جمعرات، 30 جون، 2016

واہگہ سے ریس کورس


22/مارچ کو دوپہر ساڑھے بارہ بجے ہم پنڈی سے لاہور پہنچے تھے۔تھکن سے برا حال تھا۔سامان ہوٹل میں رکھنے کے بعد فریش ہوتے ہی کھانا لگ گیا۔ حالانکہ صاف ستھرا بستر دعوت آرام دے رہا تھا مگر اس کی اجازت نہ تھی کہ دوران سفر کھانے کے مخصوص ہی اوقات ہوتے ہیں ابھی ہم کھانے کے بعد نماز پر ہی تھے کہ عزیزہ نوشین کی آمد کا فون آ گیا۔ ہم اسے ہوٹل کی لوکیشن سمجھاہی رہے تھے کہ وہ استقبالیہ پر پہنچ چکی تھیں اور منٹوں میں کمرے کے اندر!نیچے گاڑی آچکی تھی اور ہم واہگہ جانے کو تیار!                             

واہگہ اسٹیڈیم:

یہ وہ جگہ ہے جہاں پاکستان اور بھارت کی سرحدیں ملتی ہیں۔وہی سرحدیں جہاں دس لاکھ انسانوں کو نظریہ کی بنیاد تہ تیغ کیا گیا تھا۔ اب یہاں روزانہ دونوں ممالک کی پر چم کشائی کی تقریب ہوتی ہے۔و بجے کے بعد ہم واہگہ کی طرف رواں دواں تھے۔خوش گپیوں میں وقت کا پتہ بھی نہ چلا اور منزل پر پہنچ گئے مگر ٹھہریں! ابھی منزل مقصود کہاں؟ ابھی تو ہم وہاں پہنچے تھا جہاں گاڑی چھوڑنا تھی۔ داخلے سے پہلے اپنی حیثیت بتانی تھی۔یعنی پروٹوکول والی یا عمومی؟ چونکہ ہم نے پورا سفر عوامی انداز میں کرنے کا طے کیا تھااس لیے پروٹوکول کی سہولت نہ استعمال کی۔ بلاوجہ انسان قیدی سا محسوس ہوتا ہے!  خیر ہر دو صورتوں میں ابھی کافی مراحل تھے۔



چیک پوسٹوں سے گزرتے ہوئے،بیگز کیچیکنگ، جسمانی چیکنگ، .....اف لگ رہا تھا بھارت میں ہی داخل ہورہے ہیں!خواتین، بزرگوں، بچوں اور معذوروں کے لیے شٹل سروس تھی جبکہ مردوں، لڑکوں کو سارا سفر پیدل ہی طے کرنا تھا۔ ہمارے ساتھ ایک ہی مرد تھے انہوں نے اپنا کارڈ استعمال کرتے ہوئے وی آئی پی انکلوژر میں جگہ حاصل کرلی۔


بالآخر تمام مرحلوں سے گزر کر اسٹیڈیم پہنچے اور اپنی نشستیں سنبھال لیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے اسٹیڈیم کھچا کھچ بھر گیا۔ موبائیل سروس جام تھی گویاہمارا رابطہ باہر کی دنیا سے کٹ چکا تھا بلکہ ہمیں اس کی حاجت بھی نہ تھی کہ اب تو جو کچھ تھا یہ ہی منظر اور پس منظر تھا!سامنے ازلی دشمن کی باڑ تھی۔ وہاں بھی محفل سجی تھی مگر جذبوں کا فقدان نظر آ رہا تھا۔ جیسی گہما گہمی پاکستانی انکلوژر میں نظر آرہی تھی یا ہمیں محسوس ہورہی تھی وہاں نہ تھی۔ اگر ہوتی تو وہاں بیٹھے خواتین و حضرات ہم پر اتنی نظریں گاڑے نہ نظر آتے۔ محمد یوسف کو اپنے ابو کے پاس جانے کی ہڑک ہوئی جو عین ہماری نشستوں کے نیچے موجودتھے۔ قریب موجود رینجر کے نوجوان سے کہا مگر نظم و ضبط کی ڈیوٹی پر مامور اس فرد نے صاف انکار کردیامگر تھوڑی دیر بعد مجمع سیٹل ہونے کے بعد ایک اور جوان نے اس کو اپنے ابو تک پہنچا دیا۔
اس وقت تقریب عروج پر تھی۔ ہماری طرف اذان گونجی، تلاوت ہوئی اور جوش و جذبے سے معمور نعرے گونجنے لگے۔ جبکہ سر حد کے اس طرف ڈھول اور باجوں کی آواز ہی نمایاں تھی وہ بھی اذان کی پر سوز صدا میں ڈوب گئی تھی۔ نعروں کے جواب حاضرین پر جوش طریقے سے دے رہے تھے۔ نعرہ تکبیر اللہ اکبر اور پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الااللہ کی صدا دل میں اندر تک ٹھنڈک دے رہی تھی! دل چاہ رہا تھا کہ اس کی گونج اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنے والے سیکولر عناصر تک پہنچے اور وہ دیکھ لیں کہ حلیہ خواہ کوئی بھی ہو نظریہ بہت گہری جڑیں رکھتا ہے ہم پاکستانیوں کے لیے! تقریب کے دوران بھارتی انکلوژر میں سے ایک لڑکی بھاگتی ہوئی پاکستانی سر زمین میں داخل ہوگئی۔ بھارتی حکام اس مارتے ہوئے واپس لے گئے۔ دیکھ کر دل بہت خراب ہوا۔ شاید اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھامگر ایسی بچی کو حساس علاقے میں اتنے آگے تک لانے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آئی! تقریب کے دوران اور اختتام پر بھارتی خصوصاًسکھ ملحقہ باڑ کے ساتھ کھڑے ہوکر خیر سگالی کا پیغام دیتے رہے جس کا پاکستانی کوئی خاص نوٹس نہیں لے رہے تھے۔یقیناً سب نے قیام پاکستان میں سکھوں کاکردار پڑھا ہوا ہے۔اب اس ڈھکوسلے کی کیا ضرورت ہے! ٹرین بھی رینگتی نظر آئی جی ہاں سمجھوتہ ٹرین!
تقریب کے اختتام پر پر جوش ہجوم یوں باہر نکلا گویا تحریک پاکستان میں حصہ لے کر لوٹا ہو! اسی جذبے کے ساتھ پاکستان کی تعمیر کی جائے تو حالات نہ بدلنے کا کوئی جواز نہیں!یہاں بھی میوزیم موجود ہے جسے ہم نے سر سری دیکھا۔ یہاں ادکار غلام محی الدین معہ فیملی موجود تھے  جن کے ساتھ لوگ فر مائشی سیلفیز بنوا رہے تھے۔ واپسی کا سفر بھی ان ہی رکاوٹوں سے پر ہے!  


ڈوبتے سورج کی آخری کر نیں تھیں جب ہم نے بھی واہگہ چھوڑا۔ ڈھیروں ڈھیر افراد کو جس مستعدی اور پھرتی سے رینجرز یہاں سے روانہ کر رہے تھے حیران کن تھا۔اب یہ فوجی یہاں اکیلے کیا کریں گے؟کسی بچے نے سوال کیا۔ ان کی تو ڈیوٹی ہے یہاں!ساری رونق اور میلہ تو تھوڑی دیر کا  ہوتا ہے۔ ویرانے میں خاموشی سی چھا گئی۔ان کے مزاجوں میں درشتی اور سختی کی وجہ سمجھ آنے لگی تھی۔ ہوٹل پہنچ کر اندازہ ہوا کہ جسم کا ہر خلیہ تھکا ہوا ہے اور آرام کا طلبگار ہے۔آنکھوں میں نیند لیے کھانا کھایااور قصر ادا کر کے بستر پر گر گئے۔
 صبح آنکھ کھلی تو ہنوز تھکاوٹ سے جسم بوجھل تھا۔ مگر آج تو بہت مصروف دن ہے۔گاڑی اور ڈرائیور تیار تھے ہمیں لاہور گھمانے کے لیے۔یہاں گرین بس کی طرز پر گرین رکشے اور گاڑیاں بھی چلتی ہیں۔ہم سب گاڑی میں آبیٹھے۔ سب سے پہلی منزل تو مینار پاکستان ہے!

