اتوار، 18 مارچ، 2018

وہ غم اور ہوتے ہیں !




   وہ غم اور ہوتے ہیں!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔         
  
........آج بھی جب اس نے میری بری طرح سوجی ہوئی آنکھوں کو دیکھا تو پھر وعظ و تلقین شروع کردی:
یہ بھلا تم روتی کس بات پر رہی ہو آخر؟ضرور اماں جان نے کچھ کہا ہوگا یا سعید بھائی نے کفایت شعاری پر لیکچر پلایا ہوگا....تو پھر کیاہوا؟ پگلی کیوں اپنی جان کی دشمن ہوئی ہے!  اے کاش کبھی میں تمہیں یہ سمجھا سکتی کہ ان باتوں کاغم کرنا نادانی ہے! وہ غم والی باتیں تو اور ہوتی ہیں...!“             
   آئیے آپ کو بتائیں کہ مکالمہ کن کے درمیان ہورہا ہے!
 یہ عنوان دراصل بنت الاسلام صاحبہ کی کہانیوں کے مجموعے کا نام ہے جس میں یہ کہانی موجود ہے  دو سہیلیوں کشور اور تزئین کے گرد گھومتی ہے جس میں کشور آپ بیتی کے انداز میں اپنی دوست تزئین کے ساتھ تعلق کی کہانی کچھ یوں بتا تی ہے:
بچپن سے ہم دونوں کے حالات حیرت انگیز طور پر ایک جیسے چلے آرہے تھے۔عمر، قد، رنگ، چہرے کے نقوش یہاں تک کہ اٹھنے بیٹھنے کا انداز بھی اس حد تک ایک دوسری سے مشابہہ تھا کہ اسکول  اور کالج کی ساری زندگی لوگ ہمں حقیقی بہنیں ہی تصور کرتے رہے۔حد یہ تھی کہ دونوں کے سروں کے بالوں کی لمبائی بھی ایک جیسی تھی۔ایک دن جب ہم نے اپنے اپنے بال  ناپے تو ٹھیک ایک فٹ تین انچ لمبی چوٹی میری تھی اور اتنی ہی تزئین کی! جن خاندانوں سے ہم تعلق رکھتے تھے،وہ بھی عام متوسط طبقے کے شریف گھرانے تھے اور ان کے رہنے سہنے کا انداز بھی ایک دوسرے سے مشابہہ تھا۔ایک ہی اسکول میں، ایک جیسے مضامین لے کر ہم نے میٹرک کیا اور جب کالج پہنچے تو پہلی دفعہ الگ کلاسوں میں بیٹھے کیونکہ میرا میلان ادب کی طرف تھا اور تزئین کی والدہ کا اصرار تھا کہ وہ سائنس کے مضامین لے۔تزئین نے ایک آدھ ہفتہ بڑی مشکل سے گزارا اور اسی دوران میں وہ پانچ مرتبہ کالج میں اور سات مرتبہ گھر اپنی ماں کے سامنے روئی کہ میں فزکس،کیمسٹری میں بالکل نہیں چل سکتی۔،یہاں تک کہ اس کی والدہ نے مجبور ہوکر اسے آرٹس کے مضامین لینے کی اجازت دے دی۔
  اس کے بعدچار سال اس طرح گزرے کہ کالج میں شاید ہی کسی نے کبھی ہمیں علیحدہ علیحدہ دیکھا ہو۔ایک جیسے مضامین اور فریق میں اکٹھے ہی رہے۔تعلیم کے بعد جب شادیوں کا مرحلہ آیا تو وہاں بھی  ہماری قسمتیں حیرت انگیز  طور پر یک دوسرے سے مشابہ رہیں۔ چھہ مہینے کے فرق سے ہماری شادیاں ہوئیں اور جن خاندانوں میں ہم گئے وہ ایک دوسرے سے بالکل اجنبی ہونے کے باوجود بالکل ایک دوسرے کے مانند تھے۔شوہران نامدار کی ماہورا آمدنیاں، اخلاق، طور طریقے بالکل ایک جیسے تھے۔دونوں اپنے گھروں میں سب سے بڑے تھے اور دونوں کے کاندھوں  پر بے پناہ ذمہ داریاں تھیں،جن کے باعث ان کی طبائع بالکل جائز طور پر کفایت شعاری کی طرف بہت مائل تھیں۔ دونوں گھروں  میں ایک خاص انداز کی مائیں تھیں۔جنہوں نے گھروں کی آمد و رفت اور بندوبست کے معاملے میں بہوؤں کو پورے پورے اختیارات دے رکھے تھے مگر ان کے افعال و اعمال اور گھر چلانے کے طریقوں پر کڑ ی نکتہ چینی کرتے رہنے میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتی تھیں  اور دونوں کنبے اتنے زیادہ  ”لڑکا پسند“  واقع ہوئے تھے کہ ہر بچی کی آمد پر اندر باہر اداسی اور ویرانی چھا جاتی تھی۔جہاں تکآمدنیوں کا تعلق تھاہم دونوں اچھی خوشحال قسم کی زندگیاں گزار سکتے تھے مگر ذمہ داریوں کی زیادتی کے باعث دونوں ہی کو بہت کچھ سوچ سمجھ کر چلنا پڑتا تھا۔زندگی کے تقریباً ہر معاملے میں اتنی حیرت انگیز مشابہت کے باوجود میں از خود ”دکھی“ تھی اور وہ بے انتہا ”سکھی“ !
  ایسا کیوں تھا؟ محض اس لیے کہ ہمارا سوچنے کا انداز ایک دوسری سے بالکل مختلف تھا! وہی صورت حال جو میرے گھر پیش آتی تو میں ہفتوں روتی کڑھتی اور اپنی جان آدھی کر لیتی جب اس کے گھرمیں پیش آتی تو وہ اسے پرکاہ بھی وقعت نہ دیتی اور ہنس کر ٹال دیتی  اور یہ ہنسنا ہر گز مصنوعی نہ ہوتا..بزرگوں کے سامنے زبان چلانا نہ اس نے سیکھا تھا نہ میں نے! وہ بھی صبر کرتی تھی اور میں بھی۔مگر اس کا صبر ”صبر جمیل“ تھا جس میں شکایت کا نام زبان پر تو کیا دل میں بھی نہیں تھا اور میرا صبر شاید ”صبر قبیح“  تھا کہ دل کی جلن، کڑھن اور شکایات سے بھرا رہتا تھا۔.....“
  مصنفہ کی کردار نگاری اور منظر کشی قاری کو آج سے چار، پانچ  عشرے قبل کی معاشرتی جھلک دکھاتی ہے اور وہ یہ دیکھ کر ششدر رہ جاتا ہے کہ انسانی نفسیات و رویے، اس کے رشتوں سے تعلق کی نوعیت، حتی کہ معاشی اور معاشرتی دباؤ کی اشکال زمان ومکان کے فاصلے کے باوجود آج کے دور سے کس قدر ملتی ہیں!  ہر دو قسم کے کردا ر آج بھی سماج کا حصہ ہیں! 
 کہانی کا آغاز کشور کے گھر رمضان کی ایک رات سے ہوتا ہے جب سحری میں وہ بر وقت نہ اٹھ پائی۔حالانکہ سوائے اس کے سب  نے معمول کے مطابق سحری کھائی۔ اس کی ساس کے فدیہ کا کھانابھی حسب معمول مسجد پہنچا دیا گیا تھا مگر ان کا غیض وغضب کسی طرح کم نہیں ہو رہا تھا۔وہ کبھی بوڑھی خادمہ کو ” نکمی“ اور ”صرف روٹیاں توڑنے والی“  کا خطاب عطا کرتیں۔کبھی ملازم بچے کریم کو  ”کام چور“  اور ”بد نیت“ قرار دیتیں  اور گھر وا لی (بہو) کو تو خیر کبھی ڈھنگ سے گھر کا بندوبست کرنا آیا ہی نہ تھا۔جو عورت دو دو تین تین نوکروں کی موجودگی میں بھی گھر  والوں کو وقت پر سحری نہ کھلا سکے اس کے پھوہڑ ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا تھا؟ اور پھر ان کی توپوں کا رخ بہوکے لکھنے پڑھنے کے شوق کی طرف ہوگیا۔
بقول کشور.....”بڑا ہی ضبط کیا مگر آنسو تھے کہ امڈے چلے آرہے تھے.....“ 
ایسے میں اس کے شوہر نے اپنی ماں کو منانے کی کوشش کی تو وہ اور بھڑک اٹھیں۔اس ساری صورت حال میں چھوٹی بچی نے اپنا راگ الاپنا شروع کیا اور ماں کے آنسو دیکھ کر اور زیادہ زور شور سے رونے لگی اورخاصی دیر میں خاموش ہوئی۔سب تو چپ ہوگئے مگر کشور کی آنکھیں برستی رہیں۔بغیر سحری کا روزہ رکھنے پر طبیعت بہت نڈھال تھی۔ دونوں بڑی بچیاں اسکول روانہ ہوئیں تو وہ چھوٹی بچی کو گود میں لے کر تزئین سے ملنے چلی گئی۔ (یہاں یہ اندازہ ہورہا ہے کہ ان کے گھر بھی قریب قریب ہوں گے!)
