منگل، 13 اکتوبر، 2020

 

                                                                                   



            ٹوئنٹی ٹوئنٹی

 

عظمیٰ آپا کی آمد پر ملا جلا  جذباتی رد عمل دیکھنے پر آیا ۔ کچھ  نے کم یا  زیادہ خوشی کا   اظہار کیا ، کچھ خدشات کا شکار ہوئے  اور کچھ  تو باقاعدہ سوچ میں پڑ گئے ۔ تین سا ل پہلے وہ  دو ماہ گزار گئی تھیں۔اس دفعہ بھی ایک مہینے کی چھٹی لے کر آئی تھیں کیونکہ گھر کے بڑے  عمرے کی ادائیگی کے لیے جانے والے تھے تو انہیں بچوں کے ساتھ رہنا تھا۔

اگر اسے ان کی واپسی کا عنوان دیا جائے تو اتنے  وقفے کے بعد گھر میں خاصی تبدیلیاں واقع ہوچکی تھیں ۔ ننھا جبران اب ساتویں جماعت میں تھا ۔پرائمری سے سیکنڈری میں آنے کے باعث ننھے جبران کی معصومانہ حرکتیں   شوخی کی طرف مائل ہوچکی تھیں اور بڑے بہن بھائیوں کی وجہ سے  کچھ زیادہ ہی ہوشیار تھا ۔ ایک جبران پر ہی کیا منحصر سارے بچے ہی تبدیلی کے مراحل سے گزرے ۔ کالج کے لڑکے عرفان اور یاسر اب انجینیرنگ یونیورسٹی کے طالب علم تھے ۔ہبہ اور ماہا انٹر پاس کر کے این ٹی ایس کی تیاریوں میں مصروف تھیں ۔ صبا  اور شارق اسکول کی پڑھائی مکمل کرکے کالج میں  بالترتیب   سیکنڈ اور فرسٹ ائیر کے طالب علم تھے۔یہ سارے بچے عظمیٰ آپا  کی  بہن اسما اور بھائی عارف کی اولادیں تھے ۔اتفاق سے اسماءکے شوہر ظفر اور عارف کی بیگم شہلا بھی آپس میں بہن بھائی تھے اور یہ دونوں خاندان  ایک ہی گھر میں اوپر نیچے رہتے تھے۔

عمر اور تعلیم کے مدارج بڑھنے کے ساتھ ہی ان سب کے مزاج ، انداز اور عادتوں میں بھی نمایاں تبدیلی محسوس کی جاسکتی تھی جسے عظمی آپا کی زیرک نگاہوں نے ایک  نظر میں ہی بھانپ لیا ۔وہ ایک پہاڑی علاقے میں  گرلزہوسٹل کی وارڈن تھیں  اوران کی ذمہ داری کی جھلک ان کے مزاج میں خوب اچھی طرح رچی بسی تھی  ۔ ہر ایک کے معاملے میں جزئیات تک سے واقفیت  ان کی جاب کا تقاضہ تھاجس کی وجہ سے ہر لڑکی ان سے تعلق  محسوس کرتی ۔ جس کی روشنی میں نسل نوکی نہ صرف جسمانی و ذہنی بلکہ جذباتی ،نفسیاتی اور رو حانی   رحجانات  و ضروریات سے بخوبی واقف تھیں۔

 ان کی آمد کا پہلا دن تو تکلفات میں گزر گیا ۔ عمرہ زائرین کو ائیر پورٹ روانہ کر کے اصل معاملات شروع ہوئے  ۔رات کے کھانے پر سب خوش گپیوں میں مصروف تھے اور پچھلی ملاقات کے خوشگوار لمحات کو یاد کر رہے تھے۔

"                             اب تو ٹوئنٹی ٹوئنٹی بھی آنے والاہے …………."

 عظمیٰ آپا کے منہ سے یہ جملہ سن کرسب چونک گئے خصو صا شارق کے ہاتھ سے تو باقاعدہ  چمچہ چھوٹ کر سوپ کے پیالے میں جا گرا ۔ اس نے جبران کو استفہامیہ نظروں سے دیکھا !گویا کر کٹ کے اتنے اہم ایونٹ پر اس کی لاعلمی پر اس کو گھرکا۔

  کالج میں آنے کے بعد بے چارے شارق پر پڑھائی کا اتنا دباؤ ہے کہ   کھیل کے معاملات میں بے اعتنائی دکھانا ا س کی مجبوری بن  گئی  ہے۔ اس کی لاپروائی اور کھلنڈرے پن کی وجہ سے والدین کے علاوہ بڑے بھائی بہنیں ہمیشہ نصیحتوں سے نوازتے ۔اسے  بظاہر کھیل سے لاپروائی دکھانی پڑتی لیکن جب وہ اپنے کمرے میں جب ہوتا تو بلے سے ہوا میں بے آواز شاٹ لگارہاہوتا ۔وہ تو کبھی   اس کے ہاتھ سے بلا چھوٹ کر فرش سے ٹکراتا  تو دونوں منزلوں کے باسی سمجھ جاتے کہ وہ   اپنے بلے سے  لطف اندوز ہورہا ہے ۔ باقی سب تو مسکرادیتے مگر صبا اس کے خلاف ایک او ر مواد جمع کر لیتی جو وقت پر بہت اچھی طرح استعمال ہوتا ۔

