اتوار، 24 جنوری، 2021

 

 حصہ دوم :  آگ اور صلیب

 

باب  12  :                                                                                                                      منظرنامہ

 

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے  اس میں روم اور ایران کی رزم گاہوں  کا اس وقت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔مشرق اور مغرب  کی جنگوں کا نیا دور اس وقت شروع ہوا جب ایران کے کسریٰ نوشیرواں نے بازنطینی سلطنت پر یلغار کردی  تھی۔




مشرق وسطیٰ 500 عیسوی 


540ء  میں نوشیرواں  3 لاکھ فوجیوں کے ساتھ شام  کی طرف روانہ ہوا۔حلب کے خوبصورت شہر کو آگ لگا دی اور انطاکیہ کی طرف پیش قدمی کردی۔  نوشیرواں شام کے شہروں کو لوٹنے کے بعد  مفتوحہ علاقوں سے ہزاروں مرد اور عورتوں کو جنگی قیدی  بنا کر  مدائین واپس آگیا اور فلسطین پر حملے کی تیاری شروع کردی ۔ اس وقت رومی افواج یورپ میں بر سر پیکارتھی  ۔قیصر روم نے سپہ سالار بلیسارس کو اٹلی سے واپس بلا لیا جس نے ایران کی سرحد پر پہنچ کر یروشلم کی طرف  ایران کی پیش قدمی روک دی لیکن اچانک  یمن کے حالات نے روم و ایران کے درمیان تصادم کی ایک نئی صورت پیدا کردی ۔

575 ء میں یمن کے حکمران ابرہہ نے مکہ پر چڑھائی کردی جس کا مقصد قدیم تجارتی شاہراہ پر مکمل قبضہ جمانے کے علاوہ مکہ کی مذہبی حیثیت ختم کرکے عرب میں عیسائیت کا  راستہ صاف کرنا تھا ۔اہل روم ابرہہ کی اس حرکت پر بہت پر امید اور خوش تھے مگر اہل مکہ کی تمام تر کمزوریوں اور بد اعمالیوں کے باوجود احکم الحاکمین کو اپنے گھر کی تباہی منظور نہ تھی چنانچہ اسے عبرتناک شکست اور ناکامی ہوئی ۔ ایک بار پھر جنگ کو مہمیز لگی اور  نوشیرواں نے یمن پر چڑھائی کردی ۔اس کے ردعمل میں قسطنطیہ میں  مایوسی پھیل گئی اور حکمران کو تبدیل  ہونا پڑا۔ اہل روم نے تین سال زبردست تیاری کے بعد دوبارہ جنگ شروع کردی ۔ نوشیرواں کوپسپائی اختیار کرنی پڑی اور اس کے بعد لشکر کشی کا ارادہ ترک کردیا۔

 نوشیرواں کے بعد اس کا بیٹا ہرمز تخت پر بیٹھا ۔اس ضدی اور مغرور حکمران نے اپنے باپ کے وفاداروں کو ایک ایک کر کے دربار سے نکال دیا ۔نوشیرواں کے  ایک   جرنیل بہرام   کے خلاف ہرمز کے خوشامدی ٹولے نے کان بھرے اور  اپنا حریف بنا لیا  ۔ بہرام نے مدائن پر قبضہ کرکے ہر مز کے بیٹے خسرو پرویز کو ملک کی زمام کار دے دی۔ بعد میں  خسرو پرویز کی ملکہ شیریں کے ایما پر بہرام کو زہردے دیا۔پرویز نے ظلم و تشدد کا نیا باب کھول دیا ۔

ادھر قسطنطیہ ( روم ) میں شہنشاہ  موریس کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے فوکاس نے تخت پر قبضہ کرلیا ۔ اس کے مظالم  کے باعث رومیوں نے بھی اپنے ظالم اور نااہل حکمران کے خلاف بغاوت کردی۔قسطنطیہ کے امراء اور حکمرانوں نے افریقی گورنر کو تخت پر قبضے کی دعوت دی تو اس نے اپنے نوجوان بیٹے ہرقل کو جنگی بیڑے کے ساتھ  قسطنطیہ روانہ کردیا ۔ناول میں اس زمانے کا   ذکر ہے جب ہرقل تخت پر رونق افروز ہوا  اس وقت  پرویز کی فوجیں انطاکیہ پر قابض ہوگئی تھیں  اور  گرجے آتش کدوں میں تبدیل  کیے جارہے تھے۔

باب  13 تا                           باب                       16 :                                                                                                                                                        

عاصم    اپنی منزل مقصود سے لاعلم ناگفتہ بہ حالت میں  یثرب سے نکلتا ہے  اور بارش برستی رات میں  یروشلم  کی سرائے  پہنچتا ہے جہاں ناول کےآغاز میں ٹھہرا تھا ۔سرائے کا مالک فرمس  اس کی ویرانی دیکھ کر پہچاننے میں دشواری   محسوس کرتا ہے ۔ پھر استقبال کے بعد تواضع کرتاہے ۔اس کے حالات جان کر اسےتسلی دیتا ہے اور اپنی داستان بھی سناتا ہے کہ اس کے  باپ  کو  رہبانیت کے خلاف  آواز اٹھانے پر اسکندریہ  کے راہبوں نے زندہ جلادیا جبکہ بھائی پر رومی مظالم کے خلاف آواز اٹھانے پر بابیلون کے چوراہے پر پھانسی دے دی گئی اور وہ دربدر  ہوتے ہوتے یہاں پہنچا ہے ۔ یہ باتیں سن کر عاصم کا اضطراب اور بڑھ جاتا  ہے کہ آلام و مصائب کی دنیا میں وہ تنہا نہیں بلکہ آج پوری انسانیت  اپنے مقدر کی تاریکیوں سے پیچھا  چھڑانے کو بھاگ رہی ہے ۔  فرمس عاصم کی ہمت بندھاتا ہے کہ وہ ایک بہادر انسان ہے جو طوفانوں سے لڑنے کے لیے پیدا ہوا ہے !

                                                                                                                                                                عاصم کی ہنگامی دمشق  روانگی

یہاں پر کہانی میں ایک نیا موڑ آتا ہے  جب دو انتہائی معزز خواتین کو بحفاظت یروشلم سے دمشق پہنچانے کی ذمہ داری فرمس عاصم کو سونپتا ہے ۔ یہ ماں  بیٹی  یروشلم کے حاکم سے چھپ رہی ہیں جو ذاتی انتقام کی خاطر ان کے تعاقب میں ہے ۔وہ انہیں گرفتار تو نہیں کرسکا مگر ایرانیوں کاجاسوس ہونے کا الزام لگا کر  راہبوں کو ان کے پیچھے لگا دیا۔ عاصم یہ ذمہ داری قبول کرلیتا ہے یہ خواتین عاصم کے  عربی ہونے پر ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی ہیں مگر کوئی چارہ نہ پاکر اس کے ہمراہ جانے کو تیارہوجاتی ہیں ۔وہ اسےمعاوضے کی پیشکش کرتی ہیں جسے وہ رد کردیتا ہے جس پر انہیں تجسس ہوتا ہے کہ کوئی عرب بھی نیک ہوسکتا ہے ! عاصم کا  تذبذب یہ ہے کہ جب دمشق   ایرانیوں کی پیش قدمی کے باعث خالی ہورہا ہے تو یہ وہاں کیوں  جارہی ہیں ؟  جس کے جواب میں وہ کہتی ہیں کہ انہیں ایرانیوں سے کوئی خطرہ نہیں کیونکہ اس خاتون کا شوہر  سین ایک ایرانی افسر ہے ۔  فرمس عاصم کو عرب کے بجائے  ایک رومی افسر کے بھیس میں ان خواتین کو دمشق لے جانا مناسب جان کر ایک وردی اس کو دے دیتا ہے ۔اگرچہ اس نے آئندہ تلوار نہ اٹھانے کی قسم کھائی ہوئی ہے مگر ان خواتین کی حفاظت کے خیال سے  وہ  تلوار  اور تیر کمان بھی ساتھ لےلیتا ہے ۔ عاصم ایک نئے سفر پر روانہ ہورہا ہے  جو تکلیف دہ بھی ہے اور خطرناک بھی ! 