 ”...جونہی میں تزئین کے گھر کے دروازے پر پہنچی۔ٹھٹھک کر کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔ایسے محسوس ہوتا تھا کہ جس گھر کو پیچھے چھوڑ کر غم غلط کرنے کے لیے آئی ہوں وہ مجھ سے پہلے یہاں پہنچ چکا ہے! اندر ایک واویلا مچا ہوا تھا اور ٹھیک وہی ڈرامہ ہورہا تھا جو رات کے پچھلے پہر ہمارے ہاں کھیلا جا چکا تھا۔ تزئین کی ساس غصے سے لال بھبھوکا ہو رہی تھیں اور مسلسل اور متواتر بولے جارہی تھیں اور گھر کے سب نوکر اور اہل خانہ جگہ جگہ سر جھکائے کھڑے تھے اور تزئین اپنی ساس سے دو گز کے فاصلے پر کھڑی بڑے ہی اطمینان سے بچوں کے کپڑے استری پھیر رہی تھی اور سر اوپر کو اٹھا ہوا تھا۔نہ تو اس کے چہرے پر کوئی غم فکر کے آثار تھے اور نہ آنکھوں میں کسی قسم کی گھبراہٹ بلکہ...کسی کسی وقت  اس کے ہونٹوں پر ایک دبی گھٹی مسکراہٹ بھی آجاتی تھی۔“
...ان حالات میں کشور کی سمجھ نہیں آیا کہ وہ آگے بڑھے یا واپس اپنے گھر چلی جائے! اتنے میں تزئین آگے بڑھی اور اس کاستقبال کیا۔ اپنی ساس کوسلام کروا کر اپنے کمرے میں لے گئی۔تزئین کو بے نیاز اور مطمئن دیکھ کر اسے یقین ہو گیا کہ بڑی بی کا قہر اس پر نہیں بلکہ کسی اور پر ٹوٹ رہا تھا مگر معلوم ہوا کہ اس تمام بوچھاڑ کا ہدف وہی تھی!اس کی ساس کے غصے کی وجہ بڑی حد تک کشور کی ساس سے ملتی جلتی تھی۔ہوا یہ کہ صبح صبح بڑی بی کے رشتے کے دو بھانجے اور ایک چچا زاد بھائی کم و بیش دو تین گھنٹے کے لیے وہاں رکے مگر کسی نے نہ ان کو چائے کو پو چھا نہ کھانے کا! تزئین کا عذر یہ تھا کہ رمضان کا مہینہ ہونے کی وجہ سے وہ سمجھی کہ روزہ ہوگا!جبکہ اس کی ساس مشہور فقہی مسئلے کی آڑ لے رہی تھیں کہ مسافر کے لیے روزہ رکھنا ضروری نہیں۔تزئین کی یہ لاعلمی کہ وہ کسی دوسرے شہر سے آئے ہیں اس کو ساس کی نظر میں حد درجہ لاپروا ہ قرار دے رہی تھی۔وہ بار باربآ واز بلند اس بات کا ماتم کر رہی تھیں کہ جب سے انہوں نے گھر کے کاموں میں عملی حصہ لینا چھوڑا ہے گھر کا گھروا ہوچکا ہے۔
 اگر چہ کشور کو تزئین کی پر سکون طبیعت کا اندازہ تھامگر اپنی آنکھوں کے سامنے یہ سب دیکھ کر وہ بہت تعجب میں تھی او ر اس کی حیرت کے جواب میں تزئین نے کچھ اس طرح اس کی ذہن سازی کی کشو ر یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ میری ساس بھی ٹھیک ہی کہہ رہی تھیں!رات میں خواہ مخواہ بارہ ایک بجے تک بیٹھی اپنی اہل قلم سہیلیوں کی نگارشات کا مطالعہ کر رہی تھی اور سحری پر نہ اٹھ سکی.....
عزیز قارئین! ابتدا جس مکالمے سے ہوئی تھی یہ اسی ملاقات کا ذکر ہے جب تزئین کے سمجھا نے پر کشور بول پڑی:
     ”...تزئین! تمہیں خدا کی قسم اتنا بتادو کہ وہ کون سی شئے ہے جس نے تمہیں اتنا غم پروف بنا دیا ہے...“
 ”غم پروف؟ “ تزئین نے بڑی سادگی سے کہا  ”مجھے تو کچھ بڑے بڑے غموں نے غم پروف بنا دیا ہے۔“
”کون سے بڑے بڑے غم.؟.....“
تزئین نے افسردگی سے کہا.” وہ سب کچھ تمہارے سامنے ہی تو بیتا تھا جب دسویں کلاس میں میرے ابا جان کا انتقال ہوگیا تھا....ان کے بغیر ہماری زندگی بالکل بے معنی تھی....وقت بہت بڑا مرہم ہے.....زخم تو بھر گیا مگر ان کی جدائی میرے ذہن میں یہ بات نقش کر گئی کہ اس مادی دنیا میں سب سے بڑی قیمتی شئے انسانی جان ہے!..“
”تمہارا مطلب ہے غم صرف کسی کی موت کا ہی ہو۔اس کے علاوہ کسی مصیبت کاغم درست نہیں...!“ کشور نے قائل ہونے کے باوجود بحث کی۔
 ”نہیں اور غم بھی ہوتے ہیں“ تزئین نے کہا ”تمہیں یاد ہے کہ ۵۶ ء کی جنگ میں تین دن مجھ پر ایسی گزریں کہ میں پانچ منٹ کے لیے بھی آنکھیں بند نہ کرسکی تھی..اس خوف میں کہ کوئی لاہور کو مجھ سے چھینے لے جا رہا ہے..یہ غم ایسا جان گذار تھا کہ اس نے میرے دل سے ابا جان کا غم بھی بھلا دیا.....“
(یہاں سقوط ڈھاکہ کاذکر نہیں ہے۔یقینا یہ اس سے پہلے کی لکھی گئی کہانی ہے،بہر حال ۵۶ ء سے ۱۷ ء تک کے حالات کچھ کم افسوس ناک نہیں ہیں) یہاں کشور اپنا  ان دنوں کا تجزیہ کرتی ہے کہ جب زندگی میں اتنے بڑے بڑے دکھ بھی موجود ہوتے ہیں تو پھر ہم چھوٹی چھوٹی پریشانیوں کو کیوں اتنا بڑا سمجھ لیتے ہیں؟ مگر اس کا تاثر یقیناً اتناگہرا نہیں تھا جتنا تزئین کا لہذا وقت گزرنے کے ساتھ معمولی الجھنوں نے پھر ذہن اور دل کو گرفت میں لینا شروع کردیا۔
اس ملاقات نے کشور کی سوچ کازاویہ بدلامگر اس کا اناڑی اور کچا پن اس بات کا متقاضی تھا کہ انہیں نیک صحبت کی رہنمائی مسلسل حاصل ہوتی رہے۔ چنانچہ سردیوں کی آمد اور مصروفیت کے باعث تزئین سے ملاقاتیں کم ہوگئیں جس کے اثرات نظر آنے لگے۔دل میں رچی بسی جلن، کڑھن پھر سر اٹھا نے لگی۔باوجود سخت کوشش کے وہ اس وقت ہمت ہار گئی جب چند ماہ بعد اللہ نے اس کو ایک اور بیٹی سے نوازا۔بیٹی کی پیدائش پر ساس اور شوہر کے رد عمل نے کشور کو اتنا مشتعل کیا کہ ضبط کے سارے بند ٹوٹ گئے اور سارا وقت رونے میں گزرنے لگااور یوں پانچ چھہ مہینے کی خود تربیتی کی محنت بہت حد تک ضائع ہوگئی۔
تزئین سے کشور کی مشابہت نے ایک اور رنگ دکھا یا جب دو ماہ بعد تزئین کو بھی اللہ نے چوتھی بیٹی عطاکر دی۔ساتھ ہی تزئین کی بیماری کی اطلاع بھی ملی۔اگرچہ اسے تزئین کی غم پروف طبیعت کا اندزاہ تھا  پھر بھی وہ اسے بچی کی پیدائش اور گھر والوں کا ناخوشگوار ردعمل سمجھی مگر جب وہ اس سے ملنے گئی تو اس کو بہت خوش وخرم، تندرست و توانا پایا۔ وہ فیروزی رنگ کا خوبصورت سوٹ پہنے پیازی رنگ کے فراک پر موتی ٹانک رہی تھی۔اور ویسا ہی فراک اس نے کشور کی بیٹی کو بھی تحفے میں دیا۔تز ئین کی ساس اور جٹھا نی نے اس کا مذاق اڑانے لگیں
”کوئی ان سے پوچھو! اتنا چاؤ کس بات کا ہے؟ چوتھی بیٹی کے ایسے چونچلے ہورہے ہیں گویا اللہ آمین کا بیٹا ملا ہو!“ ان جملے بازیوں پر کشور کا  دل جل کرراکھ ہو گیا مگر تزئین ایسی بے ساختہ ہو کر ہنسی کہ وہ دونوں جھینپ گئیں۔
یہاں پر کشور اپناجائزہ لیتی ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کی زود رنجی کی وجہ سے اسے اپنے گھر والوں کے اعتراض زیادہ محسوس ہورہے تھے یا بیٹانہ ہو نے کا غم اس نے خود پر طاری کیا....اتنے میں ایک مہمان خاتون استفسار کرتی ہیں کہ دلہن نے چوتھی بیٹی کا غم تو نہیں کھا یا...!  اس کے جواب میں تزئین نے پھر وہ جملہ دہرایا:
”غم! کس بات کا غم؟“   اپنی بچی کا فراک درست کرتے ہوئے بولی
”یہ بھلا کوئی غم کی بات ہے خالہ جان! وہ غم کی باتیں تو اور ہوتی ہیں...!“