مینار پاکستان کی سیر:




ڈرائیور نے ہمیں رکاوٹوں کے سامنے اتار دیا۔ابھی سے؟ مینار پاکستان تو بہت دور ہے۔ معلوم ہوا کہ اورنج ٹرین کے باعث کھدائی ہورہی ہے۔ دھول مٹی میں اٹا ہوا مینار پاکستان کہیں فاصلے پر تھا۔ ہم بادشاہی مسجد کی طرف چلے گئے۔نماز کا وقت نہ ہونے کے باوجود مسجد آباد تھی تفریح اور زیارت کرنے والوں سے۔ مغلیہ دور کے اس شاہکار کی ہر اینٹ غفلت اور کوتاہی کا رونا روتی نظر آئی۔قرآن گیلری دیکھی۔مسجد میں دوگانہ ادا کرکے جھروکے میں بیٹھ کر تازہ ناریل کھائے۔ وہاں سے مینار پاکستان نظر آرہا تھا۔ مختار مسعود کی آواز دوست کے اوراق یاد آگئے!  علامہ اقبال کا مزار تو عوام کے لیے بند تھا شاید کسی خاص شخصیت کا دورے کا پروٹو کول تھا۔ وہاں سے نکل کر شاہی قلعے کی طرف روانہ ہوئے۔



پر شکوہ اور پر جلال عمارتیں اوروسیع و عریض سیر گاہیں! اپنا الگ دفاعی نظام! مغلیہ دور سلطنت کی طرز زندگی اور رہائش کا اعلٰی نمونہ نظر آتا ہے۔ شاہی زندگی کے کروفر نگاہوں میں گھوم گئے۔معلوم ہوا کہ آج ۳۲/ مارچ کی وجہ سے یہ عوام کے لیے کھولا گیا ہے ورنہ عموماً بند ہوتا ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے! اس تار یخی اثاثے کی زبوں حالی اور کسمپر سی رلاگئی۔ ڈرائیور کی بات درست لگی کہ ہر اس چیز پر توجہ ہے جس پر اپنا کتبہ لگا یا جا سکے! اب ان چار پانچ سو سال پرانی عمارات کو کون سنبھالے؟ حالانکہ انتظام اور مرمت اور و بحالی کرکے بھی اپنے نام کو تاریخ کے صفحات میں زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ تین چار ہزار سال پرانے شہروں کی کھدائی کرکے ٹوٹی پھوٹی مردہ اشیاء تو اتنے کروفر سے سجائی جارہی ہیں اور اپنے زندہ تاریخی نوادرات دیمک زدہ کیے جارہے ہیں!وجہ ہے کہ ان مردہ شہروں کی ذمہ داری تو اقوام متحدہ نے اٹھا ئی ہوئی ہے اور ہم اتنے نادان کہ اپنے اس ورثے کو بھلائے ہوئے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ یہاں موجود ہر عمارت کو متعلقہ علوم کے شعبے کے صدر دفتر کی حیثیت سے فروغ دیا جائے۔ یعنی ہر شعبے کا طالب علم خواہ دفاعی یا عسکری ہو، مقننہ یاعدلیہ،۔۔۔۔تعلیمی اسناد کے لیے یہاں کا مطالعاتی دورہ ضروری ٹھہرے! تجویز دیے بغیر نہیں رہ سکتے مانے گا کون! یہاں کے سبزہ زاروں میں پیڑوں کے سائے تلے بیٹھ کر ہم نے بھی اپنے آپ کو تصور میں مغلیہ دور کے پائیں باغ میں تفریح کرتے پایا مگر جوس کی ٹھنڈی بوتلیں اورریپر میں لپٹے اسنکس اس منظر میں اجنبی سے لگے۔ قلعے سے باہر آئے تو لگا شاہی قلعے کے دنیا ایک الگ بستی ہے اور شاید اس دور میں بھی ہوگی۔محمد یوسف نے قریب جاکر مینار پاکستان دیکھنے کی ضد کی اور منوں مٹی کھا کر واپس آیا





اب ہمارا رخ عجائب گھر کی طرف تھا۔ یہاں تحریک آزادی اور اس کے حوالے سے نادر تصاویر اور اشیاء دیکھنے کوملیں۔چونکہ بچے ابھی امتحان سے فارغ ہوئے تھے اوربہت سی باتیں ان کو تازہ تازہ یاد تھیں لہذا بہت اچھی طرح سمجھ میں آرہی تھیں۔ مسلم لیگ کے اجلاس کے دوران استعمال ہونے والے چولہے، چائے دان،ٹائپ رائٹراور دیگر اسٹیشنری بہت دلچسپی سے دیکھی گئیں۔کاش جذبات، روایات اور اقدار بھی محفوظ رکھے جاسکتے ان کے تحفظ کا بھی کوئی ادارہ ہوتا! یہاں موجود کچھ چیزیں خون کا دباؤ بڑھارہی ہیں مثلاً ملکہ بر طانیہ کا مجسمہ!س کے سر پر سجا تاج برسوں پرانی بات یاد دلاگیا۔ ....میں لندن جاکر ملکہ سے اپنا کوہ نور ہیرا واپس لے کر آؤں گی جو انگریز یہاں سے چرا کر لے گئے ہیں ....ہم نے فضہ کو ٹٹولا ...اب اسے اتنی عقل آگئی ہے کہ اپنی چیز واپس لینے کا ایک ہی طریقہ ہے تہذیبی فتح!ویسے پچھلے ماہ اس حوالے سے پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے ہیرے کی واپسی کے لیے مقدمہ کی منظوری دے دی ہے کہ یہ پنجاب کا ثقافتی ورثہ ہے اور ملکہ بر طانیہ کو کوئی قانونی حق نہیں کہ وہ اس ہیرے کو اپنے تاج میں سجائے! دیکھیں اس مقدمہ کا کیا بنتا ہے؟

یہاں سے نکل کر باغ جناح المعروف لارنس گارڈن گئے۔ سڑک پر ٹریفک اور عوام کا ازدہام بڑھتا ہی جا رہا ہے!  گارڈن میں ڈھیروں ڈھیروں خاندان پکنک منا رہے تھے ہم بھی ان میں شامل ہوگئے۔ کھانا کھا یا۔تھوڑا آرام کیا اور اب ایک نئی منزل کی طرف۔جی ہاں! بہت فر مائشی جگہ یعنی چڑیا گھر! ہم نے یہاں سے بچنے کی بہت کوشش کی مگر بچے بضد تھے۔ سڑک پر ٹریفک اور عوام کا ازدہام بڑھتا ہی جا رہا ہے!  ہم نے سوچاہمارے پاس تو وقت کم ہے اس لیے آج کے دن نکلے مگرمعلوم ہوا کہ یہاں چھٹی کادن تفریح منانے کا  رحجان اور رواج ہے۔مگر افسوسناک بات یہ کہ تقریباتی اور تفریحی کلچر کی شوقین عوام کے سامنے اس دن کی اہمیت واضح نہیں ہے کیونکہ کوئی ایک تقریب بھی اس حوالے سے نہیں نظر آ ئی۔نظریہ پاکستان پر ویسے ہی دھول ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ کاش میلوں ٹھیلوں کی شوقین قوم کو مقصد حیات سے آگاہ کر دے کوئی!
اب ہمارا رخ ریس کورس گراؤنڈ کی طرف تھا۔ یہاں سالانہ ثقافتی نما ئش لگی ہوئی تھی۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ بے انتہا رش تھا۔اب تو ویسے بھی شام ڈھل رہی تھی۔تفریح کا باقاعدہ وقت تھا۔ایک طرف مختلف اشیاء کے اسٹالز لگے ہوئے تھے تو دوسری طرف اسٹیج پر پھکڑ بازی ہورہی تھی۔  ہم پہلے ہی اسٹال پر شاپنگ میں مصروف ہوگئے جس سے روکنے کے لیے ہمیں بہت بہلاوہ دینے کی کوشش کی گئی کہ ابھی تو بہت بڑا پارک ہے مگر ہم اس بھرّے میں نہ آئے اور ایک ہی اسٹال پر ٹک گئے۔شاپنگ کی پیاس تو کیا بجھتی،”نہ اٹھا ساغر مرے آگے“کے مصداق ابھی حلق بھی تر نہ ہوا تھا کہ اندھیرا اور تھکن کے باعث واپسی کی راہ لی مگر مصمم ارادہ ہے کہ کل یہیں سے آغاز کریں گے۔رات کو پنجاب کا خاص روایتی کھا نا مزے لے کر کھا یا۔


