اتوار، 1 دسمبر، 2024



*پکنک کہانی*

    نومبر کے آغاز میں جب پکنک کا اعلان ہوا تو ہم نےاپنے عذرات اورتحفظات کے باعث  بے رغبتی کا اظہار کیا

 ہے  یہ معلوم  ہوا کہ گھر والے بھی ساتھ لے جاسکتے ہیں تو ہم نےبھی  دلچسپی  لینا  شروع کیا اور ظاہر ہے ان کو شامل کرنے کے لیے خود بھی جانا ضروری ٹھہرا!  لیکن جوں ہی دن قریب آئے تو ان میں سے کئی کے امتحان کی تاریخ آگئی. اور 22/23 نومبر کو اکثریت کا پیپر تھا۔ ظاہر ہے  وہ فہرست سے نکلے تو ساتھ ہی ان سب  کی والدہ محترمہ بھی! ایک کی بیرون ملک سفر کی تاریخ فائنل ہوگئی   اور کچھ بیمار ہوگئے۔ یوں ہم بھی  زرتعاون ادا کرنے کے باوجود  حیص بیص کا شکار تھے بہرحال کچھ دوسرے لوگوں کو راضی کرتے رہے۔...

بیماری کے باعث معذرت کرلی۔ اور پکنک سے 24 گھنٹے پہلے انکشاف ہوا کہ ہماری  ذمہ داری ایک  بس کی  ہے. کیونکہ  جن کےپاس ذمہ داری تھی

پکنک سے پہلے والی شام  مردانہ نظم نے کمال مہربانی  کے ساتھ ہمیں ڈرائیور کے رابطہ نمبر عطاکردیے۔ اگلے دن مقررہ وقت پر ہم نے  ڈرائیور کو پہنچنے کی ہدایت دی جس پر انہوں نے بروقت عمل کیا.

سب سے پہلے بس میں پہنچنے والی نمرہ عبد الباقی اپنے ننھے منوں کے ساتھ موجود تھیں... وقت کی پابندی پر بے انتہا تعریف !آہستہ آہستہ سب آتے  رہے اور کوسٹر مکمل طور پر بھر گئی۔ اس میں کل 38 مسافر تھے جن میں 21 خواتین اور 2 سے 12 سال کی عمر کے 14 بچے جبکہ 13سے 20 سال تک کی   نوعمر بچیاں  تھیں۔ اس کے علاوہ تفریح، کھیل اور کھانے کا بے شمار سامان!  

سورج  گرم ہورہا تھا اور ہم سب چلنے  کے لیے بے چین کیونکہ جہاں ساری بسوں کو جمع ہونا تھا وہاں وہ ہمارے منتظر تھے  .. اپنے بلاک سے نکل کر جیسے ہی ہم ڈبل روڈ پر آئے تو وہ گاڑی سامنے آگئی جس کا ہمیں انتظار تھا. ہم نے ایک دوسرے کو جوائن  ہی کیا تھا کہ ایک دم ہماری گاڑی رک گئی.. یہ کیا  

 دل وسوسوں میں گھرنے لگا.  سفر کا آغاز ہی میں یہ بات ہوگئی۔  انتظامیہ کی گاڑی بھی آپہنچی... دوسری بس منگوانے پر غورہونے لگا مگر ڈرائیورز کی مثلث نے بالآخر بس کو راضی کر لیا اور چل پڑی۔.

 ٭پکنک کہانی...  2

 

گاڑی  سانس لیتے ہی فراٹے بھرنے لگی اور بہت جلد اس سنگم پر پہنچی جہاں کئی اور گاڑیاں بے چینی سے ہماری راہ تک رہی تھیں اور پھر ان سب کو پیچھے چھوڑتی ہوئ ہماری بس سب سے آگے رواں دواں تھی۔ لو ٹوتھ کے ذریعے بس میں ترانے گونج رہے تھے ٹیکنالوجی کا شکریہ !!

بہت جلد ٹوٹی سڑکوں اور کچرے کے ڈھیر کا سلسلہ ختم ہوا اور ہموار صاف ستھری سڑک پر  سفر شروع ہوگیا 

کیا یہ بھی کراچی کا حصہ ہے؟؟؟ شاید ہم سب یہ ہی سوچ رہےتھے..!! 

اور پھر شہری  حدود مدھم پڑنے لگی اور ملیر ندی کے ساتھ عمارتوں کے بجائے قصباتی مناظر اور ماحول سامنے تھے.

اور 12 کلو میٹر کا فاصلہ  25 منٹ میں طے کر کے ہم شمسی فارم ہاؤس پہنچ چکے تھے... اتنی جلدی!!!  گھڑی دیکھی تو ابھی پونے دس ہی ہوئے تھے...

اندر داخل ہوتے ہی مٹی اور گھاس کی خوشبو نتھنوں سے ٹکرائ  اور  آنکھوں نے ایک خوشگوار سا منظر دیکھا...

 !! گہری گہری سانس لی... جیسے ایک نشئ اپنے نشے کو سونگھتا ہے 

بس سے اتر کر کوئی جانوروں کی طرف بھاگا تو کسی نے سوئمنگ پول کی راہ لی مگر سب سے پہلے ناشتہ کرنا ہے کیونکہ آنے کی جلدی میں  کسی نے ڈھنگ سے ناشتہ کیا بھی تھا تو اب تک ہضم ہوچکا تھا.. کچھ  خواتین موشن سکنیس سے نڈھال ہوتی ہیں اب کھلی فضا میں کچھ بحال ہورہی تھیں۔

ہمارے کچھ ساتھی جو گاڑی کے زریعے یہاں پہنچے تھے ایک دوسرے کو دیکھ کر اتنا خوش تھے گویا برسوں بعد ملاقات ہوئی ہو

 ایک دلچسپ مکالمے سننے کو مل رہے تھے 

ارے یہ تم ہو؟ 

اللہ آپ کتنی مختلف لگ رہی ہیں

اف پہچاننا مشکل ہے 

یہ اس لیے تھا کہ ہمیشہ ایک دوسرے کو حجاب اور نقاب میں دیکھتے ہیں اور یہاں اب بے فکری سے گھریلو انداز میں تھے کی صنف مخالف کا دور دور تک گزر نہ تھا. فارم ہاؤس کے کمرے  دیدہ و دل فرش راہ تھے مگر وہاں شاید ہء کوئی بیٹھنے کو تیار. گھروں میں تو لاؤنج سے کمرے تک بیٹھتے ہی ہیں آج تو کھلی فضا سے لطف لینا ہے چنانچہ فرش پر درختوں کے نیچے ہی چادر بچھا کر دستر خوان سج گئے. جو خواتین نیچے نہیں بیٹھ سکتیں وہ کمرے کے باہر بنے چبوترے کو ڈائننگ ٹیبل بناتے ہوئے ناشتہ سے لطف اندوز ہونے لگیں۔.