راستے میں یوسیبیا  ( ماں ) اپنی کہانی سناتی ہے ۔ اس کا تعلق یونان سے ہے ۔دادا   فوج میں تھے ۔دمشق  میں   سالار اعلیٰ تھے  جبکہ اس کے والد تھیوڈیس ایرانی سرحد کے قریب ایک قلعے کےمحافظ تھے ۔ ان کو ایرانی شہنشاہ خسرو پرویز کو قلعے میں پناہ دینی تھی جو سپہ  سالار کے ایران پر قبضے کے بعد فرار ہوکر مدائن آرہا تھا ۔اس کے ایک افسر سین کی یوسیبیا سے شادی منتج ہوتی ہے ۔آتش پرست سین کی یونانی عیسائی لڑکی یوسیبیا سے شادی ایک نئی جہت کھولتی ہے ۔ وہ دونوں مدائن میں اپنی اکلوتی بیٹی فسطینہ  کے ساتھ  خوشگوار  اور پر امن زندگی گزار رہے ہیں۔لگتا ہے دونوں سلطنتوں کے درمیان جنگ کے امکانات ہمیشہ کے لیے ختم ہوچکے ہیں  مگر چند سالوں بعد محسوس ہواکہ مجوسی پیشوا   ایران میں عیسائیت کے پرچار سے خائف ہیں ۔ شاہ ایران اپنی ظاہری رواداری کے باوجود یہ  محسوس کرتا  کہ قیصر نے اپنی اعانت کے بدلے اس سے آرمینیا کے علاقے چھین کر بہت بڑی قیمت وصول کی ہے  لہذا جنگی تیاریوں میں مصروف تھا ۔سین اس کا نہایت قابل  اعتماد  افسر جنگ کے خلاف تھااور پھر قسطنطیہ میں بغاوت کی خبر پر ایران کے امرا اور مذہبی اکابر نے پرویز کو مشورہ دیا کہ اب روم سے بدلہ چکانے کا وقت آگیا ہے۔

یہ صورت حال سین کے لیے اپنی عیسائی بیوی کے باعث  تکلیف دہ تھی  ۔ اس نے شہنشاہ کواس بات پر راضی کرلیا کہ قسطنطیہ جاکر حالات کا جائزہ لے ۔  بیوی اور بیٹی   تھیوڈیس سے ملنے دمشق ساتھ روانہ ہوئے ۔ سین کو قسطنطیہ میں قید کردیا گیا ۔ بوسیبیا اور فسطیہ  اس کی رہائی  کے لیے دعائیں کرنے  یروشلم روانہ ہوئیں ۔ یہاں ان کا واسطہ یروشلم کے نئے حاکم سے پڑا جس کی بد تمیزی پر  برسوں پہلے یوسیبیا  تھپڑ مارچکی تھی ۔ چنانچہ وہ انتقامی  کاروائی   پر اتر آیا  ۔وہ اس سے بچتی ہوئی دمشق واپس جارہی ہیں ۔ اس سفر کے دوران  عاصم سے اس کی کہانی سن کر وہ دونوں ماں بیٹیاں  بہت متاثر ہوتی ہیں اور اس کو اپنا محسن سمجھتی ہیں ۔ فسطینہ اس کے دل میں ایک نئی جوت جگارہی تھی جس کو وہ سختی سے ٹھکراتا ہے ۔   دمشق پہنچ کر اندازہ ہوا کہ تھیوڈس  کو ایرانیوں سے تعلق کی بنیاد پر رومیوں نے  جلا کر ہلاک کردیا اور پھر ایرانی لشکر دمشق پر ٹوٹ پڑا۔۔ایرانی قبضے کے بعد یہاں  کشت و خون کا بازار گرم ہے  اور ہر طرف لاشوں کے انبار ہیں ۔

باب  17   تا                   19  :

اہل دمشق پر ایرانی لشکر کے وحشیانہ مظالم کی داستان سن اور دیکھ کر عاصم کی نیند اڑگئی تھی۔اور اسے یہ خوبصورت شہر اپنے وطن کے ریگزاروں سے زیادہ وحشتناک نظر آرہا تھا ۔وہاں قبائل ایک دوسرے سے بر سر پیکار تھے اور یہاں سلطنتوں کا تصادم تھا۔ دمشق کی گلیوں  بازاروں میں فاتح لشکر کے نعرے اور قہقہے اور آس پاس کے مکانات سے مفتوح  قوم کی چیخیں  اس کو پریشان کر رہی تھیں ۔وہ اپنے دل میں کہہ رہا تھا ۔

۔۔۔" کاش میں دمشق کے ہر گھر پر پیغام دے سکتا /سمیرا                           تم نے کہا تھا کہ رات کے مسافر کو صبح کی روشنی کا انتظار کرنا چاہیے ! لیکن  وہ صبح کب آئے گی ؟ کیا ان تاریک بادلوں کے آغوش سے کوئی آفتاب نمودار ہوسکتا ہے ؟"  عاصم  کے پاس ان سوالات کا جواب نہ تھا اسے انسانیت کا مستقبل ماضی اور حال سے زیادہ بھیانک نظر آرہا تھا ۔اور وہ بار بار یہ کہہ اٹھتا"۔۔۔کاش ! فسطینہ کی دنیا سمیرا کی دنیا سے مختلف ہوتی ۔۔۔!"

پرویز کا اایلچی سین( فسطینہ کا باپ )   قسطنطیہ سے رہا ہوکر  پرویز کے دربار میں  رومیوں  کی طرف  سے امن و دوستی کا پیغام لے کر آتا ہے کہ ہرقل اپنے پیشواؤں کے برعکس (فوکاس) کی غلطیوں  کی تلافی کرنے پر آمادہ ہے     مگر پرویز کے رویے کے باعث ایران اور روم کے تعلقات میں بہتری نہیں   آسکی ۔سین کی آمد      سے ماں بیٹی کو حوصلہ اور اعتماد ملتا ہے اور وہ حسان مندی کے جذبات  کے ساتھ عاصم کے لیے انواع اقسام کی  پیش کش کرتا ہے جن  کو قبول کرنے میں عاصم کو ذرہ برابر دلچسپی نہیں ـبہر حال وقت گزارنے کے لیے فارسی سیکھنی شروع کر دی ۔ یہاں پر ایرج نامی نوجوان فوجی افسر کی آمد ہوتی ہے جو ایک معزز ایرانی خاندان سے تعلق رکھتا ہے وہ اور فسطینہ بچپن سے  ایک دوسرے کو جانتے ہیں ۔ فسطینہ کی عاصم سے بے تکلفی  اور دلچسپی دیکھ کر وہ عاصم سے حقارت بھرا  رویہ اختیار کرتا ہے جو  فسطینہ کو اس سے برانگیختہ کردیتا ہے۔

سین فوجی مہم پر روانہ ہوا تو عاصم کے خیالات ایرانیوں  کی فتح کے حق میں تھے اور پھر فسطینہ کے اصرار پر وہ سین کا فوجی مہمات میں ساتھ دینے پر راضی ہوجاتا ہے ۔عاصم سین کی رفاقت میں فلسطین کے کئی معرکوں میں حصہ لیتاہے۔ جنگ جس کے اچھے اور برے پہلوؤں پر غور کرتے ہوئے وہ اپنے ذہن میں خلجان محسوس کرتا تھا اب وہ اسے ایک کھیل محسوس ہوتی تھی۔ کسریٰ کی فتح یا قیصر کی شکست کے بجائے اس کے لیے یہ مسئلہ زیادہ اہم تھا کہ سین اس جنگ میں حصہ لے رہا ہے۔ سین ایران کی فتح کے لیے لڑ رہا تھا اور ضمیر کی دبی دبی سسکیوں کے باوجود یہ فتح عاصم کے لیے بھی ایک مقصد حیات بنتی جارہی تھی ۔میدان جنگ میں عاصم اپنی جرآت   اور فتح کے جھنڈے گاڑ رہا تھا جو ایرج کے لیے وجہ پریشانی بنی ہوئی تھی ۔ عاصم کے قدر دانوں میں اضافہ اور اس کی بڑھتی ہوئی شہرت اور مقبولیت  نے بعض لوگوں میں حسد و رقابت کے جذبات پیدا کردیے تھے۔

یروشلم کی فتح کا جشن جاری تھا کہ سین نے عاصم کو اطلاع دی کہ اسے ایشیائے کوچک کے محاذ پر بھیجا جارہا ہے جبکہ عاصم کو مصر کی طرف پیش قدمی کرنے والے لشکر کے ساتھ جانا ہوگا ۔ اس خبر سے عاصم کا دل بیٹھنے لگا اور اسے احساس ہوا کہ سین اس سے پیچھا چھڑا رہا ہے !  بحیثیت ایک  ایرانی فوجی دستے کا سالار بنا کر اس کااعتماد بحال کرکے گویا اس کے احسان کا جواب دے دیا ہے جو اس نے سین کی بیوی اور بیٹی کو بحفاظت دمشق پہنچا کر کیا تھا ۔ اب اس کو خود فریبی سے نکلنا ہوگا کہ جب وہ جنگ کے اختتام پر دمشق جاؤں گا تو فسطینہ دلفریب   مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کرے گی !  وہ بوجھل دل کے ساتھ مصر کی طرف روانہ ہوجاتا ہے کہ افریقہ کے محاذ سے  زندہ واپسی ممکن ہو یا نہ ہو !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 اس ناول کا تیسرا اور آخری حصہ " پیشن گوئی " کے عنوان سے اگلے بلاگ میں پڑھیے 

جمعہ، 15 جنوری، 2021

قیصر و کسریٰ


 

قیصر و کسریٰ۔۔۔۔۔ایک نظر میں

٭ تاریک راتوں کے مسافروں کے نام جنہیں صبح کا انتظار تھا !٭

یہ انتساب نسیم حجازی کے اس  ناول کا ہے ۔ جو 1400سال پہلے ظلمتوں میں گھری انسانیت کا روشنی کی تلاش میں سفر کی داستان ہے ۔یہ ناول جو آج سے 50/60 سال پہلے لکھا گیا ۔736 صفحات کے اس ناول کو لکھنے میں 5 سال کا عرصہ لگا   بقول نسیم حجازی اس داستان کا دھندلا سا خاکہ تھا اور ربع صدی تک مجھے اس موضوع پر قلم اٹھانے کی ہمت نہ ہوئی۔

پیش لفظ  از مصنف :



 
میرے نزدیک یہ   عجم کے دو جابرحکمرانوں   کے عروج و زوال کی داستان ہی نہیں بلکہ اس صبح درخشاں کے آغاز کی داستان بھی تھی جس کاآفتاب جبل فاران کی چوٹیوں سے نمودار ہونے والا تھا ۔۔۔ ظہور اسلام سےقبل عرب و عجم کے تاریخی، سیاسی، اخلاقی، تہذیبی اور مذہبی حالات پیش کرنے سے میر ا مقصد  عالم انسانیت کے ان تاریک گوشوں  کو نمایاں کرنا ہے جو صدیوں سے روشنی کے منتظر تھے ۔۔۔۔۔۔۔

تعارف

اس ناول کے 3 حصے ہیں :

پہلا حصہ " پیاسی ریت "  میں 11 ابواب ہیں جس میں خطہ عرب ) یثرب )کی صورت حال دکھائی گئی ہے ۔یہ حصہ تقریبا 172 صفحات پر محیط ہے ۔

دوسرا حصہ " آگ اور صلیب " کے عنوان  سے ہے اور 9 ابواب  پر مشتمل ہے  جس میں قیصر و کسریٰ کی رزم گاہیں دکھائی گئی ہے ۔

تیسرا حصہ " پیش گوئی "  کے عنوان سے ہے اور اس میں 24 ابواب ہیں ۔ یہ حصہ قرآن مجید کی سورہ الروم میں  آنے والی رومیوں کے متعلق  پیشن گوئی کے ظہور میں آنے کےزمانے پر محیط ہے  جو بالآخر  اسلام کی روشنی سے منور ہوتا ہے۔

پیاسی ریت :

باب اول  :

ہر  اچھے ناول کی طرح   قیصر و کسریٰ کا آغاز بھی  منظر کشی سے ہوتا ہے جس میں ناول کے کچھ کرداروں سے آگاہی ہوتی ہے ۔ ان میں ناول کا ہیرو عاصم شامل ہے ۔عاصم ایک عرب نوجوان ہے ۔جری ، بہادر اور غیرت مند !جس کا تعلق قبیلہ اوس سے ہے ۔عاصم کا  باپ سہیل اور بھائی دشمن قبیلے خزرج کے ہاتھوں قتل ہوگیا ہے  اور اب اس کی زندگی کا سب  سے بڑا  مقصداپنے عزیزوں کے خون کا اختتام لینا تھا۔  وہ اپنے  معذور چچا ہبیرہ اور چچی لیلیٰ کے گھر رہائش پذیر ہے جن  کے بچے سالم اور سعاد ہیں ۔دوسرا خاندان مخالف قبیلے خزرج کے عدی کا ہے جس کے 3 بیٹے عمیر ، نعمان اور عتبہ اور بیٹی سمیرا ہیں ۔

آغاز کیسے ہوا ؟

ناول کا آغاز یروشلم کے قریب ایک سرائے سے ہوتا ہے جہان ایک  مغرور شامی رئیس شراب کے نشے میں سرائے کے مالک پر تلوار تان دیتا ہے ۔عاصم اس کی جان بچاتا ہے جس پر وہ غریب مصری اور اس کا خاندان عاصم سے ممنونیت کا اظہار کرتے ہیں ۔ سرائے کا مالک فرمس  اپنی بیٹی انطونیہ اور بیوی  کے ساتھ  عاصم کو کھانے میں شریک  کرتا ہے ۔ دوران طعام  فرمس ذکر کرتا ہے کہ :

"۔۔۔پچھلے ہفتے مکہ کے جوتاجر یہاں ٹھہرے تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ وہاں ایک نبی نیکی ، رواداری اور عدل و انصاف  کی تعلیم دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اس کے  صادق اور امین ہونے کی گواہی دیتے تھے !"

عاصم نے جوا ب میں کہا کہ  "میں نے مکہ کے نبی کے متعلق یہ سنا ہے کہ وہ ہماری قبائلی اور خاندانی عصبیتوں کا مخالف ہے ۔۔۔۔اگر چہ چند مفلس اور نادا لوگوں یا دو چار اچھی حیثیت کے آدمیوں پر اس  کا جادو چل گیا ہے تو یہ کوئی کامیابی نہیں ۔میں نے کبھی اس نبی کے متعلق سنجیدگی سے نہیں سوچا ۔آپ کو بھی سنی سنائ باتوں سے متاثر نہیں ہوناچاہیے ۔ عرب کی ریت تو  بڑے بڑے دریاؤں کو جذب کرلیتی ہے  پھر وہاں ایک ایسا نبی کیسے کامیاب ہوسکتا ہے جس کی تعلیم کا نقطہ آغاز ہی ان عصبیتوں کے خلاف ایک اعلان جنگ ہے جو ہمارے لیے اپنے بے شمار خداؤں سے بھی زیادہ مقدس ہیں ۔۔۔"

لیکن فرمس بہت زیادہ  پر امید ہے کہ  ''  وہ ضرور آئے گا اور زمین و آسمان کی ساری۔۔۔۔۔۔اس کے جلال سے قیصر و کسریٰ کے ایوان لرز اٹھیں گے ۔ ناداروں اور مظلوموں کو ا س کی حمیت میں پناہ ملے گی ۔۔۔''

بہت ہی خوشگوار ملاقات کے بعد عاصم اپنے نیک دل میز بان کو  الوادع کہتا ہے  ۔وہ کامیاب تجارت کے بعد گھر لوٹ رہا تھا اور خوش تھا کہ اب اپنے چچا کا قرضہ اتار سکوں گا ! عاصم  فطرتا خون خوار نہیں تھا لیکن اس نے ایک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جس میں خاندانی / قبائلی حمیت پر جان دینا ایک نوجوان کی زندگی کا اولین فرض سمجھا جاتا تھا ۔

باب 2 :

بحیرہ روم کے مشرقی علاقوں میں مختلف ادوار میں ہونے والی رز م گاہوں  کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں ۔ ایک ہزار سال سے یہ  ایران اور اسکے مغربی حریفوں کے درمیان قوت آزمائی کا اکھاڑ ا بنے ہوئے تھے ۔ سائرس کے بعد سکندر اعظم فتوحات کے جھنڈے گاڑتا ہوا پنجاب تک پہنچ گیا ۔پھر جب سکندر اعظم کی عظیم سلطنت کا انحطاط شروع ہوا تو تو یورپ سے رومی بیدار ہوئے۔مذہب عیسوی  مجبور  اور بے بس انسانوں کے لیے ایک نئی زندگی کا پیغام لے کر آیا لیکن یہ انقلاب  بھی مظلوم اور محکوم اقوام کے لیے  ماضی کے ان گنت انقلابات کی طرح محض آقاؤں کی تبدیلی کے سوا کچھ نہ تھا۔

ایران کے کسریٰ اور روم کے قیصر مشرق اور مغرب کے دو مہیب اژدہے تھے اور 527 ء  میں شرق اوسط کی زمین ان اژدہوں کی زور آزمائی کا اکھاڑآ بن چکی تھی۔ یہ دو ننگی تلواریں تھیں جو آپس میں ٹکرانے کے لیے ہمیشہ بے قرار رہتی تھیں ۔مشرق کی طرف  ایران کے سوا اہل روم کا کوئی مدمقابل  تھا  نہ مغرب کی طرف روم کے سوا ایرانیوں کا کوئی حریف !

عرب روم و ایران کی عظیم سلطنتوں کا ایک گمنام اور حقیر ہمسایہ تھا ۔ اہل عرب مدنیت  اور تمدن کے شعور کی منزل سے صدیوں پیچھے  تھے۔ ان کی تاریخ خاندانی جھگڑوں یا قبائلی جنگوں تک محدود تھی۔قبائلیت  بدوی سوسائٹی کی بنیاد تھی ۔کمزور قبائل کو اپنی سلامتی کے لیے کسی طاقتور قبیلے کی پناہ لینی پڑتی تھی۔

یثرب کا منظر

باب 3 تا 11 :

یہودی اوس اور خزرج کے درمیان جھگڑوں کو اپنی سازشوں کے ذریعے   ہوا دیتے اور ان کو لڑانے میں اہم کردار ادا کرتے تھے ۔کعب بن اشرف ان کا  سردار جبکہ شمعون اس  کا کارندہ ہے ۔وہ ان کے درمیان مبارزت کو زندہ رکھتےتھےتاکہ دونوں قبائل لڑ لڑ کر کمزور ہوتے رہیں اور ان کے قرض کے بار میں جڑے رہیں ۔اور اگر قرض ادا نہ کرسکیں تو ان کے بیٹوں کو رہن رکھ لیتے تھے۔ان کے نظریے کے مطابق اوس و خزرج کی لڑائی سے ہمیں براہ راست فائدہ پہنچتا ہے ۔

ّ'' ۔۔۔۔مجھے اندیشہ ہے کہ ان کی لڑائی ختم ہوگئی تو وہ کسی دن ہمارے خلاف متحد ہوجائیں گے ۔ہمیں کسی فریق کو بھی اس قدر آزردہ نہیں کرنا چاہیے کہ وہ مایوسی اور بے بسی کی حالت میں اپنے دشمن سے مصالحت کرنے پر آمادہ ہوجائے ۔۔۔۔"

کہانی آگے بڑھی ۔۔۔

اتفاقی طور پر  عاصم کوراستے میں اسے ایک  زخمی نوجوان   ملتا ہے جواور کوئی نہیں بلکہ دشمن قبیلے خزرج کے عدی کا بیٹا عمیر ہوتا ہے ۔ عمیر  شمعون کے پاس رہن رکھاہو اہے اس کی نوخیز بیوی کے ہتھکنڈوں سے اپنے آپ کو بچا تے ہوئے بھاگتا ہے جسے شمعون نے اپنے طور قتل کر کے ڈال دیا تھا  تاکہ اس سےدونوں قبائل کے درمیان  دشمنی کو ہوا دی جاسکے) عاصم   ہمدردی کے ناطے بادل ناخواستہ عمیر کی زندگی بچاکراسے گھر پہنچاتا ہے  ۔یہاں اس کی ملاقات عمیر کی بہن سمیرا سے ہوتی ہے  اوردونوں الفت کے رشتے میں بندھ جاتے ہیں ۔سمیرا اس کی بہادری اور جراءت سے متا ثرہوتی ہے تو وہ سمیرا کے ملکوتی معصومانہ حسن سے !

جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ عاصم نے عمیر کی جان بچائی ہے تو ان کے اپنے اپنے قبیلے کے لوگ ان کو طعنے دیتے ہیں ۔بزدل اور بے غیرت کے خطاب سے نوازتے ہیں ۔انتقام کی ایک شکل دشمن قبیلے پر احسان کرنا تھا ۔جس کا بدلہ ضروری تھا ۔دوسری طرف  عاصم بھی اپنے خاندان اور قبیلے کے طعنے سہہ رہا ہے کہ اس نے  دشمن کی جان بچائی ۔ دونوں اس استہزا کا شکار ہوتے ہیں حتی کہ عاصم یثرب  چھوڑ کر جانے کا ارادہ کر لیتا ہے مگر سمیرا اس کی راہ میں آجاتی ہے ۔

یہودیوں  کے لیے اوس و خزرج میں   لڑائی تعطل فکر مندی کی بات تھی  چنانچہ وہ پھر منصوبہ بندی کرتے ہیں جس کے مطابق وہ ایک پر حملہ اس طرح ترتیب دیتے کہ  دوسرے پر الزام آئے ۔ اور پھر ان کی سازشیں اس طرح منتج ہوتی ہیں کہ عاصم کی چچی کے بھتیجے عدی کے گھر پر حملہ کر کے عدی ، سمیرا اور اس کے دو بھائیوں  کو قتل کردیتے ہیں اور عاصم جنون کے عالم میں ان کو قتل کردیتا ہے۔ اب اس کے اپنے قبیلے کے لوگ اس کی جان کے دشمن بن جاتے ہیں ۔چنانچہ وہ یہاں سےمایوس ہوکر نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہوجاتا ہے  لیکن جانے سے پہلے وہ  یہودیوں کی سازش کا بھانڈا پھوڑتے  ہوئے یہ کلمات دا کرتا ہے :

" ۔۔۔منذر کے بیٹوں نے سمیرا ، عدی اور نعمان کے بھائیوں کو قتل کی اہے اور میں نے منذر کے بیٹوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے لیکن یہ اوس و خزرج میں سے کسی کی فتح نہیں ۔یہ صرف یہودیوں کی فتح ہے ! تمہارے درمیان نفرت کی آگ یہودیوں نے بھڑکائی ہے اور تمہارے خون کے چھینٹوں سے اس کے شعلے بھڑکتے رہیں گے۔ میرا جرم یہ تھا کہ میں نے اس آگ کو بجھانے کی کوشش کی تھی  اور مجھے اس جرم کی سزا مل چکی ہے ۔۔ اب مجھے یثرب سے کوئی دلچسپی نہیں ۔۔۔۔"

وہ یہاں سے ناامید ہوکر نامعلوم منزل کی طر ف روانہ ہوجاتا ہے یہ جانے بغیر کہ صرف چند منزل پیچھے جبل فاران کی چوٹیوں پر وہ آفتاب رسالت نمودار ہوچکا ہے جس کی ضیا ء پاشیوں سے یثرب کے درودیوار منور ہونے والے ہیں ۔۔۔۔!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 دوسرا حصہ اگلے بلاگ میں ملاحظہ فرمائیں 

ہفتہ، 26 دسمبر، 2020

ہم دیکھیں گے ۔۔

 




ہم دیکھیں گے ۔۔!

 

 "۔۔۔ماما ! آپ  روئیں بالکل نہیں ! ماموں جان نے کہا ہے کہ ہم سب خیریت سے ہیں ۔الماس سے کہو ہمیں فون نہ کرے ۔۔۔! 

ماہم نے  روتی بلکتی ماں  کو فون پر تسلی دی  دوسری طرف اپنے شور مچاتے بچوں کو چپ کرانے کی کوشش کی۔ ہمیشہ قہقہے انڈیلتی الماس وحید  اس وقت آنسوؤں سے رندھی آواز میں   سلمیٰ بانو کو فون پر بتارہی تھیں۔

"۔۔۔۔۔  بھائی تو  میرا فون ہی نہیں  اٹینڈ کر رہے تھے کہ انڈین فورس نے گھر کو محاصرے میں لیا ہو اتھا ۔ماہم  انگلینڈ سے فون کر رہی تھی  تو اس کے ذریعے رابطہ ہورہا تھا ۔۔۔اور میں پورا دن روتی رہی ۔۔۔" سلمیٰ بانو   تفصیل سنتے ہوئے سامنے کیلنڈر پر نظر  ڈال رہی تھی ۔25 دسمبر  ۔۔یوم قائد اعظم  !

" ۔۔۔قائد اعظم کتنے دور اندیش تھے  کہ انہوں نے ہمارے لیے پاکستان بنایا ۔۔۔۔!" یہ بات اس نے الماس وحید  سے کی تو اس نے تائید میں مزید واقعات سنائے ۔ 

الماس  وحید اور سلمیٰ بانو  برسوں سے ہم محلہ ہیں ۔  تعلق تو خیر بنتا ہے  مگر مزاجوں اور ذہنی فرق کے باوجود ان کی دوستی حیران کن ہے ۔ الماس وحید پر جوش ،فعال  اور سماجی  شخصیت !  خوش باش  ہر ایک  کے کام آنے والی الماس اپنے ہم مزاج شوہر  اور  دو پیاری بیٹیوں ماہم اور صدف  کے ساتھ آسودہ زندگی گزار رہی  ہیں ۔ ماہم  شادی کے بعد  انگلینڈ میں ہے  اور رابطوں کی سہولت نے دوری کو ختم کر کے رکھ دیا ہے ۔ دوسری طرف سلمیٰ بانو اپنے آپ میں مگن ایک قلم کار ! اپنے مشاغل کے باعث کسی حد تک  تنہائی پسند ! ایک قلم کار کے جہاں مداح ہوتے ہیں وہیں اس کے قریبی  افراد جھجکتے بھی ہیں  کہ کہیں ہمارے اوپر نہ کہانی لکھ دیں !             اس کے بر عکس بہت سے لوگ خود رابطہ کر کے  اپنی کہانی لکھنے کو کہتے ہیں !  خیر ان دونوں خواتین کے درمیان رسمی تعلق میں تغیر اس وقت آیا جب  حج سے واپسی  پر تقریب کے موقع پر الماس وحید بڑے زور و شور سے اپنی داستان سفر بتا رہی تھی ۔

"۔۔۔ بھائیوں اور کزن سے مدینے میں ملاقات ہوئی ۔وہ انڈیا سے  حج کرنے آئے  تھے ۔۔۔۔"

  سلمیٰ بانو نے دلچسپی سے اس کی باتیں سنیں ۔ان کو انڈیا پاکستان کے پس منظر میں لکھی گئی اپنی کہانی کا سیکوئل  لکھنا تھا ۔آزادی کے بعد بیاہ کر پاکستان آنے والی خاتون اپنے بچوں کی شادی کے تناظر میں انڈیا جاتی ہیں ۔وہاں  کے موجودہ  معاشی ، سماجی اور سیاسی حالات  کی تفصیل  الماس وحید سے جاننی چاہی ۔

 " آپ  آخری بار کب گئی تھیں انڈیا ؟۔۔۔۔   "  سلمیٰ بانو نے تجسس سے سوال کیا

 "۔ مجھے تو  دس سال سے زیادہ ہوگئے ۔۔ فون اور واٹس اپ سے رابطہ ہتا ہے ۔  بہت بلارہے ہیں کہ انڈیا  آکر ملاقات کرو ۔۔۔میں نے صاف انکار کر دیا جب تک مودی ہے میں نہیں آؤں گی ۔۔۔؛ "   اتنی  کرب انگیز حقیقت  الماس وحید نے ایک قہقہے میں بیان کردی ۔  انسان  عید الاضحیٰ میں اپنے جانور کی  قربانی بھی نہ کر سکے ! اس سے بڑا کوئی انسانی حقوق کا مذاق ہوسکتا ہے بھلا !   ۔ گئو ما  تا سمجھنے والوں  کے دیش میں لنچنگ عام تھی یا  اس کی ویڈیو وائرل کر کے اپنے عزائم کا اظہار تھا ؟ گفتگو کا موضوع بدل گیا تھا ۔۔شرکاء نے اپنے پاکستانی ہونے پر فخر اور شکر کا اظہار کیا ۔سلمیٰ بانوکو الماس  سے اپنی یہ گفتگو حرف بہ حردف یاد تھی امگر انہیں یقین نہیں تھا کہ الماس وحید نے بھی اسے دل سےیاد رکھا ہوا ہے ۔!

انڈیا میں مودی کی دوبارہ کامیابی خطے  میں امن کے حوالے سے  خطرے کی گھنٹی تھی !                       پھر کشمیر                          پر غاصبانہ  قبضے کے بعد تو  بد ترین اندیشوں کی تصدیق ہوتی گئی ۔ اس پر  اپنی حکومت کی بے حسی کے بر خلاف پاکستانی عوام     کشمیر ایشو پر مارچ  بھی کر رہے تھے اور  سائبر  وار میں حصہ بھی  لے رہے تھے !                                                                                  10 / دسمبر ! عالمی انسانی حقوق کادن  اتنے بڑے انسانی حقوق کی پامالی  پر بڑی کفایت سے اپنے تبصرے کر رہا تھا ۔ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ تھی ۔ چار ماہ سے مقید کشمیری  کیا سوچ رہے ہیں کسی کو نہیں معلوم ہورہا ! تاریخ نے یہ دور بھی دیکھنا تھا !

یہ 15/ 16 دسمبر کی درمیانی رات تھی ۔ محلے میں ولیمہ کی تقریب  میں  وہ دونوں ایک ہی میز پر بیٹھی تھیں ۔انڈین میوزک پر دلہن دلہا کیٹ واک میں مصروف   تھے ! اندھیرے میں اچانک قمقمے جل اٹھے ۔ اس سارے منظر سے  بے نیاز وہ دونوں  اپنی باتوں میں مصروف تھیں ۔  الماس انڈیا میں ہونے والے جھگڑوں سے آگاہ کر رہی تھی۔سلمیٰ بانو نے  خبروں سے دور رہنے   کے باعث اپنی لاعلمی کا اظہار کیا ۔

"۔۔۔میں نے بھائی سے کہا ہے کہ میں اپنے محلے میں آپ لوگوں کے لیے کرایہ کے گھر دیکھ رہی ہوں ۔۔۔" حسب عادت الماس قہقہ لگا کر بولی۔

" ۔۔۔یعنی ۔۔؟ "                   

"۔۔۔۔۔نیا شہری قانون  جس کی رو سے ۔۔۔۔۔"

اگلے دن کے اخبارات اور سوشل میڈیا چیخ رہے تھے۔ 16 / دسمبر ۔۔یوم سقوط ڈھاکہ  پر اندرا گاندھی کے بیان 

''۔ہم نے دو  قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے ۔"                کونمایاں کر کے  انڈیا کے تعلیمی اداروں میں ہونے والے  احتجاجی مظاہروں کی جھلکیاں تھیں اس  عنوان کے  ساتھ "  دو قومی نظریہ  ڈوبا ہر گز نہیں ہے   زندہ و تابندہ ہے "

الماس سے ملاقات کے بعد سلمیٰ نے گزشتہ دنوں کے اخبارات اٹھائے ۔پھر اس کی سوچوں میں  کتنے بھنور آئے ۔انڈیا کتنا بھی زور لگا لے پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا مگر وہاں رہنے بسنے والے مسلمانوں کا قتل عام کا سوچ کر قلم کانپ گیا!

وہ نسل جس  کے والدین تک نے انڈیا میں جنم لیا آج کیسے اپنے حقوق کے لیے میدان میں مودی کو للکار رہی تھی ۔!  نظریہ بھلا کبھی مرتا ہے اسے تو جتنا دبایا جائے اتنا ہی ابھرتاہے ! شناخت کا مسئلہ ہندوستان کے چپے چپے میں آزادی کی شمع روشن کر گیا تھا۔ دہلی سے علی گڑھ تک ایک ہی نعرہ گونجنے لگا ۔ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے آزمائش کی بھٹیاں تیز تر ہونے لگیں !  وہ رب جس نے موسیؑ کو فرعون کے دربار میں بھیجا تھا آج ان نہتے اور کمزور بندوں کو وقت کے فرعون کو للکارنے کی ہمت دے دی تھی !

25 دسمبر کی صبح قائد اعظم کی چھٹی تھی اور پاکستانی قوم کام ، کام اور صرف کام کے سلوگن اپنی ڈی پی پر لگا کر نیند مکمل کر رہے تھے۔ ایسےمیں الماس کا فون سلمیٰ کے لیے حیرت کا باعث تھا اور آواز اور لہجہ بھی نارمل نہیں تھا ۔  اس نے اپنی بات کا آغاز ماہم کے پیغام سے کیا جو اس نے اپنی ماں کو دیا تھا ۔

''۔۔۔۔ پتہ ہے انڈیا میں میرے مکان پر انڈین آرمی نے حراست میں لے لیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم کچھ نہیں کہیں گے بس آپ سب  تاحکم ثانی گھر پر رہیں گے۔ تین منزلہ گھر ۔۔ میری بہنوں بھائیوں کے  خاندان آباد ہیں ۔کانگریس کے حامی ہیں  مگر اس لیےعتاب کا شکار ہیں کہ مودی کے جلسے کے خلاف کالا جھنڈا نہ لہرائیں  ۔۔۔۔۔۔"  سلمیٰ اس کی باتیں سنتی رہی  اور سوچ کر رہ گئی   This is incredible India !

"۔۔۔خاندان کے سارے لڑکے اور لڑکیاں یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں ۔۔اپنے اپنے تعلیمی اداروں میں اس قانون کے خلاف احتجاج میں حصہ لے رہے ہیں ۔۔میری بھتیجی راحمہ نے ٹو ئٹ کی ہے  میں آپ کو بھیجتی ہوں سلمیٰ ۔۔۔!"  وہ سسکیوں بھرے لہجے میں بول رہی تھی ۔

۔۔۔" میرے دادا کا گھر جو پچھلے 70 سال سے انڈیا کی ترقی اور جمہوریت کا گن گا رہا ہے آج جیل کا منظر پیش کر رہا ہے ۔۔۔۔"   ٹو ئٹ   کہہ رہی تھی۔سلمی بانو نے سکرین نزدیک کرکے چشموں کے اوپر سے ٹیکسٹ میسج دیکھا سانسوں کی نمی نے عبارت کو دھندلا دیا مگر جوں ہی واضح ہوئی ۔ان کی نیند اڑانے کے لئے کافی تھی۔  

الماس کی گفتگو جاری تھی                    ۔۔۔" میرے نانا  شرافت حسین  نے  نیو دہلی میں پلاٹ  لے کر گھر بناناشروع کیا ۔اس ویرانے میں گارے اور مٹی سے گھر کی بنیادیں کھڑی کرنے کےدوران  ایک قطعہ  نماز پڑھنے کے بنا دیا۔ یہاں وہ اور مزدور اللہ کی کبریائی بیان کرتے۔  جیسے جیسے گھر تعمیر ہوتا گیا نمازیوں کی تعداد بڑھنے سے زمین کا وہ ٹکڑا بھی  مسجد کی شکل اختیار کرتا گیا ۔ دور تک کوئی آبادی نہیں تھی گھر کی تعمیر کے ساتھ ہی مسجد بھی مکمل ہوگئی ۔ لوگ عقیدت سے اس جگہ کو دیکھتے ہوئے گزرتے کسی کو کوئی اعتراض نہ تھا۔ ہاں مگر اذان کی آواز دور بنے ہوئے مندر کے پنڈت کو شعلہ بار کرتی گئی ۔۔ اور جب یہاں  لاؤڈ اسپیکر لگانے کی بات ہونے لگی تو وہ عدالت چلے گئے کہ اذان کی آواز ہماری گھنٹیوں سے کیوں ٹکراتی ہے ؟ اس بحثا بحثی میں اس وقت ایک ڈرامائی کیفیت پیدا ہوگئی جب  کیس کرنے والے پنڈت نے اپنے مندر کی تمام چیزیں توڑ کر اللہ اکبر کا نعرہ بلند کر دیا ۔ اور پھر اس کو پاگل قرار دے کر پاگل خانے داخل کروادیا گیا۔ ۔۔۔۔،"                                                                                                                                           

    اس گھر کے مکینوں نے  اپنے وطن انڈیا کو 70 سال سے  اپنی محنت اور قوت سے یکجائی دی ہوئی تھی  مگر جنونیوں کے ہاتھوں آج  وہ  بھی اذیت کا شکار تھا ۔  

الماس اور سلمیٰ کی گفتگو آدھ گھنٹے  سے زیادہ   کی ہوچکی تھی مگر ہنوز  تشنگی باقی تھی۔ سلمیٰ نے اپنا اسمارٹ فون اٹھا یا اور بلاگ مکمل کر نے لگی ۔ انھیں الماس کی کہانی کو بالی وڈ کی فلم  کا انجام دینے کا خیال گذرا مگر اس حقیقت کا کیا کریں کہ ہند کی زمین پر ایک بھی مسلمان کا ہونا انتہا پسندوں کو گوارا نہیں !   انھیں کچھ عرصہ قبل چلنے والی سٹوڈنٹس مہم  ہند بنے گا پاکستان کا حشر  یاد آگیا جسے اپنے تئیں باشعور لوگوں نے محتاط رہنے کے مشورے کے ساتھ مسترد کردیا تھا ۔ مگر اب ہند میں مسلم سٹوڈنٹس کی تحریک کو زور و شور سے  حمایت کررہے تھے۔ ذہن میں بچوں کے لگائے نعرے گونج رہے تھے

                                                                                                                                                                                                                                                                                        ''ہند بنے گا ۔۔۔۔! "                                                                                   مسئلہ جب شناخت کا آجائے تونظریہ جیت جاتا ہے !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 

 

اتوار، 22 نومبر، 2020

شہر میں قحط ہے اب،بخیہ گروں کا!




شہر میں قحط ہے اب،بخیہ گروں کا!

 

 بات بہت معمولی تھی مگر تھی بہت اہم! غضب خدا کا ہال میں  سینکڑوں خواتین موجود اور کسی کے پرس میں سوئی دھاگا موجود نہ ہو! یادش بخیر نیلام گھر شو میں طارق عزیز ایسی انوکھی اور بلاسبب چیزیں خواتین کے پرس سے نکلوا لیا کرتے تھے کہ جس کا جواز تک نہ ہوتا تھا۔ مگر یہ ایسا کوئی شو نہیں تھا بلکہ ڈاکٹر شمع کو اپنی NGOکے ریجنل آفس کا افتتاح کرنا تھا جس کے لیے وہ آج صبح ہی کراچی سے یہاں پہنچی تھیں۔ پنج ستارہ ہوٹل میں تیاریاں مکمل تھیں۔

لباس تبدیل کرکے وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوئیں تو گریبان کے بٹن ندارد تھے۔ صاف لگ رہا تھا کہ رواروی میں ٹیلر صاحب لگانا بھول گئے ہیں۔ اگر یہ کسی اداکارہ یا ماڈل گرل کی پریس کانفرنس ہوتی تو یہ ہی اسٹائل بن جاتا کسی کی مجال تھی کہ کوئی تبصرہ کرتا! مگر یہ تو ایک ایسی این جی او کی بریفنگ تھی جس کا ماٹو ہی ہے کہ ”ہمیں عورت کی نسوانیت برقرار رکھنا ہے!“ پریشانی کی ایک لہر دوڑ گئی کہ سارا میڈیا مدعو ہے! ہوسکتا ہے کہ کسی صحافی کا دماغ اس طرف نہ جائے مگر اب تو صحافنوں کی تعداد بھی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ رسک نہیں لیا جاسکتا! ایسا نہ ہو کہ پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہی تنقید کی زَد میں آجائے؟؟ چنانچہ سوئی دھاگے کی تلاش شروع ہوئی۔ یوں تو یہ کوئی متروک چیز نہیں ہے مگر اسے اب صرف خواتین سے منسوب کرنا بھی کچھ ایسا درست مفروضہ نہیں رہا۔ ڈاکٹر شمع کو اپنی الماری کے پیچھے والے خانے میں جس پر غیر استعمال شدہ اشیا کا لیبل لگا ہوا تھا رکھی، وہ بقچی یاد آئی جو آج سے چھبیس برس پہلے ان کی پھوپھی نے ان کی شادی کے دن ان کے ہاتھ میں دی تھی یہ کہہ کر کہ یہ ایمرجنسی میں تمہارے کام آئے گی! اس کے اندر سوئی دھاگے، پن وغیرہ تھے۔ اب بقچی کا نام بدل کر پاؤچ رکھ دیا گیا ہے جس میں دلہنیں موبائل رکھتی ہیں جو ہر قسم کی ایمرجنسی میں کام آتا ہے۔ یہ یاد آنے پر انہوں نے اپنے ٹریولنگ باکس کی طرف دیکھا۔ اب تو ایئرلائن کمپنیاں بھی ایسی کٹ نہیں دیتیں جس میں سوئی دھاگا، بٹن وغیرہ ہو!! چند سیکنڈ میں بہت کچھ سوچ لیا، مگر مسئلہ وہیں کا وہیں! ہال میں ممبران سمیت شہر کی نمایاں خواتین موجود تھیں۔ شاید کسی نہ کسی کے بیگ میں تو مل ہی جاتا لیکن ظاہر ہے ہر خاتون سے تو پوچھا نہیں جاسکتا۔ نہ اس کی مہلت تھی اور نہ ضرورت! خواہ مخواہ اسکینڈل بنتا!!

ڈاکٹر شمع نے پن لگا کر کسی نہ کسی طرح اس خلا کو پُر کیا اور دوپٹہ اس زاویے سے سیٹ کیا کہ نظر نہ آسکے۔ کام تو چل گیا مگر بہت سی خواتین دل ہی دل میں یہ سوچ کر حیران تھیں کہ ڈاکٹر شمع اتنے مضحکہ خیز انداز میں اپنے گلے کا خوبصورت ڈیزائن چھپائے بیٹھی رہیں۔ اگر چھپانا ہی تھا تو بنوانے کی کیا ضرورت تھی؟؟ ان کی حیرانگی بجا تھی۔ بہرحال پریس کانفرنس بڑی خوشگوار رہی۔ کامیاب پریس بریفنگ کے بعد وہ اپنی سیکریٹری کے ساتھ مسرور سی ہوٹل کے کمرے میں پہنچیں۔ لباس تبدیل کرکے باہر آئیں تو دیکھا کہ سیکریٹری سیما موبائل پر کسی سے تکرار میں مصروف ہے۔ کئی منٹ کی لاحاصل بحث کے بعد جب فون بند ہوا تو سیما بُری طرح پریشان نظر آئی۔ پتا چلا کہ اس کی بیٹی کے اسکول میں فنکشن ہے جس کے لیے خصوصی لباس درزی کو تیار کرنا تھا مگر وہ انکاری ہے کہ ہنگاموں اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے مکمل نہ ہوسکا ہے!! بچی کئی گھنٹے سے فون کھڑکھڑا رہی تھی۔ ظاہر ہے کہ گھر میں موجود کوئی بھی فرد اس مسئلے کو حل کرنے سے قاصر تھا۔ ڈاکٹر شمع جو سیما سے پروگرام پر تبصرہ اور بحث کرنا چاہ رہی تھیں اس ناگہانی پر سٹپٹا کر رہ گئیں اور اسے تسلیاں دینے لگیں۔ انہیں سیکڑوں کلومیٹر کے فاصلے سے بچی کی سسکیاں سنائی دے رہی تھیں۔

”........... ماما! آج فائنل ریہرسل تھی، فل ڈریس کے ساتھ!!.... مجھے ٹیبلو سے ڈراپ کر دیا گیا ہے...........“

”.......تم گھر پر ہوتیں تو کسی طرح سی سلا کر مکمل کروا دیتیں......“ ڈاکٹر شمع کے ذہن میں اپنی ماں گھوم گئیں جو عید یا تقریب پر رات گئے تک اپنی بیٹیوں کا سوٹ مکمل کرکے ہی اٹھتیں تھیں، مگر یہ تو پچھلے لوگ تھے اور سیما تو اس نسل سے تعلق رکھتی تھی جہاں علامتی طور پر سلائی مشین تو جہیز کا حصہ ہوتی ہے، مگر عملاً اس کی حیثیت ڈیکوریشن پیس سے زیادہ نہیں اور جہاں بچے حیرت سے پوچھتے ہیں کیا سلائی گھر پر بھی ہو سکتی ہے؟؟ درزی سے بحث و تکرار کے بعد اب سیما اپنی بیٹی صبا کی ٹیچر سے بات کرنا چاہ رہی تھی، مگر ان کا موبائل آف مل رہا تھا۔ خوامخواہ کی ٹینشن ہو گئی بجائے پروگرام پر ڈسکشن کے! اتفاق سے پہلے بھی ایک مسئلہ رہا اب یہ دوسرا!! اُف یہ جدید دور کے چھوٹے چھوٹے مسائل کے بڑے بڑے دائرے!!! تھوڑی ہی دیر کے بعد ان کی فلائٹ کا وقت ہو گیا۔

 دو گھنٹے کے سفر کے بعد جب وہ ایئرپورٹ سے باہر آئیں تو ان کو لینے شوہر اور بیٹی تانیہ موجود تھے۔ روشنیوں کا شہر جگمگا رہا تھا زندگی رواں دواں تھی۔ جہاں سے آئیں وہاں تو لوگ سونے کی تیاریاں کر رہے تھے اور یہاں ابھی آؤٹنگ کے لیے نکل رہے تھے۔ کتنی مختلف ہوتی ہے دو شہروں کی زندگی!! آدھ گھنٹے بعد جب گھر کے قریب پہنچے تو تانیہ بول پڑی ”.......امی! درزی کو کپڑے سلنے دے دیں۔ اگلے ہفتے نادیہ آپا کی منگنی میں پہننا ہے!...“ وہ بہت تھکاوٹ محسوس کر رہی تھیں کسمسا کر مسکراتے ہوئے بولیں ”...........بعد میں! ذرا فریش ہو لوں........“ مگر ان کی بات درمیان میں ہی کٹ گئی جب ان کے شوہر نے چمک کر کہا ”......رش دیکھ رہی ہیں ویک اینڈ کا؟؟ گھر جاکر دوبارہ آنا ممکن ہے.......؟“ شوہر نام کی مخلوق بیوی کے آگے اسی طرح شیر ہوتا ہے۔ ”......ہاں امی! آج ہی دے دیں ورنہ وہ وقت پر نہیں دے گا.........“ اُف یہ درزی کا مسئلہ!! ہر شہر کی ایک ہی کہانی؟ ڈاکٹر شمع نے اپنی کنپٹیاں پکڑ کر دل ہی دل میں بہت بڑا اُف کیا۔ جیسے ہی درزی کی دکان کے سامنے پہنچے یکایک تمام بتیاں گل ہو گئیں بوجہ لوڈشیڈنگ!! مگر اگلے ہی لمحے جنریٹر آن ہو چکے تھے۔ شور کی آلودگی تو ناقابل برداشت ہو چکی ہے!

ڈاکٹر شمع اپنی بیٹی کے ساتھ دکان میں داخل ہوئیں تو فل والیم میں گانا بج رہا تھا اور کئی لڑکے اپنے اپنے کام میں مصروف تھے۔ کوئی کپڑا بچھائے کسی باجی کی کمر کا نشان لگا رہا تھا تو کوئی کسی آنٹی کی شلوار میں چنٹ ڈال رہا تھا۔ خواتین کا ایک گروپ ٹیلر سے تکرار میں مصروف تھا۔ پوری بات تو وہ نہ سمجھ سکیں، مگر یہ جملہ ضرور کان میں پڑا

”.......آپ یہ کام تو خود کرلیں........“ گویا درزی نہ ہوا ساس بن گیا...اتنا سا کام بھی تم نہیں کرسکتیں...........“!




ماسٹر صاحب ان کی طرف متوجہ ہوئے تو سب سے پہلے ڈاکٹر شمع نے اپنی شکایت نوٹ کروائی اور جواب میں اس کی معذرت ہی قبول کرنی پڑی۔ اس دوران ماسٹر صاحب نے وہ رجسٹر نکالا جس میں تمام خواتین اور لڑکیوں کی جسمانی پیمائش کا ریکارڈ درج تھا۔ تانیہ اپنا نیا سائز نوٹ کروانے لگی تو ماں نے اپنی بڑھتی ہوئی نوعمر بچی کو کچھ ناگواری اور الجھن سے دیکھا۔ اس نے کچھ محسوس تو کیا مگر سمجھ نہ سکی کہ معیوب اور قابل اعتراض بات کیا ہے؟ ہمیشہ اسی طرح ہوتا رہا ہے؟ ٹھیک اسی لمحے ان کو اپنے رشتے کے ایک چچا یاد آئے جو قیام پاکستان کے بعد یہاں سے آکر واپس پلٹ گئے جب انہوں نے درزی کی دکان پر اسے عورتوں کے جسم کا ناپ لیتے ہوئے دیکھا تھا یہ کہہ کر کہ۔ ”......آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ حیا سے بھی جائے آدمی........“ ڈاکٹر شمع نے ایک جھرجھری لی اور تانیہ کو جلدی کی تلقین کر کے اس ڈسکشن کو مختصر کرنے لگیں۔ اب بات معاوضہ پر آگئی تھی۔

”.........جی! ایک کلی کے دو سو ہوتے ہیں! گیارہ کلیوں کا کرتا ہے......آپ خود حساب کرلیں..........“ ”....کیا؟؟....“ ڈاکٹر شمع چونکیں۔ اس سے پہلے انہوں نے ٹیلر کے بلز کے بارے میں کبھی نہ سوچا تھا۔

