ہم نہ باز آئیں گے !
دور طالبعلمی میں لیکچر کے آخر میں ایک نہ ایک
پڑھاکو طالب علم کوئی سوال پوچھ لیتا اس کے جواب میں اساتذہ مزید کچھ وقت لے لیتے
جس کے نتیجے میں بقیہ طالب علم احتراما تو خاموش رہتے لیکن دل ہی دل میں پیچ وتاب
کھاتے اس کو گھورنے لگتے اور بعد میں اس کو خوب لتاڑتے! یہ بات ہمیں کیوں یاد آئ !
جب علاقے کی میٹنگ میں سہ ماہی اور رمضان کی
منصوبہ بندی کے سوال پر ہم نے رمضان کے حوالے سے پارک میں میلہ/ بازار لگانے کی
فرمائش کر ڈالی۔ اب پتہ نہیں یہ ہمارا
رعب تھا یا پھر چنے چاٹ کے مزے کا کہ سب خاموش تھے بالکل اسی طرح جیسے کلاس
میں ہوتا تھا لیکن بہرحال سب دل میں سوچ رہے ہوں گے شعبان میں رمضان/ عید کی تیاری
ہے ، استقبال رمضان کرنے ہیں! دورہ قرآن اور ہدیہ قرآن کی مہم ہے ! راشن کی تقسیم
کا معاملہ ہوگا ۔اس میں بازار کی کیا گنجائش ہے ؟
کچھ دن بعد ناظمہ علاقہ نے مردانہ نظم سے بات کر
کے منظوری دے دی اس ترمیم کے ساتھ کہ پارک کے بجائے عیدگاہ گراونڈ میں بازار لگایا
جائے کیونکہ پارک کی ہئیت اونچی نیچی ہے ! ہمیں جگہ کی تبدیلی پر کوئی
اعتراض نہیں تھا البتہ ساتھیوں کے رمضان کے ساتھ بازار کے لفظ پر کچھ تحفظات تھے! خیر
ایک علمی اور ادبی بحث کے بعد یہ ہی طے ہوگیا کہ ہمارے بازار خدانخواستہ کوئ
بے حیائی اور بے ایمانی کا حصہ تھوڑی بنیں گے بلکہ تجارت کے اچھے پہلو کو اجاگر
کریں گے ان شاءاللہ!
ہماری فرمائش اور مجوزہ بازار کے درمیان مہینہ
بھر کا وقت تھا ۔۔لہذا پروگرام کا منصوبہ بنا کر ہم سکون سے بیٹھے تھے ! نہیں بھئی
اطمینان تو ہماری زندگیوں سے مفقود ہے۔ امریکہ سے ہماری کزن کا خاندان کسی شادی
میں شرکت کے لیے کراچی آپہنچا تھا ۔جن کے ساتھ ملاقاتیں ، دعوت ، خریداری تحائف کا
لیں دین ہو رہا تھا اور ان ساری مصروفیات کے دوران ذہن میں اور موبائل کے ذریعے
بازار کی تیاری بھی جاری تھی ۔۔۔
اس بازار کی نگران ہماری کونسلر نجیبہ نذیر کی
ہدایت پر متعلقہ افراد کا واٹس اپ گروپ بنادیا تھا جس میں مشورے اور تجاویز کا
سلسلہ تو ہماری کشور ظفر بہن گوہر نسرین کی مشاورت سے اسٹال کی بکنگ کا فریضہ ذمہ داری سے ادا کر رہی تھیں۔ آئی ٹی کی ہماری پیاری حبیبہ مسلسل بازار کا
پوسٹر بہتر سے بہتر بنا رہی تھی
لیکن ان تمام کے باوجود سطح پر کچھ نمودار نہیں تھا ! اس پر دو قسم کے تبصرے سننے کو ملے :
بھئی آپ کے بازار کی کوئی خبر ظاہر نہیں ہورہی ۔۔۔کوئی
بینر وینر لگائیں نا تشہیر کے لیے!" "
دوسری طرف جنہیں یہ سب کرنا کروانا تھا ، ان کے
مطابق ابھی تو بہت دن ہیں !ہوجائے گا ان شاءاللہ اور ہم نے بھی سب کچھ اللہ
کے حوالے کیا ہوا تھا۔
امریکیوں کو واپس روانہ کیا ۔ساتھ ہی بہن
کو شناختی کارڈ کی تجدید کروائی تو ایک روزہ تربیت گاہ سامنے تھی ! اور ہم ذاتی
اور قومی مزاج کے مطابق سامنے کی چیز پر ہی توجہ مرکوز کرتے ہیں لہذا یہ ہی
کیا ! ہاں البتہ بازار کے دعوت نامے جس میں اسٹالز کی بکنگ کی اطلاعات تھیں ۔فوٹو
کاپی کرواکر شرکاء میں تقسیم کردیے تھے!