سب ایک دوسرے کو نوالے بنا بنا کر دے رہے تھے.. 

 ہر طرف تواضع ہورہی تھی حلوہ پوری تو چنے کا سالن... کسی نے گھر میں اگائ پیاز کا بنا آملیٹ ہمارے منہ میں ڈالا تو کسی نے  ابلے انڈے کا سنڈوچ، تو کسی نے شامی کباب !

ایک خاتون نے ہم سے  ہاتھ دھونے کےصابن کا مطالبہ کیا اور ہم ہونق ہوکر انہیں دیکھنے لگے ... بیگ میں رکھے پولی فیکس مرہم ،پٹرولیم جیلی، کاٹن / بنڈیج ، قینچی نظروں میں آگئے لیکن صابن ندارد! صفائی کے ذمہ دار کی حیثیت سے ہمیں اس کا خیال کیوں نہ آیا؟ 

خیر ایک سگھڑ خاتون کے بیگ سے صابن برآمد ہوا تو ہم نے سکھ کا سانس لیا..  

ناشتے سے فراغت کے بعد ہمیں کچرہ سمیٹنا تھا مگر یہاں سب کچھ سیلف سروس کے تحت ہورہا تھا لہذا ہمیں بالکل بھی محنت نہیں کرنی پڑی بلکہ سب نے خود ہی اپنا 

پھیلاوا سمیٹااور اپنی اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے۔۔۔۔

٭ پکنک کہانی                  ۔۔۔3

 

.. ناشتے کے بعد سب  بے چینی سے چائے کے منتظر تھے..کہ اس کا وعدہ تھا

اور *تھا جس کا انتظار وہ آگیا* کے مصداق، اس کی آمد نے ایک ہلچل سی مچادی..

سب قطار میں کھڑے تھے ایک عجیب گہماگہمی تھی.. حد تو یہ کہ جو تھرماس میں لانے والی چائے سے مستفید ہوچکے تھے وہ بھی اسی دلجمعی سے اس چائے کے انتظار میں تھے کہ اس کا لطف اور مزہ ہی کچھ اور تھا.

ہماری علاقے کی ناظمہ سعیدہ اشرف اپنے نائیبین صائمہ اور گوہر کے ہمراہ اس کی ترسیل میں ہماری میزبان ثروت شمیم اور حمیرا امان (جو ہم سے پہلے ہمارے استقبال کو  موجود تھی) کے ساتھ مسلسل  چائے کی ترسیل کی جدو جہد میں مصروف تھیں..

اللہ اللہ کر کے یہ مرحلہ طے ہوا تو لوگوں نے اپنی اپنی چھوڑی ہوئی سر گرمیاں دوبارہ شروع کر دیں.بلکہ کچھ لوگوں نے تو چائے کا وقفہ بھی نہیں کیا تھا

اب کہیں کرکٹ میچ شروع ہوگیا تو کہیں فٹبال، کہیں کہیں بیڈ منٹن کی پریکٹس اورکچھ جھولے پر لدگئے.. کچھ جانوروں کو بچا کھچا کھانا کھلانے لگے تو کچھ پانی کے


کیڑے پول میں جمپنگ !!

اور جو خواتین یہ سب کچھ نہیں کر رہی تھیں وہ کیا کریں؟. گھر میں ہوتیں تو گھر سمیٹ رہی ہوتیں،  برتن، کپڑے، بستر، بکھیڑے ہی بکھیڑے ہوتے ہیں. کچھ بچوں، گملوں/ پودوں/ جانوروں کی سیوا بھی کرتی ہیں..  اب یہاں تو فرصت ہی فرصت تھی نہ ماسیوں کا انتظار نہ ہی کھانے کی فکر !

دل ڈھونڈتا ہے فر صت کے وہی رات دن کہ بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

اب ان کے پاس باتوں کی مہلت ہی مہلت تھی. گھر کے قصے، بچوں کی باتیں، اپنا بچپن، کچھ اپنی مہارتوں کا ذکر تو نئی نسل کی سستی اور کاہلی پر مذاکرہ جاری تھا.... 

 کھانے کی ترکیبیں سکھائ جارہی تھیں!! 

باغبانی اور گھریلو مہارتوں میں عبور رکھنے والی ہماری ایک بہن للچائی ہوئ نظروں سے اونچائی پر املی کے پیڑ پر لٹکتے ہوئے کتارے دیکھ رہی تھیں اور سب کو اکسا رہی تھیں کہ اس کے پتے بھی مزے کے ہوتے ہیں  . 

جی بہت کھٹے ہوتے ہیں.... 

مگر املی کے پیڑ پر جن ہوتے ہیں !

ہم نے انہیں اسی طرح ڈرایا جیسے ہمیں بچپن میں ڈرایا جاتا تھا..  دراصل انہیں اس اڈونچر سے باز رکھنا تھا کہ کہیں وہ انہیں توڑنے کی کوشش  میں کوئی حادثہ نہ کرلیں ! )               یہ کوئ گھر تو نہیں تھا جس کی چھت کے جالے وہ کل برش سے جھاڑ کر آئ تھیں۔..) 

ہم بھی اس محفل میں سامع کی حیثیت سے تھے کہیں کہیں لقمہ دیتے..یہاں کی خاص بات یہ بھی تھی کہ اگر کوئی خاموش بیٹھ کر غور و فکر  میں   مصروف ہے تو اسے بھی آزادی تھی کہ کوئی مخل نہ کرے!

دائیں طرف  دادی جان اپنی پوتیوں کو جھولا جھلا رہی تھیں تو  آگے بائیں طرف پانی کے تالاب میں نانی جان اپنے نواسے نواسیوں کے ساتھ غوطے میں مصروف !ہم اپنی پیاروں کو یاد کررہے تھے جو اس وقت امتحانی کمروں میں قلم اور کاغذ سے بر سر پیکار ہوں گی! یاد آتے ہی آسانی کی دعا نکلی! کچھ بچھڑے مل رہے تھے تو کہیں نئی دوستی کا آغاز ہورہا تھا... ہم ہر وقت شکوہ کرتے ہیں کہ لوگوں سے ملاقات کا وقت نہیں ملتا  یا لوگ نہیں ملتے!.

یہاں یہ دونوں سہولتیں وافر مقدار میں موجود تھیں...آتے جاتے سلام دعا تو ہوہی رہی تھی. مسکرا کر دیکھنے کے صدقے کا بھی اہتمام دل کھول کر ہورہا تھا...  کہیں بامقصد ملاقاتیں تھیں تو کہیں سرگوشیوں میں تبصرے، کہیں رشتے ناطے بھی جوڑے جارہے تھے.. 

تھوڑی دیر بعد ناظمہ ضلع ندیمہ تسنیم اور نائب رفعت بشیر بھی پہنچیں اور سب میں گھل مل کر باتوں میں مصروف ہوگئیں

ندیمہ بہن سے بات کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ ان کے بیٹے کا جبڑا زخمی ہے اور کل آپریشن ہے

اسلامیہ کالج کو منہدم کرنے پر احتجاج کرنے والوں پر تشدد کے نتیجے میں

اف!!! 