صبا اور شارق  اوپر تلے کے ہونے کے باعث ایک دوسرے قریب بھی تھے مگر ان میں لڑائی بھی خوب ہوتی ۔  میٹرک میں دونوں کے یکساں نمبر آئے تھے مگر ان دونوں  کا رد عمل بالکل مختلف رہا تھا۔ صبا نے تو رونا شروع کردیا تھا کہ اتنی محنت کی تو کیا رہا جبکہ اگلے سال شارق بھی اتنے ہی نمبروں سے پاس  ہوا تو  کھلکھلا رہا تھا ۔ یہ ایسی بات تھی جس پر صبا خود حیران رہتی کہ اتنی کم محنت اور توجہ کے باوجود اس کے نمبر اتنے ہی آئے  تو کیوں اور کیسے ؟ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ اس کو پڑھائی پر زیادہ متوجہ نہیں کر پاتی تھی جبکہ بقیہ گھر والے اپنا دباؤ جاری رکھنے میں ہی مصلحت سمجھتے ورنہ تو وہ فیل ہوکر بیٹھے گا تو بھی اطمینان سے ہی رہے گا !! لہذا  اسے اسپورٹس سے محبت کے مظاہرے کو چھپانا پڑتا ہے  سوائے جبران کے ! ان دونوں کی ذاتی گفتگو کر کٹ سے شروع ہوکر کرکٹ  پر ہی ختم ہوتی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اسےاپنی حیرت کو جبران کی طرف منتقل کرنا پڑا ۔

"ارے میں کر کٹ کی  بات تھوڑی کر رہی ہوں …..میں تو شروع ہونے والے نئے عیسوی سال کی بات کر رہی ہوں ۔۔ دو ہفتے بعد ہی تو شروع ہونے والاہے2020  ء  ……."

اللہ ہم تو بالکل بھولے ہوئے  ہیں کہ نیا سال شروع ہونے والا ہے ……ماہا کی بات کاٹ کر ہبہ بول پڑی  

"…. اور وہ بھی کہ اب ٹو تھاؤزنڈ ٹوئینٹی شروع ہوجائے گا…." دونوں کی آواز میں تجسس کے ساتھ خبریت تھی ۔

" ہاں تم لوگ پڑھائی  وغیرہ میں اتنے دھت  ہو کہ زمان و مکان سے بے نیاز ہوچکے ہو ۔"  پڑھائی کے مقابلے میں وغیرہ کے لفظ پر جو  زور تھا وہ ان کی تنبیہ کے لیے کافی تھا !دونوں نے سر جھکا لیا ۔عرفان اور یاسر نے  اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ اگلی بات کیا ہوگی ؟

" ….. اکیسویں صدی  بھی انیس سال گزار کر بیسویں سال میں لگ گئی ۔۔تم سب تو اکیسویں صدی  کی پیداوار ہو …."عظمیٰ آپا  گویا ہوئیں "….ہماری نسل بڑی منفرد ہے کہ اس نے  ہجری اور عیسوی دونوں صدی کوتبدیل ہوتے دیکھا ….."                                        ان کے لہجے میں تھوڑا فخر کا احساس تھا ۔ "….ہاں ہم روز گنتے تھے کہ اب پندرھویں صدی شروع ہونے میں کتنے دن  رہ گئے ہیں ……" 

 ' کیا مطلب خالہ ! آپ کتنی صدیاں دیکھ چکی ہیں ؟ ….."                                    صبا نے آنکھیں اور منہ دونوں کو آخری حد تک  کھول کر پوچھا ۔

صبا ان کے رکنے پر فورا بول پڑی              "….آپ اس وقت کتنے سال کی تھیں خالہ جان    ؟ "                                                        

اور اس کا مقصد جان کرعظمیٰ آپا گویا  ہوئی

 " پندرھویں  صدی شروع ہوئی تو ہم سب اسکول میں تھے !میں بڑی کلاس میں اور تمہاری امی اور تمہارے ابو چھوٹی کلاسز میں تھے " وہ صبااور جبران  کی طرف اشارہ کر کے گویا ہوئیں

"….ہم لکھتے 1400 ء  ہیں تو پھر پندرھویں صدی کیوں کہتے ہیں ؟ اور یہ دو ہزار ہے مگر اکیسویں صدی کہتے ہیں ….؟      سوال تو جبران کا تھا لیکن سب  ہی اس کے درست اور مکمل جواب کے منتظرتھے۔

" صدی کے آغاز پر پہلا سا ل گزرا …..دوسرا ، تیسرا …..اور پھر جب  100 سال گزر گئے تو پہلی صدی کہلائی پھر 101 شروع ہو تو دوسری صدی کاآغاز ۔۔اور جب عیسائیت کو دو ہزار سال گزر گئے تو  نئے ہزاریے کو اکیسویں صدی  کہا گیا ……" عظمیٰ آپا نے غورکیا سب ہی توجہ سے ان کی بات سن رہے تھے  ……." اور اسی طرح ہجرت کے 1400 سال گزر گئے تو پندرھویں صدی  شروع ہوئی  ……"