تقریباً سات ہزار الفاظ پر مشتمل یہ کہانی جہاں الفاظ و تراکیب کاخوبصورت امتزاج قاری کو محظوظ کرتی ہے اور وہ اسے اپنی ہی کہانی سمجھتا ہے وہیں بلاشبہ بہت سے بے جا غموں سے نجات حاصل کرنے کا سبق دیتی ہے۔ ذاتی اور مادی غموں کے گرداب میں پھنسے معاشرے کو حقیقی غموں اور دکھوں سے متعارف ہونا ضروری ہے! اس وقت امت کا غم تمام غموں پر بھاری ہے جو ہمیں ذاتی  آرام اور سکون میں بھی بے چین رکھتا ہے  ۔بلا وجہ رونے کو کوئی اپنے آنسو پیاز کا شاخسانہ کہتا ہے اور کوئی شمپو آنکھ میں جانے کا عذر تراشتا ہے لیکن دراصل یہ وہی غم ہے جس کاہم ادراک ہی نہیں کر تے!
……………………………………….---------------------------------------------------------

فر حت طاہر


ہفتہ، 17 مارچ، 2018

آ تش زدگی


٭                   آتش زدگی               ٭
پچھلے سال 26 فروری 2017 ء  کا واقعہ ہے !ویک اینڈ کی دوپہر! گهر اور محلے والے اپنے اپنے شیڈول کے کاموں میں
 منہمک تهے. کچھ کهانے کے بعد قیلولے میں مصروف تو کچھ نماز کی ادائیگی میں! کچھ باہر نکلے تهے تو کچھ آؤٹنگ کی تیاری کر رہے تهے. اتنے میں ایک ہاہاکار مچ اٹهی .خالی پلاٹ پر بنی جهگیوں میں آگ کے شعلے بلند ہورہے تهے
ان جهگیوں میں چار /چھہ گهرانے آباد ہیں ۔اس کا محل وقوع کچھ اس طرح ہےکہ تین طرف سے سڑک ہے جبکہ زمین ناہموار ہے یعنی ابهری ہوئی سطح ہے.۔
دیکهتے ہی دیکهتے سب اپنے اپنے گهروں سے نکل آئے .اور جلدی جلدی پائپ لگا کر بجهانے کی کوشش کرنے لگے .خواتین ہراساں تهیں کہ اندر کوئی بچہ تو نہیں ہے!دیکهتے دیکهتے شعلے برابر والے گهر کی تیسری منزل سے آگے بڑهنے لگے. سب کے ہاتهوں میں موبائل تهے مگر سیلفی کا ہوش کسی کو نہ تهابلکہ سب فائر بریگیڈ کوکال کررہے تهے ، کسی نےچهیپا کو تو کسی نے 15 ہی ملا لیاتها! کے الیکٹرک کو بهی بلوالیا گیا کہ بجلی کے تاروں کی وجہ سے کرنٹ دوڑ رہا تهااس وقت سب اپنی تمام ضروریات بهول چکے تهے . ان میں پنجابی بهی تهے مہاجر بهی! سرائیکی بهی اور بنگالی بهی ! سنی اور شیعہ !                                             مالک اور خادم سب ایک ہی جدوجہد میں مصروف تهے. بهڑکتی ہوئی آگ کو بجهانے کی کوششتهوڑی ہی دیر میں دو فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آپہنچیں . ایمبولنس بهی آگئی تهی . حتی کہ پولیس اور رینجرز بهی مستعد تهی. بجلی کی گاڑی بهی جلد ہی پہنچ گئی. میڈیا ٹیم بهی آ موجود ہوئی۔                                                          ایک ڈیڑه گهنٹے کے بعد آگ بجھی تو سب شکر ادا کر رہے تهے کہ کوئ جانی نقصان نہ ہوا. ملحقہ گهر کےکئی حصے، سامان اور لائینیں خاصی متاءثر ہوئیں جبکہ جهونپڑیوں کی توساری متاع خاکستر یوچکی تهی.آگ لگنے کی وجوہات شارٹ سرکٹ تها یا کوئی اور ... لیکن اچهی بات یہ تهی کہ نہ تو مالک مکان جهونپڑی والوں کو ملامت کر رہے تهے اور نہ ہی وہ لوگ زیادہ آہ وبکا کر رہے تهے.۔اداروں کا بروقت امدادی کاروائ کے لیے پہنچنا بهی بڑا حوصلہ افزا محسوس ہوا!دلچسپ بات یہ تهی چینل والے آگ پر بات کرنے کے بجائے بچوں اور لڑکوں سے آج کے میچ کی پسندیدہ ٹیم کے بارے میں پوچھ رہے تهے...... گویا آگ لگی ہو اور نیرو بانسری بجا رہاہو !اس واقعے  سےکچھ نکات اخذ کیے :* یوں تو ہم دنیا جہاں کا ڈیٹا اپنے پاس محفوظ رکهتے ہیں مگرہنگامی نوعیت کے روابط کونہیں شامل کرتے * جس طرح ہم ساری تیاریوں میں موت کومد نظر نہیں رکهتے اسی طرح ناگہانی کے بارے میں بهی کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کرتے۔ * سیفٹی کلچر کا فقدان .ہماری لڑائیاں گاڑیوں کی پارکنگ پر تو ہوتی ہیں مگر لٹکے ہوئے تاروں کے خطرات سے بے خبر رہتے ہیں *****

اس واقعہ کو ایک سال گزر گیا ہے ۔  اس  پلاٹ  پر بسنے والے تمام خاندان نئے ٹھکانوں پر بس چکے ہیں اور یہ ہنوز خالی ہے !حالانکہ کچرا اٹھا نے پر مامور افراد روز یہاں آتے ہیں مگر نہ   جانے کون سی  ان دیکھی مخلوق یہاں روز کچرا ڈال جاتی ہے ۔  برسوں سے یہاں  رہنے والےمکین صفائی ستھرائی اور نظم و ضبط کا خیا ل رکھتے تھے ۔ایک  پر فضا اور مثالی پلاٹ اپنی ویرانی پر افسردہ ہے۔  پھول دار کیا ریاں جل چکی ہیں ۔حفاظتی باڑ کچرے سے اٹی رہتی ہے کہ کوئی والی وارث نہیں ! بچوں کی چہکار ایک خاموشی میں ڈھل چکی ہے ۔دن میں جتنی بار اس پلاٹ پر نظر پڑتی ہے دل میں ہوک سی اٹھتی ہے اور اجڑے دیس  بلاد شام کی تصویر آنکھوں میں گھوم جاتی ہے  جو سات سال سے مقتل بنا ہوا ہے !


