاصل کرنے میں ناکامی کے باعث  برطانوی فوج  فضا کے ذریعے غذائی امداد منگواتی ہے جو عثمانی فوج کے ٹھکانے پر جاگرتا ہے اور وہ اس میں شامل چیزیں دیکھ دیکھ کر حیران ہورہے ہیں ۔
برطانوی فوج شہر سے فرار کا منصوبہ بناتی ہے۔ اس کے لیے وہ رات کے اندھیرے میں پل بنا رہے ہوتے ہیں ۔علی کے گروہ کوخبر ملتی ہے ۔اگرچہ سرنگیں تباہ  کردی گئی ہیں ، وہ ایک پناہ گاہ میں ہیں  اور ان کے پاس کسی قسم کاسلحہ موجود نہیں ہے لیکن وہ شیشے کی بوتلوں اور مٹی کے تیل کے ذریعے یہ پل تباہ کردیتے ہیں ۔یہ ایسا منظر ہے جس پر برطانوی ہکا بکا رہ جاتے ہیں ۔  اس کے بعد بر طانوی فوج کے پاس ہتھیار ڈالنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا ۔
  .بالاخر 147 دن کے محاصرے کے بعد برطانوی جرنل ٹاون شیڈ  اپنے 13000 سے زائد فوجیوں کے ساتھ ہتهیار ڈال دیتا  
 ہے  ۔  300سال میں یہ برطانیہ کی پہلی پسپائی تھی ۔ کوٹ العمارہ دوبارہ مسلمانوں کوواپس مل جاتا ہے  اور دوبارہ ہلال والا 
پرچم .لہرانے لگتا ہے

https://www.facebook.com/TS2ESS/videos/2527646987486049/

/کسی بهی ڈرامے یا فلم سے گزرتے ہوئے ناظر جن کیفیات سے گزرتا ہے انہیں الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے مگر پهر بھی کچھ  مناظر ذہن کو جهنجهوڑ دیتے ہیں ان میں دلچسپ بهی ہوتے ہیں اورجذباتی بهی، خوشگوار بھی اور  ناخوشگوار بھی 
*دلچسپ مناظر*

*٭بصرہ کے جیل کیمپ میں تمام مناظر بے حد متحرک اور دلچسپ ہیں اگرچہ تشدد بهی بہت دیکهنا پڑتا ہے مگر ایمانی قوت کا مظاہرہ برطانوی فوجیوں کو بے بس کیے رہتا ہے۔
٭علی نے اپنے مختصر ساتھیوں کے ساتھ پورے شہر میں سرنگوں کا جال بچھا دیا ہے ۔ جہاں جانا ہو یا نکلنا ہو سرنگ کے  ذریعے نکل جاتے ہیں ۔ دشمن اپنی تمام تر طاقت اور اختیار کے باوجود ان سرنگوں کا سراغ لگانے سے قاصر ہے   البتہ فاطمہ کی بے احتیاطی  اور ایلیسا کے تجسس کے باعث   بالآ خر سرنگ  تلاش کر لی جاتی ہے ۔
٭برطانوی حملہ شروع کرتے ہوئے پہلے انڈین فوجیوں کو بهیجتے ہیں اور وہ جاکر عثمانی فوج سے مل جاتے ہیں ۔ یوں برطانوی فوج اپنے ہی پاوں پر کلہاڑی مارتی ہے .
٭جرمن جرنل گلٹز بستر مرگ سے میدان جنگ میں پہنچ جاتا ہے کہ فتح کا کریڈٹ لے!                                           
    خلیل پاشا جز بزہوتے ہوئے بهی اس کے جذبے کو سراہتے ہیں کہ میدان جنگ میں موت بہادری کی علامت ہے !
٭خلیل پاشا اپنا تابوت تیار کرواتے ہیں کہ اپنی موت کا دشمن کو یقین دلاسکیں اور برطانوی جرنل دوربین کے ذریعے اس کو زندہ سلامت دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے.
٭ اسکوپلو کئی دفعہ برطانیہ کے ہتھے چڑھا مگر وہ اس کا بال بھی بیکا نہ کرسکے ۔ جب  سعید کو کو رہا کرانے کی خبر جرنل  کو ملتی ہے تو وہ بے بسی سے کہتا ہے   
        '' ۔۔کیا حالت ہے ہماری !  سرکس کے  بندر کے  ساتھ بھی اتنا نہیں  کیا جاتا جیسے اسکوپلو ہمارے ساتھ کر رہا ہے !                         تفریح بنا لی ہے  اس نے ۔۔۔!''
٭انڈین فوج جب عثمانی فوج سے مل جاتی ہے تو ان کی وردیاں ان کو دی جاتی ہیں جو ان کے جسم پر ڈهیلی ہوتی  ہیں ..
٭فتح کایقین ہوتے ہی علی اور فاطمہ کا نکاح ایک پناہ گاہ میں ہوتا ہے. اس سے پہلے زینب اور محمد کا نکاح بهی ایک مہم کے دوران کسمپرسی کے عالم میں صحرا میں ہوا تها .
 ٭شریف نجار علی کا شدید مخالف ہوتے ہوئے بهی اندر سے اس کی سرگرمیو ں کا مداح ہوجاتا ہے  ۔آخر میں   ڈرامائ انداز میں فاطمہ کو اس کے ہمراہ جانے کو کہتا ہے اور خود شہید ہوجاتا ہے 
  شیعہ اور سنی علماء کو بیک وقت  قتل کرنے کا ٹارگٹ جن کرایہ کے قاتلوں کو دیا جاتا ہے ۔انگریز علماء کے بجائے ان دونوں کی لاشیں چوک پر لٹکے ہوئے دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں ۔.
۔ *جذباتی مناظر*
سعید اور زینب دونوں پر بری طرح سختی ہوتی ہے کہ وہ علی کا ٹهکانہ بتادیں مگر وہ زبان نہیں کهولتے .خاص طور پر محمد کی یاد داشت واپس آجاتی ہے اور وہ زینب پر ہونے والے ظلم کو برداشت کرتا ہے کہ اس کے ڈرامے کا بهانڈا نہ پهوٹے.
*برطانوی فوج میں موجود کوئی بهی مسلمان سپاہی مرتے وقت کلمہ پڑهنے لگتا ہے تو عثمانی اپنی تلوار روک لیتے ہیں.
*محاذ پر لڑتے ہوئے مسلمان فوجی پیاس سے نڈهال ہوتے ہوئے بهی اپنے ساتهیوں کے لیے ایثار کا مظاہرہ کرتے ہیں.. 
  بهوک سے نڈهال ایک ترک فوجی بے ہوش ہوکر گرتا ہے تو خلیل پاشا اسے اپنی گود میں اٹها کر لاتا ہے   جبکہ ایک برطانوی فوجی لڑکهڑاتا ہے توانگریز سارجنٹ اسے خود گولی ماردیتا ہے .
دونوں مخالفین کمانڈر کا اپنے ساتهیوں کے ساتھ رویوں کا فرق بہت جگہ محسوس ہوا. خاص طور پر انڈین فوجیوں کے ساته برطانوی افواج کا رویہ توہین آمیز تھا۔
کسی بھی جذباتی مرحلے پر انگریز فوجی شراب انڈیلتے ہیں جبکہ مسلمان تلاوت قرآن ،نماز پڑھتے نظر آتے ہیں ۔۔ ہر کامیابی پر سورہ فتح اور ہر شکست /موت پر سورہ یاسین پڑھتے نظر آتے ہیں
  ٭ ہندوستانی مسلمان کیپٹن  جو سلطنت عثمانیہ کاساتھ دیتا ہے ۔اس جرم میں  پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے 
٭ کوت العمارہ  میں برطانوی فوج کی شکست کے بعد ہتھیار ڈالنے کی تقریب قابل دید ہے۔
h
 https://www.facebook.com/TS2ESS/videos/194310931682924/
٭ غذائی قلت میں انگریز شہریوں سے  کھانا چھین لیتے ہیں ۔ اس موقع پرعلی اور اس کے ساتھی رات کو گھروں میں کھاناتقسیم  کر رہے ہیں ۔ ایک گھر میں ایک بوڑھی عورت دعائیں دے کر حضرت عمر ٖ کو یاد کرتی ہے  ۔!