''….بھئی  ہم تو اگلی صدی  تک  نہیں زندہ رہ سکتے ……! ۔ماہا نے حسرت سے کہا ۔

"…..۔2100 ء  تک  جو زندہ رہے گا  سنچری بنا لے گالیکن  اتنی عمر کہاں ہوگی ؟ "   ہبہ نے جواب دیا

"" ہجری سال 1441 ھ  ہے  نا!....."    عرفان نے  اپنی معلومات جھاڑی "۔۔۔۔آئندہ  59 سال بعد نئی صدی ہجری شروع ہوگی  تو ہم سب 80   /75سال کے ہوں گے …….! "

" نا با با نہ ! اتنی بوڑھی ہوکر کیسی لگیں گے ؟ ‘”…..ماہا نے جھر جھری لی ۔

" …….کوئی بات نہیں ! کوئی پوتے کا پوتا  آپ کے چہرے پر استری پھر کر جھریاں ہٹا دے گا …….! " اتنا بد تمیز شارق ہی ہو سکتا تھا اور قریب تھا کہ لڑائی کا آغاز ہوجاتا جبران  نے سوال داغ د یا جسے  تاریخ میں دلچسپی پیدا ہوچکی تھی

 " بڑی پھوپھو !  قبل مسیح  کیوں کہتے ہیں ؟….."

" …..حضرت عیسیٰ سے پہلے کے زمانے  کو بتانے کے لیے قبل مسیح کہتے ہیں اور لکھتے ق م ہیں ۔"

 اب ایسا لگا کہ ان سب کی آپس میں چپقلش شروع ہوجائے گی کیونکہ کسی نہ کسی کو قبل مسیح  کا طعنہ یاد آجاتا جو کبھی دیا گیا تھا   لیکن عظمیٰ آپا نے مہلت ہی نہ دی اور اپنے  نکتے پر آگئیں ۔

" ……ایک کھیل کھیلتے ہیں ….! "                          عظمیٰ آپا کے لہجے میں اتنی  مہمیز  تھی کہ سب ہی متوجہ ہوگئے ۔آخر وہ بھی تو لگے بندھے انداز سے ہٹ کر ہی کام کرتی ہیں ،یہ سب کو اندازہ ہے !!

" …..سال 2020ء کے لیے سب اپنی اپنی منصوبہ بندی پر چیوں پر لکھیں ۔یہ منصوبہ بندی شارٹ ٹرم یعنی صرف 2020 ء کے لیے ہو یا لانگ ٹرم  پورے  عشرے کے لیے یعنی 2020 ء سے لے کر 2029 ء ………………" انہوں نے کھیل کی تفصیلات بتائیں تو سب  کی دلچسپی بڑھ گئی ۔''…..ایک سے زائد منصوبہ بندی بلکہ جتنی چاہیں لکھیں ……"

" ہرا ……" سب نے مشترکہ نعرہ لگایا ۔



….’’اور اس کی شرائط بھی سنیں ۔۔۔۔منصوبہ ایسا لکھا ہو کہ پہچانا نہ جاسکے کس نے لکھا ہے ؟  جس کا منصوبہ بے نقاب ہوگیا وہ کھیل سے  باہر ….."  پہلے تو سب سوچ میں پڑ گئے مگر بالآخر بخوشی راضی ہوگئے ۔

اگلے رات  سب لاؤنج میں جمع تھے اور کھیل کا آغاز ہوا ۔سب  بچے جوش و خروش کا مظاہرہ کر رہے تھے  ۔انہوں  نے اپنی اپنی پر چیاں عظمیٰ آپا کے حوالے کردیں ۔ شرکاء تو سات تھے مگر پرچیاں 25 تھیں گویا فی بچہ 3 سے زیادہ منصوبے ہیں  ۔عظمیٰ آپا معنی خیز انداز سے مسکرائیں ۔

پہلی پر چی پر لکھا تھا " قرآن کو ترجمے سے پڑھنا ہے ……"   

                                          واہ بسم اللہ تو اچھی ہوئی ہے  اور ابتدا بھی کہ لکھنے والا بے نقاب نہ  ہوا   !....''

"….پڑھائی میں بہت محنت کرنی ہے ….!"                                                                        

       "  …..انٹر نیٹ کا استعمال کم کرنا ہے ……."

''….. وقت کی پابندی کرنی ہے ……."                                                                                    

          " وعدہ خلافی نہیں کرنی ہے ……."

"…..والدین کا کہنا ماننا ہے ……

         " زبان کی حفاظت کرنی ہے ۔۔"

پر چیاں کھلتی رہیں اور بچوں کی طرح عظمیٰ آپا بھی  یکسانیت اور عمومی منصوبوں پر اکتاہٹ محسوس کر نے لگیں مگردل ہی دل میں  بچوں کی عقلمندی   پر داد  دے رہی تھیں ۔

" مجھے گھریلو کاموں پر عبور حاصل کرنا  ہے ……"   (ارادے اچھے ہیں  مگر زندگی گزارنے کے لیے مہارتیں سیکھنا  کسی کے لیے مخصوص نہیں کیا جا سکتا !)

" میرا پلان ہے کہ ماحولیات کے لیے کچھ کام کروں ….."    (اس پرچی پر سب سوچ میں پڑ گئے ! مستقبل کے انجینیرز  کے علاوہ   بھی کوئی ہوسکتا ہے مگرواضح نام  بوجھنا مشکل تھا!)