صبح ناشتے کے بعد پلیٹ فارم کا ٹکٹ لے کر وہاں موجود نیشنل بک فاؤنڈیشن کے اسٹال میں گھس گئے اورد دو ہزار کی کتب خرید لیں مگر آپ یہ سمجھیں کہ ان کی اصل قیمت کہیں زیادہ ہے کیونکہ خاصی نادر کتب ہیں جو اور کہیں دستیاب نہ ہوسکتی ہیں۔ انکوہوٹل میں رکھ کرشاپنگ کے لیے بازار گئے مگر آدھا دن گزرنے کے باوجود ہنوز بند تھے لہذا نا مراد واپس ہوئے۔ گر می کے باعث تفریح کے لیے بھی شام کو نکلنے کا پروگرام بنا یا۔ آج لاہور میں گرمی کا با قاعدہ آغاز ہو گیا ہے ہوٹل میں آرام کرتے رہے۔




شام کے وقت پارک گئے۔بقایا شاپنگ مکمل کی۔باغوں کے شہر لاہور میں پھولوں کی نمائش بھی دیکھی۔شمسی لا ئٹ سے روشن ہوتے کھمبے بڑے بھلے لگے۔ میلہ کی رونق اپنے عروج پر تھی۔ پارک کے سامنے ہاسپٹل دیکھ کر ذہن میں آیا کہ خدانخواستہ حادثے کی صورت میں .....! (فوراً لاحول پڑھی تھی مگر انہونی ہو کر رہی اور ہم دھک سے رہ گئے جب کراچی پہنچتے ہی گلشن پارک میں بم دھماکے کی خبر ملی۔ بہت سے لوگ جو ہماری واپسی سے لاعلم تھے فون پر ہماری خیریت معلوم کرتے رہے) بچوں اور نوجوانوں کو پانی میں کھیلتا دیکھ کر اپنا سمندر یاد آگیا۔ 
رات کو پارٹی میں گئے جہاں سے واپسی اس وقت ہوئی جیسا کہ کراچی کی تقریبات سے ہوتی ہے۔کراچی والے اپنے ہی ٹائم کے مطابق زندگی گزارتے ہیں خواہ بر سوں کہیں اور گزار لیں!
واپس ہوٹل آکر پیکنگ مکمل کی کہ کل واپسی کا سفر ہے۔ ہم بھی تھک چکے تھے اور کراچی والے شاید ہماری کمی محسوس کرنے لگے تھے۔ اپنی قدر گھر سے دور جاکر ہی ہوتی ہے!ویسے یہ جملہ معترضہ ہے کیونکہ موبائل فون کے ذریعے رابطہ ہمہ وقت ہی رہا اور اپنے شہر سے با خبر تو ہم پورے سفر میں رہے۔ خواہ پرویز مشرف کے ملک سے فرار کی خبر ہو یا مصطفٰی کمال کی نوزائیدہ پارٹی کے نام رکھنے کی تقریب! ویسے یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ ہمارے حلیے یا لہجے میں کیا بات ہے کہ جس سے بات کرو یہ ہی پوچھتا ہے کراچی سے آ ئے ہیں؟ اور اگلا سوا ل کراچی کے حالات کے حوالے سے ہوتا ہے جو خا صہ مضمحل کردیتا ہے بالکل ایسے جیسے کسی بچے سے اس کے گھر ہونے والی چپقلشوں کا حال پوچھ لے کوئی! بات تو سچ ہے مگر ہے رسوائی کی!
اگلے دن بیس گھنٹے کے سفر کے بعد ڈرگ روڈ اسٹیشن پر اترے تو چلچلاتی گرمی میں مری یاد آگیا۔طویل راشد منہاس روڈ کے دونوں طرف آبادبستیوں کو دیکھااور چن جی گاڑیوں کو دیکھ کر آنکھیں بھیگ گئیں! کیا قسمت پائی ہے ہمارے شہر نے؟پانچ بلند و بالا پلوں سے گزر کر

 جب ہم اپنی منزل پر پہنچے تو لگا اتنی مسافت میں تو دوسرا شہر آجاتا! شہراپنا ہی اچھا لگے خواہ بدنام ہی ہو! کتنا ہی بے ہنگم کیوں نہ ہوجو یہاں یک بار آجائے اس کے سحر سے نہیں نکل پاتاتو ہم جو یہاں کے دائمی باشندے ہیں کس طرح اس سے بے رخی برت سکتے ہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  فرحت طاہر

منگل، 31 مئی، 2016

ایوبیہ سے خان پور سیر ہی سیر




اگلے دن موسم ابر آلود بلکہ برس ہی رہا تھا مزید کی پیشن گوئی تھی اور سیر کو نکلتے ڈر بھی لگ رہا تھا مگر اللہ کا نام لے کر گاڑی میں بیٹھ گئے۔ہمارا پروگرام مری اور ایوبیہ کی طرف تھا۔بل کھاتے راستوں میں موسم بھی خوبصورت سے خوب صورت ہو تا جا رہا تھا۔ بادلوں کو اپنے درمیاں دیکھ کر عجیب سا احساس ہورہا تھا۔ دل خود بخود خدا کی بزرگی کی طرف مائل تھا جس کے ہاتھ میں کائنات کی کنجیاں ہیں۔ آہستہ آہستہ موسم میں شدت آرہی تھی۔اور برف باری تیزی سے ہمیں دھندلا رہی تھی۔
ایک ہوٹل کے باہر گاڑی روکی۔چھتری کی اوٹ میں ہم سب سنبھل سنبھل کر اترے کیونکہ مستقل برف باری ہورہی تھی۔ نرم نرم برف پر ڈرتے ڈرتے پاؤں دھرتے کیونکہ وہ بہت تیزی سے جم کر سخت بھی ہوجاتی جس میں پھسلنے کا اندیشہ تھا۔ہم اس وقت آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر تھے اور درجہ حرارت منفی آٹھ! یہ ساری تفصیلات ہمیں اپنے سمارٹ فون سے معلوم ہورہی تھی۔ہوٹل والے نے ہمارے لیے چائے کا انتظام کیا اور ساتھ ہی ہاتھ تاپنے کے لیے لکڑیاں بھی سلگائیں۔ دھوئیں سے کالے پڑتے اس ہوٹل کے باہر دودھیا برف میں گھری  لپٹی ہماری گاڑی ایک عجیب امتزاج نظر آ یا۔ خاصی ڈرامائی سی صورت حال تھی۔ سردی سے ہم سب کے ہونٹ نیلے سے ہورہے تھے۔ دل میں اندیشے سے سر اٹھا رہے تھے کہ ہم یہاں ان لوگوں کے رحم و کرم پر ہیں خدانخواستہ.. .۱ وہ بے چارے کراچی والوں کی تعریف میں رطب اللسان تھا اور ہم یہاں سے جلدی نکلنے کی دعائیں مانگ رہے تھے    خوف  اور اندیشے! ایسا نہ ہوجائے ! کہیں یوں نہ ہو وغیرہ وغیرہ  او ر اس وقت ایسے ایسے واقعات یاد آنے لگے جو کبھی کہیں پڑ ھے یا سنے تھے۔برف باری کی خبر ہمیں کراچی سے بھی موصول ہوئی اور برف باری کی اطلاع ملتےہی قرب و جوار کے منچلے پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔ اس
!مقام کے کے لیے یہ ایک بہترین موقع ہوتا ہے آمدنی کا


!