٭اہم کردار ٭
اس ڈرامےمیں فوجیوں کے ساتھ جاسوسوں کا ایک بہترین  ملاپ دکھا یا گیا ہے ۔ محکمہ جاسوسی دفاع کے عنوان میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔جاسوس  اپنے اصلی نام اورشخصیت  سے بہت  کم  نمایاں ہوتے ہیں بلکہ عموما وہ پس دیوار  اور گمنام رہ کر  اپنا کردار ادا کرتے ہیں  
اس سیریز  کا ہیرو علی اسکوپلو ایک جاسوس   بے حد پرسکون  اورسنجیدہ شخصیت ہے۔ اپنے ساتھیوں پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے ۔ انتہائی خطرناک صورت حال میں بھی نہیں گھبراتا بلکہ اپنے ساتھیوں کو یہ کہہ کر تسلی دیتا ہے کہ  "جہاں ایمان ہے وہاں امکان ہے !" 
اس مہم کا  ہیرو کرنل خلیل پاشا سحر انگیز شخصیت کا مالک ہے جو  کبھی بھی غیض و غضب کا شکار نہیں ہوتا  اور  دباؤ لینے کے بجائے  بصیرت  سے کام لیتے  ہوئے  اپنے اہداف کو حاصل کرتا ہے ۔
اس جنگ  کا ایک اہم کردار کرنل لارنس ہے جو برطانوی انٹلی جنس کا اہم ترین ممبر ہے ۔وہ اس محاصرے کے دوران اس خطے میں موجود نہیں ہوتا مگر ایک مسلمان کیپٹن جعلی لارنس بن کر برطانوی فوج کو خوب نقصان پہنچاتا ہے ۔اس کی آمد کے موقع پر ٹیلی گراف کی لائینیں  ہندوستانی کیپٹن خراب کردیتا ہے اور دلچسپ بات یہ کہ لارنس اتنے بہروپ بھرتا تھاکہ اس کی اصل شکل سے برطانوی  فوج لاعلم تھی اور یوں جعلی لارنس نے اپنا کام خوب اچھی طرح کیا ۔
٭ پہلے سیزن میں برطانوی جاسوس کاکس ولن ہوتے ہوئے بھی دلچسپ حرکتیں کرتا ہے اگرچہ اپنے مشن کے معاملے میں بہت یکسو رہتا ہے ۔ برطانوی جرنل ٹاؤنشیڈ ایک مہذب کردار میں جبکہ کیپٹن ہملٹن اور ڈاکٹر ایلیسا سخت متعصب اور جنونی رویے کا مظاہرہ کرتے  نظر آتے ہیں۔
٭برطانوی فوج میں ہندوستانی مسلمان ڈاکٹر سلمان اور  کیپٹن رجعت  اپنی جان  ہتھیلی پر رکھ کرعثمانی  فوج کی ساتھ شامل رہتے ہیں ۔اسی طرح یعقوب نامی نوجوان برطانوی ہیڈ کوارٹر میں بظاہر صفائی کا کام مگر دراصل  انگریزوں کی مخبری سر انجام دیتا ہے اور  بالآ خر  دونوں شہید ہوجاتے ہیں ۔
٭ سعید بظاہر جذباتی  اورکمزور اعصاب رکھنے والا نوجوان نظر آتاہے مگر سخت تشدد کے باوجود وہ اپنی زبان نہیں کھولتا  اور مستقل مزاجی اور ثابت قدمی  کا مظاہرہ کرتا ہے۔
٭  مجنوں نام کا شخص جو بظاہر ایکسٹرا کا کردار ادا کررہا ہے مگر  مجہول سا نظر آنے والا یہ فرد اس  مزاحمت میں بھرپور حصہ لے رہا ہے ۔ سڑک پر بیٹھا ہر چیز کا مشاہدہ کر کے خبریں کمانڈر تک پہنچانا ہو  یا انگریزوں کےاسکوپلو کے خلاف کسی آپریشن میں  رکاوٹیں ڈالنا ہو، فوج کے کسی مخبر کی سرنگ تک رہنمائی کرنا ہو۔۔۔۔غرض ہر کام میں مجنوں صاحب حاضر ! اور پھر حیدر بابا اپنی شہادت سےقبل  اس کو اپنی ڈائری حوالے کرتے ہیں کہ حریت کی یہ داستان اب اسے رقم کرنی ہے 
٭
  ٭٭ اہم بات ٭٭
٭ چونکہ اس ڈرامے میں ماضی قریب (سو سال پیشتر کی دنیا ) کا زمانہ دکھایا گیا ہے تو  کچھ جدید آلات کی ابتدائی اشکال نظر آتی ہیں ۔ مثلا ٹائپ رائٹر  وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ موبائل کا زمانہ ابھی بہت دور ہے  ٹیلی فون بھی نہیں ہیں ۔روشنی  کے لیے  بجلی کے بجائے مشعلیں استعمال ہوتی ہیں ۔۔
٭ خطوط اور دستاویزات سے اندازہ ہورہا ہے کہ  ترکی میں اس وقت عربی رسم الخط ہی رائج تھا ۔
٭ ہر  مسلمان کے گھراور خیمے میں قرآن ضرور دیوار میں لٹکا نظر آتا ہے ۔
٭  مکمل بے سروسامانی کے باوجود رابطے کا بہترین مظاہرہ ٭رابطو٭  کی بہترین  تفسیر پیش کرتا ہے ۔
٭ نظم و ضبط تربیت اورپریکٹس کا متقاضی ہے مگر ان ہنگامی حالات میں بھی  اس کی عملی شکل نظر آئی ۔دشمن کی چالوں کو ناکام بنا نا اور غیر ملکی تسلط سےنجات پانا 
اس کے بغیر ناممکن تھا ۔