" 2020 ء میں مجھے شناختی کارڈ مل جائے تو ڈرائیونگ  شروع کر دوں ……"   (سب کی نظریں ماہا اور ہبہ کی طرف اٹھ گئیں ۔ان میں سے کوئی بھی ہوسکتا ہے !؟اندازہ لگا نے کی گنجائش نہیں ………….)

"  تو ہر وقت اسٹیرنگ پر بیٹھے رہیں گے ……! " یاسر نے مزاحیہ انداز میں ٹٹولنے کی کوش کی کہ یہ پلان کس کا ہوسکتا ہے ؟

"….میرا ارادہ ہے کہ فیشن ڈیزائنگ کروں تاکہ معقول ڈریسز  دیکھنے کوملے ……..'' (واضح طور پر صبا کا پلان ہو سکتا ہے  مگر وہ ایسے انجان تھی کہ کچھ کہنا محال تھا!)

'ہاں امی نے کہا ہے کہ اگر نمبر کم آئے تو میرج بیورو والی آنٹی سے رابطہ کروں گی ……"                     شارق نے صبا کی طرف منہ کر کے کہا گویا   بارود میں چنگاری پھینکی  لیکن صبا اتنی بے وقوف ہر گز نہ تھی کہ اس کو ترکی بہ ترکی جواب دے کر اس کھیل سے باہر ہوجاتی ! اسی طرح مختلف منصوبے سامنے آتے رہے مگر کسی واضح فرد کی طرف سے محسوس نہ ہوتے ۔اب چند ہی پر چیاں رہ گئی تھیں ۔ بچے حیران تھے کہ کھیل کا انجام کیا ہوگا ؟  عظمیٰ آپا کی پٹاری سے کیا نکلے گا ؟

 "….میں  ان شاء اللہ  دو سال میں حفظ قرآن  مکمل کرکے میٹرک کا امتحان دوں گا ……"      عظمیٰ آپا  پڑھتے ہوئے حیرت زدہ ہوکر مسکرائیں  اور ان کی آواز بچوں کے شور میں دب کر رہ گئی

 "  جبران …..! جوبو ….! …." سب اس کو چئیر کر رہے تھے   اور وہ  کھیل سے باہر ہونے پر شرمندہ سا کھڑا تھا ۔

" …..اور آج کے کھیل کے فاتح ہیں  محمد جبران ۔"  عظمیٰ آپا نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا

" ہیں ……ہیں !       یہ تو ایکسپوز ہوگیا ہے "                 عرفان نے اپنے چھوٹے  بھائی کو پیا ربھری بے چارگی سے دیکھا ۔سب حیرت زدہ تھے  کہ شرط ہارنے کے باوجود…….!

" …..جی جناب !! "  عظمیٰ آپا نے قطعیت سے کہا

" کسی بھی منصوبے کو بناتے ہوئے وقت سب سے اہم ہے ۔یہ جو ساری دنیا سمارٹ  SMART ) (  کے پیچھے پڑی ہوئی ہے اس میں ٹی کس کا مخفف ہے ؟  ٹائم یعنی وقت !

اب بقیہ منصوبوں کو دیکھیں ۔۔سب ارادے ہیں ! کب کرنا ہے  کچھ واضح نہیں !!  میرے جبران نے اپنے نیک ارادے کو  ایک خاص وقت پر پورا کرنے کی منصوبہ بندی کی  اور اسے ان شاء اللہ کے حصار میں بند کر کے محفوظ کر دیا ۔

لاؤنج  جبران جبران کے نعروں سے گونج گیا !  ننھا جیت گیا تھا ۔اس کے پاس سمارٹ فون نہ سہی مگر منصوبہ تو اسمارٹ تھا ۔

…………………………………………………………………………………………………………………………………………………………………

فر حت طاہر

 

 

 

 

بدھ، 12 اگست، 2020

یہ تو بائیں ہاتھ کا کھیل ہے !..''

 




''…..یہ تو بائیں ہاتھ کا کھیل ہے !..''

 

یہ محاورہ عموما کسی  بہت آسان یا سہل کام کے لیے بولا جاتا ہے ! شاید اس کا مطلب یہ ہو کہ بائیں ہاتھ سے کام کرنے والایعنی کھبا  فرد زندگی میں اتنی مشکلات اٹھاتا ہے کہ اس کے لیے کوئی بھی کام آسان ہو جاتا ہے ۔ اگر آپ اس تحریر کو کسی کھبے کی تکلیف بھری زندگی کا احوال سمجھ رہے توغلط ہوگا !

ہر انسان منفرد ہے لہذا  اس کی کمزوریاں بھی جدا جدا ہیں ۔مثلا ہمیں سمتوں ( directions) کے بارے میں ہمیشہ الجھن رہتی تھی ۔ دائیں یا بائیں ؟               (              اس میں کون سی انوکھی بات ہے ! دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی اس مسئلے سے دوچار ہے  خواہ یہ سفر عملی ہو یا عقلی ! ) لیکن ہمیں تو آپ بیتی ہی بتانی ہے !  