میں نے ان پر نظر ڈالی تو مامتا کی روشنی دیکھی جو ستر ماؤں سے زیادہ رحم کرنے والی ہستی پر بھروسہ کرنے پر  ان کے چہرے سے پھوٹ رہی تھی.... 

: اس کہانی کو لکھتے وقت یہ طے کیا ہے کہ سوائے ذمہ داران کے کسی کا نام نہیں لکھنا ہے 

کیونکہ جس کا نام لکھنا بھول جاؤں اس کی ناراضگی کا خطرہ 

اور دوسری طرف جس کا لکھوں اس کے ناراض ہونے کا اندیشہ کہ میری بات کیوں لکھی 

لہذا اس میں اپنے آپ کو خود تلاش کریں!!!



*پکنک کہانی... 4 

اب 12 بجنے والے تھے..  کچھ کچھ تھکاوٹ لگنے لگی تھی کہ  تیاری میں نیند بھی ڈھنگ سے نہیں آئ اور سویرے بھی جلد اٹھے تھے...

باتیں بنانے والا گروپ بھی اب کچھ نڈھال ہوکر کمر ٹکا رہا تھا تو ہم کچھ نئی ملاقاتوں کے لیے پول کی طرف لپکے! کچھ پرانے لوگوں سے تفصیلی ذاتی باتوں کا ارادہ تھا وہ  تو نہ ملے البتہ غیر متوقع طور پر ایک نند بھاوج سے ملاقات ہوگئی۔ 

  اس کے بعد باغ کی طرف چلے جہاں  خزان رسیدہ گھاس پر جگہ جگہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے تو کچھ درخت کے تنوں  پر ٹکے ہوئے تھے. ہم نے بھی کچھ سے ملاقاتیں کیں.  یہاں سیلفیز لینا آسان تھا کہ لوگ دور دور تھے اور کسی کی پرائیویسی پر کوئی ضرب پڑنے کا امکان نہیں تھا .. یہاں وہاں  گھوڑے ٹہل رہے تھے. گھڑ سواری کا خیال آیا مگر اس کے لیے یقیناً کسی  سائیس کو آنا پڑتا جس کی گنجائش نہ تھی.. 

بہت دور ایک بیل بھی کھڑا تھا. ہم تو ان جانوروں کے قریب بھی نہ پھٹکے کہ کیا بھروسہ کب دولتی جھاڑ دے..؟ 

 پھر گھوم گھام کر واپس اپنے چبوترے پر آکر بیٹھ گئے..

۔ ہم نے آگے بڑھ کر استقبال کیا  کچھ سوتی جاگتی کیفیت تھی کہ دیکھا سامنے سے آمنہ عثمان اور رخشندہ منیب  خراماں خراماں چلی  آرہی ہیں!

اب چونکہ فرصت تھی اور نماز ظہر کا وقت ہوچلا تھا. تو اول وقت میں نماز ادا کرنے کا موقع  ملا... بہت ہی پرسکون سے ماحول میں بنی  خوب صورت چھوٹی سی مسجد میں نماز کا لطف ہی کچھ اور تھا... سامنے  حد نظر تک ہریالی بہت بھلی لگ رہی تھی... کچھ بہنوں نے مسجد کے سامنے رکھے بنچ پرنماز ادا کی تو کچھ نے مسجد کی منڈیر پر

  سب پوری ہی پڑھ رہےتھےیہاں یہ بحث نہیں تھی جو عموماً پکنک پر ہوتی ہے کہ قصر پڑھیں؟ یا مکمل نماز؟ 

 ایک اور بات جو یہاں محسوس ہوئی کہ مائیں بہت پرسکون تھیں. انہیں بچوں کی ہروقت کے جھگڑے نمٹانے سے فرصت تھی کیونکہ ہر بچے کو اپنی اپنی دلچسپی کا ۔سامان بھرپور مل رہا تھا تو اسکرین کے لیے کوئی چھینا جھپٹی نہیں نظر  آئ


...

*پکنک کہانی.. آخری حصہ*

 

نماز سے فارغ ہوئے تو خاصی گہماگہمی نظر آئ..  گھاس پر چادریں بچھ رہی تھیں.. کرسیاں جتنی بھی موجود تھیں لگائ جا رہی تھیں.. بیٹھنے کے لیے کچھ درخت کے تنے بھی موجود تھے 

آڈیو سسٹم اور مائیک بھی لگایا جارہا تھا یقیناً کچھ تذکیری اور تفریحی پروگرام کی تیاری ہے..

حیرت انگیز طور پر  اکثریت نظم و ضبط سے آکر  پرسکون انداز میں آکر بیٹھ گئی.. ہمیں جس گروپ میں جگہ ملی وہ کوئٹہ سے تھا.. ہم سمجھے کوئٹہ ٹاؤن سے آئے ہیں مگر معلوم ہوا یہ ساری خواتین زندگی کا بیشتر حصہ کوئٹہ میں گزار چکی ہیں... ہمیں تو کوئی خاص فرق نہیں لگا تھا لیکن  نئی دوستی ہونے والی خاتون کی نوعمر خوش مزاج بچی عائشہ نے اپنی والدہ  کو کچھ اور خواتین کی بابت بتایا کہ وہ  کوئٹہ کی لگ رہی ہیں..

 ہم اس کی مشاہدانہ قوت کے قائل ہوگئے

اس گروپ میں بیٹھنے سے ہمیں  کوئٹہ کے بارے میں مفید اور مطلوبہ معلومات ملیں.... 

جلد ہی زمہ داران کرسیوں پر متمکن ہوگئے اور پروگرام کا آغاز ہوا. تلاوت اور نعت تک تو مائیک نے کام کیا لیکن باہمی گفتگو کے وقت ناراض ہوگیا.. 

بہت افسوس رہا.. یقیناً کچھ متبادل ہونا چاہیے تھا ۔ اس دوران بریانی کی تقسیم  شروع ہوگئی ۔ اورہمیں اپنےسامان میں موجود پلیٹ چمچے یاد آئے ! 

اپنی بھانجی، بھتیجی جیسے لوگوں کو بھاگتے دوڑتے کام کرتے دیکھ کر بہت پیار آرہا تھا

سب خاموشی سے کھانے میں مصروف تھے.  تھوڑا ساکھا کر ہم نے اپنا بریانی کا ڈبہ بند کردیا کہ اس وقت اتنی ہی بھوک تھی اور پھر عائشہ نے جو ہماری تواضع کی.. جوس پلایا، ٹافیوں کا شاپر سامنے کیا تو ہم نے اپنی پسندیدہ ٹافی اٹھائ اور اس کے بعد  کہیں سے مٹھائی کا ڈبہ آگیا. بھرپور لنچ ہوا اور پھر عائشہ نے چگنے کے لیے سورج مکھی کے بیج بھی دے دیے۔...