اب ہماری واپسی تھی۔ ان ہی موڑوں سے گزرتے ہوئے عجیب سا احساس ہورہا تھا  کہ اب سب شجر و حجر سفید لبادے اوڑھ چکے تھے۔ آبشار کی صورت گر تا پانی ایک خوبصور ت آواز پید اکر رہا تھا۔ہم میں سے اکثریت چکر سے نڈھا ل ہوچلی تھی۔ بیچ میں کئی دفعہ گاڑی رکی تاکہ ہمارے ساتھ ساتھ اس کو بھی آرام ملے! جب ہم اسلام آباد میں داخل ہوئے تو مغرب ہونے والی تھی اور بارش ہو رہی تھی۔  پنڈی پہنچے تو اچھی خا صی  
رات ہوچکی تھی ۔ ہم سب تھکن سے چور ہوچکے تھے لہذا جلد ہی گرم گرم بستر پر دراز ہوگئے۔

ٹیکسلا میوزیم  اور سر کپ کے کھنڈرات :



اب ہفتہ وار چھٹیاں تھیں اورہمارے میزبان نے زبردست تفریحی دورے کا انتظام کیا تھا۔ پہلے تو ہم ٹیکسلا 
میوزیم اور اس سے ملحقہ پارک گئے۔ میوزیم میں فوٹو گرافی ممنوع تھی مگر ایک تصویر بنانے کی اجازت مل گئی۔ٹوٹی پھوٹی اشیاء شیشوں میں سجی دیکھ کر ایک تبصرہ سننے کو ملا کہ ردی والے سے خریدی گئی ہیں! ہم سب مسکرااٹھے                                                                                                                                             !

اس کے بعد سرکپ کے تین ہزار پرانے زمین سے دریافت شدہ شہر گئے۔ محکمہ آثار قدیمہ کے زیر انتظام شہر خموشاں کو دیکھ کر عجیب سا احساس ہورہا تھا۔ جن گھروں میں ہم آرام سے چہل قدمی کررہے تھے وہاں کے رہائشی بڑے کروفر سے رہا کرتے تھے آج ہمارے قدموں تلے تھے! زبر دست ٹاؤن پلاننگ نظر آ ئی۔ اور جب گائیڈ نے بتا یا کہ اسلام آباد کا شہر اسی نقشے کے مطابق بسا یا گیا ہے تو ہم سوچ میں پڑ گئے۔خیال تو ہمارے بھائی نے یہ بھی دلایا کہ کہیں بتوں اور مجسموں کو دیکھنے سے گناہ تو نہیں ملے گا؟ عبرت کی جائے دیکھ 
!کر اپنی اوقات یاد آجا تی ہے اور پھر قل سیرو فی الارض کی آیت بھی سامنے ہے














:خان پور ڈیم


یہاں سے نکل کر ہری پور ہوتے ہوئے خان پور ڈیم پہنچے۔ یہ ایک زبر دست تفریحی مقام ہے۔ یہاں ہم نے بہت لطف اٹھا یا۔ بے حد خوبصورت اور منظم، صاف ستھری جگہ ہے۔ پارک میں مختلف اقسام کے کچرے (شیشہ،لکڑی، پلاسٹک وغیرہ وغیرہ) کے لیے علیحدہ علیحدہ ڈبے نظر آئے۔ یہاں بوٹنگ سے قبل چھہ ماہ کے بچے سمیت ہم سب کو لائف جیکٹ پہنائی گئی۔ بلندی پر بنے گندھارا ہوٹل سے ڈوبتے

سور ج کا نظارہ بہت دلکش منظر تھا- شفاف پانی میں عکس یوں لگ رہا تھا جیسے رنگ گھول دیا گیا ہو! آسمان کا رنگ بھی اتنا نکھرا تھا کہ بیان سے باہر ہے! اندھیرا گہرا ہونے سے پہلے ہم نکل گئے۔راستے میں یہاں کے مشہورمالٹے بھی خریدے جو مزے، خوشبو اور رنگ میں بڑے لاجواب تھے۔ خواتین نے آرائشی چیزیں خریدنے کی کوشش کی جو مرد حضرات کے عدم تعاون کے باعث جزوی کامیاب رہی۔ واپسی میں ہم لبنٰی کے گھر واقع ڈی ایچ اے اتر گئے۔ پہلے کی طرح تھکے ہوئے پہنچے۔ کھانا کھا کر گرم گرم بستر میں گھس گئے۔ بچیاں باتیں کرتے کرتے سو گئیں تو ہماری تھکی مندی آنکھیں دیکھ کر ہمیں بھی آرام کا مشورہ ملا۔
 صبح اٹھے تو بارش کے ساتھ اولے بھی دیکھے۔ ہری ہری گھاس پر سفید نرم نرم اولے! بہت حسین منظر تھا۔ یہ جگہ بھی بہت زبر دست ہے ماشاء اللہ! دن کے اجالے میں زیادہ اندازہ ہوا۔ پہاڑ کے دامن میں غیر آباد علاقہ میں بنا بنگلہ خاصہ آرٹسٹک ہے۔ ناشتے کے بعد دوپہر کے لیے تلن کی تیاریاں تھیں مگر ہمارے سفر کے ساتھی ہمارے بغیر اداس ہونے لگے تو ہم واپس کینٹ اپنی رہائش گاہ آگئے۔


  

منگل، 17 مئی، 2016

اسلام ۤباد ہمارا دار الخلافہ


اگلے دن صبح سویرے گاڑی مع ڈرائیور آپہنچی۔میز بان کا مشورہ تھا کہ نیٹ کے ذریعے سرچ کرکے تفریحی جگہیں منتخب کی جائیں تاکہ بوریت اور تھکاوٹ سے بچا جاسکے اور اس پر سب متفق تھے مگر ہوا یہ کہ بغیر اس ہوم ورک کے گاڑی میں جابیٹھے اور اس کا بھی جواز تھا کہ ضروری نہیں کہ جو چیزیں اسکرین میں اچھی لگ رہی ہو واقعی پر لطف بھی ہو۔ اپنی قسمت اور اپنا تجربہ! ڈرائیور کو چند جگہیں بتادیں کہ وہ اس لحاظ سے روٹ بنالے۔ بھروسہ تو اس پر کرنا ہی تھانا!


 سب سے پہلے راول ڈیم پارک کا رخ کیا۔ برڈ زپارک میں چہچہاتے ہوئے پرندے گویا اللہ کی کبریائی بیان کر رہے تھے۔ خود بخود زبان سے سبحان اللہ نکل رہا تھا۔ وہاں سے ہوتے ہوتے ڈیم کی طرف نکل گئے۔ نوجوانوں اور خواتین کی ٹولیاں بوٹنگ کر رہی تھیں۔ ہم میں سے اکثر یت پانی کی تفریح سے خوفزدہ تھی خود ہماری آنکھوں میں اخبارات کی خبر گھوم رہی تھی کہ راول ڈیم میں کشتی ڈوبنے سے لوگ ڈوب گئے... مگرپھر یہ سوچ کر کہ زندگی کا رسک تو ہر جگہ یکساں ہے اور پھر کالجز کے گروپ کے گروپ کو بوٹنگ کرتے دیکھ کر ہم نے بھی ہمت پکڑی اور اللہ کا نام لے کر بیٹھ گئے۔ کچھ بھی ایسا نہ ہوا کہ خبر بن سکے اور ہم الحمدللہ پڑھتے ہوئے کشتی سے اتر آئے۔ہمارے سفر کے دوران ہی بادل گھر آئے اور موسم کا رنگ بدلنے لگا۔ویسے بارش کی تو پیشن گوئی ہے ہی! قرآن کی بہت سی آیات یاد آئیں جوکشتی کے سفر کے دوران انسانی احساسات کے حوالے سے ہیں!