پرائمری ٹیچر مس فہمیدہ اپنائیت بھرے لہجے میں شکایت کرتیں

''۔۔۔۔کام  بہت اچھا کرتی ہے مگر ہدایات کو درست طریقے سے نہیں سنتی ۔۔سیدھا ہاتھ اٹھا نے کو کہو تو الٹا اٹھا لے گی ، بائیں طرف سے آنے کو کہوں تو سامنے سے آجائے گی ۔۔۔۔"   مسئلہ سماعت کا نہیں تھا بلکہ ہماری سمجھ کا تھا !   ان کے  شہد ٹپکاتے رویے  کے بعد سیکنڈری میں آئے تو  معاشرتی علوم کی ٹیچرزہر بھرے لہجے میں  اسے  ہمارے دماغ کا فتور قرار دیتیں اور اس کا حل بھی پیش کرتیں ۔۔کھیل کے ساتھی بھی ناراض رہتے خصو صا جن کھیلوں میں ہدایات کا مسئلہ ہوتا ۔۔۔! ارے آپ تو ابھی سے ہماری مظلومیت پر افسردہ ہوگئے !بات صرف اتنی نہیں ہے ہماری اس الجھن کے کچھ اور اسباب تھے  جو زندگی بھر ساتھ رہ کر ہماری دائمی کمزوری بن گئے تھے!

 ہمارا مسئلہ یہ تھا کہ ہماری والدہ سمیت سارے بہن بھائی لیفٹ ہنڈڈ  تھے !  (بھلاجس گھر میں اسی فی صد افراد  بائیں ہاتھ سے کام کرتے ہوں وہا ں سیدھے ہاتھ سے کام کرنے والا ہی handicapped  ہوگا نا!)                  دنیا میں اکثر یت  سیدھے ہاتھ والوں کی ہے لہذا سارے انتظامات اسی کے لحاظ سے ترتیب پاتے ہیں  خواہ مشینوں کے ہینڈلز  ہوں   یا پہیے!۔۔۔۔۔۔  آپ نے دیکھا ہوگا کر کٹ میں لیفٹ ہینڈڈ باؤلر یا بیٹسمین کے آتے ہی فیلڈ کی ترتیب بدل جاتی ہے ۔۔یہ تو ٹھہرا شاہی کھیل! وقت گزاری کے لیے ہی کھیلا جاتا ہے ترتیب بدلنا مسئلہ نہیں مگر گھروں میں  ہر وقت ترتیب بدلنا   ممکن نہیں  اور بے چارے بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے والے تکلیف اٹھاتے ہیں لیکن   چونکہ ہمارے  گھر میں اکثریت بایاں ہاتھ استعمال کرنے والوں کی تھی اور لہذا اکثریت کو مد نظر رکھتے ہوئے گھر کی ترتیب و نظم قائم ہوتی چنانچہ یہاں ہم مشکل کا شکار  تھے  ۔ کچھ جھلکیاں ملاحظہ ہوں :

ٹی وی اینٹینا درست کرنا ہے  یا پانی کی موٹر کا  معاملہ ہے ! بڑےبھائی ہدایت دیتے ہیں      "سیدھی طرف گھمانا ہے ۔۔۔"اور ہم الجھن کا شکار کھڑے ان کی ڈانٹ سن رہے ہیں ! منجھلے بھائی ذرا سائنسی اصطلاح  استعمال کرتے یعنی کلاک وائز یا اینٹی کلاک وائز   گھمانا ہے مگر ہم ان کے معیار کو بھی نہ پہنچ پاتے ! وجہ وہی اپنی ہچکچاہٹ  !

درجنوں بار ایسا ہوا کہ ہم دونوں بہنیں  رکشہ یا  گاڑی میں سفر کر رہے ہیں اور  ڈرائیور نے سڑک کے موڑ پر گاڑی روک دی کہ آپ دونوں فیصلہ کرلیں دائیں مڑوں یا بائیں ؟ بہت دفعہ کی بے عزتی کے بعد ہمارے درمیان ایک  معاہدہ طے ہوگیا تھا کہ اگر ایک  راستہ بتا رہا ہو تو دوسرا  خامشی اختیار کرے گا  الا یہ کہ بالکل ہی غلط جانے کا امکان پیدا ہوجائے !!                                                گھڑی کس ہاتھ میں باندھنی ہے ۔۔۔۔؟ بیگ کو کس طرف لٹکانا ہے !   قبلہ کس طرف ہے ؟ جیسے مسائل   ہمیں گھیرے رہتے !

امی کو ہمیشہ شکوہ رہا کہ تم میرا ادھورا کام مکمل  نہیں کر سکتیں اور ہمیں افسوس کہ ہم ان سے کوئی ہنر نہ سیکھ سکے لیکن ایسا بھی نہیں کہ ہم بالکل ہی بے ہنر رہے! محلہ کی خواتین نے ہمیں کچھ نہ کچھ نہ کچھ سکھا ہی دیا تھا پھر انٹر کی طویل چھٹیوں میں  ہمارا داخلہ سلائی کی کلاس میں کروادیا تھا جو ہم اس مہارت کو سیکھ سکےلیکن   کچھ تو کھبوں کے ساتھ رہنے کے اثرات کہیں یا  کچھ خاندانی اثر ( ہمارے دادا جان بھی لیفٹ ہینڈڈ تھے !)  کہ ہمارے اندر بھی جراثیم تھے یا ہمارے تذبذب کا نتیجہ کہ کسی کے سامنے کام کرتے ہوئے جھجک محسوس ہوتی  ۔وجہ ؟  ہمیں کام کرتےہوئے  دیکھنا ہمارے ان مہر بان ہستیوں پر بہت گراں گزرتا