کھانے پینے کا سامان دیکھ کر کوے بھی جھپٹنے کو تیار ہورہے تھے. منتظمین نے کمال مہربانی سے شاپر میں کچرہ جمع کرنا شروع کردیا. کچھ نے بریانی کے خالی ڈبے بھی احتیاط سے جمع کیے

نوجوان خواتین کے لیے علیحدہ نشست بچھائ جارہی تھی.. اس سے پہلے کہ  گفت و شنید  کا آغاز ہوتا وہ بیل جو انتہائی کونے میں نظر  آیا تھا جھومتا جھامتا اس نشست میں  آ پہنچا.. تمام لڑکیاں چیخ مار کر بھاگیں تو وہ آگے بڑھتے ہوئے ہماری طرف بھی آنے لگا. اور ہم  خواتین جو ہلنے کو بھی تیار نہ تھیں اور لڑکیوں کے ڈرنے پر انہیں  پرسکون رہنے کا کہہ رہی تھیں اب اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر چپلیں چھوڑ کر بھاگیں..  

کسی بہادر لڑکی نے اس کی رسی پکڑ کر اسے گرل سے باندھنے کی کوشش کی مگر وہ منہ زوری سے بھاگنے لگا. ایک دم بھگدڑ مچ گئی خیر اس کا نوعمر سا خدمتگار آکر اسے لے گیا تو سکون ہوا.مجھے لگا اسی نے رنگ میں بھنگ ڈالنے کے لیے بیل کو دوڑایا ہوگا!! 

 مزے کی بات یہ تھی کہ کرسیوں اور اسٹولز پر متمکن  خواتین جو اپنے سارے کاموں کے لیےاپنے بچوں کو دوڑا رہی تھیں.. اس ناگہانی پر کرسیوں سمیت بھاگیں.. واقعی جان سب کو پیاری ہوتی ہے!.

سب پرسکون ہوئے تو *کھو کھو* کھیلنے کا پروگرام  بنا.. اس پر نوجوانوں کا حیرت کا اظہار کہ یہ کیا ہوتا ہے؟

ہم نے کہا ٹک ٹاکر کہہ کر کھلواتے تو سمجھ پاتیں ۔۔۔۔۔!!! 

تعجب خیز بات ہے کہ ہم اپنی زبان کے ساتھ اپنے کھیل بھی بھولتے جارہے ہیں؟؟

اس دوران چائے  کی ٹنکی آگئی. ہم خالی کپ لے کر قریب پہنچے تو ہماری ایک مہربان ہستی نے ہمیں جلدی سے اسے بھر دیا!

بزرگی کا اپنا ایک الگ فائدہ ہے!

لان سے واپس آنے لگے تو سورج  جھکتا  محسوس ہوا چنانچہ مسجد سے ملحق وضو خانے سے تازہ وضو کرکے  نماز عصر بھی اولین وقت میں ادا کرکے ہم اپنے چبوترے پر



آبیٹھے. پرندوں کی تسبیح کا  وقت شروع ہوگیا تھا. ان کی چہچہاہٹ اللہ کی بزرگی بیان کررہی تھی.. سبحان اللہ !!!  

کچھ لوگ ہم سے پوچھ رہے تھے کب واپس چلیں گے جبکہ جن  کا دل ابھی نہیں بھرا تھا ہم سے کہہ رہے تھے 5بجے چلیں گے 

... اور دونوں گروپوں کو ہمارا ایک ہی جواب ہوتا 4.30 پر!

اور واقعی ہم سب سمیٹ کر ٹھیک مقررہ وقت پر گاڑیوں میں سوار ہوگئے  اور  سوا پانچ بجے اپنے گھر کے اندر داخل ہوگئے...

باقی سب بھی یقیناً کچھ آگے پیچھے گھر پہنچ گئے الحمدللہ !!

ایک تھکادینے والا دن جوخدشات سے شروع ہوکر طمانیت پر ختم ہوا


جمعہ، 29 نومبر، 2024

پکنک رے پکنک !

 

پکنک رےپکنک !




بچپن میں کہانیاں پڑھتے ہوئے پکنک کا لفظ بڑا دلچسپ لگتا تھا اور ہم ابا سے اس کی ضد کرتے جواب میں وہ فرماتے

لان میں بیٹھ کر کھانا پینا کرلیتے ہیں پکنک ہوجائے گی اور ہم روٹھ کر کہتے

                                                                                        "وہ تو روز ہی شام کی چائے پیتے ہیں "

اور یوں اپنی فرمائش کےپرخچے اڑتے دیکھتے

ابا جان کے لیے تفریح کا مفہوم کچھ یوں تھا کہ وہ چھٹی کے دن ہمیں اپنے مضافاتی علاقے. میں رہایش پذیر کسی رشتہ دار سے ملاقات کو لے جائیں. ایک تو وہاں پہنچنے کا تکلیف دہ سفر اور پھر ان عزیزوں کی  حد سے بڑھی ہوئی لگاوٹ

مثلاً ہماری پلیٹ میں حد سے زیادہ کھانا بھر کر انتہائی اصرار سے کھلانے بلکہ منہ میں ٹھونسنے کی کوشش!،

اپنے تمام دور دور تک کے پڑوسیوں کو ہمارا دیدار کروانا... ہمیں یہ سب کچھ بہت بیزار کردیتا... 

پھر وقت بدلا. بھائ بہنوں کی اولادوں کے ساتھ تفریح گاہوں کی سیر ہوئ. قائد کے مزار سے کلفٹن، سی ویو، الہ دین پارک، کیماڑی سے کشتی کے ذریعے منوڑا..، اور سند باد تو سفاری پارک... شہر کا کونا چھان مارا.. شہر کے ہر ریسٹورنٹ پر حاضری دینا... دلچسپ بات یہ کہ ابا بھی اب اس تفریح میں بھرپور مزہ لیتے امی جان تو پہلے ہی سیر کی بہت شوقین تھیں مگر یہ سب ہماری نظر میں پکنک سے زیادہ فیملی گیدرنگ ہی رہی.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسری طرف اسکول والے بھی سالانہ تفریح کو لے جاتے مگر اساتذہ کی کڑی نگرانی کے باعث وہ کچھ  اتنا زیادہ  خوشگوار تاثر نہ چھوڑتا.. اور پھر وہاں بھی سوال کی بھرمار مثلاً 

 کا نام کیوں رکھا گیا ؟Sands Pit

ہمارے جسم میں کون سا اس نام کا عضو ہے؟

یاپھر لڑکوں سے کرکٹ کے بلے کے متعلق سوالات. یہ کس درخت کی لکڑی سے بنتے ہیں؟  یہ ایک طرف سے چپٹے اور دوسری طرف سے ابھرے کیوں ہوتے ہیں؟ 