اور پھر فروری کے آغاز میں عشرہ
کشمیر منانے کا اعلان ہوا جس میں ہمیں بھی مقدور بھر حصہ لینا تھا ۔۔پوسٹر
بناکر کشمیر واک میں شریک ہوئے اور اپنے جذبات کو مہمیز کیا ! ساتھ ساتھ استقبال
رمضان کے پروگرام بھی شروع ہوچکے تھے۔
ہمیں یوٹرن لینا ہے !"
ان سارے تھکاوٹ بھرے دنوں میں ہمیں
بازار کا منصوبہ ملتوی کرنا مناسب لگا ۔۔یہ بات سنتے ہی نجیبہ بہن ناظمہ علاقہ
صائمہ خورشید کے ہمراہ ہمارے گھر آپہنچیں کہ ہمیں یوٹرن لینے سے بچاسکیں !
چائے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بازار کی تمام
تفصیلات اور جزئیات طے کر لی گئیں ۔ جہان جہاں رابطے کرنے تھے وہ بھی فوری کرلیے
کہ تیاری میں تیزی آجائے۔ ہم نے بھی فلائر کا ڈیزائن پرنٹر کو فوری بھیجا جو رات
11 بجے ہمارے ہاتھوں میں تھا ۔تقسیم کے لیے جمیعت کے بچے کو اگلے دن طلب کیا جنہوں نے دو
دن میں یہ کام کیا۔ کشمیر ڈے کی چھٹی کے بعد بازار کے انعقاد میں محض دو دن
بچے تھے ۔۔
علاقے کی ٹیم نے فوری طور پر بازار کی مجوزہ جگہ کا دورہ کرنے کے بعد رپورٹ دی کہ اس گراونڈ میں تو جھاڑیاں، گندگی اور گٹر کا پانی ہے !۔۔یہ کل کے دن میں کیسے صاف ہوسکے گا ؟ اور صفائی بھی اجازت نامہ سے مشروط ہے جو ابھی تک نہیں مل سکا ہے
ذمہ داران تو مردانہ نظم سے رابطے میں جت گئے جبکہ ہم نجیبہ کے ہاتھ کے بنے ڈیٹ پائ اور دہی بڑے کھا کر کشمیری چائے سے لطف اندوز ہونے لگے
"جان جائے گی اور کیا ہوگا!"
کسی شاعر کا کلام ہمارے ذہن میں گونجا !
اونٹ کے کسی کروٹ بیٹھنے تک اطمینان کی غنودگی تو لے لیں۔۔۔نہیں جی ! یہ
کیسے ممکن ہے ؟ اسی دن شام 4 بجے کشور ظفر کے گھر تمام منتظمین کے ساتھ انتظامی
امور کو حتمی شکل دینے کے لیے نشست رکھی ہے ۔
کس قدر ذہنی دباؤ کے تحت ہم اس نشست میں پہنچے
اللہ ہی جانتا ہے!