 ٭٭ ڈرامہ ڈرامہ حقیقت نہیں ہے ٭٭
جذبات  ڈرامے  کا بنیادی عنصر ہے ۔جس میں ایکشن  سے لے کر سازشیں ، محبت سے لے کر حسد اور بغض ، اتحادیوں کو توڑنے کی کوششیں ، انا بھی ہے اور ہتھکنڈے بھی ! اس ڈرامے میں ان سب کا بہترن امتزاج موجود ہے۔ 
ڈرامے پر اتنے گهنٹے لگانے کے بعد اس پر ریویو بظاہر وقت کا ضیاع لگے گا  اور پھر   
ہماری قابل تاریخ نگار نے درست کہا کہ تاریخی فلم یا ناول  تاریخ نہیں ہوتی۔۔۔۔ بالکل صحیح تجزیہ ہے مگر تاریخ کی کتاب تک پہنچانے کا ذریعہ ضرور یہ ناول اور ڈرامے ہوتے ہیں .
آخر عثمانی خلافت کے بارے میں ہم پاکستانی کتنا جانتے ہیں ؟ نصاب یا میڈیا  نے کبھی اس حوالے سے کوئی ذہن 
سازی کی یا جیسا کہ انڈین سپاہی نے کہا کہ ہماری تو تاریخ تک انگریزوں کے ہاتھ میں ہے
سچ کہا تها اردوان نے جب تک شیر اپنی تاریخ خود نہیں لکهیں گے گیدڑ اس کو مسخ کرتے رہیں گے۔۔ .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ...


https://www.facebook.com/TS2ESS/videos/194310931682924/



پیر، 8 جون، 2020

مہمچک کوۃ العمارہ


23 مارچ سے شروع ہونے والے لاک ڈاون کا پہلا ہفتہ تو غیر معمولی چهٹیوں اور حالات کے رومانس میں گزرا . امتحان کے بوجھ سے آزاد ہوئے تو سب نے اپنی اپنی مصروفیات ڈهونڈ لیں...بچوں کے ساتھ وقت گزارنے میں ایک فائدہ ہوتا ہے کہ بڑے بهی بهولی بسری باتوں کو یاد  کر لیتے ہیں جو روزی روٹی کے چکر میں بهولے ہوئے ہوتے ہیں
.12 سالہ بهانجہ ترکی تاریخی ڈرامہ اپنے خاندان کے ساتھ دیکھ رہا ہے .ہر قسط کی خصوصی بات یا کلپ ضرور گوش گزار کرتا ہے اور اصرار بهی کہ آپ ضرور  دیکهیں ..

.
مثلا  یہ  منظر 1914ء میں بصرہ کے برطانوی  قیدی کیمپ کا ہے جہاں مسلمان قیدی اذان اور باجماعت نماز کے لیے نگرانوں کی سختی سہہ رہے ہیں .جس طرح زبردستی انہیں الگ الگ کیا جارہا ہے جو موجودہ کرونا بحران سے مشابہت رکھتا نظر آتا ہے  اور پهر میں بهی اس کے اصرار پر دیکهنے لگتی ہوں!پہلی قسط دیکھ کر مجھے یاد آیا کہ دو سال پہلے مجھے  کسی نے اس ڈرامے کا  لنک بھیجا تھا  جسے  میں نے عدم فرصتی اور غیر دلچسپی کے باعث  قابل توجہ نہ سمجھا تھا ۔
 ترکی زبان میں فوجی کے لیے پیار بھرا لقب ہے
   MEHMETICK
یہ کہانی ان چند سر فروشوں کی ہے جو وطن کے دفاع کے لیے سر توڑ کوشش کر تے ہیں اور جن کا ماٹو ہے
                                               ٭جد و جہد ہماری ,فتح اللہ کی ٭     !!
٭تشکیلات مخصوصہ ٭  حکومت عثمانیہ کی خفیہ محکمہ جاسوسی  (انتیلیجنس) ہے جو فوج کے مساوی اور متوازی اہمیت کی حامل ہے ۔معلومات بہت بڑی طاقت ہے  اور جنگ میں تو تھوڑی سی معلومات بھی اہم ہے جس کی بنیاد پر ہاری ہوئی جنگ جیت 
لی جاتی ہے جبکہ کبھی غلط معلومات برعکس نتائج بھی دیتی ہے ۔
 .یہ زمانہ ہے پہلی جنگ عظیم کا اور منظر ہے مڈل ایسٹ کا ...جب برطانوی اور جرمن فوج یہاں اپنے قبضے کے لیے بر سر پیکار تهیں ..اور خلافت عثمانیہ جرمن فوج کی حلیف اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی تهی۔ ترکوں اور عربوں کو آپس میں لڑانے کے لیے برطانیہ خوب چالیں چل رہا ہے ۔ .کوت  العمارہ بصرہ اور بغداد کے درمیان دریائے دجلہ کے کنارے آباد ایک قصبہ  ہے جو عثمانی سلطنت کے زیر انتظام ہے .