یقیناً یہ سب ہمارے علم میں اضافے کے لیے ہوتا ہوگا مگر ہمیں سمندر کنارے پکنک مناتے ہوئے کلاس روم کا ماحول سخت بیزاری کا باعث بنتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


 تاریخ کی معلمہ ایک دفعہ آٹھویں نویں جماعتوں کو عمر ماروی کے دیس  لے گئیں... ہم اس وقت نویں میں تھے

وہاں گروپ بنا کر کھانے کے آئٹمز تقسیم کر دیے گئے ہمارے گروپ کو شامی کباب ملے تھے.... ہم 8/9 لڑکیاں کباب لیے بیٹھی ہیں... اور مختلف ذائقہ کے کباب کھا رہی ہیں. اتنی عقل اور ہمت نہ ہوسکی کہ کسی دوسرے گروپ کے ساتھ مل کر کچھ اور چیز سے بھی لطف اندوز ہوتے. اب یہ تو معلمات کی زمہ داری تھی مگر وہ تاریخ، جغرافیہ اور ادب کی بحث میں الجھ کر ہمیں بھلا بیٹھی تھیں ۔ 

پھر اعلیٰ تعلیم کے دور میں بھی طلباء کی مخلوق مطالعاتی دورے کو پکنک کا رنگ دینے کی کوشش کرتی  جس کو اساتذہ ناکام بنانےکی کوشش کرتے لیکن    طلبہ  اکثر کامیاب رہتے مگر پھر بھی ایک قسم کی پابندی ہی رہتی کہ 

*اتنی دیر میں یہ کرنا ہے

*اگلے پوائنٹ تک پہنچنا ہے

*اپنے مشاہدات درج کرنے ہیں!

* تازہ دم ہونے یا نماز پڑھنے میں زیادہ وقت نہیں لگانا ہے.... وغیرہ وغیرہ 

........ 

پھر معلمی کا زمانہ ہے،

بچوں کوپکنک پر لے جانا ایک درد سر سے کم نہ ہوتا. گن کر چڑھانا اور پھر گنتی کر کے اتارنا، نظم و ضبط برقرار رکھنا.... 

تو جناب یہ ساری تفصیلات ہیں کہ ہمیں پکنک سے کوئی رغبت نہیں لگتی اور ہم بیزاری سے اس کا منصوبہ سنتے ہیں .. 

..... 

نوٹ : یہ ایک پکنک کی روداد کا ابتدائیہ ہے

 


منگل، 27 اگست، 2024


 
 




   نہیں ہے مگر پھر بھی ایک تخلیقی عمل ہے  !state of the art  یہ  کوئی

جی ہاں ! یہ پینٹ برش سے نہیں بلکہ کپڑے کی دھجیاں جوڑ کر بنایا گیا ہے ۔۔ہم رلی کے اعلی نمونے دیکھتے رہے ہیں جو ڈیزائننگ کر کے بنائے جاتے ہیں مگر یہ وہ بھی نہیں ہے 

آئیے! اس کی بناوٹ کے مندرجات دیکھتے ہیں۔۔

گھر پر سلائ ہو تو بڑے سوٹوں میں سے گھر یا خاندان کے ننھے منے بچوں بچیوں کا پہناوا بھی نکل ہی آتا ہے لیکن پھر بھی بہت سی آڑھے ترچھے ٹکڑے بچ ہی  جاتے ہیں۔۔

کچھ زمانے پہلے کے بچے ان سے گڑیوں کے کپڑے تیار کرلیتے تھے لیکن آج کے ڈیجیٹل دور کے بچے یہ کارنامے اسکرین پر انجام دیتے ہیں   ۔ایسے میں یہ کترنیں ایک بوجھ بن جاتی ہے ۔

کرونا کے بعد سے ہمارے بھی آن لائن اوقات بڑھے ۔۔یوٹیوب کے ذریعے نئی نئی چیزیں دیکھنے اور سیکھنے کو ملیں۔۔ان میں ان کترنوں کو کسی خاص ڈیزائن کے بجائے جہاں اور جیسا کی بنیاد پر جوڑ کر تجریدی انداز میں چیزیں تیار کرنے کی ویڈیو دیکھنے کو ملیں ۔۔

تو جناب یہ ہمارے مختلف سوٹوں سے بچے ٹکڑے تھے جنہیں کپڑے کے ایک ٹکڑے پر جوڑتے گئے اور پھر اس کے نیچے اس سے ملتے جلتے کپڑے کا استر لگایا۔لیجیے ہمارے کچن کے لیے ایک دستر تیار ہوگیا جس سے بہت سے کام لیے جاسکتے ہیں۔ 

ہمیں ان کترنوں سے الجھتے دیکھ کر ایک بچی نے معصومانہ بات کہی کہ آپ کسی کو دے دیا کریں ( مطلب ہماری کنجوسی پر خفیف سا طنز سمجھ لیں !)

چلو گھر کی ماسی کو دے دے دیتے ہیں! ہم نے بھی ترنت سوچا لیکن وہ اس کا کیا کرے گی ؟ اس کے پاس نہ وقت ہے نہ ہمت ، نہ وسائل نہ ہنر ! وہ تو اس کو اٹھا کر پھینک دے گی( جیسا کہ اس سے پہلے تجربہ کیا جاچکا ہے ) نتیجتہ؟

ماحول میں آلودگی کا اضافہ ؟؟؟/    جسے ذرا سی محنت کرکے کم ازکم  اپنی حد تک  تواسے کم کیا جاسکتا ہے ۔!

آپ اسے ایک پسماندہ ملک کے غریب عوام کی مجبوری نہ سمجھیں کہ ہم نے یہ آئیڈیا ترقی یافتہ ممالک کی تعلیم یافتہ مرد و خواتین کے ہنر کو دیکھ کر اپنایا ہے۔۔ اور پھر یہ ہمارے کلچر کا بھی ایک اہم ہنر ہے !

ماحول کی صفائی اور ذہنی سکون گویا دہرا فائدہ ہے ۔۔آزما کر دیکھیں۔۔ہم اپنی  اس تخلیق کو جب جب استعمال کرتے ہیں اپنے موجودہ اور سابقہ سوٹوں کی باقیات دیکھ کر طراوٹ حاصل کرتے ہیں 

#reuse 

#recycle 

#rethink 

#rebuild

#reduce

 


منگل، 12 ستمبر، 2023

محبت پنکھ پکھیروں کی! آخری حصہ




محبت پنکھ پکھیروں کی !