کون آئسکریم اور سنیکس لے کر ہم چیڑ اور پائن کے باغ میں لکڑی کی بنچوں پر بیٹھ گئے۔ گلہریاں اور نیولے آزادانہ گھوم رہے تھے اور ہمیں خوب گھور رہے تھے۔ظاہر ہے ہم ہی اجنبی تھے یہاں! وہ تو نسلوں سے یہیں آباد ہیں۔ویسے یہاں قدرتی ماحول بھرپور طریقے سے محفوظ کیا گیا ہے۔ باڑھیں اور گرل میں بھی درختوں کو استعمال کیا گیا ہے۔ بچوں نے چلغوزے کے کونز جمع کیے۔


 اب ہم پارک کے بیرونی حصے کی طرف آئے جہاں جوق درجوق لوگ آرہے تھے۔ خواتین اور لڑکیوں کے زرق برق ملبوسات دیکھ کر اندازہ ہورہا تھا کہ اکثر یت شادی کی تقریب گزار کر پکنک کو نکلی ہوئی ہے۔یہاں گھڑسواری کا انتظام تھا۔ محمد یوسف اپنی والدہ کے ہمراہ گھوڑے پر بیٹھے۔ وہ لوگ نظروں سے اوجھل ہوئے اورہم وہاں موجودگھوڑوں کی ادائیں دیکھنے میں مصروف ہوگئے۔ کس قدر تربیت یافتہ اور نظم و ضبط کے پابند ہیں! شاید انسانوں کو کنٹرول کرنا زیادہ دشوار ہوتا ہے۔ کافی دیر ہوگئی تو ہم سب پریشان ہونے لگے مگر جب ان کو واپس آتے دیکھا تو اطمینان ہوا ہاں ان دونوں کے چہرے پر ہوائیاں اڑرہی تھیں! ہماراخیال ہے جو ذرا سا بھی خوف کا مظاہرہ کرے اسے جان کر یہ زیادہ بھگاتے ہیں۔ خیر یہ مر حلہ گزرا تو گاڑی میں بیٹھے۔اب ہم اگلی منزل کی طرف رواں دواں تھے۔ چائینیز پارک، جاسمین پارک، روز پارک! یہ سب ہم نے سر سر ی طور پر دیکھا کیونکہ ایک پارک کی بھرپور تفریح ہم کر ہی چکے تھے ا ب ہم ذرا مختلف جگہ دیکھنا چاہتے تھے مثلاً میوزیم وغیرہ لہذا شکر پڑیاں پر واقع لوک ورثہ میں جا اترے۔

















یہاں داخل ہوئے تو جگہ جگہ ثقافتی اسٹالز لگے تھے۔ سب سے پہلے اسٹال پر کلپ اور کی چین پر نام کھدے ہوئے تھے۔ ہم نے سب گھر والوں کے لیے چن لیے مگر ہماری ایک بھتیجی کے نام کا نہیں دستیاب تھا جو انہوں نے نوٹ کرلیا کہ واپسی میں لے لیجیے گا! ہم سب ٹکٹ لے کر واک تھرو سے گزر کر اندر داخل ہونے لگے تو ہماری بہن کے پرس میں موجود چھری اور قینچی بج اٹھے! مسکراتی ہوئے چادر میں ملبوس خاتون نگران نے وہ اپنی دراز میں رکھ لیے۔ یہاں کی دنیا میں ہم سب مسحور ہوگئے تھے۔ایک کے بعد ایک در کھلتے جاتے اور ہم اس میں داخل ہوکر گم سے ہوجاتے۔ ہندوستان،ایران،افغانستان سے لے کر وسط ایشیا کی ریاستیں .....خطے کی تمام اقوام اور مذاہب کے رہن سہن، رسوم و رواج اور اہم باتوں کو ماڈلز کے ذریعے اجا گر کیا گیا ہے۔ایک طرف مذہبی، روحانی اور تصوف کے سلسلوں کی منظر کشی تھی تو دوسری طرف رومانوی داستانوں کو بھی نمایاں کیا گیا تھا۔ قائد اعظم سے لے کر بے نظیر بھٹو تک یہاں موجود تھے۔







خاص بات ارد گرد کا ماحول متعلقہاورتاثرات و احساسات کا حقیقت سے قریب ترین ہونا ہے۔ ایک بابا جی چارپائی پر حقہ لیے بیٹھے،ایک پاؤں میں چپل پہنتے ہوئے ان کی آنکھوں کے سرخ ڈورے ان کے غصے کی اتنی زبردست غمازی! (بالکل ایسے جیسے ابا جی کے گھر میں داخل ہوتے ہی ان کو بجلی کا بل پکڑا دیا گیا ہو! ہم سب ان کو دیکھ کر بہت محظوظ ہوئے!)اس جگہ بالکل رش نہیں تھا لہذا بہت اچھی طرح دیکھ سکے۔یہاں شیشے کی دکانوں سے بھی شاپنگ کی جن کی قیمتیں کافی زیادہ لگیں! ظاہر ہے مسافر (ٹورسٹ) کو اونچی اسامی سمجھنا تو اہم تجارتی اصول ہے! کئی گھنٹے گزار کر باہر نکلے مگراس سے پہلے کاؤنٹر سے اپنی چھری اور قینچی لینا نہ بھولے اور تاثرات کا رجسٹر منتظمہ کی دراز سے نکلوا کر اپنے خوشگوار احساسات رقم کیے۔ گھنٹوں بعد باہر نکل کر بیرونی دنیا سے رابطہ ہوا تو مانوس ہونے میں تھوڑا وقت لگا گویا ٹائم مشین میں بیٹھ کر صدیوں کا سفر کر آئے ہوں اور یہ قطعاًبھول گئے کہ ہم نے کلپ پر بھتیجی کانام لکھوانے کا کہا تھا۔ وہ تو اس نے خود لہرا کر ہمارے حوالے کیا تو یاد آیا۔


اب ہمارا رخ یادگار پاکستان یعنی پاکستان مونومنٹ کی طرف تھا۔شکر پڑیاں میں واقع اس خوبصورت اور پر شکوہ قومی یادگار کا قیام وزارت ثقافت اور تعمیراتی کونسل اور ٹاؤن پلانرز کے مشتر کہ تعاون سے ہوا۔ اس کا ڈیزائن عارف مسعود نے بنا یا ہے۔ کھلتے پھول کی شکل میں چاربڑی پتیاں چار صوبوں کی جبکہ تین چھوٹی پتیاں ریاستوں کو ظاہر کرتی ہیں۔  23 march 2007  کو اس کا افتتاح ہوا۔






اس یادگار کا مقصددنیا کے سامنے پاکستانی تہذیب و ثقافت اور قیام پاکستان کی جدو جہد کو متعارف کروانا ہے۔ اگر اس عمارت کو اوپر سے دیکھا جائے تو چاند ستارے کی مانند دکھائی دیتا ہے گویاپاکستانی پرچم بچھا ہوا ہے۔ ایک قابل فخر جگہ! اس کی دیواروں پر ان تمام افراد کے ہاتھوں کے نقوش بنے ہیں جنہوں نے اس کو بنانے میں حصہ لیا! اس یادگار کے بالکل سامنے مونومنٹ میوزیم بھی بنا یا گیا ہے۔اس کے الگ سے ٹکٹ لیے گئے۔ 



داخل ہوتے ہی تحریک آزادی کے مناظر یہاں ماڈلز کے علاوہ آڈیٹوریم میں ڈاکومنٹری دکھانے کا بھی انتظام ہے۔  شملہ معاہدے کی عکاسی میں ماؤنٹ بیٹن اور نہرو وفد کے مقابلے میں قائد اور ان کا وفد پرجوش اور ہشاش بشاش نظر آیا۔ بچوں نے پاکستان زندہ باد اور قائد اعظم زندہ باد کے نعرے لگائے۔وہیں کسی کمرے میں جاء نماز رکھی نظر آ ئی تو ہم نے جلدی سے قصر ادا کر لی۔ طوالت کے خوف سے ہم اس کا ذکر ختم کرکے اگلی منزل کی طرف بڑھتے ہیں!