اور جیسے ہی وہاں پہنچے تو سلائ مشین مرمت کرنے والے کا فون آیا کہ میں آپ کے گیٹ پر مشین لے کر کھڑا ہوں ۔۔اف ! کل سے منتظر تھی اور ابھی بھی انتظار کر کے نکلی ہوں۔۔۔۔ ۔واپس جاکر اسے فارغ کرنا محال تھا کیونکہ ابھی تو ہماری سانسیں بھی بحال نہیں ہوئی تھیں! خیر اے چینی کے عالم میں نماز عصر ادا کر کے جیسے ہی فارغ ہوئے فون پر خوش خبری ملی کہ اجازت مل گئی ہے اور اب صفائ ہورہی ہے ۔
پروگرام سو !فی صد کنفرم ہے ان شاءاللہ
نشست میں شریک ذمہ داران کے ساتھ انتظامات مکمل کیے اور ذمہ داریاں تفویض کیں۔۔۔پچھلے دو دن میں اسٹالز کی بکنگ خاصی زیادہ تھی ۔اس کا جائزہ لیا ۔بک اسٹال کے لیے کتب خریدنا تھیں۔ مکتبہ جانے کے لیے شہلا لقمان ہمراہ چلیں۔۔۔الحمدللہ دل کو یکسوئی ہوئی جب کاموں کی ایک شکل سامنے آئی ۔۔
جمعہ کادن ! معمول کی قرآن کلاس تھی !
حیرت انگیز طور پر وہ بے چینی نہیں تھی جو امتحان سے ایک روز قبل ہوتی ہے
بلکہ ایک خوشگوار سے جذبات تھے
! مصروفیت کا سارا زور فون پر تھا ! چونکہ تشہیری پوسٹ میں سمیرا ابراہیم نے
ہمارا نمبر برائے رابطہ دیا تھا لہذا اسٹالز کی بکنگ اور ادائیگی کے لیے سب ہمیں
ہی فون کررہے تھے ۔خیر اپنا حدف مکمل ہوتے ہی ہم نے بکنگ ختم کردی اور
اطمینان سے سوگئے ۔۔
*8 فروری 2025 ء*
آج بازار ڈے تھا لہذا وقت سے پہلے انتظامات کے
حوالے سے پہنچنا تھا!
10 بجے جب ہم پہنچے تو اسٹالز لگ رہے تھے
۔۔رخسانہ جاوید ، شہلا لقمان بھی پہنچ گئی تھیں ۔آمنہ خاتون کا گھر تو سامنے ہی
تھا جہاں سے کافی امداد مل رہی تھی ۔۔نگران نجیبہ نذیر بھی مدد گاروں کے
ساتھ آپہنچیں اور جنریٹر وغیرہ کے انتظام کی نگرانی کی ۔ کشور ظفر نے
اسٹالز پر نمبر لگانے شروع کیے ۔فرحانہ ریاض بھی ساز و سامان کے ساتھ موجود
تھیں۔۔۔
دھوپ کی تمازت بتارہی تھی کہ آج گرم دن ہوگا لہذا اسٹالز کے اوپر بھی ڈھانکنے کا انتظام کروایا ۔ساونڈ سسٹم لگایا گیا ۔
تھوڑی دیر میں ہی اسٹالز لگانے والوں کی آمد
شروع ہوگئی ۔۔ ساتھ ہی ہمارے رضاکار بھی آنے لگے ۔۔سمیرا فاروقی اپنی بھانجی کے
ساتھ کتب کارنر سجانے لگیں اور سمیرا ابراہیم اپنے پودوں کا اسٹال!!۔ س کے علاوہ
*استقبالیہ* کے لیے مہرالنسا اپنی ٹیم کے ساتھ موجود تھیں۔
اس موقع پر کچھ نئے افراد جن سے مدد لینی تھی ان
کی معذرت کے پیغامات آنے لگے۔
ان کے ذمے پوسٹرز بنا کر اسٹالز پر لگانے تھے
۔اب کیا کریں ؟ (اس موقع پر ٹین ایجرز کے استعمال میں آنے والے فقرے جو ہمیں بہت
ناپسندیدہ لگتے ہیں خود بخود ذہن میں آنے لگے یعنی ٹوپی کروادی ! ۔۔۔۔۔۔)۔
خیر اب ہمیں اپنی بہن کا انتطار تھا جن سے
اسٹیشنری منگوائی تھی۔۔۔وہ بھی آ پہنچیں۔تو جلدی جلدی پوسٹرز تیار کیے ۔۔
!یہاں ہمارے کارنرز کا بھی ذکر ہو !