آخری حصہ

تیمی اور عارف کی کہانی ختم ہوتی ہے تو مزید کرداروں  کے ساتھ کہانی اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھتی ہے۔ ظفر اربائے اپنے زوال کی طرف گھسیٹا جاتا ہے جس سے بچنے کے لیے وہ کافی سرتوڑ کوششیں کرتا ہے ۔

تیمی کے قاتلوں  اور تھامس کو ( بوجہ اپنی گرل فرینڈ کے بہکانے کے !) قتل کرنے کے بعد وہ امریکی مفادات کی کونسل  کے آگے جواب دہ ہوتا ہے  جو اسے اپنے    معاملات بہتر   بنانے کا  ایک  موقع  اور دیتی ہے  ۔ دوسری جانب کمیونسٹ پارٹی اپنا دائرہ کار طلبہ کے ساتھ  ساتھ مزدوروں تک پھیلانے کا منصوبہ بناتی ہے۔ جس کا آغاز ظفر اربائے کی فیکٹری میں ہڑتال سے ہوتا ہے ۔  اور اس کا منصوبہ ایڈمرل  نام سے شناخت رکھنے والا فرد ہوتا ہے اور یہ کوئی اور نہیں ظفر کا بہت قریبی دوست  شریف ہوتا ہے .۔ہڑتال کے دوران  ایڈمرل  اسنائپرکے ذریعے  ایک  کامریڈ مزدور کو ختم کردیتا ہے لہذا فسادات  کی آگ دور تک پھیل جاتی ہے۔ ان سارے چیلنجز  کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ اپنی فیملی کو  ملک سے باہر بھجوادیتا ہے۔  ( جی ہاں ! اشرافیہ کا یہ ہی اصول ہے کہ  دوسروں کے بچے مرواؤ                اور اپنے بیوی بچے  محفوظ اور پر امن مقام پر منتقل کردو ! ) ۔ طلبہ یونین پر پابندی لگا کر دفاتر سیل کردیتا ہے اور احتجاج پر   اسلامی طلبہ کو پولیس گرفتار کرلیتی ہے ۔ دوسری طرف عمر عارف کی شہادت کے بعد غم و غصے میں ہے لیکن جب اسے  انسپکٹر جمیل  سے معلوم ہوا کہ بم کا مواد غیر ملکی تھا اور یہ چند افراد  کی دسترس میں ہے جن میں  مافیا کا اسحاق بھی ہے  تو وہ  اسحاق کے گروہ میں شامل ہوجاتا ہے کہ اس کے ذریعے ظفر تک پہنچ سکے ۔  اسحاق  بطور امتحان اسے  ایک ہدف دیتا ہے ۔  اور وہ ہدف تھا اسحاق کے ہاتھوں بیچی گئی بندوقوں کی بازیابی !  اس کی تفصیل آگے ہے ۔


قبرص تک اسلحے کی رسائی کیسے ہوئی ؟

 16 ویں قسط کا آغاز قبرص  کے مناظر سے ہوتا ہے جہاں یونانی فوجیں  قتل و  غارت گری میں مصروف ہیں ۔ وہاں  کے رہائشی اپنی جمع پونجی او ر زیورات  ایک مجاہد عاصم  کے حوالے کرتے ہیں کہ وہ ترکیہ سے اسلحہ لے کر آئے تاکہ وہ اپنی حفاظت کر سکیں ۔ وہ کشتی کے ذریعے استنبول  روانہ ہورہا تھا تو ایک خاتون کو اس کے سامنے  شہید کردیتے ہیں وہ اس بچی کو لے کو  استنبول جاتاہے ۔  وہاں پہنچ کر اس بچی کو ہسپتال لے کر جاتا ہے تو وہاں ڈاکٹر الیف سے ملاقاا ت ہوتی ہے ۔  وہ بچی ان  دونوں کے درمیان تعلق کا  ذریعہ بن جاتی ہے ۔  وہ اسے یتیم خانے میں داخل کروادیتے ہیں جہاں الیف اور اس کی بہن لیلیٰ( صحافی) نے بھی پرورش پائی تھی۔

عاصم پیشے کے لحاظ سے ایک میکینیکل انجینیر ہے ایک ذہین، قابل اور جری نوجوان جو اسلام کی محبت سے سرشار ہے ۔ موقع شناسی  اور حاضر دماغی میں ماہر ایک رحم دل  انسان !  وہ ادائیگی  کرکے   اسحاق سے اسلحہ لیتا ہے  جو اسے قبرص روانہ کرنا ہے ۔ اس کی خبر انٹیلیجنس کے ذریعے ظفر تک پہنچتی ہے  تو وہ اسحاق پر چڑھ دوڑتا ہے اور اسلحہ واپس لینے  کا حکم دیتا ہے ۔  اسحاق  عمر سے کہتا ہے کہ اسلحہ چوری ہوگیا ہے اسے  واپس لانا ہے ۔ یہ تھا عمر کا ہدف  ! عاصم اپنی جان پر کھیل کر زخمی ہونے کے باوجود  اسلحہ قبرص روانہ کردیتا ہے ۔ عمر اس کا تعاقب کرتا ہوا  انسپکڑ جمیل کے گھر پہنچتا ہے۔  وہاں وہ دونوں ایک دوسرے پر  بندوق تان لیتے ہیں تو  انسپکٹر انہیں حقیقت بتا تا ہے ۔ وہ  دونوں گلے ملتے ہیں اور ایک منصوبہ بناتے ہیں کہ  عمر پر اسحاق کا اعتبار   قائم ہوجائے۔

انٹیلی جنس آفسر  باقر  ظفر کا پالتو ہے اور اس کے ہر ناجائز کام میں  اس کے حکم کا پابند ہے ۔ اسے بے نقاب کرنے کے لیے ایک  انسپکٹر جمیل اور عاصم  ایک منصوبہ تیار کرتے ہیں ۔   عمر کے ذریعے   انہیں یہ خبر ملتی ہے کہ باقر غیر ملکی اسلحہ اسحاق   کے ہاتھ بیچے گا۔  اس موقع پر پہنچ کر  لین دین کی تصویر عاصم اپنے کیمرے سے  ریکارڈ  کر لیتا ہے ۔ یہ تصویر  باقر  کے خلاف ثبوت  کے طور پر استعمال ہوتی ہے ۔ اس کی اشاعت پر ظفر اسے اپنےعہدے سے  استعفیٰ دلوادیتا ہے اور اسحاق  کو بھی  ٹھکانے لگانے کی ترکیبیں  کرتا ہے ۔  اس موقع پر عمر  اسحاق  کو جھنجھوڑتاہے کہ جس کے لیے تم نے اتنے جرائم کیے وہ تمہیں یوں تباہ کر رہاہے ۔ لہذا  موقع ہے کہ تم  اس کے سیاہ کرتوت  دنیا کے سامنے لاکر وعدہ معاف گواہ بن جاؤ ! وہ کچھ پس و پیش کے بعد تیار ہوجاتا ہے ۔ بوہ پولیس اسٹیشن  میں بیان لکھوا کر اقبال جرم کے لیے استغاثہ کی طرف روانہ ہوتا ہے تو ظفر کا پالتو  قیصر علی اس کا   نشانہ  لے کر ختم کر دیتا ہے ۔ یوں ظفر پھر بچ جاتا ہے  ( رسی مزید دراز !) ۔