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فر حت طاہر 







٭                   آتش زدگی               ٭
پچھلے سال 26 فروری 2017 ء  کا واقعہ ہے !
ویک اینڈ کی دوپہر! گهر اور محلے والے اپنے اپنے شیڈول کے کاموں میں منہمک تهے. کچھ کهانے کے بعد قیلولے میں مصروف تو کچھ نماز کی ادائیگی میں! کچھ باہر نکلے تهے تو کچھ آؤٹنگ کی تیاری کر رہے تهے. اتنے میں ایک ہاہاکار مچ اٹهی .خالی پلاٹ پر بنی جهگیوں میں آگ کے شعلے بلند ہورہے تهے
ان جهگیوں میں چار /چھہ گهرانے آباد ہیں ۔اس کا محل وقوع کچھ اس طرح ہےکہ تین طرف سے سڑک ہے جبکہ زمین ناہموار ہے یعنی ابهری ہوئی سطح ہے.۔
دیکهتے ہی دیکهتے سب اپنے اپنے گهروں سے نکل آئے .اور جلدی جلدی پائپ لگا کر بجهانے کی کوشش کرنے لگے .خواتین ہراساں تهیں کہ اندر کوئی بچہ تو نہیں ہے!دیکهتے دیکهتے شعلے برابر والے گهر کی تیسری منزل سے آگے بڑهنے لگے. سب کے ہاتهوں میں موبائل تهے مگر سیلفی کا ہوش کسی کو نہ تهابلکہ سب فائر بریگیڈ کوکال کررہے تهے ، کسی نےچهیپا کو تو کسی نے 15 ہی ملا لیاتها! کے الیکٹرک کو بهی بلوالیا گیا کہ بجلی کے تاروں کی وجہ سے کرنٹ دوڑ رہا تها
اس وقت سب اپنی تمام ضروریات بهول چکے تهے . ان میں پنجابی بهی تهے مہاجر بهی! سرائیکی بهی اور بنگالی بهی ! سنی اور شیعہ !                                             مالک اور خادم سب ایک ہی جدوجہد میں مصروف تهے. بهڑکتی ہوئی آگ کو بجهانے کی کوشش
تهوڑی ہی دیر میں دو فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آپہنچیں . ایمبولنس بهی آگئی تهی . حتی کہ پولیس اور رینجرز بهی مستعد تهی. بجلی کی گاڑی بهی جلد ہی پہنچ گئی. میڈیا ٹیم بهی آ موجود ہوئی۔
                                                          ایک ڈیڑه گهنٹے کے بعد آگ بجھی تو سب شکر ادا کر رہے تهے کہ کوئ جانی نقصان نہ ہوا. ملحقہ گهر کےکئی حصے، سامان اور لائینیں خاصی متاءثر ہوئیں جبکہ جهونپڑیوں کی توساری متاع خاکستر یوچکی تهی.آگ لگنے کی وجوہات شارٹ سرکٹ تها یا کوئی اور ... لیکن اچهی بات یہ تهی کہ نہ تو مالک مکان جهونپڑی والوں کو ملامت کر رہے تهے اور نہ ہی وہ لوگ زیادہ آہ وبکا کر رہے تهے.۔اداروں کا بروقت امدادی کاروائ کے لیے پہنچنا بهی بڑا حوصلہ افزا محسوس ہوا!
دلچسپ بات یہ تهی چینل والے آگ پر بات کرنے کے بجائے بچوں اور لڑکوں سے آج کے میچ کی پسندیدہ ٹیم کے بارے میں پوچھ رہے تهے...... گویا آگ لگی ہو اور نیرو بانسری بجا رہاہو !
اس واقعے  سےکچھ نکات اخذ کیے :
*
یوں تو ہم دنیا جہاں کا ڈیٹا اپنے پاس محفوظ رکهتے ہیں مگرہنگامی نوعیت کے روابط کونہیں شامل کرتے 
*
جس طرح ہم ساری تیاریوں میں موت کومد نظر نہیں رکهتے اسی طرح ناگہانی کے بارے میں بهی کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کرتے۔ 
*
سیفٹی کلچر کا فقدان .ہماری لڑائیاں گاڑیوں کی پارکنگ پر تو ہوتی ہیں مگر لٹکے ہوئے تاروں کے خطرات سے بے خبر رہتے ہیں 
*****
اس واقعہ کو ایک سال گزر گیا ہے ۔  اس  پلاٹ  پر بسنے والے تمام خاندان نئے ٹھکانوں پر بس چکے ہیں اور یہ ہنوز خالی ہے !حالانکہ کچرا اٹھا نے پر مامور افراد روز یہاں آتے ہیں مگر نہ   جانے کون سی  ان دیکھی مخلوق یہاں روز کچرا ڈال جاتی ہے ۔  برسوں سے یہاں  رہنے والےمکین صفائی ستھرائی اور نظم و ضبط کا خیا ل رکھتے تھے ۔ایک  پر فضا اور مثالی پلاٹ اپنی ویرانی پر افسردہ ہے۔  پھول دار کیا ریاں جل چکی ہیں ۔حفاظتی باڑ کچرے سے اٹی رہتی ہے کہ کوئی والی وارث نہیں ! بچوں کی چہکار ایک خاموشی میں ڈھل چکی ہے ۔دن میں جتنی بار اس پلاٹ پر نظر پڑتی ہے دل میں ہوک سی اٹھتی ہے اور اجڑے دیس  بلاد شام کی تصویر آنکھوں میں گھوم جاتی ہے  جو سات سال سے مقتل بنا ہوا ہے !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فر حت طاہر 

میڈیا اور پرو پیگنڈا


                         

                                                                                                                                                                         


" امجد صاحب کو کیا ہو گیا ہے ؟ "
"امجد صاحب کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے کیا؟"
" امجد صاحب کیوں ایسے ہیں ؟" وغیرہ وغیرہ
یہ اس صحافی امجد کا ذکر نہیں جو برسوں پہلے ڈرامہ سیریل میں مستنصر حسین تارڑ کردار کیا کرتے تھے بلکہ یہ اس بریفنگ کا ایک حصہ ہے جو پروفیسر سلیم مغل صاحب جسارت بلاگرز ورکشاپ کے شرکا کو دے رہے تھے. .
                                  موضوع تھا میڈیا اور پروپیگنڈا
دلچسپ بات
 جو اس ابتدائی گفتگو سے  معلوم ہوئی یہ  تھی کہ پروپیگنڈا پہلے مثبت معنوں میں استعمال ہوتا تھا ..                   (اس کی مثال ایک لفظ    " لفاظی" ہے جو دراصل ایک مثبت صفت ہے مگر اس کے منفی استعمال نے اسکے معنی بدل کر رکھ دیے ہیں ). اسی طرح یہ لفظ پروپیگنڈا حمایت ، تشہیر اورپھیلاؤ  کے وسیع پس منظر کے بجائے محض دشمن کو نقصان پہنچانے کے مفہوم  تک محدود ہوکر رہ گیا ہے ... اس کے باوجود بہر حال اس لفظ میں تشہیر ذاتی ہو یا تجارتی ، معاشرتی ہو یا سیاسی خود بخود موجود ہے ..
انہوں  نےپروپیگنڈا کی تاریخ، طریقے اور اقسام پر بات کی..ان کا انداز دلچسپ تھا اور مواد معلوماتی ..آخری جملے تک شرکا کی توجہ برقرار تھی .برسوں پہلے ہم نے سوشل سائنسز کی کچھ درسی کتب پڑهی تھیں جن کے مطابق 3 طرح کےپروپیگنڈے ہیں  ..سفید، سیاہ اور گرے! نام سے ہی ان کی کیفیات ظاہر ہیں ..مثبت، منفی اور ملا جلا! ہمیں یہ سب کچھ یاد آرہا تھا...
سلیم  مغل صاحب کے مطابق  پروپیگنڈا نہایت مربوط ، منظم ، مسلسل اور بر وقت ہوتا ہے ۔  یہ  بالکل ہتھوڑے کی ضربات کی طرح ہوتا ہے چنانچہ اس کے لیے hammering  کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے ۔ انہوں نے  ذاتی مثال دے کر بات سمجھائی کہ انہوں نے اپنی کلاس کو ایک خبر کی لیڈ بنانے کو کہا ۔  خبر یہ تھی کہ حبیب بنک کی بلڈنگ پر حملہ ! دلچسپ بات یہ ہوئی کہ کلاس میں موجود بیس ،پچیس طلبہ وطالبات میں سے ہر ایک نے ایک مختلف جملے بنائے  جبکہ اس کے مقابلے میں امریکہ میں ٹوئن ٹاور پر حملے کے چند منٹ کے اندر یہ خبر تمام نشریاتی اداروں CNN, BBC, Germany   میں یکساں الفاظ میں چل رہی تھی
“America under Attack’’                                                  
کتنی عجیب بات ہے کہ ایک کلاس   کے شرکاء تک ایک جملہ یکساں الفاظ میں نہیں ادا کرپاتے جبکہ مختلف نشریاتی ادارے ایک ہی لہجے اور الفاظ میں ہتھوڑے کی طرح برسنے والی خبر  سنا اور دکھا رہے تھے جس نے پوری دنیا کے جذبات کوایک مخصوص طرف موڑ کر رکھ دیا ۔ اور پھر حملے کے چند منٹوں کے اندر  عرب ، مسلمان ، لادن کی تکرار شروع ہوگئی ۔کئی ملکوں کا جغرافیہ  اور تاریخ بدل کر رکھنے والی اس تاریخی واقعے کی وضاحت کر نے کے لیے سلیم مغل صاحب نے وہ جملے ادا کیے جو اس بلاگ کے آغاز میں تحریر کیے گئے ہیں ۔
ورکشاپ سے واپسی پر  ذہن اس پر سوچنے پر لگا ہوا تھا کہ میڈیا کے اس جن سے کیسے نبرد آزما ہوجائے ؟  بائیکاٹ ؟؟ کتنا اور کیسا ؟ یہ محض اتفاق ہے کہ اگلے چند دن میڈیا سے ہمارا ٹاکرہ نہ ہوسکا  مگر کچھ دن فاقے کے بعد جیسے ہی رابطہ ہوا ایک پیاری سی بچی کی تصویر کے ساتھ #Justice4Zainab  کی پکار ہر طرف سنائی دی ۔ بچی کے رنگ روپ اور لباس سے قومیت  اور وطن کا ندازہ نہیں ہورہا تھا مگر نام سے مسلمان ظاہر ہورہی تھی ۔ تجسس میں زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی کہ ہر طرف یہ ہی پکار تھی ۔اس سلسلے میں پہلی پوسٹ کینیڈا ، بر طانیہ اور ہالینڈ وغیرہ سے پڑھنے کو ملی جس کے مطابق یہ واقعہ پاکستانی شہر قصور میں پیش آیا  اور ان سب کازور اس بات پر تھا کہ والدین ایک نفلی عبادت کے لیے اپنی بچی کو بھیڑیوں کے چنگل میں چھوڑ گئے ۔
باوجود اس کے واقعہ بہت زیادہ افسوس ناک تھا،اپنے ملک کا وقار خاک میں ملنے والی خبر پر لوگوں کا اس قدر جوش میں آنا  حیرت زدہ کر رہا تھا ۔ اس شور و غل میں تدفین اور احتجاجی ہڑتال پر فائرنگ کے نتیجے میں دو قتل ہونے کے بعد پورا ملک ہم آواز ہوکر ایک ہی بات کہہ رہا تھا۔ لادین عناصر ہوں ہوں یا دین بیزار طبقے ، اسلام پسند ہوں محب وطن اپنی اپنی ڈفلی بجا رہے تھے ۔ملالہ پر حملے کے بعد کچھ ایسی ہی صورت  حال نظر آئی تھی  !اس موضوع پر کوئی خاموش نہ تھا ہمارے دماغ میں ایک یلغار تھی جو شور مچا رہی تھی ۔الھم ارنا الحق ۔۔۔۔کی دعازبان پرآرہی تھی ۔اور ذہن میں جو کچھ تھا اسے شئیر کرنے کی ہمت نہ تھی ۔ وسوسے ، خدشات  ابہام کے لفافے سے باہر آرہے تھے ۔ اور پھر چند دنوں بعد بلی تھیلے سے باہر آہی گئی ۔
                                  بچوں کو جنسی تعلیم دی جائے !
یہ تھا اعلامیہ جو ہتھوڑے کی طرح چیخنے لگا ۔خوف زدہ بچوں ، پریشان والدین کے لیے ایک ہی حل سامنے لایا گیا ۔ اسلام پسند لوگ جو پہلے دبے دبے لہجے میں اپنے معاشرتی نظام کے بارے میں تحفظات کا اظہار کر رہے تھے کھل کر اسلامی نظام گھروں اور حجروں کی سطح پر نافذ کرنے کا مطالبہ لے کر سامنے آگئے ۔ مزید یہ کہ لوگ متوجہ اور چوکنا ہوئے  شاید یہ اس واقعے کا سب سے روشن پہلو ہے جبکہ دیگر پہلو  خاصے چیلنج سے بھر پور ہیں ۔ دشمن کاسب سے بڑی ہدف  ہمیں خوف زدہ کرنا اور رکھنا کامیابی سے ہمکنار ہوا ۔اس کے بعدمحرم رشتوں پر بد اعتمادی کا رحجان  پیدا ہوا پھر ٹیوٹر ، قاری صاحبان , ڈرائیور سے لے کر معاشرے کے ہر کردار پرعدم اعتماد! ہمارے خاندانی اور معاشرتی نظام کو تہہ و بالا کر کے ہمیں تنہا اور اکیلا کرنا دشمن کا خاص ایجنڈا ہے کہ ایسا فرد آسان ہدف ہوتا ہے ۔
بات پرو پیگنڈے سے شروع ہوئی تھی ، اس کے ضمن میں کئی واقعات ہم بچپن سے بھی سنتے آئے ہیں جوکچھ یوں ہے کہ ایک آدمی نے کہا کہ آج اس گھر میں چوری ہوگی اور پھر ایسا ہی ہوا ۔ایک لڑکی نے کہا کہ آج یہاں سے ایک فرد کم ہوجائے گا اور پھر یوں ہوا کہ کہنے والی لڑکی گھر سے بھاگ گئی ۔ اور ظاہر ہے چوری کرنے والا بھی وہی شخص تھا جس نے پیشن گوئی کے پردے میں پروپیگنڈے کا ہتھیار  اٹھا یا ۔گویا مجرم ذاتی ہو یا سیاسی پروپیگنڈے کا حربہ ضرور بالضرور استعمال کرتا ہے ۔ زینب کے واقعے میں بھی یہ ہی عنصر عین ممکن ہے ! جو دشمن ہمارے اسکولوں میں گھس کر حملے کر سکتا ہے اس کے لیے یہ سب منصوبہ تیار کر نا کون سی بڑی بات ہے  جبکہ کچھ عر صے سے سو شل میڈیا میں یہ بحث اٹھائی جا رہی تھی کہ محرم رشتہ داروں سے بچے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں ؟ گو یا hammering  واقعے سے پہلے شروع ہوجاتی ہے اور پھر اس کی شدت بڑھا کر مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاتے ہیں ۔ ہمارا خاندانی نظام عرصے سے دشمن کی آنکھ میں کھٹک رہا ہے اس کو تہہ وبالا کر نے کے لیے بڑی مناسب اور بر وقت کاروائی کا انتطام کیا گیا ۔ اس سارے عمل میں ٹائمنگ کی بہت اہمیت ہوتی ہے ۔ کچھ ہی عرصے قبل شاہ زیب قتل کیس کے عجیب و غریب فیصلے نے عوام کو خاصہ ہیجان میں مبتلا کیا ہوا تھا ۔زینب کو قتل کر کے ہمارے دشمن نے بہت دور تک سوچا اور کاروائی کی ۔
یہ اور بات ہے کہ اللہ کی چال غضب کی ہے کہ وہ شر سے بھی خیر بر آمد کر دیتا ہے ۔!تہہ میں جو نفاق یا گند ہوتا ہے اس قسم کے طو فان میں سطح پر ابھر کر توجہ حاصل کر کے اصلاح کی طرف گامزن ہو سکتا ہے ۔ویسے ایک بات بلاشبہ کہی جا سکتی ہے  سوشل میڈیا کے ذریعے کسی مسئلے کو اجا گر تو کیا جا سکتا ہے مگر حل اور وہ بھی پائیدار عملی اقدامات کے بغیر ممکن نہیں !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فر حت طاہر



منگل، 30 جنوری، 2018

سہارا ۔۔۔ایک یقین !

                            !سہارا....


 سب لوگ دوپہر کے کھانے پر بیٹھے تھے۔عجب مصنوعی قسم کی گفتگو ہورہی تھی۔کبھی صدر کو زکام ہوجانے کا ذکر چھڑ جاتا اور کبھی کسی غیر ملکی سفیر کے ساتھ جو ”دوستانہ“گفتگو ہو چکی ہوتی،اسے تفصیل سے بیان کیا جا تا۔انداز کلام ایسا ہو تا گویا صاف صاف کہا جا رہا ہو کہ ذرا غور کرو کہ اس ”آسمانی مخلوق“ کے ساتھ ہمارے تعلقات کتنے گہرے ہیں.........
......اس کا تو یہ عالم تھا کہ وہ نیویارک، جینوا، پیرس،، سوئٹزرلینڈ سے کم کوئی بات ہی نہیں کرتا تھا۔وہ کہاں کہاں گیا، کس کس سے ملا،کیا کیا دیکھا، وہاں اس کے کمالات کی کیسی کیسی قدر دانی ہوئی اور پھر ہر پانچ دس منٹ کے بعد وہ اس”نا قدرشناس“ ملک کی مذمت کرتا جس نے اپنا قیمتی زر مبادلہ دے کر اسے بار بار دوسرے علاقوں میں اسی غرض سے بھیجا تھا کہ وہ وہاں سے اپنے لیے نئی موٹر، فرج، ائر کنڈیشنر، سوٹ،بیوی کے لیے ساڑھیاں اور انواع و اقسام کے دوسرے سامان تعیش بھی خرید لائے اور حکومت کے خرچ پر خوب خوب سیریں بھی کرآئے،اور پھر واپس آکر اس غریب ملک کو صلواتیں بھی سنائے، جس نے اپنی خون پسینے کی کمائی گلچھڑے اڑانے کے لیے اس کے حوالے کر دی تھی۔ 
.......باوجود اس کے کہ واپس آئے ہوئے چند ہفتے بھی نہیں ہوئے تھے،وہ ملازمت نہ ملنے پر اس طرح کھول رہا تھا اور پاکستان کی ناقدرشناسی کے رونے اس سوز و گداز سے رو رہا تھا کہ معلوم ہوتا تھا کہ اس کے سینے میں اس غم نے گھاؤ ڈال دیا ہے کہ جب وہ حکومت ہی کے خرچ پر FRCSکر کے کراچی کے ہوائی اڈے پر اترا تو آخر حکومت پاکستان اور پاکستان کے کروڑوں باشندے اس کی پیشوائی کے لیے ہوائی اڈے پر کیوں نہ پہنچے اور آتے ہی ایک بڑے سے عہدے کو سونے کی پلیٹ میں رکھ کر اس کے سامنے پیش کیوں نہ کیا گیا جو ملک ایسے ہیروؤں کی ایسی بے قدری کرے، وہ آخر کس طرح پھل پھول سکتا تھا........
عزیز قارئین! آپ کا اندازہ درست ہے کہ یہ اشرافیہ کی محفل میں ہونے والی گفتگو کا ایک حصہ ہے!
جی ہاں! یہ اقتباس محترمہ بنت الاسلام کے ناول ”سہارا“  سے لیا گیا ہے۔ستر کی دہائی میں لکھے گئے اس ناول کا موضوع کرپشن یا فساد ہے جس کا خد شہ فرشتوں نے ظاہر کیا تھا۔یہ فساد ظاہری بھی ہے اور باطنی بھی، اخلاقی بھی ہے اور مادی بھی! اس وقت جب پاکستانی وزیراعظم اس الزام میں نا اہل ہوچکے ہیں، ان کی نصف بہتر ایک موذی مرض کا شکار ہونے کے باوجود ان کی جگہ منتخب ہوچکی ہیں اور ان کی بیٹی اپنے باپ کی بے گناہی کی دہائی دیتی پھر رہی ہے! مگر کیا واقعی یہ گھرانہ حلال کمائی کی اس چمک اور روشنی کو محسوس کر سکے گا جیسا کہ اس ناول سہارا میں منیرہ کا خاندان کر تا ہے۔ کون منیرہ؟  جی اس ناول کی ہیروئین!اس ناول پر تبصرہ کرنے سے پہلے ایک تمہید ی بات کرنی ہے:
 یہ ذکر ہے اس بحث کا کہ کیا ادب معاشرتی اصلاح یا انقلاب میں معا ون ثابت ہوسکتا ہے؟ اس سوال کے متنوع  اور متضادجوابات ہوسکتے ہیں۔  تائید میں کمیونزم کے انقلاب کی راہ ہموار کرنے والے ناول ”ماں“ پیش کیا جاسکتا ہے جبکہ عدالتی فیصلے میں جج کی زبان سے  "گاڈ فادر " کے معرکۃ الآرا جملے کی بازگشت سنائی دیتی ہے  جبکہ معاشیات کی نوبل انعام یافتہ کتاب  
           "The Idea of Justice "
 جس کے پیش لفظ کا آغاز چارلس ڈکنز کے شہرہ آفاق ناول"  
"The Great Expectationکے ایک کردار کے بولے گئے جملے سے ہوتا ہے
" In the little world in which children have their existence, there is nothing so finely perceived and finely felt, as injustice "
مصنف  اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے دیگر مثالیں عملی زندگی سے دے کر ثابت کرتا ہے کہ کوئی نظریہ پیش کرتے وقت معاشرتی اقدار اور بنت کوتمثیل استعمال کی جاسکتی ہے۔ قصص القرآن اس کی بہترین اور نادر مثال ہے۔
اس بحث میں دلیل کے طور پر ”سہارا“  جیسا ناول بصدفخر پیش کیا جا سکتا ہے جس میں رشوت بطورایک معاشرتی لعنت (جو بہت سی برائیوں کا دروازہ ہے)بہت واضح انداز میں نظر آتی ہے۔ اس ناول کے ذریعے کرپشن کی وجوہات اور اس کے معاشرے پر پھیلے اثرات بہت عام فہم اور دلچسپ انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ایک بہترین ناول کے اجزائے تر کیبی کردار نگاری، جذبات نگاری، اور منظر نگاری اپنے بہترین امتزاج کے سا تھ”سہارا“  میں  موجود ہے۔
ناول کا آغاز موسم برسات کے ایک خوشگوارمنظر سے ہوتا ہے جہاں ناول کی ہیروئین منیرہ  تین ننھے بچوں کے ساتھ میکے آتی ہے اور اپنے تمام احباب سے ملنے کا پروگرام بناتی ہے مگر اس کا شوہر ماجد اپنے موعودہ مدت سے پہلے ہی اسے  واپس لینے آجاتا ہے۔منیرہ کا شوہر ماجد ایک وکیل سے ترقی کرتے ہوئے سیشن جج کے باعزت عہدے تک پہنچا ہے۔
ماجد کا خاندانی پس منظر کچھ یوں ہے کہ اسکے والد اپنے بھائی بہنوں کی بہ نسبت معاشی اور معاشرتی طور پر کمزور حیثیت کے مالک تھے۔جس کے اثرات ان کے رہن سہن سے نظر نمایاں تھے۔والدین کی زندگی تک تو یہ فرق انیس بیس رہے مگر علیحدہ ہونے کے بعد یہ خلیج واضح اور گہری ہوتی گئی اور ماجد کے بڑے ہونے تک تو یہ فرق ۱یک سے سو کی نسبت تک پہنچ گیا۔ ان حالات میں ماجد نے اپنے سماجی رتبے کو اپنے خاندان سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سر توڑ کوشش کی۔ ہر حربہ آزمایا۔منیرہ سے شادی بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔بظاہر بہت شاندار شخصیت کا مالک اپنی بہترین پیشہ ور صلاحیت سے مالا مال ماجد باکردار، سنجیدہ اور معتدل مزاج ہے مگراپنے پیشے کے تقاضہ کے مطابق چالاک، مستعداور لچھے دار گفتگو کا ماہر ہے۔
منیرہ کا خاندان اعلٰی سماجی رتبے کے باوجود شریفانہ اور معتدل مزاج ہے وہ اپنے والدین کے مقابلے میں زیرک اور حساس ہے ماجد کے پر اسرار رویے سے خائف رہتی ہے اور اس بات کا ادارک ہونے کے بعدکہ اس کے شوہر کی آمدنی میں حرام کی ملاوٹ ہے سخت آزردہ رہنے لگتی ہے ۔ان حالات میں اس کا میکے کا دورہ 
 ہے جس سے ناول کا آغاز ہوتا ہے وہ اپنی استانی اور رہنما اصغری خانم سے مل کر کچھ حوصلہ پاتی ہے جسے خط کتابت کے ذریعے جاری رکھنے کا وعدہ لیتی ہے۔
ہر کلاسک ناول کی طرح اس میں بھی قاری کرداروں کے ساتھ ٹرین کاسفرکرتا ہے۔منیرہ اپنے گھر واپس جارہی ہے  اس منظر میں زنانہ ڈبے میں ہونے والی جھڑپیں جہاں قاری کو مسکرانے پر مجبور کرتی ہیں وہیں جذباتی بھی کردیتی ہیں!جب ڈاکو اندر گھسنے کی کوشش کرتا ہے تو تمام خواتین اپنے جھگڑے اور سماجی رتبے کو بھلاکرمتحد ہوکر اس کوناکام بناتی ہیں۔۔۔پھر خوب خوب باہمی خلوص و محبت کی باتیں ہوئیں اور مل جل کر پاکستان کی خیر مانگی گئی اور اس کی سر بلندی اور استحکام کی تمنائیں ظاہر کی گئیں س موقع پر قاری ایک متحد قوم ہونے کا فخر محسوس کرتا ہے (گویا یہ بات طے ہوئی کہ ادب جذبے کی افزائش میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے!)
چونکہ ناول کی تیکنک میں تجسس بھی لازمی ہے لہذا سفر کے اختتام پر وہ ایک دوسرے کے پتے حاصل کرلیتی ہیں اور جب وہ انگریزی بولنے والی لڑاکا خاتون منیرہ کے گھر پہنچتی ہیں تو انکشاف ہوتا ہے کہ وہ ماجد کی چھوٹی پھپھی طاہرہ ہیں۔وہ ماجد کا خاندان والوں سے ملاپ کرواتی ہیں۔ یہ ماجد کی زندگی کا حاصل تھا کہ وہ اپنے ددھیال والوں کے ساتھ برابری بلکہ کچھ اونچے مرتبے کے ساتھ روابط رکھے۔ جب تعلقات استوار ہوتے ہیں تو آمد ورفت کے ساتھ میل ملاپ بھی بڑھتا ہے۔ایسی ہی ایک محفل کے ذکر سے اس مضمون کا آغاز کیا گیا ہے۔
 محفل کی گفتگو سے منیرہ سخت جز بز ہے۔ اس کے علاوہ گھر کا نظام درہم برہم، بچے بے قابواور بجٹ آؤ ٹ ہونے کی فکر مندی ہے ایسے میں ماجد کی کزن کی بیوی منیرہ کو ماجد اورایک رشتہ دار لڑکی سے بڑھتی ہوئی قربت کا احساس دلاتی ہے تو وہ تفکر کا شکار ہوتی ہے۔ بے بسی کے عالم میں وہ بڑی جٹھانی عابدہ کو اپنے گھر بلالیتی ہے جس کا ماجد پر کافی رعب ہے۔ وہ گھر کے رنگ ڈھنگ دیکھ کر ماجد اور اس لڑکی کو خوب لتاڑتی ہے ۔نتیجتا یہ محافل بکھرتی ہیں مگر اس کے بعد ماجد بہت پریشان سا رہنے لگتا ہے۔منیرہ بد گمان ہوتی ہے اورماجد کا چپ چاپ رویہ دیکھ کر الجھتی رہتی ہے۔
ایسے میں منیرہ کو اپنے بہن بھائیوں کی شادی کی اطلاع ملتی ہے وہ اپنی الجھن کے باعث جانے میں تذبذب کا شکار ہے مگر خلاف توقع ماجد
 با اصراراور بخوشی منیرہ اور بچوں کو روانہ کردیتا ہے اس وعدے کے ساتھ کہ وہ عین وقت پر پہنچے گا۔منیرہ بادل ناخوستہ چلی تو گئی مگر اس کا دل گھر میں ہی اٹکا رہا  اور پھر جب حسب وعدہ وہ نہ پہنچا تو اس کی تشویش عروج پر تھی۔فون کرنے پر سرکاری کام سے کراچی جانے کو عذر بتا تا ہے۔ تقریب کے بعد اصغری خانم اس کو بہت اطمینان اور تسلی کے بعد بتاتی ہیں کہ ماجد کسی رشوت کے مقدمے میں ماخوذ ہے اور اس کی انکوائری ہورہی ہے یا ہونے والی ہے۔
اس کے بعد ناول کا رنگ بدلتا ہے جب شادی کے تیسرے دن ماجد کا خط ملتا ہے وہ اپنے تمام گناہوں، کوتاہیوں کا اعتراف کرتا ہے۔اس کے بعد مقدمہ عدالت میں چلاگیا اور رسواکن تفصیلات سامنے آتی ہیں تو منیرہ کے والد جان بر نہ ہوسکے جبکہ والدہ فالج کا شکار ہوگئیں۔ مصیبتوں یا بقول اصغری خانم آزمائشوں کا پہاڑ منیرہ پر ٹوٹ پڑا۔اور پھر والدہ بھی انتقال کرگئیں۔بھاوج کا بدلتا رویہ، دوچھوٹے بہن بھائی کی ذمہ داری کے ساتھ باپ کی غیر موجودگی اور گھر سے بچھڑنے کے باعث چڑ چڑا ہٹ کا شکار اپنے تین بچے!  منیرہ کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کس کس بات پر روئے! یسے میں اس کی پرستارممانی اور استانی اصغری مادی، جذباتی اور روحانی سہارا بنتی ہیں اوپھرمنیرہ کی با حیثیت پھپھی آمنہ افریقہ سے اچانک پہنچتی ہیں تو اس کے کافی دکھ اور ذمہ داریاں کم ہوجاتی ہیں مگر اپنے گھرسے در بدری اور شوہر کی قید کی آزمائش ابھی اس کے سامنے پہاڑ کی طرح کھڑی ہے۔
ایسے ہی ایک برسات کے موسم میں ماجد جیل سے رہا ہوکر آجاتا ہے۔ جیل سے لکھے جانے والے خطوط سے اندازہ ہوتا تھا کہ اس کی قلب ماہیت ہو چکی ہے مگر بہر حال وسوسے منیرہ کے سامنے ہوتے ہیں۔ ماجد کی واپسی کے بعد سب سے بڑا معرکہ اپنے خاندان میں اس کے وقار کی بحالی ہے جس میں کامیابی ہوتی ہے۔
ناول کا خوشگوار اختتام ایک قصباتی زندگی کے ایک منظر سے ہوتا ہے۔ جہاں رزق حلال زندگیوں میں شہد گھولتا نظر آتا ہے جس میں مصنفہ اس چابک دستی سے رنگ بھرتی ہیں کہ قاری اس کے سحر میں ڈوب جا تا ہے۔اس منظر میں منیرہ کی زبانی ایک خوشحال اور سکھی پاکستان کے لیے مانگی گئی دعائیں اس بات کا مظہر ہیں کہ انفرادی دکھ سکھ  اجتماعی معاملات کے بڑے کینوس کے آگے ہیچ ہیں اس طرح وہ قارئین کے دل میں حب الوطنی کے بیج بوتی نظر آتی ہیں۔
محترمہ بنت الاسلام نے جذبہ خیر کے تحت کی گئی کوششوں کو بھی اس ناول میں اجاگر کیا ہے۔ جب جیل سے ماجد کے خطوط کی بابت وہ اصغری خانم سے استفسار کرتی ہے کہ:
آپاجان! کیا دنیا میں صرف سزاؤ ں ہی سے انسان کی اصلاح ہوا کرتی ہے اور کسی شئے سے نہیں ہوتی؟
 جواب میں وہ بتاتی ہیں کہ یہ فارمولہ درست نہیں کیونکہ جیل سے اکثر کچے مجرم پکے بد معاش بن کر نکلتے ہیں......اس مکالمے میں وہ بہت اچھی طرح اسے باور کرواتی ہیں کہ مخلصانہ کوششیں ہر گز رائیگاں نہیں جاتیں۔گویاادب نظریے کی ترویج میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس تحریر میں ناول کے ہر کردار کا جائزہ ممکن نہیں مگرمنیرہ کا مثالی کردار ہر دور کی طرح آج کی عورت کے لیے بھی راہنما ہے۔ اگر ہر گھر میں کلثوم اور مریم نواز کے بجائے منیرہ جیسی عورت ہو تو یقین رکھیں کرپشن نامی ناگ کا سر خود بخود کچل جائے۔