”.....جی باجی! پورا دن لگ جاتا ہے!! بجلی کا تو آپ کو پتا ہی ہے؟؟“



کیا غلط کہہ رہا تھا وہ؟ وہ درزی سے متعلقہ مسائل پر بہت سنجیدگی سے سوچ وبچار کر رہی تھیں ”....کام واقعی بہت بڑھ گیا ہے۔ خواتین نے تو سلائی سے ہاتھ بالکل ہی روک لیا ہے کہ شمیزیں تک بے چارہ سی رہا ہے! اوپر سے فیشن ایسا کہ شرٹ کی سلائی ایسی اور اتنی کہ پورا خیمہ سل جائے اس میں!!!.گھر میں بیٹھی خاتون بھی سلائی کے جھنجھٹ سے آزاد نظر آتی ہے.........“ انہیں اپنی پیشنٹ راحیلہ یاد آئی جس کے معصوم چھ سالہ بچے نے ان سے بک شاپ لے جانے کی فرمائش کی تھی یہ کہہ کر کہ امی تو بس بیوٹی پارلر جاتی ہیں یا ٹیلر کے پاس! ان کی سوچوں اور تانیہ کی تکرار کو باہر سے آتے تیز ہارن نے مختصر کر دیا۔ جنریٹر کے شور اور گرمی میں اسٹیئرنگ پر بیٹھے ایک بے چین شخص کا صبر جواب دے رہا تھا۔ وہ دونوں جلدی سے گاڑی میں آبیٹھیں مگر ڈاکٹر شمع اپنی سوچوں کو روک نہ سکیں۔ وہ بدلتے ہوئے سماجی رویوں پر غور کر رہی تھیں ”....یہ کب اور کیسے ہوا؟ جب خالصتاً عورتوں کا شعبہ ان کے ہاتھ سے نکل کر مردوں کے پاس آیا اور اب تو کمرشلائزیشن کی وجہ سے ملٹی نیشنل کے ہاتھوں میں ہے! وہ ایسے فیشن ایجاد کرتی ہیں جو گھر بیٹھ کر سلائی کرنے والی خواتین کے بس سے باہر ہو! لیکن یہ بھی ایک پہلو ہے کہ ہر فیشن، نہ ہر ایک کے لیے ہوتا ہے نہ اسے زیب دیتا ہے۔ بیس سالہ نوجوان لڑکی ہو یا چالیس سالہ ماں، اور تو اور نانی تک ٹراؤزر میں ملبوس نظر آتی ہیں۔ اس بات پر وہ زیرلب مسکرا دیں کچھ خواتین کو یاد کر کے! وہ سوچتی رہیں اور کڑھ کر رہ گئیں ”....مگر میں بھی تو اسی معاشرت کا حصہ ہوں۔ بدلتے فیشن کا ساتھ تو دینا پڑتا ہے اور اس قسم کی سلائی گھریلو خواتین کے بس میں کہاں؟.........“ جب سوچیں کسی جگہ مرتکز ہو جائیں تو کوئی نہ کوئی نتیجہ نکل ہی جاتا ہے۔ خاص طور پر اگر آپ حل کرنے کی پوزیشن میں ہوں! چنانچہ ڈاکٹر شمع رات گئے تک اس معاملے میں کچھ فیصلے کر کے مطمئن ہو چلی تھیں۔ دوسرے دن گھر میں توجہ رہی۔ بہت سے امور نبٹائے۔ رات گئے وہ اگلے دن اور ہفتے کا شیڈول تیار کر رہی تھیں تو تانیہ کا مطالبہ سامنے آگیا ”.....امی! مجھے کوچنگ سینٹر میں داخلہ لینا ہے۔ میری چھٹیاں ضائع ہو رہی ہیں!........“ بس یہ ہی لمحہ تھا جب ان کو فیصلہ کرنا تھا بلکہ اپنی بیٹی کے ذریعے اس کو عملی جامہ پہنانا تھا ”....ہاں میں تمہارے لیے کسی ٹیلرز ٹریننگ کورس میں داخلہ کی معلومات لیتی ہوں.........“ وہ مسکراتے ہوئے بولیں ”.....ٹیلرنگ کورس؟؟؟.......“ تانیہ سر سے پیر تک استعجاب میں تھی ”...ہاں میری پیاری بیٹی اب اپنے کپڑے خود ڈیزائن کرے گی اور اپنے ہاتھوں سے تیار کرے گی........“ اپنی بات منوانے کے لیے مانوس کرنا مرعوب کرنے سے زیادہ موثر فارمولہ ہے! کسی ورکشاپ کا جملہ انہیں بروقت یاد آگیا۔

”...مگر امی! اگلے سال میرے بورڈ کے امتحانات ہیں۔ تمام لڑکیوں نے کوچنگ جوائن کرلی ہے..........“ اس نے عذر کیا مگر ڈاکٹر شمع کا ہوم ورک بھی مکمل تھا ”.....ارے خواہ مخواہ کی دردسری! اتنے گھنٹے اسکول کی پڑھائی کافی نہیں؟ میری بیٹی تو بہت ذہین ہے! مشغلہ کام سے مختلف ہونا چاہیے۔ ورنہ انسان بور ہو جاتا ہے....“ انہوں نے اپنی بیٹی کو دلچسپی دلائی اور یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں اس پر عبور ہے اور کیوں نہ ہو قائدانہ صلاحیتوں سے مالامالہیں وہ! تانیہ کو انگیز کرنے کے لیے انہوں نے اپنی مثال پیش کی ”......تمہارے نانا نے مجھے میڈیسن کی تعلیم دلوائی کہ عورتوں کو مرد معالج کے پاس نہ جانا پڑے اور فرح خالہ ٹیچر ہیں۔ وہ پیشے جو معاشرے کی ضرورت ہوں!!! اب جہاز اڑانے، ٹائر اور بلب بنانے کا کام لڑکیوں کے لیے مناسب ہے؟؟ بھیڑ چال کا کوئی فائدہ ہے؟.......“ انہوں نے اس کو سوچ میں ڈال دیا ”....... اور اب تو منیجرز بھی اداروں سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ بیکار پھرتے ہیں بے چارے....!!! ہنستے ہوئے انہوں نے اس کے ایم بی اے کی پلاننگ پر پانی پھیر دیا ”مگر باجی اور اپیا تو..........“ تانیہ نے قائل ہونے کے باوجو آخری حربے کے طور پر اپنی بڑی دو بہنوں کی مثال دی جو ایم بی اے اور انجینئر ہیں۔ ”....ان کا حال دیکھا ہے تم نے؟ زندگی میں کوئی سکون اور مزا نہیں! ان کے شوہر کتنے لاپروا ہیں گھروں سے! مردوں اور لڑکوں کو بے روزگار بناکر نکھٹو اور کاہل کیوں بنا دیا جائے؟ خواتین اگر......“ تانیہ نے ان کی بات کاٹ دی ”.......اور آپ؟؟......“ ”..... میری گڑیا! میرا وقت تو اس لیے اچھا گزر گیا کہ میرے ان مسائل کے لیے تمہاری نانی اور دادی موجود تھیں..... یاد ہے نا دو سال پہلے تک انہوں نے اپنی نواسی کی بیٹی کے لیے غرارہ سیا تھا۔ اب صحت سے مجبور ہیں!......“ کچھ بحث اور مباحثہ کے بعد یہ ہی طے ہوا کہ فی الحال وہ شوقیہ سلائی سیکھ لے گی اور پھر باقاعدہ پروفیشنل ٹریننگ لے گی۔ لیکن بہرحال اس کے argument ہیں۔ جنہیں وقت ہی دور کر سکتا ہے!!




اپنی NGO کی اگلی نشست کا ایجنڈا جب انہوں نے سیکریٹری کے سامنے رکھا تو اس کے ماتھے پر بَل پڑ گئے۔ بات ہی ایسی انوکھی تھی! تمام ممبران کے لیے سلائی کورس لازمی!

”........یہ کیا میڈم! ہمیں تو کمپیوٹر کے ریفریشر کورس کے لیے فنڈ allocate کروانے ہیں   ..........“

”.....ہاں مگرپہلے اپنی ترجیحات درست کرنی ہیں۔ ہمیں ایکسپرٹ ہر طرح کے چاہئیں۔ دیکھو سیما! غذا اور پوشاک بنیادی ضروریات ہیں۔ اب جس طرح ہم روزمرہ کا کھانا ہوٹل یا ریڈی میڈ فوڈز پر نہیں چھوڑ سکتے بلکہ ہر کوئی اپنی سہولت اور حالات کے حساب سے انتظام کرتاہے اسی طرح عام ملبوسات کے لیے ٹیلرز کے پاس رش لگانا نہ مناسب ہے اور نہ سہل.......“ اور بہت سے دلائل دونوں طرف سے پیش کیے گئے۔ پھر سیما نے کہا ”.......ایسا نہیں ہے میڈم! خواتین گھروں میں بھی سلائی کرتی ہیں اور کرواتی ہیں مگر کوئی بتاتا نہیں کیونکہ یہ اب اسٹیٹس سمبل بن چکا ہے کہ کون سے ٹیلر سے کپڑے......“ ”...یہ ہی تو ہمیں ختم کرنا ہے! اس احساس کمتری سے عورت کو نکالنا ہے! اسے اپنے کام کی حیثیت یاد دلانی ہے۔ کیا یہ ہنر کم وقعت رکھتا ہے جو انسانوں کو جانوروں سے ممیز کر سکے؟................ہمیں تو trend setter بننا ہے! اور فیشن کو اپنے تابع کرنا ہے یہ نہیں کہ جو بھی آڑا ترچھا ہو اسے من و عن پہن لیں! یہ جبھی ممکن ہے جب یہ ہنر ہمارے پاس ہو! اب دیکھو حجاب عام ہوا تو اس کے حوالے سے شیمپو بھی متعارف ہو گیا اور اب تو باحجاب کھلاڑنوں کے لیے اسپیشل ڈریس ڈیزائن ہونے لگے ہیں..........“ اور سیما پوائنٹ نوٹ کرتے ہوئے سوچ رہی تھی  ”........ ڈاکٹر شمع کو قائل کرنا مشکل ہے۔ یہ ہے لیڈر شپ کوالٹی.......“ اس کو اب یہ فکر پڑ گئی کہ وہ سلائی مشین کہاں سیٹ کرے گی؟

شہر میں قحط ہے اب، بخیہ گروں کا زلفی!

اپنے ہا تھوں میں ذرا،اپنا گریباں ٹہرے

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