اسحاق مرنے سے پہلے اپنے تمام معاملات اور سرداری عمر کے حوالے کردیتا ہے ۔  اس کے لیے وہ اپنی تنظیم سے استعفٰی دیتا ہے ۔ ساتھی اس فیصلے سے بہت ناخوش ہیں ۔ اس کے علاوہ فلزہ سے بھی وہ تعلقات  جان بوجھ کر خراب  کر لیتا ہے  تاکہ اسے کوئی گزند نہ پہنچے۔ اس کے لیے وہ روشنی سے قربت ظاہر کرتا ہے ۔  روشنی جو  ظفر کے گھر سے نکل کر لیلی کے ساتھ مقیم ہے اور  اسی کے ا خبار میں فوٹو گرافی کر رہی ہے ۔ چونکہ وہ بھی ظفر سے بدلہ لینا چاہتی ہے لہذا عمر سے تعاون کرتی ہے اور ظفر کے خلاف ایڈمرل شریف کا آلہ کار بن جاتی ہے ۔کمیونسٹ طلبہ کا صدر ایک پرکلی  ایک با اصول اور مہذب کامریڈ ہے  لہذا ایڈمرل اپنے سارے فتنہ انگیز کام کا مریڈ سعادت اور اس کے ساتھیوں کے ذریعے   کرواتا ہے ۔ مافیا میں عمر کی شمولیت پر  اس کی  دادی بہت سخت رد عمل دیتی ہیں  جبکہ بہنیں اور دیگر لواحقین  بھی پریشان ہیں ۔مافیا بھی عمر کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہے کیونکہ وہ ان کی بھتہ خوری اور سود خوری کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے ۔

 عاصم نے ایک بہترین اسلحہ کا ڈیزائن تیار کیا ہے  جسے  وہ قبرص سے منگواتا ہے تو ظفر اس پر قبضہ کرلیتاہے اور اس کی تیکنک سمجھنے کےلیے انجینیر ز  کو بلواتا ہے  مگر وہ ناکام رہتے ہیں ۔ بہرحال سوانگ بھرکے عاصم اپنی ڈرائینگ حاصل کرلیتا ہے اور اربکان کے ذریعے حکومت کے سامنے اس کی تفصیل بتاتا ہے وہ اسے منظور کرلیتے ہیں لیکن  ظفر  اسے مسترد کردیتاہے ۔ عاصم بہت برانگیختہ ہے کہ ہم طاقت کے حصول کے لیے ہمیشہ دوسروں کے دست نگر رہنا چاہتے ہیں ۔ بہر حال وہ اپنے طور پر اس کے عملی شکل پر  کام شروع کرتا ہے   ۔۔ظفر کوچین نہیں  آتا اور وہ جعلی مجاہدہ اور امریکی جاسوس کے ذریعے وہ ڈرائنگ   حاصل کر لیتا ہے ۔(  شاید اسے اپنے طور پر  استعمال کرنا چاہتا ہو ) لیکن امریکی مفادات کی کونسل اسے جلا کر راکھ کر دیتی ہے  ( ناعاقبت اندیش افراد ! )  عاصم ہمت نہیں ہارتا  اور نئے سرے سے نقشہ بنانا شروع کردیتا ہے ۔  ظفر  یونیورسٹی ریکٹر کو بلا کر دھمکاتا ہے اور عاصم کو ملاز مت سے فارغ کروا دیتا ہے۔  باقر کے استعفیٰ کے بعد انٹیلیجنس آفیسر کے عہدے پر انسپکٹر جمیل  آتش کو تعینات کر دیا جاتا ہے ۔  جبکہ ظفر اپنے  کٹھ پتلی  ساحر کو اور اڈمرل  شریف  باقر کو ہی یہ عہدہ دینا چاہتا تھا ۔ اس فیصلے سے  یہ دونوں بری طرح چونکتے ہیں ۔حسن صاحب کا بیٹا خالد جوبم دھماکے میں زخمی ہوگیا تھا  وہ پڑھائی کے لیے جامعہ الازہر بھیج دیا جاتا ہے ۔

حجاب ایشو کیسے آگے بڑھتا ہے ؟

حجاب  اپنانے کی وجہ سے  انتظامیہ کی طرف سے   فلزہ  کے لیے بہت مسائل کھڑے کیے جارہے ہیں کیونکہ اب عمر بھی یہاں کے معاملات سے بے خبر ہے ۔ عاصم بطور استاد استنبول یونیورسٹی  میں   اور  ڈاکٹر الیف بھی  یہیں بطور میڈیکل اسٹاف تعینات ہوجاتی ہے ۔  عاصم  بحیثیت استاد اپنے اثرو رسوخ  کو استعمال کرتا ہے کہ اس قانون کو ختم کیا جائے لیکن سعادت گروپ اور اس کے ہم خیال ا ستاد اس  کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ سعادت فلزہ کا اسکارف کھینچنےکی کوشش کرتا ہے جس پر  اسلامسٹ بہت سخت رد عمل دیتے ہیں ۔ عمر کو معلوم ہوتا ہے ہے تو وہ سعادت کا ہاتھ توڑ دیتا ہے ۔  فلزہ بہت پریشان ہے  یہاں وہ سب لوگ فلزہ کو بہت تعاون دیتے ہیں  خصوصا مسز   شعلہ جن سے متاثر ہوکر فلزہ نے اسکارف لینا شروع کیا ہے ۔ اپنی تمام ساتھیوں کے ہمراہ  اس کی دلجوئی کو آتی ہیں ۔ اور ھجاب کی پابندی کے خلاف ایک دستخطی مہم  شروع کرواتی ہیں  جسے عوام میں بہت پذیرائی حاصل ہوتی ہے ۔  لیلیٰ فلزہ کی تصویر کے ساتھ اس مہم کے اخبارمیں شائع کرتی ہے جس پر ظفر بہت ناراض ہوتا ہے۔  حجاب اسٹال پر حملہ ہوتا ہے اور اسی دوران زینب اور کچھ طالبات کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ ۔ فلزہ بہت بد دل ہوکر  اپنے شہر واپس جانے کا پلان بنالیتی ہے ۔ عمر کو پتہ چلتا ہے تو وہ اسے روکتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ وہ مافیا کو خیر باد کہہ دے گا  چنانچہ وہ رک جاتی ہے ۔   چونکہ عمر   نے مافیا کی راہ میں روڑے اٹکائے لہذا قیصرعلی    انتقام کے لیے  فلزہ کو اغوا کر لیتا ہے اور بدلے میں بھاری تاوان کا  مطالبہ کرتا ہے ۔