اب موسم نے باقاعدہ رنگ بدل لیا تھا اور ہلکی پھوار شروع ہوچکی تھی جو ہمارے فیصل مسجد تک پہنچتے پہنچتے خاصی تیز ہوچکی تھی۔چھتری کی اہمیت اب معلوم ہوئی۔اسکی پناہ میں مسجد کے اندر داخل ہوئے۔ چپلیں کاؤنٹر پر جمع کرنے کا مرحلہ طے کیا۔یہاں آنے کی برسوں پرانی خواہش پوری بھی ہوئی تو اس طرح کہ ہم تھکن سے نڈھال اور بھیگنے کی وجہ سے بیزار کیونکہ چکنے فرش کی وجہ سے چلنا مشکل تھا۔ بہر کیف کسی طرح سنبھلتے سنبھلتے اوپر پہنچے تو نماز عصر ختم ہوچکی تھی۔  یہاں تفریح اور ویڈیو گرافی کرتے لوگ سخت کوفت کا باعث بن رہے تھے۔ ہمارا پھسلنا بچوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر گیا۔ ہماری تکلیف اور شر مندگی کا سوچ کر سب نیچے اتر آئے۔ یہاں موجودشاپ میں سووینئرخریدنے کے خیال سے داخل ہوئے مگر قیمتیں اور رش دیکھ کر باہر نکلنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ ہاں باہر اسٹال سے ایک نادر کتاب خرید سکے! کلیلہ و دمنہ! تھکن سے واپسی کا دل چاہ رہا تھا مگر ابھی دامن کوہ باقی تھااور ابھی لبنٰی کے گھر بھی جانا تھا۔ صبح جب وہ ہماری ٹریکنگ کر رہی تھیں تو اسلام آباد کاسن کر انہوں نے بڑی خوش دلی سے کہا کہ وہاں سے واپسی  پرآجائیں!  ظاہر ہے فاصلے کا اندازہ بخوبی تھاکہ ڈی ایچ اے تو پنڈی کے بھی کونے میں آباد کیا گیا ہے۔گویا اب ہم ظہرانے کے بجائے عشائیہ تناول فرمائیں گے(ہم نے لنچ اور ڈنر کو مٹا کر لکھا ہے جب اپنی زبان میں الفاظ موجود ہیں تو ہم دوسری زبان کا سہارا کیوں لیں؟)




دامن کوہ پہنچے تو بارش تقریباً ختم ہوچکی تھی۔ بندروں سے بچتے بچاتے اپنی دانست میں ایک محفوظ جگہ پر بیٹھے اور سنیکس کے ساتھ گرما گرم چائے سے لطف اندوز ہورہے تھے مگر پھر بھی ذرا نظر بچی اور بچوں کی چائے کے کپ پر بندر نے حملہ کردیا۔ ہم پر بھی کوشش کی مگر ہم نے ان پر اپنی پرس سے جوابی گھرکا تو بھاگ کھڑے ہوئے۔ بچوں نے داد دی کہ خالہ نے خوب ہمارا بد لہ لیا! ہمیں اس حوالے سے ابو نثر کا ایک کالم یاد آیا جس میں انہوں نے بندروں کی اس بدلی ہوئی غذائی عادت کا ذکر کیا تھا۔ یہ سراسر ہم انسانوں کا قصور ہے کہ ہم نے انہیں بھی جنک فوڈ کی لت لگادی ہے۔اونچائی سے اسلام آباد کا نظارہ بڑا دلنشین تھا۔دل کرتا یہیں بیٹھے رہیں مگر موسم کے تیور سے ڈر لگ رہا تھا۔کرکٹ کے دیوانے میچ سے لطف اندوز ہورہے تھے۔محمد یوسف بار بار قریبی بیٹھے انکلز سے اسکور پوچھ کر پر جوش نعرہ لگاتا! اندھیرا بڑھنے سے پہلے ہم گاڑٰ ی میں بیٹھ چکے تھے واپسی کے لیے!

راولپنڈی پہنچ کر اپنی رہا ئش گاہ کے قریب سے گزرے مگر ٹھہرے نہیں بلکہ ایوب پارک سے ہوتے ہوئے فوجی فاؤنڈیشن سے ملحقہ علاقہ پہنچے۔اب مسئلہ تھا اپنا مطلوبہ گھر ڈھونڈنے کا جو مل کر نہ دے رہا تھا!  ہمیں تو یہ بریف کیا گیا تھا کہ راولپنڈی چھوٹا سا شہر ہے آپ جس مقامپر بھی ہوں تمام جگہیں دس کلو میٹر کے قطر میں ہی ہوں گی! بس اتنا سا؟ ہم نے کچھ کچھ حقارت بھرے لہجے میں کہا تھا مگر اس وقت تو لگ رہا تھا کہ شیطان کی آنت بن گیا تھا پنڈی کہ ختم ہی نہیں ہو رہا تھا۔ ہم تو خیر اس علاقے میں اجنبی ٹھہرے مگر ڈرائیورکی لاعلمی پر غصہ آنے لگا تھا جب کافی دیر ہوگئی سمجھ نہ پا رہا تھا۔ اس کا عذر ماننا ہی پڑا کہ کہ وہ اس علاقے میں کبھی نہیں آیا! معلوم ہوا کہ نیا علاقہ آباد ہوا ہے! کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد!ہمارے موبائیل کی چارجنگ ختم تھی۔ اس نے اپنا موبائیل دیا کہ پتہ سمجھیں! کافی دیر بعد بالآخر ہم پہنچ ہی گئے!
چھما چھم بارش برس رہی تھی۔ پوری فیملی ہمارے استقبال کو موجود تھی۔نومولود سے لے کر نو بیاہتا تک! کھانے کی میز سجی تھی مگر اس سے پہلے ہمیں تازہ دم ہونا تھا۔ محمد یوسف کے کپڑے بھیگ چکے تھے۔جن کو بدلوا کر استری سے خشک کیا گیا! جمع بین الصلاتین پڑھی! مغرب اور عشاء!اس  کے بعدپر تکلف کھانا اور ساتھ میں مزیدار حلوہ! کھانے سے فارغ ہوکر لاؤنج میں آبیٹھے۔ باتوں باتوں میں سامنے دھرے البمز کھلتے چلے گئے جن میں ہم بھی موجود تھے۔ بچپن یا نوعمری! آہ کبھی ہم بھی خوبصورت تھے.....! بچوں کی حیرت بجا ہے جبکہ خود ہم بھی اپنے آپ کو پہچان مشکل سے پارہے ہیں ...! چائے کی طلب اور آفر دونوں موجود تھے مگر گنجائش نہ تھی لہذا معذرت کر لی! محفل کتنی ہی دلچسپ کیوں نہ ہو ں بہر حال اٹھنا ہی تھا کہ ڈرائیور کو دیر ہورہی تھی۔ ایک  بھر پور تفریح بھرادن گزار کر ہم رہائش گاہ کو واپس ہوئے۔الحمد للہ!  اب اگلے دن کا پروگرام موسم پر منحصر ہے!  ()

ہفتہ، 14 مئی، 2016

سفر شرط ہے !