کہانی کا آغاز سلیمان عسکری انچارج سیکرٹ تنظیم کی بریفنگ سے ہوتا ہے جس میں وہ پراجیکٹر پر نقشوں کے ذریعے دشمن کی کاروائیاں اور اپنی تیاریوں کی بابت بتا رہا ہے. دوسری جانب انقرہ میں ایک طالبعلم محمد تقریر کے ذریعے حب الوطنی پر سب کو ابهار رہاہے .وہ  ریٹائرڈ فوجی حصرو کا لے پالک بیٹا ہے جسے وہ اپنے بیٹے سعید کے ساتھ عثمانی بٹالین میں شمولیت کے لیے تربیت دے رہے ہیں ۔ یہ دونوں  نوجوان جوش سے سرشار ہیں.. سعید جذباتی اور جلد باز ہے اور جہاں بهی محمد سے پیچهے رہتا ہے پریشان ہونے لگتا ہے .
سلیمان عسکری اپنی رجمنٹ میں بهرتی کے لیے انتخاب کا معائنہ کرتے ہیں ..سعید نشانے کی کمزوری کے باعث منتخب ہونے سے رہ جاتا ہے ..
برطانوی جاسوس کو روکنے کی کوشش میں محمد  کی ٹانگ میں گولی لگتی ہے اور وہ ہسپتال میں داخل ہوجاتا ہے .اور یوں عثمانی بٹالین کی پوسٹنگ سے محروم رہ جاتا ہے .سلیمان عسکری اس کی جگہ سعید کو تقرر کر لیتے ہیں .
اس کے علاوہ خفیہ ادارے میں خدمات  کے لیے وہ اس کے والد حصرو  کو ذمہ داری تفویض کرتے ہیں .
محمد زخمی ہونے کے باوجود کسی طرح اس ٹرین میں سوار ہوجاتا ہے جو اس بٹالین کو لے جارہی ہے. گویا تینوں باپ بیٹے ایک ہی سفر پر ہیں.محمد کی ٹرین میں موجودگی کا انکشاف اس برطانوی جاسوسہ کے ذریعے ہوتا ہے جسے وہاں قید کیا جاتا ہے جہاں اتفاق سے محمد روپوش ہوا ہے۔سعید محمد کو چهپائے رکهتا ہے  اور خصوصی مشن پر روانگی پر بهی وہ محمد کو صندوق میں ڈال کر اپنے ہمراہ لے جاتاہے۔ اس دوران ان کی برادارانہ چپقلش بھی چلتی رہتی ہے۔  
ان کامشن برطانوی حملے کا شکار ہوتا ہے اور وہ ان دونوں کو قید کر لیتے ہیں۔ 
محمد کسی طرح دستاویز لے کر نکلنے میں کامیاب ہوجاتا ہے.صحرا میں بهٹک کر بے ہوش ہوجاتا ہے. اس موقع پر زینب اس کی مدد کو آتی ہے
زینب اپنی نانی کے ساته جڑی بوٹیوں اور زہر کے تریاق سے شفا کا کام کرتی ہے. زینب بهی تنظیم کی ممبر ہے .وہ محمد کی اطلاع سلیمان عسکری کو دیتی ہے .سعید کو بهی رہا کروالیتے ہیں .وہ ان دونوں کی مزید تربیت اور امتحان سے گزارتے ہیں ۔محمد کا مشن اپنے ساتهیوں کے ساتھ بصرہ کی جیل میں قید ہونا ہے وہاں تشکیلات مخصوصہ کا ایک سیکرٹ ایجنٹ موجود ہے ...
منحنی سا بے ضرر علی بظاہر غبی نظر آنے والا ایک ہاتھ سے معذور فرد بہت ہی صلاحیتوں کا حامل اور خاص آدمی ہے. .وہ بلیڈ کے آدهے ٹکڑے کی مدد سے جیل کے 5 سپاہیوں کو قتل کر کے فرار ہوتا ہے  اور پهر بقیہ تمام قیدیوں کو بهی رہائ دلواتا ہے .تب انکشاف ہوتا ہے کہ وہ معذورنہیں ہے بلکہ ذہین فطین اور چست و چالاک ہے!
 اس مہم میں کامیابی کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بر طانوی افواج کو ناکوں چنے چبوا دیتاہے! کبھی بٹلر بن کے جرنل کے مشروب میں زہر ملا دیتا ہے تو کبھی لوڈر بن کر تیل میں ملاوٹ کر کے بر طانوی فوج کی حرکت کو روک دیتا ہے۔
اس کا کہنا تها کہ ہم دشمن کی طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو اس کو کمزور کرکے اپنا هدف آسان کر سکتے ہیں .بند مٹهی کی  طاقت کو انگلیاں الگ الگ توڑ کر  ختم کر سکتے ہیں
 بہت سی کامیا بیوں کی نوید سمیٹتا،دشمن کے کئی  رازلے کر جب علی اپنے کمانڈر کے پاس پہنچتاہے تو وہ اسے اس جرم میں گرفتار کرلیتاہے کہ اس نے اپنی من مانی کر کے ڈسپلن کو توڑا ہے ! علی کے ساتهیوں  کو معطل کر کے کچن کے کاموں میں لگادیتا ہے ..
 (آہ ! اس موقع پر ناظرین اپنے غم و غصے کے جذبات چهپانے سے قاصر ہیں ..کمانڈر بد نیت نہیں ہے مگر کمزور کہیں یا پهر انا کا اسیر کہ قوم کو خطرات میں جهونک دیتا ہے)
علی کے ساتهی اسے جیل سے فرار کراتے ہیں اور خود بهی بهگوڑے بن جاتےہیں ۔۔   دشمن کا جاسوس  غدار کی مدد سے علی کو گرفتار کر کے اس کے ساتھ  اپنی دوستانہ تصاویر لے کر رہا کر دیتا ہے اور  پهر وہ تصویر عثمانی کمانڈر تک پہنچادیتا ہے
یہ تصاویر دیکھ کر علی کی غداری کا یقین کرکے اس کی یہ تصویر پوسٹڑ بنا کر  شہر میں آویزاں کروادیتاہے .. جس بات پر ایک بچہ بهی یقین کرنے کو تیار نہیں اس پر اتنی بڑی فوج کے کمانڈر کا یقین کرلینا  فہم شناسی کی کمی کا مظہر ہے.. 
اس موقع پر ہمیں علی  اسکوپلو کا یہ کردار نظر آتا ہے کہ اسے دشمن کی سرگرمیوں کی اطلاع ملتی ہے تو وہ سب کچھ بالائے طاق رکهتے ہوئے وطن کی خاطر کمانڈر تک پہنچتا ہے اور اس کو قائل کر کے اطلاع کے مطابق متفقہ پلان بناتا ہے مگر غدار کے ذریعے  یہ پلان   دشمن تک پہنچ جاتا ہے ۔ اس اطلاع پر  دشمن  ایک جعلی مقابلہ ترتیب دےکر کمانڈر کو یہ تاثر دیتا ہے کہ علی کا پلان غلط تھا ۔۔۔ اوراپنے لحاظ سے پلان بناتا ہے .. 
نتیجا! دشمن اپنی کاروائی کر کے کوٹ العمارہ پر قبضہ کر لیتاہے .سلیمان عسکری سمیت کئی قیمتی افراد شہید ہوجاتے ہیں سب کچه تتربتر ہوجاتا ہے .ہیڈ کوارٹر پر ہلال کی جگہ صلیب والا پرچم لہرانے لگتا ہے۔اگر چہ علی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ آبادان کی آئل ریفائنری پر قبضہ کر لیتا ہے مگر کوت العمارہ پر انگریز کے قبضے کے باعث خام تیل کی فراہمی ناممکن ہوجاتی ہے اور اسے تباہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔
انگریز کے حوصلے بلند ہوتے ہیں اور وہ بغداد کی جانب پیش قدمی کے لیے تیار ہوجاتے ہیں ۔ انہیں یہ یقین ہوجاتا ہے کہ ان کا واسطہ  کمزور ، بیمار اور شکست خوردہ دشمن سے ہے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  .
یہاں پر پہلا سیزن اختتام کو پہنچتا ہے .کم و بیش 2 گهنٹے کی19  اقساط پر مشتمل یہ سیزن دیکهنے کے بعد ناظر شدت سے سوچتا ہے کہ:
٭ تمام تر جذبوں اور حرکات کے باوجود محض  غلط حکمت عملی کس طرح تمام کیے کرائے پر پانی  پهیر دیتی ہے
٭کسی بھی فریق کی ہار میں غدار بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ عین موقع پر بغاوت اور بزدلی کا مظاہرہ کر کے جیتی ہوئی جنگ کو شکست میں بدل دیتے ہیں ۔ 
٭تنظیم ہو یا ادارے اعلی عہدے داران اور ذمہ داران جب بهی زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے صرف اور صرف حکام بالا کی اطاعت کو ہی وفاداری سمجهتے ہوں وہاں ضرور نقصان اٹهانا پڑتا ہے،ساکھ برباد ہوتی ہے۔





اتوار، 7 جون، 2020

ہمارا پہلا روزہ

ہمارا پہلا روزہ

یادیں کسی شو روم کی طرح سجی ہوں یا ورکشاپ کی مانند بکھری ہوں بہر حال انہیں سمیٹنے میں محنت لگتی ہے! مگر نہیں سوچنے میں اتنی دیر نہیں  لگتی جتنی لکھنے میں! وہ بھی رمضان المبارک اور کے الیکٹرک کی حد سے بڑھی ہوئی مہربانی کے ساتھ....مگر ہم نے یہ سوچ کر لکھنا شرو ع کردیاہے کہ ہمارے آ خری روزے کا احوال تو نہ کوئی پوچھے گا نہ لکھ پائیں گے لہذا پہلے کی روداد لکھ کر جان چھڑائیں ...
جب ہم نے روزہ رکھنا شر وع کیے تو موسم اور روزہ کی لمبائی دونوں بہت  معتدل اورمناسب تھے یعنی ستمبر، اکتوبر،مگر چونکہ شرط پہلے روزے کی ہے توعرض ہے کہ وہ شدید سردی کا موسم تھا! پس منظر کچھ یوں ہے کہ ہم اسٹاف ٹاؤن میں رہائش پذیر تھے جہاں بیس گھروں کا ایک بلاک تھا  جودو لائنوں میں بٹے ہوئے تھے کچھ اس طرح کہ ہر دو گھر کے بعدخالی جگہ گویا ہرمکان کارنر پلاٹ تھا۔ ہمارا گھر لائن کے آخر میں تھا جس کے آ گے گہرا جنگل اور سامنے اونچا نیچا میدان! اس کے بعد دوسرے بلاک شروع ہوتے تھے۔ہمارے بالکل سامنے چچا جمال رہا کرتے تھے۔ ان کی ابا سے دوستی تھی اور ان کی بیگم جنہیں ہم خالہ کہا کرتے تھے امی کی ہمجولی! ان کی بری بیٹی الماس سے ہماری دوستی تھی۔دونوں گھروں کے درمیان ایک  چوڑی سی گلی تھی۔(پتہ نہیں اتنی تفصیل  پڑھ کر آپ کے ذہن میں وہ خاکہ بنا یا نہیں جو ہما رے گھر کا تھا؟)
   
   ماہ رمضان کی ایک کہر آ لود دوپہر کا ذکر ہے جب امی اور صا حبہ خالہ گلی میں کھڑی دھوپ سینک رہی تھیں اور بچے وہیں منڈلا رہے تھے تو صاحبہ خالہ نے مشورہ دیا کہ بھابھی منڈی سے بہت سارا پھل اور سبزی آ گئی ہے کیوں نہ بچوں کو روزہ رکھوا دیا جائے! ہماری والدہ بھی کسی مہم جو سے کم نہیں تھیں چنانچہ فوراً عملدرآمد کا عندیہ دے دیا گیا ہوگا۔ قرعہ فال ہم تین بچوں کے نام نکلا جو شرائط کے قریب تھے یعنی کبھی روزہ نہ رکھا ہو! الماس، فر حت اور بھائی طارق! دوسری اور تیسری جماعت کے بچے! انتظا مات کی جزئیات بتانے سے قاصر ہیں کیونکہ اگر معلوم ہوتا کہ ہمیں اس موضوع پر کبھی لکھنا پڑے گا تو ہم کان لگاکر امی سے تفصیلات سن لیتے جو آج فر فر لکھ دیتے مگر .اب تو ہمیں اپنی یادداشت اور امی سے سنی  ہوئی بات پر اپنی تحریر مکمل کرنی ہوگی۔اس قسم کی تقریبات میں نا نا نانی اور دادا دادی کی شرکت نہایت ضروری سمجھی جاتی تھی اور ہے کیونکہ یہ ہی تو اصل مال خرچ کرتے ہیں مطلب یہ کہ ڈھنگ کے تحفے اور سلامی وغیرہ دیتے ہیں! اس جملہ معترضہ کے بعدسوچتے ہیں کہ کس طرح ان کو مدعو کیا گیا ہوگا؟ ٹیلی فون تو تھے نہیں اس وقت موبائیل اور فیس بک وغیرہ کا کیاذکر!  لیکن اس زمانے میں ٹرانسپورٹ کا نظام بہت مناسب تھا۔ اسٹاف ٹاؤن کی بس ہر گھنٹے پر نکلا کرتی تھی۔آج جو سوسائٹی آفس جانے کاسوچ کر رہ جاتے ہیں اس وقت دو رویہ جنگل کے بعدپہلی آبادی وہی تھی  لہذا چنانچہ کسی کو دوڑا دیا گیا ہوگا ہماری روزہ کشائی کی اطلا ع دینے کو!
 
    روزہ کا آ غاز سحری  سے ہوتا ہے۔ اس کی تفصیل کیا بتائیں خاک بھی یاد نہیں! ہاں یقین ہے کہ مالیدہ ہو گا (گھی شکرمیں پکا پراٹھا جسے باریک کر کے چمچ سے کھاتے تھے یا پھر دودھ کے ساتھ۔ دادی کے ہاتھ کا بنا ملیدہ ہم بچے شوق سے کھا یا کرتے تھے!)۔ چونکہ سردی تھی لہذا دن تو چھوٹے ہوں گے اور جلد ہی افطار کا وقت آ گیا ہوگا!
 
    ڈرائنگ روم میں فر شی نشست بچھی تھی۔ جس میں سارے بچوں کو لائن سے دورویہ بٹھا یا گیا تھا۔روزہ دار گلاب کے ہار پہنے بیٹھے تھے جنھیں دیکھ کر بقیہ بچوں کے دل میں بھی ارمان اٹھ رہے ہوں گے!  درمیان میں دستر خوان پر افطاری سجی تھی۔مینو کا کیا بتا  ئیں! امرود اور فروٹ چاٹ تو یقینا تھی (جن کی وجہ سے ہم روزہ داروں کی صف میں شامل ہوئے تھے!) کینو اور نارنگیاں لڑھک رہی تھیں بلکہ بچوں نے اس سے کیچ کیچ کھیلنا شرو ع کر دیا تھا جس پر نا نا جان کی ڈانٹ صدا بصحرا ثابت ہورہی تھی۔ خیر کسی نہ کسی طرح اس میچ کو رکوایا گیا۔ پکوڑے اور چھولے بھی ہوں گے! ایک میٹھی ڈش جو ہمارے بچپن کا خاص رمضانی آ ئٹم ہوا کرتا تھا۔آ فیشل نام تو منگوچھی (مونگ کی دال تل کر شیرے میں ڈبوئی جاتی تھی) مگر بچوں کے لیے اسکا نام گپ ُچپُ ہوا کرتا تھا ضرور ہوگی!  سموسے تو ہم کو اچھی طرح یاد ہے کہ موجود تھے کیونکہ ان کے کونے (جو ہمیں آ ج بھی بہت مر غوب ہیں)کے ذرات ہم افطار سے قبل منہ میں ڈال چکے تھے۔ گلاب کی پتیا ں بھی چاٹ چکے تھے (جس پر بعد میں ہم نے اللہ سے بہت توبہ بھی کی تھی)
   .....
   .....تو عزیز قارئین! یہ تھی ہمارے پہلے روزے کی روداد  جسے یہاں پرختم ہو جا نا چاہیے تھا۔اس سے زیادہ بڑ ھا یا نہیں جا سکتا مگر جب یادوں کی پٹاری کھلی ہے تو اسے ایک متعلقہ حتمی بات تک پہنچانا ضروری ہے! رمضان کے بعد عید گزری ہوگی پھر بقر عید آئی ہوگی مگر ان دونوں کے درمیان کا ذکر ہے۔ چاند کی تاریخ تو معلوم نہیں ہاں جنوری کی سولہ تاریخ! ایک یخ بستہ رات تھی! ہم بستروں میں دبکے ہوئے تھے۔ آ نکھ کھلی تو  امی خالہ جان (یہ دوسری والی جن سے ہماری دیوار ملتی تھی) سے گفتگو میں مشغول تھیں۔ ہم کروٹ لے کر سوگئے۔صبح اٹھے تو ایک دکھی خبر (اس وقت تو خوفناک بھی لگی تھی) منتظر تھی۔ الماس اورصا حبہ خالہ مع ڈرائیور حادثے میں ختم ہوگئے!!!

  زندگی میں پہلی بار موت سے آ شنا ہوئے تھے۔ اس سے پہلے ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ دنیا میں جس کا کا م ختم ہوجاتا ہے اللہ میاں اسے اپنے پاس بلا لیتے ہیں مگر یہاں  ....؟ الماس تو شام کو ہمارے ساتھ کھیل رہی تھی۔دادی کے گھر جا نے کو تیار تھی ہم نے اسے   چونی (پچیس پیسے کا سکہ) دی تھی  کیونکہ اس نے بتایا تھا کہ میری دادی کے گھر کے پاس دکان میں ناخن پالش ملتی ہے تین آ نے کی!اس کا کام کہاں ختم ہوا؟ اور خالہ صاحبہ کے بغیر گھر کیسے چلے گا؟ ڈرائیور کی تو ابھی شادی ہونیوالی تھی ......آہ زندگی یہ ہی ہے!
تفصیل یہ تھی کہ جمال چچا نے نئی گاڑی خریدی تھی۔ ڈرائیور کے ساتھ گھومنے گئے۔ واپسی میں سوئی گیس ٹرانسمیشن کے قریب (جہاں اب NED  اور سمامہ شاپنگ سنٹر ہے۔ اس وقت اندھیرا جنگل ہوا کرتا تھا) حادثے کا شکار ہوگئے۔ یہ مقام بڑا خونی تھا کہ یہاں کئی حادثے ہوچکے تھے۔ گاڑی میں موجود الماس، خالہ صاحبہ اور ڈرائیور زندگی ہار گئے۔ ننھی گڑیا کے صرف گال اور ماتھے پر زخم آ یا جبکہ بھائی گاڑی سے باہر جاکر گرا اور ٹانگ ٹوٹ گئی۔ حادثے کے بعد وہاں سے اسٹاف ٹاؤن کی آ خری بس گزری تو دیکھا۔ گاڑی کے باہر بسکٹ اور کھلونے بکھرے پڑے تھے!(شاید ان میں میری ناخن پالش بھی ہوگی!) جمال چچا کو اطلاع ملی تو وہ صدمے سے ذہنی توازن کھو بیٹھے۔تین میتیں ایک ساتھ اٹھیں تو پورے محلے میں ایک کہرام مچا ہوا تھا! دادی جان اور امی میں اس بات پر بحث ہوئی کہ بچوں کو لاش دکھائی جائے یا نہیں! بہر حال  جو بھی طے ہوا ہو ہم نے گھس کر ان دونوں کو قریب سے دیکھ لیا تھا! الماس سفید کفن اوڑھے لیٹی تھی چہرے پر زخم کا نشان! منہ کھلا ہوا تھا گویا وہ موت کو دیکھ کر حیرت زدہ ہوگئی ہو بالکل ایسے جیسے ٹی وی دیکھتے ہوئے خوفناک منظر پر کھلا رہ جاتا تھا۔ امی کی بات یاد آ گئی جو انہوں نے الماس ماں بیٹی کے حوالے سے دہرائی تھی۔ اس حادثے سے چند دن قبل الماس اپنی ماں کے ساتھ جانے کو ضد کر رہی تھی جبکہ وہ اسے گھر پر چھوڑنا چاہ رہی تھیں تو انہوں نے غصے سے کہا تھا یہ تو میرے ساتھ ہی مرے گی ...! بعض جملے سچ ثابت ہوکرکتنے ہولناک بن جاتے ہیں!
 
 عزیزقارئین! یہ بلاگ بہت ہلکے پھلکے انداز میں شروع ہوا تھا مگر یقین ہے کہ آپ اسے پڑھ کر اداس ہوگئے ہوں گے! موت کا ذکر ہی ایسا ہوتا ہے!  ان ہی دنوں میری ایک دوست اپنے والدین کے ہمراہ لیبیا چلی گئی تھی تو وہ ٹو ٹی پھوٹی تحریر میں خط بھیجا کرتی تھی جبکہ الماس صرف تصور بن کر رہ گئی تھی۔ کم عمری  میں ہونے والے فلسفہ موت سے آگہی ہوئی جوا دھوری تھی جبکہ مکمل اور اصل حقیقت تو یہ ہے کہ موت دوسری دنیا کی طرف سفر کا نام ہے جو اصلی اور دائمی زندگی ہے!ہم اس وقتی جدائی کو ہمیشگی سمجھ بیٹھتے ہیں! 

  بہر حال پہلے روزے کی یاد نے بچپن کی سنہری یادوں کو ہمارے لیے بکھیر دیا۔ سمجھ میں نہیں آرہا کن باتوں کوپکڑیں اور کس کو چھوڑ دیں!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔     )  فر حت طاہر  (   







اتوار، 19 اپریل، 2020

کس کی مرضی ؟



'' کس کی مرضی  ؟    "

لیجیے !!کنفیوز قوم کے سامنے ایک اور کنفیوزن آگیا !منتشر الخیال گروہ کے انتشار کے لیے ایک اور سامان  !
. بچپن اور نوعمری سے ہی شب براءت اور شب قدر کی بحثیں سنتے رہے ، میلاد میں کھڑے ہونا ہے یا نہیں ؟ آمین زور سے کہنی ہے یا دل میں ؟  قضائے عمری پڑھنی چاہیے یا نہیں ؟ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔نماز قصر  کی مسافت  پر بھی بہت سی آراء  ملتی رہیں ۔۔۔اور ہم جس کے ساتھ سفر کرتے اسی  کی رائے کو مقدم جانتے۔۔
 وسیع المشربی کے باعث یہ بھی تعلقات اور حالات پر منحصر رہا ! جیسی محفل ویسے ہی آداب چار و ناچار کر نے پڑے .نتیجتا کبھی شدت پسندی کا طعنہ ملا تو کبھی تقلید کا .! کبھی دفع شر کی خاطر خاموش رہتے، کبهی وسعت قلب کا مظاہرہ کرتے تو کبھی بحث پر اتر آتے ..اسی میں وقت  گزر رہا تھا  مگر پھر مقصد زندگی کچھ ایسا نصب العین بن کر سامنے آیا کہ یہ سارے مسائل ضمنی لگنے لگے ! بے کار فضول ! منزل پر نگاہ ہو تو چھوٹے اسٹیشن کی پرواہ نہ کرو ..!.
پہلے یہ ساری بحثیں ایک معلوم دائرے کے اندر ہوتی تھیں پھر   ٹیکنالوجی کی بدولت   دنیا کے گلوبل ولیج بننے سے رفتہ رفتہ روابط وسیع تر ہوتے گئے اور سوشل میڈیا کی بدولت تو ان بحثوں کے نئے نئے زاویے سامنے آتےگئے بلکہ ہر آنے والا دن ان میں عنوانات کا اضافہ کرتا رہتا ہے ۔اب بات صرف مذہبی نہیں رہی بلکہ ثقافتی ، علاقائی ، ………………معاشرتی۔۔۔۔.
ارے آپ کہیں ہماری طولانیت سے گھبرا کر پڑھنا نہ چھوڑ دیں ہم مختصر بات کرتے ہیں!
ماہ شعبان رمضان المبارک کی تیاریوں کے حوالے سے موسوم ہے ۔ اس تیاری میں روحانی اور اخلاقی درجات کی بلندی کے ساتھ مادی جس میں غذا اور ملبوسات کے ساتھ ساتھ بود و باش بھی شامل ہے ۔
رمضان  سے پہلے عید کی تیاری مکمل کر لی جائے! ہمیشہ سے  یہ ایک نقطہ نظر رہا ہے مگر اس کے باوجود چاند رات تک شاپنگ بھی  آبادی کے ایک بڑے حصے کی  سرگرمی رہی ہے ۔ان کی اپنی وجوہات ہیں جن میں پیسوں کے انتظام سے لے کر فرصت کی دستیا بی کے ساتھ جدید ترین  فیشن کے مطابق اپنی تیاری سر فہرست ہے ۔ یہ دونوں رویے ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں ۔یہ دونوں گروپس اپنے تجربات کی روشنی میں ایک دوسرے کو مشورے دیتے چلے آرہے ہیں ۔
ہر سال ایسی ہی فضا شعبان میں نظر آتی  ہے۔ پچھلے چند سالوں میں اس اختلاف کا دائرہ صرف ملبوسات اور صفائی ستھرائ، سجاوٹ تک نہیں رہا تھا بلکہ اسے داخل طعام بھی کرلیا گیا !  رمضان کی آمد سے قبل کھانے پینے کا اہتمام کر لیا جائے تاکہ عبادت یکسوئی سے کر سکیں ۔۔اس مشورے میں پیاز فرائی کر کے رکھنے سے لے کر چنے ابال کر رکھنے تک کے مشورے مع جزئیات فراہم کیے گئے ۔ جبکہ دوسرے گروپ  نے  ا ن مشوروں کو مسترد کرتے ہوئے یہ رائے دی کہ رمضان قلت طعام کا نام ہے کوئی فوڈ فیسٹیول نہیں کہ انواع و ڈشز کی تیاری ، محفوظ کرنے اور پیش کرنے میں قیمتی سعادتیں ضائع کی جائیں ۔ ہر گروپ اپنی رائے پر اصرار کرتا نظرآیا  دونوں کی باتیں وزنی تھی۔ پہلے سے افطاراور طعام  کا انتظام کرنے والوں کی دلیل تھی کہ ہماری پچھلی نسل کو دورہ قرآن وغیرہ کی سر گرمیوں کے لیے اتنا وقت نہیں دینا پڑتا تھا چنانچہ وہ روز کا کام روز کرتی تھیں ۔۔۔
اس بات پر ہمیں بھی اپنا بچپن   یاد آگیا ۔برابر والی پڑوسن اگر رجب میں ہی تیاری کر لیتی تھیں تو سامنے والی رمضان کا چاند دیکھ کر سلائی مشین نکالتی تھیں کہ اچھا وقت گزرے گا ! یعنی یہ بات طے ہوئی کہ ترجیحات کا تعلق کسی خاص دور سے نہیں ہے ، نہ کوئی لگابندھا فارمولا ہے ! ہر ایک کی ضرورت اور سمجھ کے مطابق ہوسکتا ہے ۔۔۔
اس بات کو اس پس منظر میں دیکھیں کہ ہماری قوم کےمزاج  میں بڑا تنوع ہے ۔ اس کا تعلق شاید ہمارے خطے کے مقام اور محل وقوع ( (Topography سے ہو !    جاپان جیسے ملک کی مثال دیکھیں  جہاں 50 خواتین کو بھی اگر سیب اور چھری دے دی جائے تو  وہ سب ہم شکل اور ہم وزن  قاشیں بنائیں گی  اور اگر یہ تجربہ ہمارے   علاقے میں دہرایا جائے آپ کے خیال میں کیا نتیجہ  نکلے گا ؟


یہ ساری بحثیں  ذہن میں کھچڑی کی طرح پک رہی تھیں اور پچھلے کئی سالوں سے اس پر کچھ لکھنا چاہ رہے تھے  لیکن  آج 16شعبان کو جب یہ بلاگ مکمل کیا جا رہا ہے تو اس کی افا دیت یقینا وہ نہیں بن رہی جو پچھلے سال  تک ان دنوں میں تھی ! کیونکہ سب لاک ڈاؤن کاشکار ہیں !  دنیا کا منظر نامہ مکمل طور پر تبدیل ہے بقول وسعت اللہ خان کرہ ارض  مرمت کے لیے بند ہے !  ۔
اب نہ شب براء ت کی فضیلت پر دروس اور پیغامات ہیں اور نہ ان کی رد میں احادیث اور مضامین کا پھیلاؤ!  ابھی تو وہ میسج بہت گردش میں ہے جس میں دو لڑکے  محو گفتگو ہیں :
"۔۔۔  یار پہلی دفعہ بغیر حلووں اور پٹاخوں کے شب برات گزر رہی ہے ۔۔۔!"
اب نہ پیاز تل کر  ، ادرک لہسن پیس کر ، پھل / سبزی کاٹ کر رکھنے کے ٹوٹکے ہیں اور نہ ہی ان پر رنگا رنگ تبصرے اور اعتراضات ! نصیحتیں  اور فضیحتیں !  
اب ہر ایک کے پاس ایک ہی موضوع ہے یعنی سب ایک صفحے پر ہیں ۔۔کیا غریب اور کیا امیر! کیا ماہر  اور کیا عالم !  کیا مبلغ اور کیا مقلد! سب ہی اس مرض کے زیر اثر ہیں ۔۔۔جی نہیں خدانخواستہ مریض  یا متاثر نہیں ہیں مگر اس کی وجہ سے محدود اور مقید ہیں ۔۔۔۔
مگر قربان جائیے اس مخلوق کی رنگارنگی  کے اور افتاد طبع کے کہ اس ایک موضوع کے گرد بھی انواع و اقسام کے احساسات ،  رویے ، تبصرے اور تجزیے سننے اور دیکھنے کو مل رہے ہیں.
کچھ کے خیال میں  عذاب الہیٰ  ہے تو کسی کی نظرمیں آزمائش !
کچھ دجالی فتنہ اور ڈرامہ کہہ رہے ہیں تو کچھ سازش !
تنبیہ ہے  یا سزا۔۔۔۔؟

اوراپنے اپنے نظریہ کے مطابق اسباب و وجوہات بیان کیے جارہے ہیں ، علاج تجویز ہورہے ہیں ،سائنسی اور مذہبی انکشافات ہورہے ہیں ۔۔احادیث ، پیشن گوئیاں اور ماضی کی فلمیں ، ناولز حتی کی کارٹونز تک کے ذریعے  تصدیق کی جارہی ہے ۔ اپنے دلائل کے لیے ثبوت مہیا کیے جارہے ہیں  ۔۔۔ ! ساری دنیا ایک فریکوئنسی پر آگئی ہے مگر مجال ہے دو  ہم پیشہ افراد کی رائے بھی ایک ہو ! کسی کاتجربہ دوسرے سے مشابہت  رکھتے ہوئے بھی متصادم   نظر آتا ہے ۔۔۔۔!
کہا جا تا ہے کہ   تنوع میں خوب صورتی ہے ! طاقت ہے ۔ Diversity is Strength!
اختلاف میں حسن ہے !  اب کیا ہوکہ ایسا حسن ہے کہ آنکھیں چکا چوند ہورہی ہیں ! اور شاید یہ ہی وہ خدشہ تھا جس کی طرف ملائکہ نے اشارہ کیا تھا  ۔بات تو درست ہے  کہ انسان کا خمیر  مخلوط مٹی سے اٹھا  ہے  اوریہ بھی کہ  ہر فرد منفرد ہے  تو ہر ایک کی رائے بھی جد اہوگی مگر سوال یہ ہے آخر انسان کتنے گروہوں میں تقسیم ہوں گے ؟ اور اس الجھن  سے قرآن  ہی نکالتا ہےکہ انسان تو دو ہی طرح کے ہوں گے !ہر عمل کرنے والے کو اجر ملے گا ۔اچھا یا  برا ؟ فیصلہ بلحاظ  نیت  ہوگا !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فر حت طاہر