سرخ انقلاب کس طرح روکا گیا ؟

نجم الدین اربکان   نیشنل آڈر پارٹی  کے ذریعے سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کرتے ہیں ۔ اسلامی طلبہ یونین  اپنی مثبت سر گرمیوں میں مصروف ہے ۔ حجاب ایشو کو  نمایاں کرنے کے لیے وہ اس موضوع پر بنی فلم پراجیکٹر کے ذریعے  کا اہتمام کرتے ہیں ۔یہاں رمزی کچھ مذہبی افراد کو اس کے خلاف ابھارتا ہے جبکہ  لیفٹسٹ بنک ڈکیتی کر کے اسلحہ حاصل کرنے کا پروگرام   بناتے ہیں ۔ عمر کو تاوان کے لیے پیسے چاہییے تو مافیا ا ن دونوں  گروپ میں رابطہ کرواتی ہے لیکن عمر  اسلحہ  ان کو دینے سے انکار کر دیتا ہے ۔ بہر حال ظفر اربائے رمزی اور یلدرم کے  ذریعے فلزہ کو رہا کر واکے قیصر علی کو  ڈانٹ ڈپٹ کرتا ہے  اور عمر کو پیشکش کرتاہے کہ ہم لیفٹسٹ  کے خطرے کو مل کر ختم کریں ! عمر انکار کردیتا ہے کہ سب سے بڑا خطرہ تو تم ہو !   چنانچہ سزا کے طور پر  وہ عمر کوجیل  بھجوا دیتا ہے اور اسے قیصر علی کے ساتھ  ایک ہی وارڈ میں رکھتا ہے ۔

کامریڈ سعادت  اید مرل کی ہدایت کے مطابق  محلے  کی  سطح پر پر تشدد کار وائیاں شروع کرتا ہے ۔ اس کی زد میں آکرحسن صاحب سعادت کی گولی کا نشانہ بن جاتے ہیں ۔ ان کے گھرانے پر ایک دفعہ پھر قیامت ٹوٹ پڑی ! زینب  اور مصطفٰی کی شادی ہوجاتی ہے کہ اب اس گھر کو کسی مرد کا سہارا چاہیے !  عمر  رہا ہوکر گھر آتا ہے توفلزہ کو منگنی کی انگوٹھی پہنا تا ہے۔

  لیفٹسٹ یونیورسٹی پر قبضہ کر کے کچھ اسلامسٹ کو یرغمال بنالیتے ہیں ۔ ایدمرل شریف عمر کو  روشنی کے  ذریعے بہانہ بنواکر یونیورسٹی بلواتا ہے کہ اسے قتل کر کے فتنہ کی آگ کو بڑھایا جاسکے لیکن روشنی عین وقت پر انکار کر دیتی ہے چنانچہ وہ اس کو بھی ختم کرنے کا پروگرام بناتا ہے ۔ روشنی کےتحفظ کے لیے عمر  اسے اپنے گھر لے جاتا ہے۔  فوج اور پولیس میں  یونیورسٹی قبضہ پر تصادم ہوتا ہے  اور فوج قبضہ ختم کرواتی ہے۔ کمیونسٹوں کی اس  کاروائی  پر نوجوان بہت برانگیختہ ہیں  جنہیں انسپکٹر کی ہدایت پر  روکا جاتا ہے ۔ اسلامسٹ طلبہ کو سر ابراہیم  سمجھاتے ہیں   کہ دشمن کی چال کو سمجھو کہ وہ ہمیں خون خرابہ میں ملوث کرنا چاہتے ہیں ۔ایڈمرل  روشنی کو مارنے کے لیے قیصر علی  کو بھیجتا ہے جسے  عمر اور اس کے گھر والے ناکام بنا دیتے ہیں ۔ بہر حا ل وہ ظفر اربائے کے  اصرار پر  اس کے ساتھ چلی جاتی ہے اور پھروہ اسے بھی باہر روانہ کردیتا ہے ۔   

لیلیٰ جو اب کمیونسٹوں کے اخبار میں ظفر اربائے کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہی ہے ۔ ایک خفیہ میٹنگ  میں شریک ہوکر سرخ انقلاب کے منصوبے کو راز آشکارا کرتی ہے۔  چیزیں بہت الجھ کر رہ گئی ہیں ۔ایڈ مرل کا بھید اب ظفر پر آ  شکارا ہوچکا ہے۔ عمر اپنی جان پر کھیل  کر ایڈمرل سے خفیہ نقشے حاصل کرتا ہے جہاں اسلحے دفن ہیں ۔ انسپکٹر جمیل  ، عاصم اور دیگر ساتھی رات بھر سخت محنت کے بعد  یہ اسلحہ  نکال کر جمع کرتے ہیں اور یوں اس انقلاب کو ناکام بنا دیا جاتا ہے اور مجرموں کو سزا ملتی ہے۔  اب بجائے اس کے کہ اس کارنامے پر عمر اور انسپکٹر  کی ہمت افزائی ہوتی انہیں اسلحہ جمع کرنے کے  الزام میں عین اس وقت گرفتار کرلیا جاتا ہے  جب وہ  عاصم اور الیف کی منگنی میں شریک تھے۔ ملک میں مارشل لاء لگادیا جاتا ہے۔  عمر پر غداری کا الزام لگا کر سزا دی جاتی ہے  لیکن  وہ  ساتھیوں کی مدد سے فرار ہوجاتا ہے  اور ظفر اربائے  اور اس کے کٹھ پتلی پولیس آفیسر  ساحر پر قاتلانہ حملہ کرتا ہے جب وہ وزارت کا حلف لیے انقرہ روانہ ہورہے تھے۔

اختتام ہوتا ہے !

 

پھر ایک دم سے کئی سال بعد کا  منظر سامنے آتا ہے جب ملک میں نئی حکومت قائم ہوئی ہے جس میں اربکان ڈپٹی پرائم منسٹر کا عہدہ   اپنی کابینہ کے ساتھ  سنبھال رہے ہیں ۔  مفلوج  ظفر اربائے حسرت سے ٹی وی میں یہ منا ظر دیکھ رہا ہے ۔ دوسری طرف محلے میں بچوں کی تقریب منعقد  ہورہی ہے۔ عمر کی بہن  ہادیہ،   عاصم اور الیف، زینب اور  مصطفیٰ  اپنے اپنے بچوں کے ساتھ شریک ہیں اور عمر  بھی رہا ہوکر واپس  آگیا ہے یوں خوشی دوبالا ہوگئی ۔ خوشی کی اس تقریب میں ڈاکیہ فلزہ کی لکھی ہوئی کتاب کی افتتاحی کاپی لے کر آتا ہے ۔ عمر اس کو دیکھتے ہوئے اس کا موضوع پوچھتا ہے تو وہ جواب دیتی ہے

"۔۔۔۔ یہ ہماری جدو جہد کی داستان ہے جو ہم نے ہر ہر محاذ پر کی ۔۔  میری یہ تحریر  اس تاریخ کا بیانیہ ہے ۔۔!"