       


 ”ہمارے امتحان ۲۱ / مارچ کو ختم ہوں گے....!  محمد یوسف نے فون پر اطلاع دی۔وہ اس سال تیسری جماعت کا امتحان دے رہے ہیں۔

  اور شروع کب سے ہیں؟  یہ نہیں معلوم! امی کو پتہ ہوگا! ہکا بکا نہ ہوں! ظاہر ہے امتحان کی تیاری ان سے زیادہ امی کا مسئلہ ہے!!  ۱ نہیں تو بس اس بات کی فکر کہ کب پڑھائی سے نجات ملے گی ....تو بس وہ تاریخ یاد رکھی!  اس دفعہ تو یوں بھی بے چینی سے انتظار ہے کہ شمالی علاقوں کی سیر کا پروگرام طے تھا۔ ریلوے بکنگ ہو چکی تھی اورچھٹیاں منظور! درمیان میں امتحان کامرحلہ ہی تھا۔  بچوں کی توجہ منتشر ہونے سے بچانے کے لیے تفریح کا ذکر تک نہ ہو پاتا۔ بس وقفہ میں ایک دن جاکر جوتے، بیگز اور ضروری شاپنگ مکمل کر لی گئی۔ اورا متحان کے اگلے دن ہی ہماری روانگی تھی۔
   آج صبح سے ہنگامی نوعیت تھی۔ تمام کام سمیٹے جارہے تھے۔سفر کے لیے تیاری عروج پرتھی۔ہر قسم کی تیا ری! زاد راہ سے لے کر گھر کی حفاظت اور مکمل صفائی تک! جب گھر کا بچہ بچہ تیاری میں جت جائے تو بڑے لطیفے سر زد ہوتے ہیں۔کچھ کام دوہرا جاتے ہیں اور کچھ سرے سے انجام ہی نہیں پاتے! اس کے علاوہ جہاں جارہے ہیں وہاں کے موسم کے حوالے سے مستقل خبریں آرہی ہیں کہ پچھلے چھتیس گھنٹوں سے مسلسل بارش ہورہی ہے!ظاہر ہے سفر کے خدشات میں موسم کی شدت کا عنصر بھی شامل ہے! ان تمام مرحلوں سے گزر کر وقت روانگی آپہنچا اور اسٹیشن جانے والی گاڑی آگئی۔ بیگز اور سوٹ کیسوں کی تعداد ہر فرد بار بار گننے میں لگ گیا جو ہر دفعہ مختلف آتی! وجہ؟کبھی کندھے کا بیگ گنا جاتا اور کبھی نہیں، ظاہر ہے فرق تو آنا تھا۔ خیر اس مرحلے سے بھی گزر کر ہماری گاڑی روانہ ہوئی۔ ٹریفک جام بڑی بے چینی کاسبب بنتا کہ کہیں ہماری ٹرین نہ چھوٹ جائے مگر ایسا نہ ہوا۔ ہم اسٹیشن وقت سے بہت پہلے پہنچ گئے۔ پلیٹ فارم پر تھوڑی دیر بیٹھے تھے کہ ٹرین آئی اس میں اطمینان سے بیٹھے تب کہیں جا کر چلنے کی نوبت آئی۔ اور خوشی کی بات کہ ٹرین وقت پر روانہ ہوئی۔ الحمد للہ سفر کی ابتدا بہت اچھی ہوئی۔ دعا اور امید ہے کہ اختتام بھی بخیر ہو!


ٹرین کے چلتے ہی نماز عصر ادا کی۔قصر پڑھنے کا موقع مل رہاہے لہذا اس سے فائدہ اٹھا نا ہے۔ٹرین شہری آبادی سے نکلی تو خوبصورت مناظردل و دماغ کو بشاشت دینے لگے۔اے سی کوپے کی وجہ سے صرف ایک طرف کا نظارہ ممکن ہوتا ہے چنانچہ کھڑکی کے پاس بیٹھنے کے لیے کشمکش رہی مگر تھوڑی ہی دیر میں اندھیرا چھانے کے باعث اس منظر میں کوئی کشش نہیں رہی لہذا سب دیگر مشاغل میں مصروف ہوگئے۔

 بچوں کے لیے اوپر چڑھنے اور اترنے کی سر گر می بھی وجہ ڈانٹ ڈپٹ بنتی رہی۔ اب بیچارے اتنی سی جگہ میں کیا کرتے؟ دنیا چھوٹی سی جگہ پر سمٹ آئی تھی تو زندگی کی حقیقت آشکارا ہورہی تھی کہ ہم نے خواہ مخواہ لوازمات زندگی اتنا بڑھا دیا ہے!  ویسے ضروریات زندگی تمام موجود تھی۔کھانا وافر، ماحول میں خوشگوار ٹھنڈک،آرام کے لیے بستر،پڑھنے کے لیے کتب، رابطوں کے لیے موبائیل.....اور تو اور یوسف نے پانی کی لٹر بوتل کو الٹا کر ہولڈر میں لٹکا یا ہواتھا جو ڈسپنسر کا کام دے رہا تھا۔ عشاء کے وقت کھانا کھا کر سونے کی تیاریوں میں لگ گئے۔ ڈائننگ کا ر سے بار بار مختلف چیزوں کی آفر آتی رہی مگر ماشاء اللہ ہم خود ہر چیز میں خود کفیل تھے۔


صبح آنکھ کھلی توہماری ٹرین پنجاب میں داخل ہوچکی تھی۔ سر سبز کھیت اور باغات اللہ کی حمد و ثناء پر اکسا رہے تھے۔ آموں اور دیگر پھلوں سے لدے باغات دعوت اشتہا دے رہے تھے اگرچہ اس منظر میں خوشبو اور آوازوں کی کمی بوجہ ونڈو گلاسزموجود نہ تھی۔ٹرین اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی بڑے اسٹیشن پر زیادہ دیر کے لیے رکتی جبکہ چھوٹے چھوٹے آکر گزتے رہے۔

ملتان کے اسٹیشن پر نیشنل بک فاؤنڈیشن کے اسٹال سے پاکستان ریلوے کا شائع شدہ میگزین خریدا تو ایک نئی سر گرمی ہاتھ آگئی اسکا لفظ لفظ پڑھا گیا اور اس میں موجود ٹرینوں کے شیڈول اور اسٹیشنوں کے نام پر بحث کہ اب کون سا آ ئے گا!  یہاں اپنے قارئین کی دلچسپی کے لیے عرض کریں کہ پاکستان ریلوے اور نیشنل بک فاؤ نڈیشن کے باہم اشتراک سے تمام بڑے اسٹیشنز کے پلیٹ فار م پر کتابوں کا سٹالز بنائے گئے ہیں اس کے علاوہ کتب بینی کے فروغ کے لیے کافی کام ہو رہاہے جو قابل ستائش ہے!
لاہور سے پہلے رائے ونڈ پر ہمارے تمام ہمراہی جو کراچی سے ہمارے ساتھ سفر پر روانہ ہوئے تھے اپنی منزل پر پہنچ کر جدا ہوئے۔ جی ہاں! تبلیغی گروپ جو اتنی بڑی تعداد میں تھے کہ بقول یوسف ٹرین اب اتنی چھوٹی ہوگئی ہے (ڈبے جو کم کر دیے گئے ہیں)۔ لاہور اسٹیشن پر کافی ہلچل  رہی۔ٹرین چھوٹنے کا خوف اب کچھ کم ہو گیا ہے لہذا محمد یوسف نے پلیٹ فارم پر سیر بھی کر لی۔





اب لاہور سے پنڈی کی طرف سفر شروع ہوگیا ہے۔اور شہری علاقے سے گزر کر صنعتی علاقے نظروں کے سامنے تھے۔گوجرانوالہ سے گجرات کی طرف جاتے ہوئے نہ صرف موسم تبدیل ہوگیا بلکہ کچھ اندھیرا بھی چھانے لگا۔لالہ موسٰی اور کھاریاں کے بعد تو سردی کے بڑھنے کے احساس پر سب نے اوپر کی طرف رکھے گرم کپڑے نکال لیے۔ کراچی والوں کے لیے تو خاصی تبدیلی تھی! یوں تو سارے پنجاب میں بارش کے آثار نظر آئے مگر اب باقاعدہ گرج چمک کے ساتھ شیشوں پر بارش کے اثرات نمایاں ہورہے تھے۔ ساتھ ہی ٹرین کی رفتار بھی سست ہوچلی تھی۔یوں تو باہر اندھیرا تھا مگر ہچکولے کھانے سے اندازہ ہورہا تھا کہ ہم پوٹھو ہاری علاقے سے گزر رہے ہیں۔ کئی دفعہ سرنگوں سے گزرے جس کا احساس ٹرین کی آواز بدلنے سے ہوا۔ مغرب کی نماز جمع بین الصلاتین کے تحت  راولپنڈی پہنچ کرعشاء کے ساتھ ملا کر پڑھنے کا سوچا۔ہمیں ٹرین میں مقید ہوئے چوبیس گھنٹے سے زیادہ گزر چکے تھے اوربے چینی سے منزل پر پہنچنے کے متمنی تھے۔ دوسری طرف جہاں پہنچنا تھا وہاں سے بھی کب؟ کہاں؟کتنا؟  استفسار شروع ہوگیا تھا  یعنی سراپا انتظار!دوسرے موسم پر ذرا تشویش کا اظہار! جہلم کے بعد چکلالہ کا بورڈ نظر آیا تو ہم نے سامان سمیٹنا شروع کر دیا۔ 1548کلو میٹر کا فاصلہ تقریباً ستائیس گھنٹے  میں طے کر کے آٹھ بجے ہم پنڈی پہنچ گئے۔ گاڑی کاانتظا م پہلے ہی ہو چکا تھا!  یہ سب موبائیل فون کی کرامت ہے کہ ہم راستے بھر اس کے ذریعے نہ صرف سب لوگوں سے رابطے میں رہے بلکہ ضروری کام بھی نبٹاتے رہے۔ ٹرین رکی تو سب بہت اطمینان سے اترے! آخری اسٹیشن جو تھا! جلدی کا کوئی ایشو نہ تھا۔