*کڈز کارنر* اور *یوتھ کارنر* کی نگران
روبی خان اپنی ٹیم
کے ساتھ تھیں ۔
*ہیلتھ کارنر* کی نگران ڈاکٹر صدف نے
نامساعد حالات کے باوجود اپنا اسٹال سیٹ کرلیا تھا اور کمک آنے تک اس کو سنبھالتی
رہیں
*غزہ/ کشمیر کارنر* کا زکر بہت ضروری ہے! ماہین کسی فرمانبردار بچے کی طرح توقع سے بہتر کام کرتی ہیں ماشاءاللہ ! بڑی رونق تھی یہاں ! بچے یحیی سنوار کے آخری لمحات کی ادائیگی بہترین انداز میں کررہے تھے !
ایک اور فرمانبردار بچہ یعنی منیزہ بہت دور ہونے کے باوجود اپنے حصے کام کر رہی تھیں۔۔۔اپنے متبادل کے طور پراپنی بھانجی عکاشہ کو بھیجا تھا جو اپنے سخت شیڈول کے باوجود بچوں سمیت ذمہ داری نباہ رہی تھیں!
اب ظہر کا وقت ہوگیا تھا ۔اس وقت محفل جوبن پر
آچکی تھی
عاتکہ بچوں کے ساتھ شریک ہوئیں
۔نمرہ بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنے کو تیار تھیں۔۔الخدمت کے اسٹال پر ناظمہ
ابراہیم اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھی تھیں۔۔ نائلہ حسینی بھی ہماری مدد کو
موجود تھیں۔ رقیہ احسان بھی ایک اپنائیت کا ماحول بنائے ہوئے تھیں
ساونڈ سسٹم کے بحال ہوتے ہی ہماری اناؤنسر اعلی
طارق نے کاروائی شروع کردی ! دھوپ کی وجہ سے شرکاء کی آمد سستی کا شکار تھی ایسے
میں مہمیز کرنے والے اعلانات یقینا لوگوں کو متوجہ کر رہے تھے ۔
یہاں یہ بات ہے کہ نہ اسٹیج تھا نہ اسکرین ! گویا رونق لگانے کا مکمل انحصار ہمارے آڈیو سسٹم میں تھا! نغمے، ترانے ہر کان تک پہنچ کر اپنا پیغام پہنچا رہے تھے!
2 بجے کے بعد شرکاء کی آمد میں اضافہ دیکھنے میں
آیا َ
اتفاق سے استقبالیہ اور اس کے خیر مقدمی پوسٹرز
لکھنے سے رہ گئے تھے لیکن مہر النسا نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ یہاں
خوشگوار ماحول رکھتے ہوئے اس کمی کا احساس نہ ہونے دیا
افراد کار کی کمی کا سامنا ضرور نظر آیا۔۔اسی کا
نتیجہ تھا کہ ہمیں بار بار اپنا قرطاس تبدیل کرنا پڑ رہا تھا ! کبھی
انتظامیہ تو کبھی نظم و ضبط تو کبھی صفائ تو کبھی خدمت ! !
اور حد یہ تھی کہ نجیبہ نذیر جنہیں افتتاح کرنا
تھا اپنے ہاتھوں سے میدان میں سے کچرہ سمیٹ رہی تھیں ۔۔۔
ان کے ساتھ کچھ اور ان کے ساتھ کچھ اور بچے بھی لگ گئے
۔اس سے پہلے انہوں نے میدان کے بیچوں بیچ بہنے والے پانی کے اوپر تختے رکھ
کر راستہ صاف کروایا تھا۔۔۔ایک ذمہ دار کی نگاہ کہاں تک جاتی ہے کوئی اندازہ
نہیں کرسکتا !
افراد کار کی کمی کی وجہ کیا تھی ؟
ضلع کا ایک پروگرام جس میں منتطمین کی
کافی تعداد کو ضروری شرکت کرنی تھی ۔۔جن میں افراح، سارہ ذیشان، ڈاکٹر اسما احمد،
قرۃالعین کے علاوہ ہماری ٹاؤن کونسلر سعیدہ اشرف شامل تھیں
یہاں پر ناظمہ علاقہ صائمہ خورشید کا زکر
لازمی ہے جو ابتدا سے ہی اس ایونٹ میں خاص دلچسپی سے شریک رہیں اور انتظامی
امور کے سارے معاملات ان کے ذریعے ہی طے پارہے تھے ۔۔ان کی ٹیم خصوصا افسر سلطانہ
جنہوں نے غزہ کارنر کے لیے پینا فلیکس تیار کروایا اور گوہر نسرین جو اسٹالز کی
بکنگ میں مہارت رکھتی ہیں انتہائی توجہ
اور خوش دلی سے اس سر گرمی میں بھی اپنی مہارت دکھا تی رہیں !
