صفحات

اتوار، 5 اپریل، 2026

Now Or Never !

 





یا قوم ! معاشرہ ہو یا ملک کبھی نہ کبھی فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہوتا ہےہ  فرد ہو

*ابھی نہیں تو کبھی نہیں*  کے عنوان سے چوہدری رحمت نے 1933ء میں ایک کتابچہ تحریر فرمایا تھا جس میں مسلمانان ہند کے لیے علیحدہ مملکت کی ضرورت بیان کی تھی۔ محض 7 سال بعد 1940ء میں  یہ مطالبہ ایک قرارداد کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور پھر اگلے 7 سال بعد 1947ء میں پاکستان کی شکل نقشے پر نمودار ہوجاتی ہے ۔

بابائے قوم نے اتنے کم عرصے میں یہ کارنامہ انجام دیا جس پر تاریخ دان حیران ہیں ۔۔بظاہر تو اپنی ڈھلتی عمر کی وجہ قائد نے عجلت سے کام لیا لیکن اصل وجہ ان کی بیماری تھی جسے انہوں نے اپنے مخالفین سے چھپا کر انہیں تاخیری حربے سے باز رکھا ۔ 

اپنی تاریخ کے اس سنہرے باب کو اس وقت بھی دہرانے کی اشد ضرورت ہے۔

 مہنگے قرض کی اتنے کم وقت میں ادائیگی ایک چیلنج ہے لیکن حکومت کا یہ فیصلہ باوقار ہے۔ 

ہم اپنا کھلا دشمن ہندوستان کو سمجھتے ہیں لیکن کچھ آستین کے سانپ ہیں جو ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے رہے ہیں اور اس قرض کی مار سے ہمیں کنٹرول کرتے رہے ہیں ان سے چھٹکارے کا وقت ابھی اور اسی وقت ہے 

اس کے علاوہ ان حکمرانوں کا احتساب بھی ضروری ہے جو اس قرض کی بنیاد بنے۔ سی پیک روک کر ادھورے منصوبوں کی ادائیگی کی بدولت قرض لیے گئے جو ہمارے پاؤں کی زنجیر بنتے رہے ۔ آئی ایم ایف کی کاسہ گدائی سے موقع ملنے کے باوجود چھٹکارا نہ لیا گیا ۔بے وقوفانہ مقدمات کے بجائے ان فیصلوں پر احتساب ہونا چاہیے!

ہم حکومت سے تو مطالبات کرتے رہتے ہیں اور اس کے کرنے کے کام یاد دلاتے رہتے ہیں لیکن بحیثیت فرد اور معاشرتی ذمہ دار ہمیں بھی اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے ۔بلاوجہ کے اخراجات کے بجائے مثبت اور صحت مند معاشی ترقی ضروری ہے ۔

ہماری گلیوں محلوں میں کچرے کے ڈھیر ہیں لیکن ہر گھر کے آگے بڑی بڑی گاڑیاں کھڑی ہیں۔۔سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں لیکن ان پر رش لگا ہے ۔شاپنگ سنٹرز میں کسی ایک سوٹ کے لیے جھگڑے ہورہے ہیں جو کسی ماڈل نے پہنا ہو! تقریبات کا جمعہ بازار ہے ۔سادگی تو منہ چھپائے صرف کتب میں ہی نظر آتی ہے۔ 

وقت کے ساتھ کھلواڑ ایک عمومی سی بات ہے ۔سورج ڈھلنے کے بعد کام شروع کرکے مصنوعی روشنیوں  کا استعمال ایک خطرناک علامت ہے ۔جو قدرتی وسائل اور صحت دونوں کے ساتھ ظلم ہے اور جس کا جواب ہمیں نہ صرف آخرت میں دینا ہے بلکہ اس کے اثرات ہمیں دنیا میں بھی نظر آتے ہیں۔

المختصر انفرادی اور اجتماعی طور پر بھی ہمیں اپنی ترجیحات درست کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے اس سے بہتر موقع نہیں ملے گا ۔۔

مہنگائی اور جنگ کے بادل ہمیں سدھرنے کا موقع دے رہے ہیں۔۔

ابھی اور اسی وقت فیصلہ کریں ۔۔ اپنی ذات سے لے کر معاشرے تک سدھار کا ایک نادر موقع ہے۔ معاشرت ہو یا معیشت یہ سب ایک قوی فیصلے کا منتظر ہے !  

 





کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں