منگل، 26 جون، 2018
منگل، 19 جون، 2018
مئی 2017ء سے مئی 2018ء تک
گاڑی میں بیٹھنے سے قبل پلٹ کر شادی ہال کے بلوریں
دروازے پر لگے پوسٹر پر نظر ڈالی اور اپنے موبائیل کی ختم ہوتی چارجنگ کو بغور
دیکھ کر مایوسی سے گاڑی میں بیٹھ گئی!
فاسفورس کلر سے لکھا گیاRamzan Welcome کا
پوسٹر ڈوبتے سورج کی کرنوں میں چمک رہا تھا جو گاڑی کے آگے بڑھنے کے ساتھ ہی ہماری
بصارت سے دور ہوتا گیا اور ایک یاد گار لمحہ بن کر حافظے میں محفوظ ہوگیا۔
یہ ۷۱ / مئی ۷۱۰۲ء کی شام کا ذکر ہے اور
آج ٹھیک ایک سال بعد اپنی ڈائری کے اوراق پر درج اس محفل کی روداد دیکھ کر یہ بلاگ
لکھا جارہا ہے جیسا کہ اکثر سوشل میڈیا خصوصا فیس بک سال بھر پہلے کی سرگرمی آپ کے
سامنے تازہ کر کے پیش کرتی ہیں!
مارچ2017 ء میں ذمہ داری اٹھاتے ہی جیسے سر گر میاں منتظر تھیں جن میں سب سے بڑی تقریب
استقبال رمضان کی ہوتی ہے۔اس کے انعقاد کے لیے مشاورت کی۔تقریبا ۷ مربع میٹر پر پھیلے
علاقے میں تقریب کہاں رکھی جائے کہ سب بآ سانی پہنچ سکیں اور بات رقبے سے بھی
زیادہ بندوں کی گنتی پر منحصر ہے کہ ایسی جگہ ہو جس میں تمام شرکاء سہولت سے بیٹھ
سکیں۔کسی شادی ہال یا بینکوئٹ میں ہونا چاہیے! یہ تھا مشورہ جوبڑی شدت سے آیا۔
ہال کی بکنگ سے لے کر تقریب کے اختتام تک کے جملہ مراحل
کا بخیر و خوبی تکمیل پاجانا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ ایسا پروگرام جس میں ریہرسل کی گنجائش نہ ہو ایک تلوار کی طرح منتظمین خصوصا ناظمہ کے سر پر
لٹکتا رہتاہے۔کچھ ایسی ہی صورت حال سے ہم گزر رہے تھے۔ اپنے بجٹ پر قابو پاتے ہوئے بہر حال بینکوئٹ نہ سہی
ایک شادی ہال طے ہوگیا جو ایک معروف شاہراہ پر ہونے کی وجہ سے اس خطرے سے باہر تھا
کہ لوگ کیسے پہنچیں گے؟ مگر بہر حال مذاق ضرور بنا کہ شادی ہالز کی لائن میں جو سب
سے بد حال ہے وہیں انتظام کیا گیا ہے۔تفنن بر طرف کچھ ایسا برا بھی نہیں تھا مگر
ظاہری چمک سے ہم اس درجہ متاثر ہیں کہ بنتی نہیں بادہ و ساغر کہے بغیر...!
جگہ کے انتخاب سے بھی بڑا مرحلہ پروگرام کا مواد اور تر
تیب ہے جس پر غور و فکر اتنا ہی ضروری ہے جتنا کسی تقریب کا مینو! فارمٹ تو تقریبا
طے ہی ہے ہاں مناسب افراد کی دستیابی ایک مرحلہ ہے۔ اناؤ نسمنٹ،تلاوت، تذکیر،، قرارداد اور دعاکے
لیے افراد کا چناؤ اس طرح ہوکہ تنوع کے
ساتھ جدت بھی نظر آئے۔حاضرین کی توجہ ہی نہ کھینچے بلکہ ان کو عمل پر بھی آمادہ
کرے! اس میں عمومی فارمولاتو یہ ہے آزمودہ
اور مستند افراد سے ہی مختلف حصے کروائے جائیں تاکہ ناکامی کا رسک کم سے کم
رہے! جبکہ نسبتا ذرا زیادہ چیلنج سے بھرپور یہ سوچ ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ نئے افراد کی دلچسپی پروگرام میں شامل کرنے کے لیے
انہیں ذمہ داری دی جائے! چونکہ ہمارا نیا معاملہ تھا لہذا مزاج کے بر خلاف ملے جلے
رحجان پر توجہ رہی۔جدت پسندانہ اقدامات مزید کسی اور پروگرام کے لیے رکھ چھوڑے۔
پھر پروگرام پیش کرنے میں صرف اسٹیج تک معاملہ نہیں
رہتا بلکہ اسے کامیاب بنانے کے لیے دیگر شعبوں کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔استقبالیہ سے
لے کر تزئین و آرائش تک! اطلاعات سے لے کر نظم و ضبط،پانی سے لے کر تواضع تک، گوشہ
اطفال سے لے کر بک اسٹال تک! ٹرانسپورٹ سے لے کر ٹیکنیکل مدد تک! اور پھر کچھ
افراد نگرانی اور مشاورت کے لیے مختص کیے۔ اس کی توجیح یہ تھی کہ ہمارا پروگرام
چونکہ عام دعوتی ہے تو کچھ افراد اور تنظیمیں اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر
سکتی ہیں جیسا کہ ایک آدھ دفعہ مشاہدہ کیا گیا تھا۔ بد نظمی اور ہنگامی صورت حال
سے بچنے کیے حفظ ما تقدم کے طور پر جن بہنوں کو یہ ذمہ داری دی گئی انہیں اس کی
بریفنگ دی گئی!
تقریب کی صبح یعنی گیارہ بجے کے قریب رضا کار بہن سمیرا
کے ساتھ جاکر ہال کا معائنہ کیا اور انتظامات میں جزوی تبدیلی کی۔بک اسٹال کی
کتابیں رکھوائیں۔ڈیپ فریزر کھلوا کر اس میں جوس کے پیکٹ رکھوائے۔گوشہ اطفال کے لیے
تحائف کی خریداری کی۔ انتظامات پر اطمینان
کے ساتھ ساتھ دل میں ایک خوف بھی تھا کہ گر میوں میں تو رات کو کھلے آسمان
تلے بیٹھنا اچھا لگتا ہے مگر مئی کے مہینے میں دھوپ کی شدت اور ۴ سے ۶ بجے سہ پہر اوپرلگی چھت
ناکافی ہوگی! اس لحاظ سے کرسیوں کی ترتیب میں رد و بدل کیا،پنکھوں کی تعداد میں
اضافہ کیا۔اس سارے معاملے میں سمیرا کی ذہانت اور مہارت کا قائل ہونا پڑتا ہے
ماشاء اللہ!
پروگرام کا آغا رز بڑی سہولت سے ہوا۔ تمام ذمہ داران
اپنے طور پر وقت کی پابندی کے ساتھ اپنی ذمہ داری نباہنے کو موجود تھے۔ عنبریں اور
ثوبیہ استقبالیہ پر موجود تھیں تو آمد و رفت اور اطلاعات کا فر یضہ صالحہ،سروری
قدیر کے ساتھ انجام دے رہی تھیں! نظم و ضبط کی ذمہ داری طیبہ شاکر اور صبا کوثر کے
ذمہ تھی۔تزئین و آرائش کی چنداں ضرورت نہ تھی مگر کچھ بینر وغیرہ لگانے تھے جو
سمیرا کے ساتھ مل کر ہم نے اسٹاف کی مدد سے خود ہی لگوا دیے تھے۔ تواضع اور پانی
کی ذمہ داری فر حانہ اور نزہت کی تھی اور اپنی ٹیم انہوں نے خود ہی بنالی تھی جو
نہایت پھرتی اور خوش اسلوبی سے سب کچھ سنبھال رہی تھیں۔ کتابچہ کی ترسیل شہلا
لقمان کے ذمہ تھی وہ بھی کچھ رضا کاروں کے
ساتھ مستعد تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہوئی کہ سینکڑوں شرکا ء سے کے الیکٹرک کے خلاف
پیٹیشن کے لیے دستخط بھی کروالیے گئے۔یعنی ایک بہت بڑا کام ٹیم ورک کی وجہ سے
منٹوں میں کروا لیا گیا۔ گوشہ اطفال میں بچے بہت تن دہی سے مصروف اور مطمئن تھے تو
دوسری طرف آمنہ خاتون اورشکیلہ، صالحہ اور سدرہ کے ساتھ بک اسٹال سنبھالے بیٹھی
تھیں۔ ملبوسات کا اسٹال بھی موجود تھا جہاں بعد از پروگرام خوبشاپنگ ہوئی۔خوشی کی
بات یہ ہوئی کہ جس دھوپ سے ہم ڈر رہے تھے وہ بادلوں میں چھپ گئی اور خوشگوار موسم
سے پروگرام کا لطف دوبالا ہوگیا۔الحمدللہ!
اسٹیج پر نظامت کے فرائض
طیبہ اکرام اداکررہی تھیں جبکہ مقررہ تھیں افشاں ناصر جو ماہ مبارک کے حوالے سے
جذبوں کو بیدار کر رہی تھیں۔ پروگرام کا آغاز منیزہ احسان کی تلاوت سے ہوا۔نعت
ریطہ طارق نے سنائی اور پروگرام کے اختتام پر قرارداد بھی منظور کروائی۔دعا سعیدہ
اشرف نے کروائی۔بحیثیت میز بان راقم نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔کھجور اور جوس
کے پیکٹ سے ان کی تواضع کی گئی۔ایک کامیاب پروگرام کی خوشی اطمینان بن کر منتظمین
کے چہروں سے جھلک رہی تھی! کشادہ جگہ کی وجہ سے بچے بھی لطف اندوز ہورہے تھے۔
یہ تھی اس پروگرام کی تفصیل جس سے مضمون کا آ ٓغاز ہوا
تھا ۔اس میں جو منظر کشی کی گئی تھی اس کو ریکارڈ نہ کرنے کا افسوس کچھ ایسا وزنی
نہیں تھا کیونکہ اسٹیج، تیاری، گوشہ اطفال
اور پوسٹرز کی ڈھیروں تصاویر تھیں لیکن آج کے دور میں موبائل کیمرے کی وجہ سے
تصاویر کے ڈھیر الفاظ کے بغیر کوئی اہمیت
نہیں رکھتے!
ٓآئیے! اب عنوان کے دوسرے حصے یعنی مئی 2018 ء کی طرف بڑھتے ہیں! جی
ہاں! سورج کے گرد زمین کی گردش مکمل ہونے سے پہلے ہی رمضان 1439ھ کی آمد یقینی تھی لہذا
تیاریاں بھی کچھ پہلے ہی شروع ہوگئیں۔بقول منیر نیازی ایک اور دریا کا سامنا تھا.......!
اس دفعہ کچھ مختلف چیلنجز تھے جن کی روشنی میں پروگرام
کے انعقاد کے فیصلے کرنے تھے۔سب سے پہلے تو مشاورت یہ کی کہ پروگرام دو مختلف
جگہوں پر رکھا جائے تاکہ دونوں جگہ پر قریبی مقامات سے شرکت یقینی ہوسکے! یعنی
نزدیکی بلاکس کی ایک جگہ تقریب ہو! سب نے اس سے اتفاق کیا بہر حال تاریخ اور جگہ
کے تعین میں کچھ گو مگو کی کیفیت رہی مگر بالآخر طے ہوگیا۔ پہلاپروگرام بہن کنول
کے گھرجبکہ دوسرا عثمان اسکول کیمپس X میں
رکھا گیا۔دو مختلف دن، دو جگہوں کے لیے انتظامات کرنا اور کروانا آسان کام نہیں
تھا مگر مشکل کام میں مزہ بھی بہت ہے! 9 اور10 / مئی بالترتیب 22 اور 23شعبان کو پروگرام طے
ہوئے۔ مالی اور انتظامی دباؤ کم ہونے کے باعث پچھلے سال کی بہ نسبت پر سکون کیفیت
رہی حتی کہ تقریب کے انعقاد کی گھڑی آپہنچی۔
پہلا پروگرام جس
گھر میں رکھا گیا اس کا لاؤنج ہی وسیع نہیں بلکہ مکینوں کے دل بھی کشادہ
ہیں۔چنانچہ جب مقررہ وقت پر ہم پہنچے تو گھروالے خوشدلی سے ستقبال کو بڑ ھے۔
ڈائننگ ٹیبل پر بک اسٹال سج گیا جس کی نگرانی طیبہ اکرام کے پاس تھی جبکہ سنٹر
ٹیبل پر ستقبالیہ بنا دیا گیا! واہ کیا
اپنائیت بھرا خوشگوار ماحول ہے!ملحقہ ڈرائنگ روم میں گوشہ اطفال بن گیا جہاں نجم
السحر بچوں کے ساتھ تن دہی اور بھرپور
انداز سے مصروف تھیں۔ اناؤنسمنٹ کی ذمہ داری بالکل نئے چہرے شفق کو دی گئی تھی جس
نے بخوبی حق ادا کرتے ہوئے تازگی بھرا احساس دیا۔ تذکیری گفتگو افشاں نوید کی
تھی۔جن کو سننے کے سب مشتاق تھے۔ عصر کی اذان نے محویت کو توڑاتو نماز کے لیے
شرکاء کی بے چینی کے مدنظر پروگرام مختصر کرنا پڑا۔ عائشہ نے ہاتھ میں لہراتی
قرارداد دکھائی تو ہم نے اسے اپنے اختتامی کلمات میں سمیٹ لیا کیونکہ وقت کی
گنجائش بالکل نہ تھی۔میزبان بہن کنول نے دل سوزدعا کروائی۔ گرم موسم میں خوش رنگ
جام شیریں نے سب کا دل لبھایا۔کھجور کا پیکٹ اور کتابچے ہاتھ میں لیے، کتابوں کی
خریداری کرتے شرکا ء اپنے اپنے گھروں کو لوٹے۔ اس پروگرام میں ناظمہ زون افشاں ناصر بھی اپنی ٹیم کے ساتھ شریک ہوئیں۔
اگلے دن کا استقبال رمضان چونکہ اسکول میں تھا
لہذاتھوڑا سا فارمل انداز تھا۔ چیلنج بڑا
یہ تھا کہ فعال افراد کار کی اکثریت کل ہی آ چکی تھی اور جو آج بھی آئے وہ ذرا تھکے
ہوئے تھے مگر الحمد للہ کارکر دگی میں کوئی فرق محسوس نہ ہوا۔ایک خوش آئند بات یہ
تھی کہ شرکاء ایک ہی کال پر موجود تھے یعنی جس کو بلا یا اس محفل میں حاضر ہوگیا
اور کیوں نہ ہوتا فرحانہ بہن کی دعوت ہوتی
ہی اتنی جاندار ہے! ویسے آج کا پورا پروگرام ان ہی کا مرہون منت ہے۔ سجاوٹ سے لے
کرانتظامی امور تک سب جگہ یہ ہی حاوی رہیں۔تواضع کے لیے گھر میں ہی بنا کیری کا شر
بت خواتین کی دلچسپی کا موضوع بن گیا۔ اکثر یت پینے کے بعد اس کی تر کیب پوچھتی
پائی گئی۔کھجوراور کتابچوں کی ترسیل آج بھی طیبہ شاکر کے پاس تھی جو انہوں نے بہت
خوش اسلوبی سے انجام دی۔ آج کی مقررہ تھیں حنا رضوان! اسکول ٹیچر ہونے کے ناطے ان
کی گفتگو وقت کی پابندرہی! مواد مختصر مگر جامع! بک اسٹال کے لیے نگرانی طیبہ
اکرام کی ہی تھی جو انہوں نے نجم السحر کی مدد سے بخوبی نبھائی۔آج کتب کے ساتھ
ملبوسات کی خریداری بھی خوب رہی۔ دعا کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا۔
آج بچوں کی
تعدادکم تھی اور ویسے بھی اسکول کے لان میں جھولے کی موجودگی میں بچوں کو اور کسی
چیز کی ضرورت نہیں ہوتی! یہ بچپن کی سب سے دلچسپ سر گرمی ہے!اسکول اسٹاف نے بھرپور
معاونت دی۔ صالحہ اور سعیدہ دونوں دن ہمہ تن آمد و رفت کی نگرانی پر مامور تھیں
اور بلاشبہ بہت محنت اور توجہ سے اپنی ذمہ داری نبھائی۔
معزز قارئین!
مئی 2017ءسے شروع کی گئی روداد بالآخر 2018ءمیں اختتام پذیر ہوئی۔
ایک ہی کام کو مختلف انداز سے کرکے دلچسپ مشاہدات سامنے آئے۔آپ چاہیں تو اس میں سے
اخذ کر سکتے ہیں!آپ اس روداد کی اشاعت کا مقصدنہیں سمجھ پارہے ہوں گے!
ہر سر گر می در اصل ایک
مرتب تاریخ ہوتی ہے جسے ہم اگلی نسل کی رہنمائی کے لیے پیش کرتے ہیں! اکیسویں صدی
کے دوسرے عشرے میں تقریبات کیسے منعقد ہوتی تھیں؟
رہا سوال کہ آنے والوں کواس سے کیا سروکار؟ نہ ہو کوئی دلچسپی مگر ہمیں تو اپنے اطمینان کے
لیے اللہ کی بارگاہ میں اپنی چھوٹی چھوٹی کاوشوں کا ریکارڈ ررکھنا ہے نا!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فر حت طاہر
جمعہ، 15 جون، 2018
ہم کہ بنے بلاگر
ہم کہ بنے بلاگر...
آج
گستاخ بلاگرز کے حوالے سے سب محتاط ہیں کہ یہ کون سی مخلوق ہے؟ ایسے میں اپنے بلاگر ہونے کااعتراف کرنا گویا اپنے
آپ کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے مترادف ہے مگر جیسا کہ ہمیں علم ہے کہ ہر شعبے میں اچھے
اور برے دونوں طرح کے افراد ہوتے ہیں اور ہر چیز کا غلط اور صحیح دونوں استعمال ممکن
ہے تو بلاگرز بھی اس سے مستثنٰی نہیں! اس وضاحت کے بعد ہم اپنی داستان شروع کرتے ہیں..
غالباً 2003ء کی بات
ہے جب بلاگ کالفظ پہلی دفعہ سنا تھا اور جیسا کہ انسانی فطرت ہے کسی بھی نئے لفظ کو
سن کر پوچھتا ہے کہ کیا ہے؟ بقیہ تفصیل کہاں؟ کب؟ کیوں؟ کیسے؟ کے ذریعے جانتا ہے! یہ سیکھنے کا
قدرتی مرحلہ ہے جس سے گزر کر ہم سب سیکھتے ہیں! تو ہم نے بھی معلومات جمع کرنی
شروع کیں.....بلاگ کیا ہے؟ بلاگ ایک آن لائن
ڈائری ہے۔جس میں ذاتی احساسات اور خیالات تحریر کیے جاسکتے ہیں. کوئی سنسر نہیں کرسکتا
ماسوائے خود! لیکن کرنا ضروری ہے ورنہ اکثر بلاگرز کے خلاف موت کا حکم آ جاتا ہے۔ ڈریے
نہیں! زبان ہو یا قلم قابو میں رکھنے کا حکم بھی ہے اور عافیت بھی اسی میں ہے!مختصر
یہ کہ جو بھی کچھ کہہ سکتا ہے یا لکھ سکتا ہے
بلاگر بن سکتا ہے!
اس خیال نے ہمیں بلاگر بننے کے لیے بے چین کردیا کہ ہم تو
بچپن سے ہی کچھ نہ کچھ لکھنے کے جراثیم رکھتے تھے... لیکن انٹر نیٹ پر اشاعت سے محروم
تھے کیونکہ درمیان میں ٹیکنالوجی حائل تھی جس میں ہم کورے تھے۔ اپنے سے اگلی نسل سے
جو اس میں ماسٹر تھی رابطہ کیا تو جواب ملا بہت مشکل کام ہے!! دراصل یہ بھانجے بھتیجے
قسم کی مخلوق جو پڑھنے میں چور اور لکھنے میں کاہل ہیں۔ درسی کتب کا مطالعہ بھی مجبوری
میں کرتے ہیں اور لکھنے میں اختصار ہی برتتے ہیں۔ لہذا لکھنے اور وہ بھی اردومیں لکھنے کا سن کر کانوں
پر ہاتھ رکھ لیا۔بلاگ کے لیے ہماری اور ہم سے زیادہ بہن کی تڑپ کی وجہ کچھ یوں تھی
کہ ان کی ا یک دوست اپنے بلاگ کے ذریعے اسلام اور پاکستان کے بارے میں زہر اگل رہی
تھیں اور ہم اس کا جواب دینے سے قاصر تھے۔بے بسی کے گھونٹ پی کر رہ جاتے!
اسی جستجو کے دوران کا ایک منظر کچھ یوں ہے کہ ہم دونوں
بہنیں ایک قریبی نیٹ کیفے میں اس طرح داخل ہوئے کہ دونوں کے کندھے سے ایک ایک بچی لٹکی
ہوئی تھی۔ہمیں دیکھ کر کیفے کا مالک اس افراتفری میں اپنے میزونائین فلور سے باہر نکلا
کہ سیڑھیوں کے بجائے براہ راست زمین پر! گھبراہٹ میں اس کے منہ سے نکلا ” نہیں باجی
یہاں بلاگنگ نہیں ہوتی...“ مایوس ہوکر ہم بھی
باہر کو نکلے اس لڑ کے کی ہونق شکل آج بھی
نظروں میں گھومے تو بے اختیار مسکراہٹ آجاتی ہے ۔بعد میں معلوم ہوا کہ محلے کا ہی لڑکا
تھااور ہمیں پہچان گیا تھا...اس واقعے کو بتانے کا مقصد بلاگنگ کے لیے اپنی بھاگ دوڑ
کی ایک جھلک دکھلانا ہے۔بہرحال یہ جدو جہد رنگ لائی جب ہماری جان پہچان کے کچھ برادران
نے ہم سے بلاگ لکھنے کی در خواست کی۔یہ وہ لوگ تھے جو بلاگ تو بنا بیٹھے تھے مگر اس
کا پیٹ بھرنے کے لیے نہ وقت تھا نہ صلاحیت! یوں باہمی ہم آہنگی سے ہماری بلاگنگ شروع
ہوگئی۔
ہم اس وقت تک اردو کمپوزنگ سے بھی نا بلد تھے لہذا وہ ہمارے ساتھ اتنا تعاون کرتے کہ بس آپ اسکین
کر کے بھیج دیں باقی ہم خود کرلیں گے بلکہ اس حد تک کہ مختلف اخبارات اور میگزین میں
شائع ہونے والے ہمارے مضامین کو وہیں سے اٹھا کر بلاگ کو حصہ بنادیتے۔ جی ہاں لکھنے
والوں کے لیے بلاگنگ بہترین ذریعہ ہے۔ اخبارات اور میگزین کے صفحات محدود اوراپنی پالیسی
کا شکار ہوتے ہیں جبکہ بلاگنگ امکانات کی ایک نئی
اور وسیع دنیا ہے۔
جس دوست کو جواب دینے کے لیے ہم نے بلاگنگ شروع کی تھی وہ
ہم سے پہلے ہم پر حملہ آور ہوگئیں ! جی ہاں! انٹر نیٹ کی دنیا کچھ ایسی ہی ہے۔ہم کچھ
ہی کا جواب دے پاتے مگر وہاں موجود ہمارے دیگر بھائی اس بے چاری کی جان ضیق کر دیتے..کچھ عرصہ گزرا اور وہ دوست ایک ٹریفک حادثے میں ختم
ہوگئی...آ ہ! ابھی توبہت سے جوابات دینے باقی تھے.! بہت سی بحثیں ادھوری تھیں..وہ جس
کی نیکی اور نمازی ہونے کے ہم گواہ تھے نہ جانے کیوں اتنی تلخ ہو چکی تھی اور شاید
اسی لیے دنیا سے روٹھ گئی...
.سوال
پیدا ہوتا ہے کہ آن لائن مضمون اور بلاگ میں کیا فرق ہے؟ ایک ہی چیز ہے یا علیحدہ چیزیں ہیں؟
معمولی سے فرق کے ساتھ دونوں ایک ہی ہیں کوئی خاص اصول نہیں
ہے جو ان دونوں کو جدا سمجھے سوائے اس کے کہ ٓن لائن مضمون میں زیادہ گہرائی اور معلومات
ہوتی ہے اور یہ ویب سائٹ لائبریری میں محفوظ ہوتے ہیں اور اس کے قارئین بھی مخصوص ہوتے
ہیں جبکہ بلاگ میں بہت زیادہ معلومات اور گہرائی نہیں ہوتی۔یہ بلاگزکے عنوان سے محفوظ
کیے جاتے ہیں۔ اس کے پڑھنے والے عموماً مخصوص نہیں ہوتے بلکہ یہ عنوان دیکھ کر پڑھتے
ہیں اور آگے شئیر کرتے ہیں۔ ہاں! البتہ یہ جذبات کو مہمیز کرنے کا کام بخوبی کرتے ہیں۔
مثلا ایک دفعہ سقوط ڈھاکہ پر بلاگ لکھا جو ہماری یاد داشت پر مشتمل تھا۔ اس کو پڑھ
کر کئی نوجوان خواتین نے کہا کہ آپ کا بلاگ پڑھ کرہمیں اس بارے میں جاننے کی جستجو
ہوئی تواس موضوع پر دیگر مضامین پڑھے پھرہمیں اس معاملے سے آگاہی ملی۔ گویا آپ کہہ
سکتے ہیں کہ بلاگ مطالعے کی پیاس بڑھاتے ہیں! جس طرح کھانے میں چٹنی،اچار اور سلاد وغیرہ بھوک کو چمکا تے ہیں۔بلاگ سنجیدہ مطالعے کی
طرف راغب کر واسکتے ہیں۔
2007 ء
میں فیس بک نئی نئی وارد ہوئی تو مائکرو بلاگنگ کا آغاز ہو ا۔یعنی کم الفاظ میں اپنی
بات کہنا! فیس بک کے بارے میں ہمیں بھی تحفظات تھے مگر چاہنے اور نہ چاہنے کے باوجود
اس کا حصہ بن گئے۔اس وقت فیس بک پر بڑی اور لمبی تحریر لکھنے کی سہولت دستیاب نہ تھی۔
چنانچہ ہم اس پر نوٹس کے عنوان سے اپنی تحاریر لگا دیا کرتے تھے۔اور مختصر الفاظ میں
اپنا مافی الضمیر ادا کر دیتے۔اور دلچسپ بات یہ کہ جب ہمیں کم الفاظ میں دل کی بھڑاس
نکالنے کی پریکٹس ہوگئی تو فیس بک نے محدود
الفاظ کے بجائے لامحدود الفاظ لکھنا متعارف کروادیا۔
(ویسے
ہمارا مشاہدہ ہے کہ فیس بک پر آنے کے بعد بہت سوں کوچپ لگ جاتی ہے! جی ہاں! کچھ تو
یہاں کی سر گر میاں اورپھر جب کچھ کہے بغیر کام چل جاتا ہے توالفاظ خرچ کرنے اور محنت
کرنے کی کیا ضرورت ہے! یعنی فیس بک کی پالیسی نے لوگوں کو کم گوئی کی طرف مائل کر دیا
مگر کیا یہ مغالطہ درست ہے؟) ۔۔۔اور پھر ایک دن فیس بک نے محمدﷺ کے خاکے بنانے کا انعامی
مقابلہ کا اعلان کر دیا۔ہمیں اس سے نکلنے کا ایک جوازمل گیا اور ہم احتجا جا اس سے
الگ ہوگئے۔ یہ مئی 2010ء کی بات ہے فیس بک بائیکاٹ کے موضوع پر ہمیں اظہار خیال کی
دعوت ملی چنانچہ ہم نے دو تین پیرا گراف میں اپنا موقف بیان کیا۔لیجیے یہ ہمارا بلاگ
تیار ہوگیا!
عزیز قارئین! ہماری اب تک کی تحریر سے آپ نے جان لیا کہ
بلاگ کیا ہے؟ اور کیسے بن جاتا ہے؟ آئیے!اس معلومات کو عملی شکل میں ڈھالتے ہیں!
ہمارا ذہن ہر وقت کچھ نہ کچھ سوچتا رہتا ہے۔ اس وقت جو سوچ
رہے ہیں اسے کاغذ پر قلم سے بکھیر دیجیے! یقینا بے ربط اور بے تکے سے خیالات ہوسکتے
ہیں، کچھ ناگفتنی بھی ممکن ہے۔ اب ان کو ایک ربط اور توازن دے دیں! اب آپ معصومیت سے
یہ نہ کہہ دیں کہ مجھے تو لکھنا ہی نہیں آتا!
کئی سال پہلے ایک محتر مہ نے ہمیں فون کیا اور بیس منٹ کی گفتگو میں وہ ہمیں
مختلف مسائل کے بارے میں لکھنے کا کہتی رہیں۔ ان کی بات مکمل ہوئی تو ہم نے کہا کہ
آپ خود کیوں نہیں لکھتیں؟فرمانے لگیں؛ میں بھلا کیسے لکھ سکتی ہوں؟ ہم نے ان کی تعلیم
دریافت کی۔ فخر سے بولیں بی اے کیا ہے اگر شادی نہ ہوتی تو ایم اے بھی مکمل کر لیتی...تو
ہم نے عرض کیا: آپ نے اردو اور انگلش لازمی میں ضرور مضمون اور خط لکھے ہوں گے... ہم
نے حوصلہ دیا کہ جس کے پاس احساسات ہوں اسے ضرور منتقل کرنا چا ہیے۔ اب آپ ایسا کریں
اپنے خیالات کو آواز کی شکل میں ریکارڈ کرلیں پھر اسے سن کر تحریر کریں...پھر موضوع
کے لحاظ سے اسے حسن تر تیب دے دیں...پھر کبھی ان کا فون تو نہ آیا مگر اکثر ان کی تحریر
نظر سے گزرتی ہے۔معلوم نہیں ہمارے فارمولے سے فائدہ اٹھا یا یا نہیں؟ بہر حال یہ نسخہ
آپ بھی آزما سکتے ہیں!
لکھ لیا! اب مسئلہ اشاعت کا ہے! مگر پہلے یہ دیکھیں کہ زبان
کون سی ہے؟ ظاہر ہے اردو یا نگلش! مگر انٹر نیٹ کی زبان یونی کوڈ ہے۔بہت تھوڑی سی محنت
کرکے آپ سیکھ سکتی ہیں۔جی ہاں! ہم نے صرف دودن میں اردو کمپوزنگ سیکھ لی تھی۔ جوش میں
آکر کئی بہنوں کو سکھا نے کی کوشش کی مگر انہوں نے حیلے بہانوں سے کوڑھ مغزی کو ثبوت دیا۔بات سمجھیں
نا! کوئی بھی کام سیکھنے کا سیدھا سادا مطلب
ہے کہ کام کرناپڑے گا! کام چورافراد کے متعلق مشہور ہے کہ وہ ہرکام کا کوئی آسان اور
شارٹ کٹ طریقہ دریافت کر لیتے ہیں مگر اس معاملے میں وہ رسک نہیں لیتے جب اپنی جگہ
سے ہلے بغیر ریمورٹ سے تفریح مل سکتی ہے تو کیوں اپنے جسم کو پسینہ پسینہ کیا جائے!
کیونکہ بلاگ تحریر اور ٹیکنالوجی کا مجموعہ ہے۔ اس لیے اس
میں دو نوں طرح کی مہارت درکار ہے۔انٹر نیٹ کے اس دور میں معلومات ہماری انگلیوں کی
گرفت میں ہوتی ہیں لہذا اس سے بھی بیش بہا فائدہ اٹھا یا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کو لکھنے
پر عبور نہیں تو کوئی مسئلہ نہیں! آپ تصویری بلاگ بنا سکتے ہیں مثلاً کسی خاص موضوع،
مقام، کی تصویریں اپ لوڈ کردیں ہاں مگر اس پر ایک جملہ لکھنا نہ بھولیں! وہی کیا؟ کون؟
کہاں وغیرہ وغیرہ۔اس کے علاوہ ویڈیو بھی بنا کر بلاگر بن سکتے ہیں۔ یا پھر مختلف تبصرے
ایک جگہ جمع کر کے اسے بلاگ کی شکل دے دیں۔بھئی کھانے، کپڑے، سجاوٹ، ہر چیز میں جدت
ڈھونڈتے ہیں۔ نت نئے اسٹائل دریافت کرتے ہیں تو یہاں بھی اپنی تخلیقی صلاحیت کا اظہار
کیا جاسکتا ہے۔ہم نے اپنے تازہ ترین بلاگ میں ایک ناول پر تبصرہ لکھا اور اس میں کئی
جگہ اپنے الفاظ کے بجائے ناول کے اسکرین شاٹ لے کر لگادیے۔یہ ایک مزیدار اور دلچسپ
تجربہ تھا۔
یعنی بلاگ کی ڈھیروں اقسام
اورطریقے ہیں: ایک غیر ملکی جائزے کے مطابق فیشن پر بلاگ سب سے زیادہ تلاش کیے گئے۔
اس کے علاوہ کھانے، جسمانی خوبصورتی، سفر، سیاست، صحت وتندرستی، گھریلو ٹوٹکے، موسیقی،
شادی بیاہ، گھر کی سجاوٹ بھی سر فہرست ہیں۔ کچھ یہ ہی
رحجان ہمارے ہاں بھی دیکھا
جا سکتا ہے۔ہر کوئی اپنی دلچسپی، مشاغل اور پیشے کے لحاظ سے بلاگ بنا سکتا ہے۔
ایک اور سوال ذہن میں آتا ہے کہ ایک بلاگ سے دوسرے کا دورانیہ
کتنا ہو؟ اس کا بھی کوئی خاص اصول نہیں ہے۔ضرورت اور دستیابی کے لحاظ سے تحریر کیے
جاسکتے ہیں۔بس یہ دھیان رہے کہ وقفہ اتنا لمبا نہ ہو کہ آپ کے قاری / ناظرین دوسرے
بلاگز کا رخ کر لیں۔ہنگامی نوعیت کے بلاگز بھی توجہ کھینچتے ہیں۔
آپ کی تحریر کتنے افراد تک پہنچے گی؟ چونکہ انٹر نیٹ کی
دنیا ورچوئل ہے اس کے بارے میں کچھ مبالغہ آمیز تاثر دیا جاتا ہے کہ آپ کی تحریر اتنی
پسند کی گئی (یہاں ٹھینگا پسندیدگی کانشان سمجھا جا تا ہے)۔جبکہ اس کو ناپنے والے پیمانے
بھی اتنے حقیقی نہیں ہوتے۔ہماری ایک دوست نے سیرت محمدﷺ
پر بلاگ لکھا جس کی پسندیدگی 27ہزار تک پہنچی۔ویسے تو اس موضوع پر کروڑوں پسندیدگی
بھی کم ہے مگر پھر بھی یہ ایک سنگ میل تھا جو اس نے عبور کیا،جس کی مبارکباد پر دوست
کا کہنا تھا کہ میں نے جس سے پوچھا اس نے پڑھے بغیر ہی لائیک کیا ہے۔یہ بالکل ایسی
ہی بات ہے جیسے ایک اخبار یا میگزین کی سرکولیشن اس کے قارئین کی تعدادسمجھی جاتی ہے۔جبکہ
اصلی قارئین اس سے کہیں زیادہ یا پھر کم ہوسکتے ہیں۔ بالکل اسی طرح پسندیدگی کی تعداد
بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔پھر بھی ایک امکان یہ ہے کہ آپ کی تحریر اشتراک ہوکر کہیں سے
کہیں پہنچ جاتی ہے ہاں اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک اچھے بلاگ کی شرائط پر پورا اتر
تا ہو...یعنی مواد اور اسلوب۔وہی جو اچھی تحریر کے لیے ضروری ہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فر حت طاہر
اتوار، 15 اپریل، 2018
میڈیا کی حقیقت
میڈیا کی حقیقت :
یوں تو انسان اپنی زندگی کے کسی بھی لمحے کو یاد کرے والدین اس میں ضرور موجود ہوتے ہیں مگر آج بالخصوص مجھے اپنے والد بہت یاد آئے..وہ اپنے عہدے اور علم کی وجہ سے اکثر ٹی وی پروگرامز میں مدعو کیے جاتے جس میں شرکت سے وہ معذرت کر لیتے ..بات صرف ان کی درویشی کی نہیں تھی بلکہ میڈیا کے بارے میں ایک خاص موقف تها جو آج سو فیصد درست ثابت ہورہا ہے! انہوں نے ہمیں یہودی پروٹوکول کی بابت اس وقت بتا یا تھا جو کم عقلی کے باعث ہمیں اس وقت سمجھ نہ آتا تھا
ان کے ساتھی ، احباب حتی کے شاگرد تک ضرور اسکرین پر باقاعدہ یا بے قاعدہ ضرور چمکتے..ہم بچوں کو ارمان ہوتا کہ ہم بھی فخر کریں کہ ہمارے ابا ٹی وی پر آتے ہیں مگر ان کے احتراز کی وجہ سے اس شو بازی سے محروم رہتے..
ایک دفعہ جب ضیا الحق نے نفاذ شریعت کا آرڈیننس جاری کیا تو بر بنائے عہدہ فیکلٹی آف ڈین ان کو ضرور اس پر تبصرہ کر نا تھا. وہ اس شرط پر تیار ہوئے کہ انٹرویو ان کے آفس میں آکر لیا جائے وہ ٹی وی اسٹیشن نہیں قدم رکھیں گے .
جب نشر ہوا تو چونکہ ویڈیو ریکارڈنگ کی اتنی سہولیات نہیں تھیں لہذا ہم سب اسکرین پر آنکھیں گاڑے دیکھنے پر مجبور تھے کہ ری پلے کا کوئی تصور نہ تھا. مجھے یاد ہے وہ ناخوش سے تھے کہ ان کی بات کو جوں کا توں پیش کرنے بجائے ٹوئسٹ کیا گیا تھا .یعنی میڈیا کے بابت ان کے خدشات درست تھے. اور یہ ہی وہ فکر تھی کہ انہوں نے اپنی زندگی میں جو آخری کتابیں خریدیں ان میں سے اس موضوع پر بھی موجود تھیں ..یعنی وہ اس کے بارے میں تحقیق کرنا چاہتے تھے. .آج جب میڈیا کے چہرے سے آخری قلعی بھی اترگئی تو مجھے یہ کتاب یاد آئی :
.اس کی خریداری کے تھوڑے عرصے بعد ہی وہ بیمار ہوئے اور دنیا سے چلے گئے مجھے یقین ہے اگر زندگی انہیں مہلت دیتی تو وہ چینلز پر اپنی تحقیق سے ضرور متنبہ کرتے .!!
9/11
کے فورا بعد خریدی گئی اس کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے چینلز کی بارش
کے فورا بعد خریدی گئی اس کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے چینلز کی بارش
!!کی گئی ... آہ میری ناسمجھ قوم ! ترقی کا مطلب نہیں
سمجھ پائ !!
یہ بلاگ قندوز افغانستان میں قرآن کی تقریب اسناد پر امریکی بمباری میں 100 سے زیادہ حفاظ اور علماء کی شہادت پر میڈیا کی چشم پوشی پر لکھا گیا ۔۔میڈیا کی حقیقت جتنی جلدی ہم سمجھ لیں اتنا ہی بہتر ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بلاگ قندوز افغانستان میں قرآن کی تقریب اسناد پر امریکی بمباری میں 100 سے زیادہ حفاظ اور علماء کی شہادت پر میڈیا کی چشم پوشی پر لکھا گیا ۔۔میڈیا کی حقیقت جتنی جلدی ہم سمجھ لیں اتنا ہی بہتر ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بدھ، 4 اپریل، 2018
خواہش پرواز ہے مگر۔۔۔۔!
خواہش پرواز ہے مگر ۔۔۔!
قلم
کار خواہ کالم نگار ہو یا افسانہ نگار ، شاعر ہو یا نثر نگار اپنی تحریر پر رائے ،
تبصرے یا حوصلہ افزائی کا منتظر رہتا ہے! یہ ایک ایسی خواہش ہے جس سے کوئی تخلیق
کار مبرا نہیں چاہے وہ پختہ اور مستند ہو یا نو آموز اور ناتجربہ کار !
ایک فردنے تحاریر کا پہاڑ کھڑا کیا ہو اور دوسرا ذرہ ذرہ جمع کر رہا ہو دونوں
مشتاق نظر ہوتے ہیں اپنے قارئین کی توجہ کے! صاحب کتاب سے لے کرمحض مراسلہ نگاربھی اس دوڑ ( میرا تھن ) میں یکساں کھڑا نظر آتا ہے ۔
پھر ہفتہ وار، ماہانہ یا روزانہ کی بنیاد پر لکھنے
والوں کی تمنائیں بھی ان کی اشاعت کے لحاظ سے پیدا ہوتی ہیں ۔ دوسری تخصیص مختلف
اخبار و رسائل ، میگزین ، ڈائجسٹ ، خصوصی
نمبرز وغیرہ کی معیار کے لحاظ سے درجہ بندی بھی ایک قلم کار کو اس معاملے میں حساس
رکھتی ہے ۔ اور انٹر نیٹ کے اس دور میں جب
دنیا ایک عالمی گاؤں کا منظر پیش کرتی ہے اور فاصلوں اور زبان کے مسئلے کی رکاوٹ نہیں ، اشاعت محض
ایک انگوٹھے کی جنبش کی
مر ہون منت ہو تو یہ خواہش کا یہ
جزیرہ وسیع سے وسیع تر نظر آتا ہے ۔
آئیے
ایک نظریاتی میگزین کے حوالے سے اس کے
عوامل اور اس سے جڑے حقائق کا جائزہ قاری، قلم کار اور ایڈیٹر کی مثلث سے لیتے ہیں ۔
کسی بھی میگزین کے باقاعدہ
قلم کار نہایت محنت اور تن دہی سے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر ہر ہفتہ اپنا
قلم اٹھاتے ہیں تو ان کا حق ہے کہ انہیں اپنے اسلوب ، تحریر کے معیار اور مواد پر
فیڈ بیک ملے مگر ایسا ہوتانظر نہیں آتاکہ:
·
ہر قاری ہر صفحے پر توجہ نہیں رکھ سکتا یہ بلحاظ
عمر ، دلچسپی اور مہلت پر منحصر ہے ۔
·
ممکن ہے کہ قارئین کو اس مقصد کے لیے مناسب فورم
دستیاب نہ ہو۔
·
قارئین کی عدم دلچسپی اور سستی بھی تبصرہ دینے
میں مانع ہوتی ہے ۔
· ذوق مطالعہ کی کمی بھی سمجهی جاتی ہے (مگر
یہ عذر اس لیے قابل قبول نہیں کہ اگر تحریر جان دار اور چمکدار ہو تو وہ بار بار پڑھی اور شئیر کی جاتی ہے .
پرنٹ میں ہو تو انٹر نیٹ پر اور ڈیجیٹل ہو تو پرنٹ میں شائع ہوتی ہے .)
ایسا کیوں ہے کہ کسی قلم
کار کا نام دیکھ کر قاری وہ صفحہ کھول لے یا پھر اس کا نا م دیکھ کر صفحہ پلٹ دے !
یہ صرف موضوع کی بات نہیں بلکہ انداز تحریر پر بھی منحصر ہے ۔کسی بھی قلم کار کے
لیے جائزہ لینے کی بات ہے کہ اسے کتنے قاری دستیاب ہیں ؟ خصوصا جو قلم کار کثرت سے
لکھتے اور شائع کیے جاتے ہیں انہیں تو اس کا اہتمام کرتے رہنا چاہیے کہ قاری کو کس
حد تک مائل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں ؟ سپاٹ انداز تحریر اور بے جان اسلوب کسی بھی
قسم کی ہلچل مچانے میں ناکام رہتا ہے بلکہ کسی حد تک منفی تاثرکا باعث بن جاتا ہے،چنانچہ جو نظریہ منتقل کرنا چاہتے ہیں وہ بھی مجروح ہوتا ہے ۔ بحیثیت مسلمان ہمارا عقیدہ
ہے کہ ہمیں زبان سے نکلے الفاظ کی جواب دہی کرنی ہے تو یہ ہدایت تحریر کے ضمن میں
بھی اسی طرح لاگو ہوگی !
تحریر ادبی ہو یا سیاسی ، تفریحی ہو یا مذہبی اس میں قاری کی دلچسپی کو مد نظر رکھنا ازحد ضروری ہے ..مولانا مودودی نے دقیق ایشوز تک کو بھی اتنے اچھے پیرائے میں بیان کیا ہے کہ قاری لطف اندوز ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ..بھلا اسلامی زندگی اور اس کے بنیادی تصورات کو عام فہم الفاظ میں ڈھالنا آسان تھا؟ سود اور پردہ جیسے موضوعات پر مربوط اور مدلل تحریر لکھ کر قارئین کو مائل کرنا اور کرتے ہی رہنا اس بات کا مظہر ہے کہ قلم کار کے الفاظ ضرور جادو جگا سکتے ہیں ! خرم مراد نے بہت سے تنظیمی اور بوجھل امور کو اتنے ہلکے پھلکے انداز میں قلم زد کیا ہے کہ دل پر اثر انداز ہوتی ہے اور بار بار پڑھنے سے بھی طبیعت مکدر نہیں ہوتی .. دوسری طرف ہمیں میگزین کی اشاعت میں تکرار کے ساتھ اکثر تحاریر میں ربط کی کمی اور مواد کا سر سری اور سطحی ہونا نظر آتا ہے ...
تحریر ادبی ہو یا سیاسی ، تفریحی ہو یا مذہبی اس میں قاری کی دلچسپی کو مد نظر رکھنا ازحد ضروری ہے ..مولانا مودودی نے دقیق ایشوز تک کو بھی اتنے اچھے پیرائے میں بیان کیا ہے کہ قاری لطف اندوز ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ..بھلا اسلامی زندگی اور اس کے بنیادی تصورات کو عام فہم الفاظ میں ڈھالنا آسان تھا؟ سود اور پردہ جیسے موضوعات پر مربوط اور مدلل تحریر لکھ کر قارئین کو مائل کرنا اور کرتے ہی رہنا اس بات کا مظہر ہے کہ قلم کار کے الفاظ ضرور جادو جگا سکتے ہیں ! خرم مراد نے بہت سے تنظیمی اور بوجھل امور کو اتنے ہلکے پھلکے انداز میں قلم زد کیا ہے کہ دل پر اثر انداز ہوتی ہے اور بار بار پڑھنے سے بھی طبیعت مکدر نہیں ہوتی .. دوسری طرف ہمیں میگزین کی اشاعت میں تکرار کے ساتھ اکثر تحاریر میں ربط کی کمی اور مواد کا سر سری اور سطحی ہونا نظر آتا ہے ...
·
موجودہ دور اسٹار ڈم کا دور ہے ۔ہر فردپذیرائی
چاہتا ہے ۔اس ضمن میں اقبال بہت پہلے کہہ
چکے ہیں کہ
ہر فرد ہے ملت کے مقدر
کا ستارہ !
تو اس صورت حال میں
قارئین کو اپنے طرف مائل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ یہ ہوسکتا ہے کہ تحریر میں اس
کا ذکر ہو! پڑھنے والے کو اپنی جھلک نظر آئے ! کتابی باتیں یا تصورات قاری کو
بوجھل کر دیتے ہیں ۔ پھر اس تحریر میں شگفتگی اور امید کا رنگ بھی حاوی رہے تووہ
قاری کے دل میں اتر تی ہے ۔
پچھلے ہفتے ایک میگزین میں تحریر پڑھنے کو ملی جو بچوں کے ایک پروگرام کی روداد ہے ایک تو اس میں زبان و بیان کی چاشنی ہے اور
دوسری طرف ایک شعبے کی کارکردگی نمایاں اور واضح ہوکر نظر آتی ہے تو اس حوالے سے اس روداد میں ایک اپنائیت کا احساس بھی جاگتا ہے ..اس طرح
زیادہ سے زیادہ افراد کی تسکین اور ربط ممکن ہے ۔کچھ منعقدکرنے والے ، کچھ شریک ہونے
والے اور اور کچھ قلم بند کرنے والے !
صرف کراچی میں ہی روزانہ درجنوں سر گرمیاں مختلف شعبہ جات اور اضلاع کی ہوتی ہیں وہ آخر میگزین کا حصہ کیوں نہیں بنتیں ؟ یہ تشہیر اور ترغیب کا ایک بہترین ذریعہ ہے ..سوشل راونڈ اپ یا کسی اور عنوان سے ایک صفحہ مختص کیا جاسکتا ہے .. ہر سطح کے نظم/ شعبہ میں کچھ نہ کچھ تخلیقی صلاحیت کے افراد ضرور ہوتے ہیں اور اگر نہیں تو نئے افراد کو سکھایا بهی جاسکتا ہے .
صرف کراچی میں ہی روزانہ درجنوں سر گرمیاں مختلف شعبہ جات اور اضلاع کی ہوتی ہیں وہ آخر میگزین کا حصہ کیوں نہیں بنتیں ؟ یہ تشہیر اور ترغیب کا ایک بہترین ذریعہ ہے ..سوشل راونڈ اپ یا کسی اور عنوان سے ایک صفحہ مختص کیا جاسکتا ہے .. ہر سطح کے نظم/ شعبہ میں کچھ نہ کچھ تخلیقی صلاحیت کے افراد ضرور ہوتے ہیں اور اگر نہیں تو نئے افراد کو سکھایا بهی جاسکتا ہے .
اس سلسلے میں ادبی
تنظیموں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سال میں ایک دو تقریبات یا مقابلے کروانے کے
ساتھ ساتھ قلم کاروں کی حوصلہ افزائی اور رہنمائ کا فریضہ انجام دیں ! تربیت کے ضمن میں سکھانے کا کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے
۔اس میں بہترین بات یہ ہے کہ مستند قلم کاروں کی تحریر قاری اور قلم کار دونوں کو
پڑھوائی جائے ۔اور اس پر سوالا جوابا نشست ( کوئی بھی شکل ہو ) کے ذریعے محاسن
تحریر کی طرف توجہ دلائی جائے ۔
قلم کار کے بعد کسی
میگزین کی کامیابی کا سہرا اس کے ایڈیٹر کو جا تا ہے جس کا کردار کسی جہاز
کے پائیلٹ کی طرح ہوتا ہے ۔وہ اپنی توجہ اور دلچسپی سے اس کا معیار بلند کر
سکتا ہے ۔ ضروری ہے کہ تنوع کا خیال
رکھتے ہوئے کسی بھی کمی بیشی کو بحسن خوبی پورا کر
نے کی صلاحیت رکھتا ہو ۔ ہر تحریر کے ہر جملے
کی ساخت ، پیراگراف کی تقسیم ، اس پر لگنے والی تصاویر پر اس کی بھر پور اور
تجزیاتی نظر ہو! تمام تحاریر مربوط، منضبط
اور تناسب میں ہوں ! قاری کے ذہن میں ابہام یا الجھن کا باعث نہ بنیں ۔
میگزین کے حوالے سے دو
نکات بہت اہم ہیں جن سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا
معاشی استحکام اور نظر یا تی
تشخص
ان دونوں مقاصد کے حصول
کے لیے میرٹ پر عمل ضروری ہے ۔
تحریر علمی ہو تفریحی
ہو یا ادبی ، تحقیق ہو یا ترجمہ ، مقالہ
ہو یا افسانہ معیاری اور اوریجنل ہوں ۔
مالیاتی مسائل
پر قابو پانے کے لیے مناسب اشتہارات
کی کوشش ، فنڈنگ کے علاوہ غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کی جائے۔اس کے علاوہ اخبارات کے صفحات کم کر کے
معیاری مواد بڑ ھا یا جائے ۔ مسابقت معیار کی بہتری کی ضمانت ہے ۔
آخری بات:
پچھلے دنوں ایک تمثیلی کہانی پڑھنے کو ملی جس میں چند افراد محنت، توجہ ، وسائل سے میگزین چلارہے ہیں ۔ تشہیر کے لیے بھی اچھا خاصہ سرمایہ خرچ کرتے ہیں ۔کامیابی کے اس سفر میں انہیں اس وقت دھچکہ لگتا ہے کہ جب میگزین کی فروخت میں اچانک کمی آتی ہے ۔ جب جائزہ لیا جا تا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا میگزین مطلوبہ تعداد میں اسٹالز پرترسیل ہورہا ہے مگر فروخت کیوں نہیں ہوتا ؟ اور تحقیق پر انکشاف ہوتا ہے کہ کچھ عناصر اس میگزین کو ہر اسٹال سے اٹھوانے پر مامور کیے گئے ہیں ۔ ہر ادارے کی طرح منفی ہتھکنڈوں اور عناصر کے خطرات سے بچاؤ بھی کسی میگزین کا چیلنج ہو سکتا ہے !مثبت اور تعمیری کوششوں کے ساتھ ساتھ تخریبی اور منفی عناصر پر نظر رکھنا بھی مومنانہ شیوہ اور کامیابی کی ضمانت ہے !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فر حت طاہر
|
اتوار، 18 مارچ، 2018
وہ غم اور ہوتے ہیں !
وہ غم اور ہوتے
ہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
........آج
بھی جب اس نے میری بری طرح سوجی ہوئی آنکھوں کو دیکھا تو پھر وعظ و تلقین شروع
کردی:
”یہ
بھلا تم روتی کس بات پر رہی ہو آخر؟ضرور اماں جان نے کچھ کہا ہوگا یا سعید بھائی
نے کفایت شعاری پر لیکچر پلایا ہوگا....تو پھر کیاہوا؟ پگلی کیوں اپنی جان کی دشمن
ہوئی ہے! اے کاش کبھی میں تمہیں یہ سمجھا
سکتی کہ ان باتوں کاغم کرنا نادانی ہے! وہ غم والی باتیں تو اور ہوتی ہیں...!“
آئیے آپ کو بتائیں
کہ مکالمہ کن کے درمیان ہورہا ہے!