3بجے کے بعد جب ضلع کے پروگرام کے شرکا یہاں
شرکت کے لیے پہنچے تو رونق لگ گئی ۔۔اور اسی وقت خواتین جوق درجوق شرکت کے
لیے داخل ہونے لگیں۔۔ یہ ہی وہ وقت تھا جب کچھ ذمہ داریاں تبدیل ہوئیں اور
ہمیں دوسرے علاقوں سے بھی کمک وصول ہوئی ۔ اسما احمد اور سارہ نے کڈز اور یوتھ
کارنر بالترتیب سنبھال لیا اور استقبالیہ پر اب قرت العین معہ ساتھی
نگران تھیں جبکہ اناؤنسمنٹ کی ذمہ داری اسما نے سنبھال لی ۔
ہیلتھ کارنر میں ڈاکٹر فائزہ اپنی
ساتھی کے ساتھ آموجود ہوئیں۔۔ان کے لیے بہت تعریف دل سے بہت دعائیں نکلیں جب معلوم ہوا کہ اپنے گھر
منعقد بڑی دعوت کے باوجود اپنی ذمہ داری سنبھال رہی تھیں
رونق عروج پر پہنچ چکی تھی ۔۔خواتین
خریداری بھی کر رہی تھیں اور لذیذ پکوان سے لطف اندوز بھی ہورہی تھیں۔۔۔ہم نے بھی
قسم قسم کی چیزیں کھائیں اور کھلوائیں ۔گول گپوں کی مارکیٹنگ بہت ا چھی
تھی ۔اس کے علاوہ حلیم، آئس کریم ، قسم قسم کے سینڈوچز اور میکرونی،
چھولے،دہی بڑے، حلیم ، پزا،شامی کباب ، بن کباب ،کھٹے آلو ۔۔۔۔۔۔۔اور بہت
کچھ !!
سعیدہ اشرف اپنے ساتھ بریانی اور گاجر کا حلوہ
لائی تھیں۔۔جن لوگوں کو ملا ان کے مزے تھے اور جن تک نہیں پہنچ سکا وہ اس کی بابت
پوچھتے پائے گئے
شام ڈھلی تو چائے بننے لگی
۔۔ہم اپنے ساتھیوں کو چائے پلوارہے تھے تو نجیبہ نے ہمیں کشمیری چائے کا کپ
ہاتھ میں تھمادیا۔۔۔
جیولری/ خوشبویات، ملبوسات ، ہوزری اور برتن
وغیرہ کے اسٹالز بھی موجود تھے جہاں خواتین خوب دلچسپی لے رہی تھیں ہم نے بھی خریداری
کی۔۔کچے راشن کا اسٹال بھی تھا جہاں سے ان کی فرمائش پر بیسن اور کھجور خریدی ۔
بچوں کی قوم بے انتہا خوش نظر آرہی تھی کیونکہ انہیں بلاروک ٹوک ادھر سے ادھر دوڑنے کی آزادی ملی ہوئی تھی گویا پکنک کے مزے لے رہے تھے ۔۔مائیں بھی مطمئن تھیں کہ نہ تحفظ کا مسئلہ تھا نہ جگہ کی تنگی !! بچے اپنے اسٹال پر رنگ بھر رہے تھے ، کچھ گیمز کھیل رہے تھے ۔۔اور پھر جب اسما نے نشانہ بازی کا گیم شروع کروایا تو بہت ہی جوش و خروش نظر آیا۔
ہماری ذمہ داریوں میں ایک اہم کام اس بازار
میں داخل ہونے والے مرد حضرات کو ادب کے ساتھ باہر کا راستہ دکھانا تھا ۔۔
ہاں البتہ ایک کو منع کرتے ہوئے ہمیں افسوس ہوا۔
محلے کی دو بچیاں جن کی والدہ انتقال کر چکی ہیں اپنے والد کے ساتھ شریک ہونا
چاہتی تھیں ۔ہم نے ایک بچی کو گود میں لے کر دوسری کی انگلی پکڑ کر پورے بازار کی
سیر کروائی ، دلچسپی کے گیمز کروائے ۔کچھ خریداری ان کے ابو کی اجازت کے ساتھ
ہی ہوئ ۔
والز آئس کریم والا اندر آنے پر بضد تھا اور عین
دروازے پر کھڑا تھا ! کچھ بچوں نے اس سے آئس کریم لینا چاہی تو ہم نے انہیں اسٹال
سے لینے پر راضی کیا اور والز والے کو ہٹنے کو کہا لیکن وہ اتنا ڈھیٹ تھا کہ آخر
تک وہیں جما رہا!