فرحت طاہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہفتہ، 16 ستمبر، 2017

زندگی کا دوسرا رمضان


دوسرارمضان مبارک!

اس سال رمضان کی آمد سے  پہلےہی خبر گرم تھی کہ گرم ترین روزے ہوں گے!  کسی کی بات دل کو اچھی لگی کہ33سال بعد   بڑے اجر والے روزے  آرہے ہیں ! بات تو درست ہے کہ مشقت میں اجر ہے ۔ ہر وہ فرد جو پچاس کے پیٹھے میں ہواس بات کا گواہ ہے کہ اس کے بچپن یا نوعمری میں بھی ایسے پر مشققت روزے آچکے ہیں یعنی 1983ء  اور1984ء میں  مزید یہ کہ اب ایسے روزے 2050 ء میں آئیں گے ! یعنی  ہم اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس نےاپنی زندگی میں دو دفعہ بقائمی ہوش وحواس  اجر سے بھرپور روزے سمیٹے ہیں ۔ ایک ابتدا ئے بہار میں تو دوسرا عمر کے دور خزاں میں ! ہماری نسل کے لیے  ایک قابل فخر بات ہے!!! ۔
33سال پہلے کا رمضان   جوکئی لحاظ سے ہمارے لیےذاتی اہمیت رکھتا ہے ۔یہ وہ رمضان جب  امی ہمارےدو چھوٹے بھائیوں کے ہمراہ نائیجیریا  گئی ہوئی تھیں جہان اباجان بسلسلہ ملازمت مقیم تھے۔ گرمی کے رمضان ، امتحان اور گھریلو ذمہ داریاں ! سر منڈاتے ہی اولے پڑنے والا معاملہ تھا  جب زندگی بدلی ہوئی نظر آئی ۔ رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے التفات کی وجہ سے ایک دو دن تو احساس نہیں ہوا مگرپھر  تو روزے کی سختی سے زیادہ حالات پر رونا آیا !  دو عدد برادران جن کا رویہ ہمارے ساتھ میں نہ مانوں والا تھا ،ایک بہن امی اباکی لاڈلی گڑیا جس پر ٹچ می ناٹ کا فقرہ صادق آتا ہے کے ساتھ گزارا کرنا ۔دونوں گروپ میں کاہلی اپنے عروج پر ! سحری تو سحری افطار میں بھی نیند سے اٹھا نا پڑتا ۔یعنی جانا ان کو کوچنگ یا کام سےہے اور نیند ہماری خراب ہو!۔۔۔کچھ عجیب و غریب سے حالات تھے ہماری کڑواہٹ آپ محسوس کر سکتے ہیں !
رمضان میں افطاری اور سحری کا معیار اور مقدار ایک اہم معاملہ ہوتا ہے جس پر ہمارے بھائی کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہ تھے ۔امی بے چاری اسٹور میں بہت سامان رکھ کر گئی تھیں ۔فرج میں بھی جس حد تک ممکن تھا کھانے پینے کی اشیاء بھری ہوئی تھیں مگر پھر بھی روز کے کام تو روز کرنے ہی ہوتے تھے۔ جس میں چنوں کی چاٹ ،پکوڑے اور شربت لازمی سے آئیٹم تھے ۔دو جگ شربت ، تربوز ، درجنوں  گلاس  پانی  اور پکوڑوں کے ڈھیر سے انصاف کرنے کے بعد بمشکل نماز ادا کرکے ہم سب صحن میں پڑی پلنگوں پر گر جاتے ، بھائی کے اگر دوست وغیرہ آجاتے تو وہ لان میں محفل جمالیتے ۔باقی گھر تو تنور بنا ہوا ہوتا جس میں خوب چھڑکاؤ کر کے گزارہ کرتے۔ حد یہ کہ سحری اور افطاری بھی صحن یا لان میں ہوتی ۔کھانے کے بجائے آم کھا لیے یا بڑے بھائی کسی کسی دن آئسکریم کا اسکوپ لے آتے یا پھر کولڈ ڈرنک کا کریٹ  ( اس وقت لٹر بوتل کا رواج نہ تھا)تو ہم سب مزے کرتے۔آپ یہ مت سمجھیں کہ راوی عیش ہی عیش  لکھ رہا تھا کہ امی ابا اور دو بلونگڑوں کے نہ ہونے کے باعث ہم بڑی آزادی اور کروفر سے رہ رہے تھے ۔آہ وہ زمانہ جب محلے والے،رشتہ دار اور دوست سب کے سب  ہم پر کڑی نظریں رکھے ہوئے تھے۔ خصوصا برابر میں  رہنے والی باجیاں تو گویا ہماری چیک پوسٹ تھیں ۔کون آیا ؟ کتنی دیر قیام رہا ؟ کیا تواضع ہوئی ؟ مقصد آمد وغیرہ وغیرہ ۔۔ہماری ہر سرگرمی ان کی نظر میں تھی ۔ایک تو وجہ ہمارے گیٹ ملے ہوئے تھے ۔لان  کی چھوٹی چھوٹی دیواروں سے ویسے بھی کوئی پردہ ممکن نہیں تھا اور پھر یہ کہ ان کا گھر ہمارا ٹیلی فون بوتھ بنا ہوا تھا (یوں تو  گھر میں ٹیلی فون کی سہولت دستیاب تھی مگر ہمارے فو ن میں کوئی مسئلہ تھا جس کے حل کےلیے  ابا جان کی موجودگی  ضروری تھی )  ہماری اس مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ  ہماری لاگ بک تیار رکھتیں ۔اب بھلا ایسے میں کوئی کیا آزادی کا سانس لے سکتا ہے ؟ اس وقت رمضان کا اتنا تقدس تھا کہ بھولے سے بھی ٹی وی کھولنے کا خیال نہ آتا  ۔یہ اور بات ہے کہ ٹی وی کی نشریات بھی بہت پاکیزہ  اور پرنور ہوا کرتی تھیں مگر پھر بھی ٹی وی شاید خبروں کے لیے کھلتا ورنہ بند ہی رہتا حالانکہ والدین کی عدم موجودگی کے باعث کوئی پابندی نہ تھی ۔
اس مضمون کو پڑھنے والے نوجوان قارئین کے لیے یہ تصور سوہان روح ہے کہ پھر روزہ کیسے گزرتاہوگا ؟ تو عرض  یہ ہے کہ بہت عمدہ ! آپس میں روابط اور گپ شپ کے باعث کبھی بوریت کا سوال ہی پیدا نہ ہوا ۔(یہ تو آج کی نسل کا مسئلہ ہے!  تفریح  کے معنی یکسر تبدیل ہوچکے ہیں ! )   ہماری دوسراہٹ کے لیے بھائی کے عراقی دوست اپنی کزن سعودۃ  کو ہمارے گھر لے آتے۔وہ کلیہ ادویات کی طالبہ تھی ۔بے حد شوخ ،باتونی اور کھلنڈری ! وہ اپنے استادوں کی نقلیں اتارتی تو ہمیں اچھا نہ لگتا ، دوسرے عرب اہل زبان ہونے کے باعث وہ ہمارے عربی تلفظ کی بھی دھجیاں اڑاتی ۔اس کی بہن اکرام جو میڈیکل کی طالبہ تھی نسبتا سنجیدہ ، معصوم ،گڑیا جیسی ! اردو بھی بہتر سمجھ لیتی تھی ! سعودۃ کی نظرہمارے بالوں پر رہتی ( بقول ہمارے والدین  ہماری غذا جسم کے بجائے بالوں کوصحت  بخشتی تھی !) ۔ایک دن وہ کسی شمپو کی لٹر بوتل لے کر آئی جس پر عربی عبارت تھی ۔ہم جو اس وقت تک  شمپو تبرکا ً  ہی استعمال کرتے تھے خوشی سے کھل اٹھے کہ اس کو ہمارے  بالوں کی کتنی فکر ہے !  اور جب اس سے سر دھویا تو بہت ہی کالا ساپانی نکلا ۔بال بہت سلکی ہوگئے ۔یہ اور بات ہے کہ آہستہ آہستہ ہمارے بالوں کی چمک ختم ہوتی گئی ۔۔نہ معلوم اس نے ہمارے ساتھ دوستی کی یا دشمنی ؟
وہ رمضان جس کا ذکر خیر جاری ہے اس لحاظ سے بھی  یاد گار ہے کہ اسی رمضان  میں پہلی دفعہ ہمیں قرآن کا ترجمہ پڑھنے کی سعادت ملی۔عبادت سے ہمارے شغف میں اضافہ ہوا۔ کچھ  نیک دل سہیلیوں کی صحبت اور دوسرے طیبہ شفائی کا انداز ۔دل بدلنے لگا ۔ بدنی عبادتوں کے معیار میں بہتری آئی اور نمازوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ۔ عشاء کی 17 اور تراویح کی 20 رکعتیں ! ہم نہ تھکتے مگر دیکھنے والے ہماری طرف سے فکر مند ہوتے ۔امتحانات کا بھی زمانہ تھا ۔ دل بھر کے نفل مان لیتے ! ہر پیپر کی 50 رکعتیں تو بنتی تھیں اور بائیوفزکس  کے مشکل مضامین کے لیےتو 100 رکعتیں بھی  کم تھیں ! وہ تو اللہ بھلا کرے کشفی آنٹی ( بلقیس کشفی ) کا  جنہوں نے بہت پیار سے بتایا کہ بیٹا اللہ تو دو رکعتوں پر بھی راضی ہو جاتا ہے اگر خلوص نیت سے پڑھا جائے ! بس ان کی بات ہم نے پلے سے باندھ لی ! کہیں تو محض سجدہ شکر سے ہی کام چلا لیتے ہیں !( اطمینان ہے کہ اسٹاک میں کچھ نوافل تو موجود ہیں جو اب عمر کے اس حصے میں حاصل کرنا محال ہیں کہ اب تو فرض نمازوں کا بھی وہ معیار نہیں رہا ! )
یہ وہی رمضان ہے جس میں ہم نے پہلی دفعہ کڑھی پکائی ! سوچا پکوڑے تو بنا ہی لیتے ہیں تھوڑی اور محنت کر لیتے ہیں           ! گوگل کا زمانہ نہیں تھا کہ ترکیب سرچ کر لیتے ۔پڑوس کی چچی سے سے پوچھا اور کچھ امی کو بناتے دیکھا تھا ۔یاد کرکے بناہی لی ۔ شکل اچھی تھی چچی نے تعریف کی توہم خوشی سے پھول اٹھے   ۔ چند دن بعد انہوں نے بھی کڑھی بنائی اور ہمیں بھیجی ۔جس کو کھا کر ہم نے سوچا کڑھی تو یہ ہے تو جو ہم نے بنائی تھی وہ کیا تھی ؟صرف عمدہ سا بگھار جو بیسن کے ملغوبے پر ڈالا گیا  تھا ۔چچی کی عظمت کے قائل ہوگئے ! ایک ماہر فن کبھی حوصلہ شکنی نہیں کرتا ۔ ہمارے اندر جتنی بھی مہارتیں ہیں اس کا کریڈٹ چچی کو ہی جاتا ہے ۔ جن سے ہم نے باضابطہ زانوئے تلمذ تو طے کیا ہی ،چلتے پھرتےبھی بہت کچھ سیکھا اور اللہ سلامت رکھے اب بھی کوئی بات سمجھ نہ آئے تو ان کا مشورہ کام آتا ہے !
۔ پھر اسی رمضان میں ہمیں پردے کی توفیق ملی۔ یہ ہماری زندگی کا ایک اہم موڑ تھا ۔ مثال بننا اتناسہل تو نہیں ! بر قع کےکپڑے کا حصول اور سلائی امی کے بغیر مخلص ساتھیوں  کی مدد سے آسان ہوا۔ لیکن مشکل ترین مر حلہ اس کو پہن کر ہم جماعتوں ، کزنز اور دیگر محلہ دار( جن کے ساتھ عمر بےتکلفی میں گزری ہو ) سامنا کرنا تھا ،بہر حال  یہ مہم تو سرکرنی ہی تھی! سب سے پہلے ٹاکرا  کشفی انکل   مر حوم سے ہوا ۔۔
"کیا ہم سے بھی پردہ ہو گا ؟  چمک کر بولے   " جی ہاں ! جی نہیں ! "      ہم نے مری ہوئی آواز میں جواب دیا ۔یہاں پر پھر آنٹی نے ہم دونوں کے درمیان مک مکا کروایا ! یقینا انکل سے کہا ہوگا بچی شرعی پردہ کرنا چاہ رہی ہے تو آپ کو تو خوش ہونا چاہیے اور ہماری کاؤنسلنگ بھی اس طرح کی کہ ہر مخالفت کرنے والا دشمن نہیں ہوتا اور حزب الشیطان تو بالکل نہیں ہوتا۔      ۔۔! ( جیسا کہ ہم اس وقت قرآن کی اصطلاحات کو براہ راست استعمال کرنے لگے تھے )   ثابت ہوا کہ نرا علم خطر ناک ہے اگر اس کے ساتھ کوئی رہنمائ کر نے والا نہ ہو !  یوں ہمارے درمیان ادب ، احترام اور التفات کا جو تعلق قائم ہوا وہ بچگانہ بے تکلفی اور معصومیت و سادگی کا ہی ایک رخ تھا ۔جو افراد ان کو جانتے ہیں انہیں معلوم ہوگا کہ وہ چھوٹوں سے کتنی اپنائیت رکھتے تھے۔۔!
عزیز قارئین ! ہم نے تو 33 سال پرانے رمضان کا حال بیان کرنا شروع کیا تھا مگر اس دور کے کردار ہمارے اس سفر میں شامل ہوتے جارہے ہیں اور بات طولانی ہو رہی ہے  !  ہمیں صفحات کی تنگی کا بھی خیال کرنا ہے اور وقت بھی مختصر ہے کہ اشاعت میں چند گھڑیا ں ہی رہ گئی ہیں ۔۔۔لہذا اپنی بات یہاں وقفہ کے ساتھ ختم کرتے ہیں ۔
 عید تک کیا رہا ؟ گھر کے جو افراد باہر تھے ان پر کیا بیتی ؟ اس کے اثرات ہم پر کیا پڑے ؟ واپسی اور اس کے بعد کے حالات بھی چند سطروں میں نہیں بیان کر سکتے لہذا اجازت  اگر موقع ملا تو پھر باقی باتیں ہوں گی ان شاء اللہ !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فر حت طاہر