'۔۔۔سوئی کیسے پکڑی ہے !   "                                                                                                              " کپڑے کو اس طرح سے  موڑ کر پکڑتے ہیں ۔۔"

سلائیوں کو انگوٹھے اور انگلی کے درمیان  پکڑا کرو ۔۔!  وغیرہ وغیرہ  جیسی ہدایات ہمیں مزید کنفیوز کرتی۔ کبھی کبھار کسی کے ہاتھ سے کام لے کر اسے  آسانی  بہم پہنچانے کی کوشش کرتے مگر بقول ان کے تمہیں تکلیف سے  کام کرتے دیکھ کر لگتا ہےکہ تم پرکتنا  ظلم ہورہا ہے ۔۔۔اور کام  واپس لے کر خدمت سے محروم کر دیتے    ۔ہمارا خیال ہے کہ وہ کام کے معیار کی بابت  فکر مند ہوتے ہوں گے !  اور اگر کوئی کام تنہائی میں مکمل کرتے تو شبے کا اظہار کیونکہ  ہمیں خود کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا !نتیجہ ؟  ہماری کارکردگی عدم اعتماد کا شکار رہی ۔

دوران تدریس ایک دفعہ  اسکول میں میلہ منعقد ہوا جس میں تما م ہی ٹیچرز کو کوئی نہ کوئی دستکاری کا اسٹال لگانا  تھا ۔ ہم نے فیبرک پینٹنگ  کا منصوبہ بنا یا ۔ اس کے لیے صوفہ پر ڈالنے والے نیپکن ( mats )  بنانے تھے ۔ تقریبا 3 درجن پھول پینٹ کرنے تھے !  بہن فارغ تھی ۔ہم نے کہا کہ تم سارے ڈیزائن  کا عکس  چھاپ دو  تاکہ ہم اسکول سے واپسی پر جلدی سے پینٹ کر لیں ۔

پینٹ کرنے کے لیے  جب نیپکن کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ تمام پھول اس طرح ٹریس کیے گئے ہیں کہ  جب وہ صوفہ پر بچھائے جائیں گے تو شاخ اوپر کی طرف ہو گی!  بہن کسی طرح ماننے کو تیار نہیں بلکہ اچھی خاصی جھڑپ ہی ہوئی کہ ایک تو میں نے اتنی محنت کی اوپر سےکام بھی نہیں پسند آرہا  !   دوبارہ کرنے کی مہلت نہ تھی چنانچہ   مسئلہ یوں حل کیا کہ  ایسے ہی پینٹ کرلیا جائے  اور انہیں  اس طرح  لپیٹ کر رکھا جائے کہ دیکھنے  میں محسوس نہ ہو ! خیر ہوا یہ کہ کسی نے بھی انہیں خریدنے کی زحمت نہ کی ! اور اس کی وجہ ہر گز یہ نہیں تھی کہ کسی کوپسند ہی نہیں   آئے یا یہ کہ عیب  ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیے گئے بلکہ لوگوں کی ضرورت   کی فہرست یا  پھر بجٹ میں ہی نہیں تھے ! ( ویسے بھی خریداری کے بجائے ڈسپلے پر زیادہ زور تھا !)                     بعد میں ان کو کس طرح تحفے میں دے کر چھٹکارا پایا کہ تحفہ تو جیسا بھی ہو قبول کر ہی لیا جاتا ہے ۔

ان تمام مشکلات کے باوجود جب کبھی کوئی ہماری بہن یاکسی بھائی کو از راہ ہمدردی یہ کہہ دیتا  "ہائے بےچارہ / بے چاری کھبی ہو تو ہمیں  بہت برا لگتا ۔ اور   جہاں  ہم کسی کو بائیں ہاتھ سے کام کر تا دیکھتے ہیں بڑی  اپنائیت محسوس ہوتی ہے! اس سارے پس منظر میں ہمارا واحد سہارا ابا جان تھے ۔خصوصی توجہ کے ساتھ   کبھی اٹلس لےکر نقشے سے سمتیں سمجھاتے ،کبھی کھڑا کر کے  دائیں بائیں ہاتھ کے ذریعے ہماری اس کمزوری کو دور کرنے کی کوشش کرتے ۔ ہماری بھی بھرپور کوشش ہوتی کہ کسی کو اس کمزوری کا علم نہ ہو ۔ لیکن اکثر ہمیں کام کرتے دیکھنے والے پوچھ بیٹھتے   آپ لیفٹ ہینڈڈ ہیں ؟ اور ہم منہ بنا کر رہ جاتے ! گویا نہ تیتر میں نہ بٹیر میں !