اس بازار کا وقت 6 بجے تک تھا لیکن شرکاء کے اصرار پر اس کا وقت بڑھادیا گیا تھا لہذا اندھیرا ہونے کے باعث لائٹ کا اہتمام کروایا ۔۔۔بہرحال کھانے پینے کا سامان ختم ، سب تھک چکے تھے لہذا بازار سمیٹ دیا گیا ۔تھکن بہت تھی لیکن ایونٹ کے انعقاد کی خوشی میں محسوس رہی تھی!
ہمیں کئی بار یاد آیا کہ پچھلے سال 8 فروری کو ہی اس جگہ کتنا بھونچال تھا ۔لوگ اپنے ووٹ کاسٹ کرنے کو مارے مارے پھر رہے تھے۔
یہاں ہمیں اپنے محلے کے بہت سے لوگ نظر آئے ۔کچھ ایسے بھی جن سے ملاقات کو بوجوہ عرصہ ہوگیا تھا۔۔ایک لڑکی جو دس سال پہلے ہمارے دورہ قرآن میں شریک ہوتی تھی ۔۔شادی کے بعد پہلی دفعہ اپنے بچے کے ساتھ بہت عقیدت سے ملی۔ کچھ بچوں کی خیریت ہم نے دریافت کی تو بولے" ہمیں مما نہیں لے جاتیں! " ہم نے بچوں اور اپنے درمیان رکاوٹ بننے پر ماوں سے شکوہ کیا۔ننھی عمارہ اسرائیلی مصنوعات کی بائیکاٹ فہرست بمعہ متباد ل مصنوعات کی فہرست تقسیم کرتی پھر رہی تھی ۔ بہت پیار آیا !
س روداد کو ختم کرنے سے پہلے کچھ اور بھی کہنا ہےا !
پچھلے سال جنوری 2024 ء میں بھی انتخابات سے
پہلے بازار لگا تھا جس میں ہم نے بہن سروری قدیر کے ساتھ مل کر اسٹال لگایا
تھا! انہوں نے پودے تیار کیے ہوئے تھے اور ہم نے اپنی سلائ کے نمونے رکھے
تھے ۔۔دونوں چیزیں ہاتھوں ہاتھ گئیں ۔۔اس دفعہ سروری قدیر بہت یاد آئیں کیونکہ وہ
ڈاکٹر کے مشورے کے باعث آرام کر رہی تھیں اور ہم ؟
ہمارے پاس اپنے کئی نمونے اسٹال کی زینت بننے کے
لیے تیار تھے لیکن امریکی رشتہ داروں کو تحائف میں دے دیے گئے تھے ۔۔۔ ہم نے مزید
نمونے تیار کرنے کی ہمت کی ہوئی تھی لیکن سلائ مشین کی خرابی نے ہمارے
ارادوں پر پانی پھیر دیا اور جب وہ بن کر آئ تو اتنا موقع نہیں تھا
خیر زندگی رہی تو موقع بھی ملیں گے اور ہم نکال
ہی لیں گے کچھ نہ کچھ موقع!
!
ہم نہ ہمت سے باز آئیں
گے
جان جائے گی اور کیا
ہوگا!
شعر میں *محبت* کو *ہمت* سے بدلنے پر شاعر سے
معذرت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|