یہ عنوان دراصل بنت
الاسلام صاحبہ کی کہانیوں کے مجموعے کا نام ہے جس میں یہ کہانی موجود ہے دو سہیلیوں کشور اور تزئین کے گرد گھومتی ہے جس
میں کشور آپ بیتی کے انداز میں اپنی دوست تزئین کے ساتھ تعلق کی کہانی کچھ یوں بتا
تی ہے:
بچپن سے ہم دونوں کے حالات حیرت انگیز طور پر ایک جیسے
چلے آرہے تھے۔عمر، قد، رنگ، چہرے کے نقوش یہاں تک کہ اٹھنے بیٹھنے کا انداز بھی اس
حد تک ایک دوسری سے مشابہہ تھا کہ اسکول
اور کالج کی ساری زندگی لوگ ہمں حقیقی بہنیں ہی تصور کرتے رہے۔حد یہ تھی کہ
دونوں کے سروں کے بالوں کی لمبائی بھی ایک جیسی تھی۔ایک دن جب ہم نے اپنے اپنے
بال ناپے تو ٹھیک ایک فٹ تین انچ لمبی
چوٹی میری تھی اور اتنی ہی تزئین کی! جن خاندانوں سے ہم تعلق رکھتے تھے،وہ بھی عام
متوسط طبقے کے شریف گھرانے تھے اور ان کے رہنے سہنے کا انداز بھی ایک دوسرے سے
مشابہہ تھا۔ایک ہی اسکول میں، ایک جیسے مضامین لے کر ہم نے میٹرک کیا اور جب کالج
پہنچے تو پہلی دفعہ الگ کلاسوں میں بیٹھے کیونکہ میرا میلان ادب کی طرف تھا اور
تزئین کی والدہ کا اصرار تھا کہ وہ سائنس کے مضامین لے۔تزئین نے ایک آدھ ہفتہ بڑی
مشکل سے گزارا اور اسی دوران میں وہ پانچ مرتبہ کالج میں اور سات مرتبہ گھر اپنی
ماں کے سامنے روئی کہ میں فزکس،کیمسٹری میں بالکل نہیں چل سکتی۔،یہاں تک کہ اس کی
والدہ نے مجبور ہوکر اسے آرٹس کے مضامین لینے کی اجازت دے دی۔
اس کے بعدچار سال
اس طرح گزرے کہ کالج میں شاید ہی کسی نے کبھی ہمیں علیحدہ علیحدہ دیکھا ہو۔ایک
جیسے مضامین اور فریق میں اکٹھے ہی رہے۔تعلیم کے بعد جب شادیوں کا مرحلہ آیا تو
وہاں بھی ہماری قسمتیں حیرت انگیز طور پر یک دوسرے سے مشابہ رہیں۔ چھہ مہینے کے
فرق سے ہماری شادیاں ہوئیں اور جن خاندانوں میں ہم گئے وہ ایک دوسرے سے بالکل
اجنبی ہونے کے باوجود بالکل ایک دوسرے کے مانند تھے۔شوہران نامدار کی ماہورا
آمدنیاں، اخلاق، طور طریقے بالکل ایک جیسے تھے۔دونوں اپنے گھروں میں سب سے بڑے تھے
اور دونوں کے کاندھوں پر بے پناہ ذمہ
داریاں تھیں،جن کے باعث ان کی طبائع بالکل جائز طور پر کفایت شعاری کی طرف بہت
مائل تھیں۔ دونوں گھروں میں ایک خاص انداز
کی مائیں تھیں۔جنہوں نے گھروں کی آمد و رفت اور بندوبست کے معاملے میں بہوؤں کو
پورے پورے اختیارات دے رکھے تھے مگر ان کے افعال و اعمال اور گھر چلانے کے طریقوں
پر کڑ ی نکتہ چینی کرتے رہنے میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتی تھیں اور دونوں کنبے اتنے زیادہ ”لڑکا پسند“
واقع ہوئے تھے کہ ہر بچی کی آمد پر اندر باہر اداسی اور ویرانی چھا جاتی
تھی۔جہاں تکآمدنیوں کا تعلق تھاہم دونوں اچھی خوشحال قسم کی زندگیاں گزار سکتے تھے
مگر ذمہ داریوں کی زیادتی کے باعث دونوں ہی کو بہت کچھ سوچ سمجھ کر چلنا پڑتا تھا۔زندگی
کے تقریباً ہر معاملے میں اتنی حیرت انگیز مشابہت کے باوجود میں از خود ”دکھی“ تھی
اور وہ بے انتہا ”سکھی“ !
ایسا
کیوں تھا؟ محض اس لیے کہ ہمارا سوچنے کا انداز ایک دوسری سے بالکل مختلف تھا! وہی صورت
حال جو میرے گھر پیش آتی تو میں ہفتوں روتی کڑھتی اور اپنی جان آدھی کر لیتی جب اس
کے گھرمیں پیش آتی تو وہ اسے پرکاہ بھی وقعت نہ دیتی اور ہنس کر ٹال دیتی اور یہ ہنسنا ہر گز مصنوعی نہ ہوتا..بزرگوں کے سامنے
زبان چلانا نہ اس نے سیکھا تھا نہ میں نے! وہ بھی صبر کرتی تھی اور میں بھی۔مگر اس
کا صبر ”صبر جمیل“ تھا جس میں شکایت کا نام زبان پر تو کیا دل میں بھی نہیں تھا اور
میرا صبر شاید ”صبر قبیح“ تھا کہ دل کی جلن،
کڑھن اور شکایات سے بھرا رہتا تھا۔.....“
مصنفہ
کی کردار نگاری اور منظر کشی قاری کو آج سے چار، پانچ عشرے قبل کی معاشرتی جھلک دکھاتی ہے اور وہ یہ دیکھ
کر ششدر رہ جاتا ہے کہ انسانی نفسیات و رویے، اس کے رشتوں سے تعلق کی نوعیت، حتی کہ
معاشی اور معاشرتی دباؤ کی اشکال زمان ومکان کے فاصلے کے باوجود آج کے دور سے کس قدر
ملتی ہیں! ہر دو قسم کے کردا ر آج بھی سماج
کا حصہ ہیں!
کہانی کا
آغاز کشور کے گھر رمضان کی ایک رات سے ہوتا ہے جب سحری میں وہ بر وقت نہ اٹھ پائی۔حالانکہ
سوائے اس کے سب نے معمول کے مطابق سحری کھائی۔
اس کی ساس کے فدیہ کا کھانابھی حسب معمول مسجد پہنچا دیا گیا تھا مگر ان کا غیض وغضب
کسی طرح کم نہیں ہو رہا تھا۔وہ کبھی بوڑھی خادمہ کو ” نکمی“ اور ”صرف روٹیاں توڑنے
والی“ کا خطاب عطا کرتیں۔کبھی ملازم بچے کریم
کو ”کام چور“ اور ”بد نیت“ قرار دیتیں اور گھر وا لی (بہو) کو تو خیر کبھی ڈھنگ سے گھر
کا بندوبست کرنا آیا ہی نہ تھا۔جو عورت دو دو تین تین نوکروں کی موجودگی میں بھی گھر والوں کو وقت پر سحری نہ کھلا سکے اس کے پھوہڑ ہونے
میں کیا شبہ ہو سکتا تھا؟ اور پھر ان کی توپوں کا رخ بہوکے لکھنے پڑھنے کے شوق کی طرف
ہوگیا۔
بقول کشور.....”بڑا ہی ضبط کیا مگر آنسو تھے کہ امڈے چلے
آرہے تھے.....“
ایسے میں اس کے شوہر نے اپنی ماں کو منانے کی کوشش کی تو
وہ اور بھڑک اٹھیں۔اس ساری صورت حال میں چھوٹی بچی نے اپنا راگ الاپنا شروع کیا اور
ماں کے آنسو دیکھ کر اور زیادہ زور شور سے رونے لگی اورخاصی دیر میں خاموش ہوئی۔سب
تو چپ ہوگئے مگر کشور کی آنکھیں برستی رہیں۔بغیر سحری کا روزہ رکھنے پر طبیعت بہت نڈھال
تھی۔ دونوں بڑی بچیاں اسکول روانہ ہوئیں تو وہ چھوٹی بچی کو گود میں لے کر تزئین سے
ملنے چلی گئی۔ (یہاں یہ اندازہ ہورہا ہے کہ ان کے گھر بھی قریب قریب ہوں گے!)