ایک دفعہ یونیورسٹی لیب میں کام کر رہے تھے ۔ہمارے سپر وائزر نے ہمیں keyboard الٹی طرف سیٹ کرنے کی آفر کی ۔ ہم نے تڑپ کر انکار کیا کہ   سر ہم لیفٹ ہینڈد نہیں ہیں ۔۔۔

مگر آپ بٹن تو مستقل الٹے ہاتھ سے پریس کر رہی ہیں ۔۔۔ہم شرمندہ ہوہی رہے تھے کہ کسی نے لقمہ دیا

' سر ! یہ تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔۔۔! "   سب ہنس پڑے ۔

 اور ہمارے معصوم سے ٹیچر نے بزرگانہ شفقت سے یہ بات  چائے کے وقفے میں اپنے کولیگز سے  کہہ ڈالی ۔ اور ان کی یہ توصیف ہمیں مہنگی پڑ  گئی  جب  بقیہ  دوسری لیب کے   ساتھی بھی ہمارے پاس آکر اپنی اپنی  ریڈنگ ٹسٹ کروانے لگے ۔ اگر بیگار یہیں تک رہتی تو بھی چل جاتا آخر سب ہمارے ساتھی ہی تھے لیکن جب دور دراز شعبوں سے بھی لوگ آکر  ہم سے کام نکلواتے تو ہم ذرا محتاط ہوئے ۔  اور تو اور سر کو اپنا کام کرنے کا موڈ نہ ہوتا یا کمپیو ٹر گڑ بڑ کرتا تو وہ  ہمارے سر تھوپ دیتے ۔بھئی یہ تو آپ کے ہاتھ کے جادو سے چلتا ہے ۔۔۔اور ہم دل میں اللہ سے مخاطب ہوتے   :

"آپ ہی جانتے ہیں کہ ہمیں ٹیکنالوجی پر کتنا عبور ہے ؟   بھرم  قائم  رہے تو غنیمت ہے !!"

 تعلیمی دور گزرا اور زندگی کے میدان میں داخل ہوئے تو سمتوں کے تعین میں دشواری کا احساس بڑھ گیا اپنی یہ  کمزوری رکاوٹ بنتی نظر آئی  ۔ اس کو رفع کرنے کے لیے  ہم سر توڑ محنت کرنے پر مجبور تھے اور پھر یہاں ابا جان کا احسان  یادآتاہے۔ ان کے جملے ہماری تربیت میں بہت معاون رہے ۔

''۔۔۔ اپنے  داہنے ہاتھ سے تیسری کتاب   لے کر آنا ۔۔"

 ' ۔۔بائیں طرف سے چوتھا گھر ہے ۔۔۔"

"۔۔۔۔۔۔ "                                                     "۔۔۔۔"

ہم نئے گھر میں شفٹ ہوئے جو غیر آباد علاقے میں تھا ۔ بیرونی سڑکیں تک گھنے جنگل کامنظر پیش کرتی تھیں ۔ اس زمانے میں وہ  زکوۃ کمیٹی کے چئیر مین تھے تو ان کے پاس بھانت بھانت کے لوگوں کی آمد و رفت ہوتی  ۔ وہ علاقے  کے نقشے کی کاپی ہمارے سامنے رکھ کر   آنے والوں کی رہنمائی   کرواتے اور ہم ہر ایک کی زبان اور ذہنی استطاعت کے مطابق یہ فریضہ انجام دیتے  اور کبھی کبھی  جھنجھلا جاتے !   ان ساری مشقتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ سمتوں  کے تعین میں ہماری کمزوری ختم ہوگئی اور ایک وقت یہ آیا کہ ہم بھی سمتیں بتانے میں ماہر ہوگئے ۔

" ۔۔۔آپ نے اتنا اچھا  ایڈریس سمجھایا کہ ہمیں کوئی مشکل نہیں ہوئی۔۔" جیسے جملے اس کا ثبوت ہوتے۔ کوئی ڈرائیور کو موبائیل پکڑا دیتا اور ہم  بات کا آغاز یوں کرتے :

" ۔۔آپ کہاں ہیں ؟ آپ کے دائیں / بائیں طرف کیا ہے ؟ ۔۔۔یوں کریں ۔۔۔یوں  مڑیں ۔۔۔" اور اس رہنمائی پر ہم بآسانی مطلوبہ مقام تک پہنچوا دیتے۔  اور ہماری  مہارت  پر اس وقت مہر ثبت ہوئی جب گھر والے بھی کریم یا یوبر کو ایڈریس سمجھانے کے لیے موبائیل ہمیں پکڑادیتے  یہ کہہ کر کہ  " ۔۔باجی آپ بہت اچھا سمجھا تی ہیں ۔۔۔"

اور ہم  خضر کارتبہ پانے پر  اندر تک شاد ہوجاتے ۔اب تو  گوگل کی وجہ سے کوئی اس معاملے میں  کمزور نہیں رہا  ہوگا مگر ہمارا خیال ہے کہ  گوگل کی سہولت سے بھی وہی مستفید ہو سکتا ہے جسے  دائیں بائیں کی اچھی سی پہچان ہو!    ویسے ہماری اس داستان سے آپ کیا سمجھے ؟ محض ہمدردی نہیں  بلکہ یہ بتانا کہ کمزوری پر غلبہ پاکر اسے طاقت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے ! تاکہ یہ بائیں ہاتھ کا کھیل بن جائے ! !  کیا خیال ہے ؟ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


 

My greatest parenting challenge

 



My greatest parenting challenge

 

I was sitting on my prayer mat…..hands were lifted for dua; the tears were rolling on my cheeks. After performing my ISHA prayer I was begging to Allah for Sanya! 