بھیگا بھیگا پنڈی اسٹیشن! بارش رک چکی تھی مگر ہر طرف اس کے اثرات نمایاں تھے۔ہرکام ایک مشینی انداز میں ہورہا تھا۔ اپنے اپنے ہینڈ بیگ سنبھال کر قلی کی سربراہی میں آہنی پل کراس کرکے عمارت سے باہر نکلے تو ہم خواتین خاصے پیچھے رہ گئیں تھیں۔ شاید اتنے گھنٹوں تک نہ چلنے کی وجہ سے رفتار کم ہوگئی تھی۔ آنکھیں پھاڑ کر دیکھا تو یوسف سامان کے ڈھیر کے پاس کھڑا نظر آیا۔ ڈرائیور نے گاڑی قریب لائی اور سامانکے ڈھیر کے پاس کھڑا نظر آیا۔ ڈرائیور نے گاڑی قریب لائی اور سامان رکھاپھر ہم سب بھی بیٹھ گئے۔ ہماری میزبان کے مطابق اسٹیشن سے ان کا گھر دس منٹ کے فاصلے پر ہے لیکن ظاہر ہے اگر آپ پہلی دفعہ کہیں جا رہے ہوں تو زیادہ وقت ہی لگتا ہے گھر تلاش کرنے میں اور جبکہ سامان بھی لوڈ کرنا ہو! بہر حال آدھے گھنٹے کے اندر ہم اپنے ٹھکانہ پر پہنچ گئے جہاں ہماری میزبان ان کے بچے اور ایک مہمان رشتہ دار دستر خوان سجائے ہمارے منتظر تھے۔فریش ہوکر کھانے پر بیٹھ گئے۔ حالانکہ ٹرین میں ہم کھا نا کھا چکے تھے بلکہ صاف کر چکے تھے اور ان سے کہہ بھی دیا تھا مگر ام اسماعیل (ہماری مہربان میزبان!) کے اصرار اور محبت کے آگے ہماری ایک نہ چلی۔دوسری بات کہ کھا نا اتنا مزیدار اور طریقے سے چنا گیا تھا کہ ہم ہاتھ نہ روک پائے۔(ظاہر ہے پچھلے چھتیس گھنٹوں بعد آداب طعام کے ساتھ کھا نا کھا یا گیا ورنہ تو سفر میں کس طرح کھا یا جا تا ہے ..حالانکہ اس کا الگ اپنا لطف ہے!) 
کھانے کے دوران دلچسپ گفتگو بھی رہی! ہم سب کو رہائش اور موسم کے لحاظ سے ضروری بریفنگ دی گئی۔ اس دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ دس بجے لائٹ چلی جائے گی ایک گھنٹے کے لیے! جی ہاں! لوڈ شیڈنگ یہاں بھی ہوتی ہے۔ہم سب باتوں میں ایسے منہمک تھے کہ بجلی آبھی گئی یعنی پورا گھنٹہ گزر گیا!دستر خوان پر بیٹھے بیٹھے!! باتیں! باتیں اور صرف باتیں! گزری باتیں اور آنے والے دنوں کے پروگرامز!!
پنڈی کیسا لگا؟ یوں تو جہاز سے اسلام آبادہمارا کئی دفعہ آنا ہوا مگر پنڈی کا اپنے ہوش میں پہلا سفر تھا۔ برسوں پہلے اپنے بچپن میں پنڈی کا سفر کیا تھا۔ اس کی کچھ ہلکی سی جھلک ذہن میں محفوظ ہے۔سب کچھ ویسا نہیں ہے مگرہر کمرے میں آتش دان ویسے ہی ہیں!یہاں کے موسم میں اس کی موجودگی ضروری ہے! بستر پر گرتے ہی نیند کی وادیوں میں کھوگئے۔



    صبح اٹھے تو اپنے اوپر ایک مزید کمبل پایا۔ہمارے میزبانوں کا خیا ل تھا کہ ہمیں یہاں کے موسم کو ہلکا نہ لیں! اس موقع پر مشتاق یوسفی کا تبصرہ یاد آتا ہے جس میں موسم کو لحافوں کی تعداد سے معلوم اور دریافت کیا جا سکتا ہے.. اتنی تھکاوٹ تھی کہ نئی جگہ ہونے کے باوجود گہری نیند سے الارم کی آواز سے ہی اٹھے۔چونکہ یہاں صبح تقریباً آدھ گھنٹے پہلے ہوتی ہے۔اپنے شہر میں جو وقت بستر سے کسمسا کر نکلنے میں خرچ ہوتا ہے یہاں ضائع کرنے کامطلب نماز فجر سے محرومی تھی لہذا فوری اٹھ بیٹحے۔ ہماری میز بان نے لاؤنج میں ایمر جنسی لائٹ جلا رکھی تھی۔معلوم ہوا کہ صبح پانچ سے چھ بجے بھی لائٹ جاتی ہے! نماز وغیرہ سے فارغ ہوکر سونے کا ارادہ کیا کہ ..ابھی بستر کی طرف بڑھے ہی تھے کہ گیٹ پر کسی کی آمد کی بیل بج اٹھی۔اور ہم سب کے کان لپیٹ کر پڑنے کے باوجود مسلسل بجتا رہا۔کوئی ڈھٹائی سی ڈھٹائی ہے!معلوم ہوا ہماری میزبا ن نے اپنے مہمانوں کی تواضع کے لیے اپنے جاننے والوں سے گدے اور کمبل ادھار مانگے تھے(یہ یہاں کا کلچر ہے مہمان کی آمد پر سب ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں)  لہذا ان کا ڈرائیور معذرت کے ساتھ کہ رات بارش تیز تھی نہ پہنچ سکا۔ اس نے جلدی جلدی اپنا بوجھ ہلکا کر کے گاڑی دوڑا دی اور ہم گھگھی باندھے اس ڈھیر کو دیکھ رہے تھے جو ایک پہاڑ کی شکل میں کمرے میں رکھا گیا۔ مگر یہ سب تو بہت زیادہ ہے! ہمارا احتجاج صدا بہ صحرا ثابت ہوا اور یہ سارا ڈھیر کمرے کے کنارے سج گیا۔ اہتمام تو کرنا ہی پڑتا ہے کہ نہ جانے کب ضرورت پڑ جائے!
جب سب اٹھے تو پر تکلف ناشتہ خوش گپیوں میں کھا یا گیا۔ اس دوران یادوں کی پٹاری کھلی اور کھلتی ہی چلی گئی۔ عزیزہ لبنیٰ کا فون آنے لگا! وہ منتظر بیٹھی تھیں ہماری میزبانی کے لیے! ان سے یہ ہی کہا کہ ہماری آمد کی خوشی میں یہاں بچوں تک نے چھٹی کی ہے لہذا ہم آج کادن یہیں آ رام کرکے کل سے تفریح کریں گے ان شاء اللہ!  آج کی چمکدار، خوبصورت دھوپ دیکھ کر یقین نہیں آرہا کہ یہ وہی جگہ ہے!  ()()