”...جونہی
میں تزئین کے گھر کے دروازے پر پہنچی۔ٹھٹھک کر کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔ایسے محسوس ہوتا
تھا کہ جس گھر کو پیچھے چھوڑ کر غم غلط کرنے کے لیے آئی ہوں وہ مجھ سے پہلے یہاں پہنچ
چکا ہے! اندر ایک واویلا مچا ہوا تھا اور ٹھیک وہی ڈرامہ ہورہا تھا جو رات کے پچھلے
پہر ہمارے ہاں کھیلا جا چکا تھا۔ تزئین کی ساس غصے سے لال بھبھوکا ہو رہی تھیں اور
مسلسل اور متواتر بولے جارہی تھیں اور گھر کے سب نوکر اور اہل خانہ جگہ جگہ سر جھکائے
کھڑے تھے اور تزئین اپنی ساس سے دو گز کے فاصلے پر کھڑی بڑے ہی اطمینان سے بچوں کے
کپڑے استری پھیر رہی تھی اور سر
اوپر کو اٹھا ہوا تھا۔نہ تو اس کے چہرے پر کوئی غم فکر کے آثار تھے اور نہ آنکھوں میں
کسی قسم کی گھبراہٹ بلکہ...کسی کسی وقت اس
کے ہونٹوں پر ایک دبی گھٹی مسکراہٹ بھی آجاتی تھی۔“
...ان حالات میں کشور کی سمجھ نہیں آیا کہ وہ
آگے بڑھے یا واپس اپنے گھر چلی جائے! اتنے میں تزئین آگے بڑھی اور اس کاستقبال کیا۔
اپنی ساس کوسلام کروا کر اپنے کمرے میں لے گئی۔تزئین کو بے نیاز اور مطمئن دیکھ کر
اسے یقین ہو گیا کہ بڑی بی کا قہر اس پر نہیں بلکہ کسی اور پر ٹوٹ رہا تھا مگر معلوم
ہوا کہ اس تمام بوچھاڑ کا ہدف وہی تھی!اس کی ساس کے غصے کی وجہ بڑی حد تک کشور کی ساس
سے ملتی جلتی تھی۔ہوا یہ کہ صبح صبح بڑی بی کے رشتے کے دو بھانجے اور ایک چچا زاد بھائی
کم و بیش دو تین گھنٹے کے لیے وہاں رکے مگر کسی نے نہ ان کو چائے کو پو چھا نہ کھانے
کا! تزئین کا عذر یہ تھا کہ رمضان کا مہینہ ہونے کی وجہ سے وہ سمجھی کہ روزہ ہوگا!جبکہ
اس کی ساس مشہور فقہی مسئلے کی آڑ لے رہی تھیں کہ مسافر کے لیے روزہ رکھنا ضروری نہیں۔تزئین
کی یہ لاعلمی کہ وہ کسی دوسرے شہر سے آئے ہیں اس کو ساس کی نظر میں حد درجہ لاپروا
ہ قرار دے رہی تھی۔وہ بار باربآ واز بلند اس بات کا ماتم کر رہی تھیں کہ جب سے انہوں
نے گھر کے کاموں میں عملی حصہ لینا چھوڑا ہے گھر کا گھروا ہوچکا ہے۔
اگر چہ کشور
کو تزئین کی پر سکون طبیعت کا اندازہ تھامگر اپنی آنکھوں کے سامنے یہ سب دیکھ کر وہ
بہت تعجب میں تھی او ر اس کی حیرت کے جواب میں تزئین نے کچھ اس طرح اس کی ذہن سازی
کی کشو ر یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ میری ساس بھی ٹھیک ہی کہہ رہی تھیں!رات میں خواہ
مخواہ بارہ ایک بجے تک بیٹھی اپنی اہل قلم سہیلیوں کی نگارشات کا مطالعہ کر رہی تھی
اور سحری پر نہ اٹھ سکی.....
عزیز قارئین! ابتدا جس مکالمے سے ہوئی تھی یہ اسی ملاقات
کا ذکر ہے جب تزئین کے سمجھا نے پر کشور بول پڑی:
”...تزئین! تمہیں خدا کی قسم اتنا بتادو کہ وہ کون سی شئے ہے جس نے تمہیں اتنا
غم پروف بنا دیا ہے...“
”غم پروف؟
“ تزئین نے بڑی سادگی سے کہا ”مجھے تو کچھ
بڑے بڑے غموں نے غم پروف بنا دیا ہے۔“
”کون سے بڑے بڑے غم.؟.....“
تزئین نے افسردگی سے کہا.” وہ سب کچھ تمہارے سامنے ہی تو
بیتا تھا جب دسویں کلاس میں میرے ابا جان کا انتقال ہوگیا تھا....ان کے بغیر ہماری
زندگی بالکل بے معنی تھی....وقت بہت بڑا مرہم ہے.....زخم تو بھر گیا مگر ان کی جدائی
میرے ذہن میں یہ بات نقش کر گئی کہ اس مادی دنیا میں سب سے بڑی قیمتی شئے انسانی جان
ہے!..“
”تمہارا مطلب ہے غم صرف کسی کی موت کا ہی ہو۔اس
کے علاوہ کسی مصیبت کاغم درست نہیں...!“ کشور نے قائل ہونے کے باوجود بحث کی۔
”نہیں
اور غم بھی ہوتے ہیں“ تزئین نے کہا ”تمہیں یاد ہے کہ ۵۶ ء
کی جنگ میں تین دن مجھ پر ایسی گزریں کہ میں پانچ منٹ کے لیے بھی آنکھیں بند نہ کرسکی
تھی..اس خوف میں کہ کوئی لاہور کو مجھ سے چھینے لے جا رہا ہے..یہ غم ایسا جان گذار
تھا کہ اس نے میرے دل سے ابا جان کا غم بھی بھلا دیا.....“
(یہاں سقوط ڈھاکہ کاذکر نہیں ہے۔یقینا یہ اس سے
پہلے کی لکھی گئی کہانی ہے،بہر حال ۵۶
ء سے ۱۷
ء تک کے حالات کچھ کم افسوس ناک نہیں ہیں) یہاں کشور اپنا ان دنوں کا تجزیہ کرتی ہے کہ جب زندگی میں اتنے
بڑے بڑے دکھ بھی موجود ہوتے ہیں تو پھر ہم چھوٹی چھوٹی پریشانیوں کو کیوں اتنا بڑا
سمجھ لیتے ہیں؟ مگر اس کا تاثر یقیناً اتناگہرا نہیں تھا جتنا تزئین کا لہذا وقت گزرنے
کے ساتھ معمولی الجھنوں نے پھر ذہن اور دل کو گرفت میں لینا شروع کردیا۔
اس ملاقات نے کشور کی سوچ کازاویہ بدلامگر اس کا اناڑی اور
کچا پن اس بات کا متقاضی تھا کہ انہیں نیک صحبت کی رہنمائی مسلسل حاصل ہوتی رہے۔ چنانچہ
سردیوں کی آمد اور مصروفیت کے باعث تزئین سے ملاقاتیں کم ہوگئیں جس کے اثرات نظر آنے
لگے۔دل میں رچی بسی جلن، کڑھن پھر سر اٹھا نے لگی۔باوجود سخت کوشش کے وہ اس وقت ہمت
ہار گئی جب چند ماہ بعد اللہ نے اس کو ایک اور بیٹی سے نوازا۔بیٹی کی پیدائش پر ساس
اور شوہر کے رد عمل نے کشور کو اتنا مشتعل کیا کہ ضبط کے سارے بند ٹوٹ گئے اور سارا
وقت رونے میں گزرنے لگااور یوں پانچ چھہ مہینے کی خود تربیتی کی محنت بہت حد تک ضائع
ہوگئی۔
تزئین سے کشور کی مشابہت نے ایک اور رنگ دکھا یا جب دو ماہ
بعد تزئین کو بھی اللہ نے چوتھی بیٹی عطاکر دی۔ساتھ ہی تزئین کی بیماری کی اطلاع بھی
ملی۔اگرچہ اسے تزئین کی غم پروف طبیعت کا اندزاہ تھا پھر بھی وہ اسے بچی کی پیدائش اور گھر والوں کا
ناخوشگوار ردعمل سمجھی مگر جب وہ اس سے ملنے گئی تو اس کو بہت خوش وخرم، تندرست و توانا
پایا۔ وہ فیروزی رنگ کا خوبصورت سوٹ پہنے پیازی رنگ کے فراک پر موتی ٹانک رہی تھی۔اور
ویسا ہی فراک اس نے کشور کی بیٹی کو بھی تحفے میں دیا۔تز ئین کی ساس اور جٹھا نی نے
اس کا مذاق اڑانے لگیں
”کوئی ان سے پوچھو! اتنا چاؤ کس بات کا ہے؟ چوتھی
بیٹی کے ایسے چونچلے ہورہے ہیں گویا اللہ آمین کا بیٹا ملا ہو!“ ان جملے بازیوں پر
کشور کا دل جل کرراکھ ہو گیا مگر تزئین ایسی
بے ساختہ ہو کر ہنسی کہ وہ دونوں جھینپ گئیں۔
یہاں پر کشور اپناجائزہ لیتی ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ
اس کی زود رنجی کی وجہ سے اسے اپنے گھر والوں کے اعتراض زیادہ محسوس ہورہے تھے یا بیٹانہ
ہو نے کا غم اس نے خود پر طاری کیا....اتنے میں ایک مہمان خاتون استفسار کرتی ہیں کہ
دلہن نے چوتھی بیٹی کا غم تو نہیں کھا یا...!
اس کے جواب میں تزئین نے پھر وہ جملہ دہرایا:
”غم! کس بات کا غم؟“ اپنی بچی کا فراک درست کرتے ہوئے بولی
”یہ بھلا کوئی غم کی بات ہے خالہ جان! وہ غم کی
باتیں تو اور ہوتی ہیں...!“
تقریباً سات ہزار الفاظ پر مشتمل یہ کہانی جہاں الفاظ و
تراکیب کاخوبصورت امتزاج قاری کو محظوظ کرتی ہے اور وہ اسے اپنی ہی کہانی سمجھتا ہے
وہیں بلاشبہ بہت سے بے جا غموں سے نجات حاصل کرنے کا سبق دیتی ہے۔ ذاتی اور مادی غموں
کے گرداب میں پھنسے معاشرے کو حقیقی غموں اور دکھوں سے متعارف ہونا ضروری ہے! اس وقت
امت کا غم تمام غموں پر بھاری ہے جو ہمیں ذاتی
آرام اور سکون میں بھی بے چین رکھتا ہے
۔بلا وجہ رونے کو کوئی اپنے آنسو پیاز کا شاخسانہ کہتا ہے اور کوئی شمپو آنکھ
میں جانے کا عذر تراشتا ہے لیکن دراصل یہ وہی غم ہے جس کاہم ادراک ہی نہیں کر تے!
……………………………………….---------------------------------------------------------
فر حت طاہر
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)