Sanya 10, my daughter second in siblings of three. What is wrong with her? Your query is just!

Would you ever seen the pic in which a new borne is in laps of her eldest brother looking happy, while the middle one angrily looking by ignoring both! The caption on it is:
  “The Moment He Realized, HE was Now Middle Child!”

 This middle child of mine is a problem for me! Sanya, a problem child …oh! Should I say it for my talented daughter? .....let me share my feeling about her!

 Maria, 12, and Yasir, 6.The eldest and youngest are quite reasonable while Sanya always creates a problem for me. She disapproves what favors all of us. When I have to accommodate my offspring for any program, refused by her makes me disturb to revise my suggestion. Her argument on each matter creates a dispute. She is harsh in commenting! What and why goes wrong with her? Let me share some incidences ……..     

Both the girls went with her aunt to her neighbor, who served fruits to eat. Maria tasted all of them pleasantly while Sanya coiled and declined. The daughter of the host, who is a professional doctor and mother of a girl, exclaimed “…….that is why her (Maria) skin is glowing….she takes fruits……” I feel the toxicity of her remark …resulting disturbed Sanya for the weeks, but I must say she didn’t forget negative response!

She went with me in a social gathering and standing beside me. A girl from the guests pointed her eyes and said to her companion,” look! How beautiful……” I noticed anger on Sanya’s face and later she expressed in this way,” Look at this aunty! She didn’t notice my poor health, just my eyes…the only good thing I have…she has devil eye on it ……”

I didn’t know that lady but felt sorry about Sanya’s gesture on her and let me share that recently Sanya’s eye sight got weaken and suggested by doctor constant use of glasses! I am afraid she relates it to those remarks …..!

She  crossed when her fellows joyfully excited over a matter either going to picnic or getting the news of teacher’s absence, getting free period …whatever made all laugh and enjoy she overreacted, noise in the class makes her unhappy….when siblings got any advantage of making disobey the rule she teased them! All these depict discipline in her nature, of course, but she is isolated making her more frustrated!

 Surprisingly, all near and dear are concerned over her! What she is doing? What is her plan? Her schedule? Everybody wants to follow it …this concern make her angry or little proud, I could never guess! Being a child and more over it, as a human she must like care but why she reacts like it! It is puzzle for me! Especially I embarrassed during social interaction! I worried as a mother!

It does not mean that she has no good qualities! She is the most obedient child of mine! Gets up in the morning at my one call! Helps me in domestic cores; like dish washing, spreading the cover, answering the calls, teaching younger brother…..! She is sharper than her sister makes me satisfy as she can defend herself at either case of danger! May Allah save them! Her confidence level is high.

 She has good sense of humor. I enjoy her wittiness! She is definitely an extrovert; this is my conclusion about her! Then why pretend as introvert? It confuses me! I know she has leadership qualities because her friends, cousins try to follow her. I wish she would turn into a polite, contented girl! An expressive and determinate girl didn’t like in our society as the majority is hypocrites! It bothers me about her future. She needs some counseling, I conclude.

It was all about sitting on prayer mat, thinking about my life started with kids! Maria, the first born in both the families, maternal and paternal, was a beautiful adorable child! She gained lot of love and care along with many gifts from grandparents, uncles and aunties!

 

 Sanya was borne just after 18 months of Maria, was totally different from her sister. As she grew everybody noticed she is more active, expressive and creative soul! Her learning was pronounced! She started reciting poems at very early stage.

 At the age of 4 she was admitted to school. It is a big change for a child, but for her it was harder as she missed her first week of school because of her sickness, plus I was in hospital as my son was born. Although, I am not a psychologist, but being a mom I realized that this absence of very first day from school, did not allow her to intimate teacher and fellows. My assumption could be right but the reality is that she has a class of nearly 40 hyper students. When they cry she coiled.

 At each PTM teachers complain her lack of interest in class. But the fact is that she never given a chance in co curricular activities! She is a good writer! Her eloquent is excellent! On last PTM I complaint to her teacher about her ignorance towards her,

 “….. Many compositions of her have been published in different magazines… “In a lighter mode I said to her “...In future when she becomes a famous writer you would say she was my student and at now, even you do not know it at all…. this is her last year with you…she is going in secondary class…” Teacher was surprised and promised to see the matter. But unfortunately when next day she was shown the magazines, she remarked “it is published due to her grandfather ..!” it dimmed sanya’s delight and the worst is that teacher lost all the magazines having records of her compositions! Due to all these she is upset which affects her health…….

Today, she misbehaved with me on supper. I was hurt, so was praying about her…”...I realized she has remarkable personality, but how can I make an ease for her? How should b treated with different people?  I cry and feel that Allah is answering me…

.”I gifted you unique creature of mine! Would you thank me?” oh, yes I take the challenge, trying to stand up, somebody came and put her head on my lap,” Mama Sorry! I have taken bread with curd! Do not worry …! She was crying. I hugged her! She was Sanya, my little angel. I kissed her shining eyes and wet cheeks. I have to handle her with care she deserves..!